Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
We used to practice coitus interrupt us during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) .
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم عزل کیا کرتے تھے ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
We used to practice coitus interrupt us while the Qur'an was being revealed. The other reporter goes that Jabir رضی اللہ عنہ said: We used to practice coitus interrupt us during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) while the Qur'an was being Revealed.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، انہیں عطاء نے خبر دی ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب قرآن نازل ہو رہا تھا ہم عزل کرتے تھے ۔ اور عمرو بن دینار نے بیان کیاعطاء سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ قرآن نازل ہو رہا تھا ۔ اور ہم عزل کرتے تھے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
We got female captives in the war booty and we used to do coitus interruptus with them. So we asked Allah's Messenger (ﷺ) about it and he said, "Do you really do that?" repeating the question thrice, "There is no soul that is destined to exist but will come into existence, till the Day of Resurrection."
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک بن انس نے ، ان سے زہری نے ، ان سے ابن محیریز نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
( ایک غزوہ میں ) ہمیں قیدی عورتیں ملیں اور ہم نے ان سے عزل کیا ۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم واقعی ایسا کرتے ہو ؟ تین مرتبہ آپ نے یہ فرمایا ( پھر فرمایا ) قیامت تک جو روح بھی پیدا ہونے والی ہے وہ ( اپنے وقت پر ) پیدا ہو کر رہے گی ۔ پس تمہارا عزل کرنا عبث حرکت ہے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Whenever the Prophet (ﷺ) intended to go on a journey, he drew lots among his wives (so as to take one of them along with him). During one of his journeys the lot fell on `Aisha رضی اللہ عنہا and Hafsa رضی اللہ عنہا . When night fell the Prophet (ﷺ) would ride beside `Aisha رضی اللہ عنہا and talk with her. One night Hafsa رضی اللہ عنہا said to `Aisha رضی اللہ عنہا , "Won't you ride my camel tonight and I ride yours, so that you may see (me) and I see (you) (in new situation)?" `Aisha رضی اللہ عنہا said, "Yes, (I agree.)" So `Aisha رضی اللہ عنہا rode, and then the Prophet (ﷺ) came towards `Aisha's camel on which Hafsa was riding. He greeted Hafsa and then proceeded (beside her) till they dismounted (on the way). `Aisha رضی اللہ عنہا missed him, and so, when they dismounted, she put her legs in the Idhkhir and said, "O Lord (Allah)! Send a scorpion or a snake to bite me for I am not to blame him (the Prophet (ﷺ) ).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے ، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے ، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لئے قرعہ ڈالتے ۔ ایک مرتبہ قرعہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے نام نکلا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت معمولاً چلتے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلتے ۔ ایک مرتبہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ آج رات کیوں نہ تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں تمہارے اونٹ پر تاکہ تم بھی نئے مناظر دیکھ سکو اور میں بھی ۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور ( ہر ایک دوسرے کے اونٹ پر ) سوار ہو گئیں ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کے اونٹ کے پاس تشریف لائے ۔ اس وقت اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا ، پھر چلتے رہے ، جب پڑاؤ ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں نہیں ہیں ( اس غلطی پر عائشہ کو اس درجہ رنج ہوا کہ ) جب لوگ سواریوں سے اتر گئے تو ام المؤمنین نے اپنے پاؤں اذخر گھاس میں ڈال لئے اور دعا کرنے لگی کہ اے میرے رب ! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھ کو ڈس لے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی کیونکہ یہ حرکت خود میری ہی تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Sauda bint Zam`a gave up her turn to me (`Aisha رضی اللہ عنہا ), and so the Prophet (ﷺ) used to give me (`Aisha رضی اللہ عنہا ) both my day and the day of Sauda.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، اس سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اورا ن سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں خود ان کی باری کے دن اور سودہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن رہتے تھے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The tradition, (of the Prophet) is that if someone marries a virgin and he has already a matron wife (with him), then he should stay with the virgin for seven days; and if someone marries a matron (and he has already a virgin wife with him) then he should stay with her for three days.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے ، ان سے خالد حذاء نے ، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے ( راوی ابوقلابہ یا انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتاہوں کہ
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) روایت ہے کہ اگر کسی نے کنواری سے شادی کی اور اس کی پہلے سے ایک بیوہ(اس کے ساتھ) بیوی ہے تو اسے سات دن تک کنواری کے ساتھ رہنا چاہیے۔ اور اگر کوئی بیوہ عورت سے شادی کرے (اور اس کے ساتھ کنواری بیوی ہو) تو اسے چاہئے کہ تین دن تک اس کے ساتھ رہے۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
It is the Prophet's tradition that if someone marries a virgin and he has already a matron wife then he should stay for seven days with her (the virgin) and then by turns; and if someone marries a matron and he has already a virgin wife then he should stay with her (the matron) for three days, and then by turns. Abu Qilabah says that he can say if he wishes that Hadrat Anas رضی اللہ عنہ has reported it tracing it back to the prophet ﷺ has reported it tracing it back to the prophet Similarly, Abdul Razzaq, Sufyan, Ayyub has reported from Khalid- Kha lid says; If I wish, I can say that he has reported it tracing it to the prophet ﷺ.
ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، کہا ہم سے ایوب اور خالد نے دونوں نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دستور یہ کہ
جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے ۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے ۔ اور عبدالرزاق نے بیان کیا ، انہیں سفیان نے خبر دی ، انہیں ایوب اور خالد نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to pass by (have sexual relation with) all his wives in one night, and at that time he had nine wives.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے ۔ اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) finished his `Asr prayer, he would enter upon his wives and stay with one of them. One day he went to Hafsa رضی اللہ عنہا and stayed with her longer than usual.
ہم سے فروہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی ایک کے قریب بھی بیٹھتے ۔ ایک دن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے اور معمول سے زیادہ کافی دیر تک ٹھہرے رہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
During his fatal ailment, Allah's Messenger (ﷺ), used to ask his wives, "Where shall I stay tomorrow? Where shall I stay tomorrow?" He was looking forward to Aisha's turn. So all his wives allowed him to stay where he wished, and he stayed at `Aisha's house till he died there. `Aisha رضی اللہ عنہا added: He died on the day of my usual turn at my house. Allah took him unto Him while his head was between my chest and my neck and his saliva was mixed with my saliva.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس مرض میں وفات ہوئی ، اس میں آپ پوچھا کرتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے ۔ کل میری باری کس کے یہاں ہے ؟ آپ کو حضرت عائشہ کی باری کا انتظار تھا ۔ چنانچہ آپ کی تمام ازواج نے آپ کو اس کی اجازت دے دی کہ آنحضور جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دن وفات ہوئی جو میری باری کا دن تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان دیکھو اس نے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلایا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک میرے سینے پر تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے ملا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما has reported from `Umar رضی اللہ عنہ entered upon Hafsa and said,:
"O my daughter! Do not be misled by the manners of her who is proud of her beauty because of the love of Allah's Messenger (ﷺ) for her." By 'her' he meant `Aisha رضی اللہ عنہا . `Umar رضی اللہ عنہ added, "Then I told that to Allah's Messenger (ﷺ) and he smiled (on hearing that).
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے عبید بن حنین نے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہ آپ حضرت حفصہ کے یہاں گئے اور ان سے کہا کہ
بیٹی اپنی اس سوکن کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آ جانا جسے اپنے حسن پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ناز ہے ۔ آپ کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ) کہ پھر میں نے یہی بات آپ کے سامنے دہرائی ، آپ مسکرادیئے ۔
Narrated Asma the daughter of Hadrat Abu Bakr رضی اللہ عنہما :
Some lady said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My husband has another wife, so it is sinful of me to claim that he has given me what he has not given me (in order to tease her)?" Allah's Messenger (ﷺ) said, The one who pretends that he has been given what he has not been given, is just like the (false) one who wears two garments of falsehood."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا اور ان سے اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک خاتون نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری سوکن ہے اگر اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی داستانیں اسے سناؤں جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا تو کیا اس میں کوئی حرج ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا یعنی ( دوسروں کے کپڑے ) مانگ کر پہنے ۔
Narrated `Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہما :
The Prophet, said, "There is none having a greater sense of Ghira than Allah. And for that He has forbidden the doing of evil actions (illegal sexual intercourse etc.) There is none who likes to be praised more than Allah does."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے شقیق نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے بے حیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی اپنی تعریف پسند کرنے والا نہیں ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "O followers of Muhammad! There is none, who has a greater sense of Ghira (self-respect) than Allah, so He has forbidden that His slave commits illegal sexual intercourse or His slave girl commits illegal sexual intercourse. O followers of Muhammad! If you but knew what I know, you would laugh less and weep more!"
