Back to Sahih Bukhari

Wedlock, Marriage (Nikaah)

كتاب النكاح

Chapter 68

Hadith 5248
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَىِّ شَىْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ، فَسَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ وَمَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ عَلَى تُرْسِهِ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ، فَحُرِّقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ‏.‏
English

Narrated Abu Hazim:

The people differed about the type of treatment which had been given to Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the battle) of Uhud. So they asked Sahl bin Sa`d As-Sa`id رضی اللہ عنہ who was the only surviving Companion (of the Prophet) at Medina. He replied, "Nobody Is left at Medina who knows it better than I. Fatima رضی اللہ عنہا was washing the blood off his face and `Ali رضی اللہ عنہ was bringing water in his shield, and then a mat of datepalm leaves was burnt and (the ash) was inserted into the wound."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سےسفیان نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ

اس واقعہ میں لوگوں میں اختلاف تھا کہ احد کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کو ن سی دو ا استعمال کی گئی تھی ۔ پھر لوگوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، وہ اس وقت آخری صحابی تھے جو مدینہ منورہ میں موجود تھے ۔ انہوں نے بتلایا کہ اب کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جو اس واقعہ کو مجھ سے زیادہ جا نتا ہو ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون دھورہی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی بھر کر لار ہے تھے ۔ ( جب بند نہ ہوا تو ) ایک بوریا جلا کر آپ کے زخم میں بھر دیا گیا ۔

Hadith 5249
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ سَأَلَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِيدَ أَضْحًى أَوْ فِطْرًا قَالَ نَعَمْ لَوْلاَ مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ ـ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ ـ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلاَ إِقَامَةً، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَى بِلاَلٍ، ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلاَلٌ إِلَى بَيْتِهِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

"Did you attend the prayer of `Id al Adha or `Idal- Fitr with Allah's Messenger (ﷺ)?" Ibn `Abbas replied, "Yes, and had it not been for my close relationship with him, I could not have offered it." (That was because of his young age). Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما further said, Allah's Messenger (ﷺ) went out and offered the Id prayer and then delivered the sermon." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما did not mention anything about the Adhan (the call for prayer) or the Iqama. He added, "Then the Prophet (ﷺ) went to the women and instructed them and gave them religious advice and ordered them to give alms and I saw them reaching out (their hands to) their ears and necks (to take off the earrings and necklaces, etc.) and throwing (it) towards Bilal رضی اللہ عنہ . Then the Prophet (ﷺ) returned with Bilal رضی اللہ عنہ to his house . "

Urdu

ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے ، کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، ان سے ایک شخص نے یہ سوال کیا تھا کہ

تم بقرعید یا عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ اگر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار نہ ہوتا تو میں اپنی کم سنی کی وجہ سے ایسے موقع پر حاضر نہیں ہو سکتا تھا ۔ ان کا اشارہ ( اس زمانے میں ) اپنے بچپن کی طرف تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور ( لوگوں کے ساتھ عید کی ) نماز پڑھی اور اس کے بعد خطبہ دیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا ، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں خیرات دینے کا حکم دیا ۔ میں نے انہیں دیکھا کہ پھر وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھا بڑھا کر ( اپنے زیورات ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دینے لگیں ۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ۔

Hadith 5250
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Abu Bakr رضی اللہ عنہا admonished me and poked me with his hands in the flank, and nothing stopped me from moving at that time except the position of Allah's Messenger (ﷺ) whose head was on my thigh.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، انہیں ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

( ان کے والد ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان پر غصہ ہوئے اور میری کوکھ میں ہاتھ سے کچوکے لگانے لگے لیکن میں حرکت اس وجہ سے نہ کر سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک میری ران پر رکھا ہوا تھا ۔