ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تک بندے کی روح حلقوم تک نہ پہنچے ، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۳۷) و ابن ماجہ (۴۲۵۳) و صححہ ابن حبان (۲۴۴۹) و الحاکم (۴ / ۲۵۷) ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شیطان نے کہا : رب ! تیری عزت کی قسم ! جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسم میں ہیں میں انہیں گمراہ کرتا رہوں گا ، تو رب عزوجل نے فرمایا : مجھے اپنی عزت و جلال اور اپنی بلند مکانی کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے ، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۳ / ۲۹ ح ۱۱۲۵۷ ، ۴۱ ح ۱۱۳۸۷) و فی شرح السنہ (۵ / ۷۶ ، ۷۷ ح ۱۲۹۳) و الحاکم (۴ / ۲۶۱ ح ۷۶۷۲) ۔
صفوان بن عسال ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف توبہ کے لئے ایک دروازہ بنایا جس کا عرض ستر سال کی مسافت کے برابر ہے ، اور جب تک سورج اس کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا وہ (باب التوبہ) کھلا ہوا ہے ، اور یہی وہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے :’’ جس روز تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں گی تو کسی نفس کا اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہو گا جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۳۶) و ابن ماجہ (۴۰۷۰) ۔
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہجرت منقطع نہیں ہو گی حتیٰ کہ توبہ منقطع ہو جائے اور توبہ منقطع نہیں ہو گی حتیٰ کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۴ / ۹۹ ح ۱۷۰۳۰) و ابوداؤد (۳۴۷۹) و الدارمی (۲ / ۲۴۰ ح ۲۵۱۶) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بنی اسرائیل کے دو آدمی ایک دوسرے کے دوست تھے ، ان میں سے ایک انتہائی عبادت گزار تھا جبکہ دوسرا کہتا تھا : میں گناہ گار ہوں ، یہ اسے کہتا : اپنی روش سے باز آ جاؤ ، تو وہ کہتا : میرا معاملہ میرے رب پر چھوڑ دو ، حتیٰ کہ اس نے ایک روز اسے گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس نے اسے بہت برا سمجھتے ہوئے کہا : باز آ جاؤ ، اس نے کہا : مجھے میرے رب پر چھوڑ دو ، کیا تم مجھ پر نگران بنا کر بھیجے گئے ہو ؟ تو اس (عبادت گزار) نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ تمہیں کبھی معاف کرے گا نہ کبھی تمہیں جنت میں داخل کرے گا ، پس اللہ نے ان دونوں کی طرف فرشتہ بھیجا تو اس نے ان دونوں کی روحیں قبض کر لیں ، اور وہ دونوں اس کے پاس اکٹھے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے گناہ گار شخص سے فرمایا : میری رحمت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا ، اور دوسرے سے فرمایا : کیا تم طاقت رکھتے ہو کہ تم میری رحمت کو میرے بندے سے روک دو ؟ وہ عرض کرتا ہے ، نہیں ، میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اسے جہنم میں لے جاؤ ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲ / ۳۲۳ ح ۸۲۷۵ ، ۲ / ۳۶۲ ح ۸۷۳۴) و ابوداؤد (۴۹۰۱) و تفسیر ابن کثیر (۲ / ۲۶۵) ۔
اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا :’’ میرے وہ بندے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں کیونکہ اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے ۔‘‘ اور وہ پرواہ نہیں کرتا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور شرح السنہ میں یقرا کے بدلے یقول کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۶ / ۴۵۹ ح ۲۸۱۴۸) و الترمذی (۳۲۳۷) و فی شرح السنہ (۱۴ / ۳۸۴ ح ۴۱۸۶) ۔
ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کا فرمان : (اِلَّا اللَّمَمَ) کے بارے میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اگر تو معاف کر دے تو سبھی گناہ معاف کر دے ، اور تیرا کون سا بندہ ہے جو صغیرہ گناہ نہیں کرتا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۲۸۴) و صححہ الحاکم (۲ / ۴۶۹ ، ۴۷۰) ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو مگر جسے میں ہدایت عطا فرما دوں ، تم مجھ سے ہدایت طلب کرو ، تم سب فقرا ہو مگر جسے میں غنی کر دوں ، تم مجھ سے اپنا رزق طلب کرو ، اور تم سب گناہ گار ہو مگر جسے میں بچا لوں ، تم میں سے جسے علم ہو کہ میں مغفرت کرنے پر قادر ہوں اور وہ مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور میں پرواہ نہیں کرتا ، اور اگر تمہارا اول و آخر ، تمہارے زندہ اور مردہ ، تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے ، سارے میرے بندوں میں سے اس شخص جیسے ہو جائیں جو سب سے زیادہ متقی ہے تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے پر جتنا بھی اضافہ نہیں ہو گا ، اور اگر تمہارا اول و آخر ، تمہارے زندہ و مردہ اور تمہارے جوان و بوڑھے سب ، میرے بندوں میں سے اس شخص جیسے ہو جائیں جو کہ سب سے زیادہ بدنصیب و گمراہ ہے تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئے گی ، اور اگر تمہارا اول و آخر ، تمہارے زندہ و مردہ اور تمہارے جوان و بوڑھے سب ایک میدان میں اکٹھے ہو جائیں ، پھر تم میں سے ہر انسان جی بھر کر مانگ لے اور میں تم میں سے ہر سائل کو دے دوں تو اس سے میری بادشاہت میں اتنا ہی فرق آئے گا جیسے تم میں سے کوئی سمندر کے پاس سے گزرے اور وہ اس میں ایک سوئی ڈبو کر باہر نکال لے ، اس لئے کہ میں سخی داتا ہوں ، جو چاہتا ہوں کر گزرتا ہوں ، میرا عطا کرنا کلام ہے اور میرا عذاب کرنا بھی کلام ہے ، کسی چیز کے بارے میں میرا امر تو بس اتنا ہی ہے کہ جب میں ارادہ کرتا ہوں تو میں اس کے بارے میں یہی کہتا ہوں کہ ، ہو جا ، تو وہ ہو جاتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد (۵ / ۱۵۴ ح ۲۱۶۹۵) و الترمذی (۲۴۹۵) و ابن ماجہ (۴۲۵۷) ۔
انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے یہ آیت پڑھی :’’ وہ (اللہ تعالیٰ) اہل تقوی اور اہل مغفرت ہے ۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا رب فرماتا ہے : میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ، جو شخص مجھ سے ڈرتا ہے تو پھر میں اس کا اہل ہوں کہ میں اسے بخش دوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک مجلس میں سو مرتبہ یہ فرماتے ہوئے :’’ میرے رب ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رجوع فرما ، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا بخشنے والا ہے ۔‘‘ شمار کیا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام زید ؓ کے پوتے بلال بن یسار بیان کرتے ہیں ، میرے والد (یسار ؓ) نے میرے دادا (زید ؓ) سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : کو فرماتے ہوئے سنا !’’ جو شخص یہ دعا پڑھے : ((استغفر اللہ ...... واتوب الیہ)) ’’ میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے ، اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں ‘‘ تو اسے بخش دیا جاتا ہے خواہ وہ میدان جہاد سے فرار ہوا ہو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ لیکن ابوداؤد کی روایت میں ہلال بن یسار ہے ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل صالح بندے کا جنت میں درجہ بلند فرماتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے : رب جی ! یہ مجھے کیسے حاصل ہوا ؟ تو وہ فرماتا ہے : تیرے بچے (بیٹا ، بیٹی) کے تیرے لئے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میت قبر میں ، ڈوبتے ہوئے فریاد کرنے والے کی طرح ہے ، وہ باپ یا ماں یا بھائی یا دوست کی طرف سے پہنچنے والی دعا کی منتظر رہتی ہے ، جب وہ اسے پہنچ جاتی ہے تو وہ اس کے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہوتی ہے ، اور بے شک اللہ تعالیٰ (دنیا) والوں کی دعاؤں سے اہل قبور پر پہاڑوں جتنی رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اور زندوں کا مردوں کے لئے تحفہ ان کے لئے مغفرت طلب کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا منکر ، رواہ البیھقی ۔
عبداللہ بن بُسر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص کے لئے خوشخبری ہو جو اپنے نامہ اعمال میں بہت زیادہ استغفار پائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما کہ جب وہ نیکی کرتے ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں اور جب کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی ۔
حارث بن سُوید ؓ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن مسعود ؓ نے ہمیں دو حدیثیں بیان کیں ۔ ان میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے (مرفوع) اور دوسری اپنی طرف سے (موقوف) ، فرمایا :’’ مومن اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو اور وہ ڈرتا ہے کہ وہ اس پر گر پڑے گا ، جبکہ فاجر شخص اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے جیسے مکھی اس کی ناک پر بیٹھ گئی ہو ، پھر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے آپ سے مکھی اڑا کر دکھائی ، پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ، جو کسی مہلک بیاباں میں پڑاؤ ڈالے ، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو ، اس نے اپنا سر رکھا اور سو گیا ، جب وہ بیدار ہوا تو اس کی سواری کہیں جا چکی تھی ، اس نے اسے تلاش کیا حتیٰ کہ جب گرمی ، پیاس یا جو اللہ نے چاہا اس پر شدید ہو گئی تو اس نے کہا : میں اپنی اسی پہلی جگہ پر واپس جاتا ہوں اور سو جاتا ہوں حتیٰ کہ میں فوت ہو جاؤں ، اس نے اپنے بازو پر اپنا سر رکھا تاکہ وہ فوت ہو جائے ، وہ بیدار ہوا تو اس کی سواری اس کے پاس کھڑی تھی اور اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اس پر موجود تھا ، اللہ مومن بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اپنی سواری اور اپنا زاد راہ ملنے پر خوشی ہوتی ہے ۔‘‘ امام مسلم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فقط مرفوع روایت کیا ہے ، جبکہ امام بخاری نے ابن مسعود ؓ سے اسے موقوف بھی روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم و البخاری ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ گناہ میں مبتلا بہت زیادہ توبہ کرنے والے مومن بندے کو پسند کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اس آیت ’’ میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ‘‘ کے بدلے پوری دنیا کا مل جانا بھی مجھے پسند نہیں ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا ، تو جس نے شرک کیا ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے ، پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا :’’ سن لو ! جس نے شرک کیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ حجاب واقع ہونے سے پہلے تک اپنے بندے کو بخشتا رہتا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حجاب کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی جان حالت شرک میں فوت ہو ۔‘‘ تینوں احادیث امام احمد نے روایت کیں اور امام بیہقی نے آخری حدیث ’’ کتاب البعث والنشور ‘‘ میں روایت کی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس حال میں اللہ کے ساتھ ملاقات کرے کہ وہ دنیا میں کسی کو اللہ کے برابر قرار نہ دیتا ہو ، پھر اس پر پہاڑوں جتنے بھی گناہ ہوں تو اللہ اس کو معاف فرما دے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ البیھقی ۔