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے امت محمد ! اللہ سے بڑھ کر غیرت مند اور کوئی نہیں کہ وہ اپنے بندہ یا بندی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے ۔ اے امت محمد ! اگر تمہیں وہ معلوم ہوتا جو مجھے معلوم ہے تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
Narrated Asma' the daughter of Hadrat Abu Bakt رضی اللہ عنہما :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "There is nothing (none) having a greater sense of Ghira (self-respect) than Allah." And narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہما that he heard the Prophet (saying the same).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے ان کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اور ( اسی سند سے ) یحییٰ سے روایت ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet; said, "Allah has a sense of Ghira, and Allah's sense of Ghira is provoked when a believer does something which Allah has prohibited."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو غیرت اس وقت آتی ہے جب بندہ مومن وہ کام کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہے ۔
Narrated Asma' bint Abu Bakr رضی اللہ عنہما :
When Az-Zubair رضی اللہ عنہ married me, he had no real property or any slave or anything else except a camel which drew water from the well, and his horse. I used to feed his horse with fodder and drew water and sew the bucket for drawing it, and prepare the dough, but I did not know how to bake bread. So our Ansari neighbors used to bake bread for me, and they were honorable ladies. I used to carry the date stones on my head from Zubair's land given to him by Allah's Messenger (ﷺ) and this land was two third Farsakh (about two miles) from my house. One day, while I was coming with the date stones on my head, I met Allah's Messenger (ﷺ) along with some Ansari people. He called me and then, (directing his camel to kneel down) said, "Ikh! Ikh!" so as to make me ride behind him (on his camel). I felt shy to travel with the men and remembered Az-Zubair رضی اللہ عنہ and his sense of Ghira, as he was one of those people who had the greatest sense of Ghira. Allah's Messenger (ﷺ) noticed that I felt shy, so he proceeded. I came to Az-Zubair رضی اللہ عنہ and said, "I met Allah's Messenger (ﷺ) while I was carrying a load of date stones on my head, and he had some companions with him. He made his camel kneel down so that I might ride, but I felt shy in his presence and remembered your sense of Ghira (See the glossary). On that Az-Zubair رضی اللہ عنہ said, "By Allah, your carrying the date stones (and you being seen by the Prophet (ﷺ) in such a state) is more shameful to me than your riding with him." (I continued serving in this way) till Abu Bakr رضی اللہ عنہ sent me a servant to look after the horse, whereupon I felt as if he had set me free.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال ، کوئی غلام ، کوئی چیز نہیں تھی ۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی ، پانی پلاتی ، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی ۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی ۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں ۔ یہ بڑی سچی اور با وفا عورتیں تھیں ۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی ، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کیگٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی ۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی ۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ۔ پھر ( اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لئے ) کہا ۔ اخ اخ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا ۔ زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی باغیرت تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں ۔ اس لئے آپ آگے بڑھ گئے ۔ پھر میں زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی ۔ میرے سر پر گٹھلیاںتھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھا نے کے لئے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا ۔ اس پر زبیر نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لئے نکلے اگر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی ( کیونکہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں ) اس کے بعد میرے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا وہ گھوڑے کا سب کام کرنے لگا اور میں بے فکر ہو گئی گویا والد ماجد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( غلام بھیج کر ) مجھ کو آزاد کر دیا ۔
Narrated Anas:
While the Prophet (ﷺ) was in the house of one of his wives, one of the mothers of the believers sent a meal in a dish. The wife at whose house the Prophet (ﷺ) was, struck the hand of the servant, causing the dish to fall and break. The Prophet (ﷺ) gathered the broken pieces of the dish and then started collecting on them the food which had been in the dish and said, "Your mother (my wife) felt jealous." Then he detained the servant till a (sound) dish was brought from the wife at whose house he was. He gave the sound dish to the wife whose dish had been broken and kept the broken one at the house where it had been broken.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے ، ان سے حمید نے ، ان سے حضرت انس نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے یہاں تشریف رکھتے تھے ۔ اس وقت ایک زوجہ ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی جن کے گھر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف رکھتے تھے ۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر ( غصہ میں ) مارا جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا ۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کٹورا لے کر ٹکڑے جمع کئے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور ( خادم سے ) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا ۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نیا کٹورہ ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ ان کے یہا ں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہما :
The Prophet, said, "I entered Paradise and saw a palace and asked whose palace is this? They (the Angels) said, "This palace belongs to `Umar bin Al-Khattab.' I intended to enter it, and nothing stopped me except my knowledge about your sense of Ghira (self-respect (O `Umar رضی اللہ عنہ )." `Umar رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father and mother be sacrificed for you! O Allah's Prophet! How dare I think of my Ghira (self-respect) being offended by you?"
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن عمرعمری نے ، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) میں جنت میں گیا ، وہاں میں نے ایک محل دیکھا میں نے پوچھا یہ محل کس کاہے ؟ فرشتوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، اے اللہ کے نبی ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
While we were sitting with Allah's Messenger (ﷺ), (he) Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw a woman performing ablution beside a palace. I asked, "Whose palace is this?' It was said, 'This palace belongs to `Umar رضی اللہ عنہ .' Then I remembered his sense of Ghira and returned." On that `Umar رضی اللہ عنہ started weeping in that gathering and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! How dare I think of my self-respect being offended by you?"
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی ، اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خواب میں میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا ۔ وہا ں میں نے دیکھا کہ ایک محل کے کنارے ایک عورت وضو کر رہی تھی ۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتے نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ۔ میں ان کی غیرت کا خیال کر کے واپس چلا آیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو اس وقت مجلس میں موجود تھے اس پر رودیئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ۔