Back to Sahih Bukhari

Wedlock, Marriage (Nikaah)

كتاب النكاح

Chapter 68

Hadith 5228
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَىَّ غَضْبَى ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لاَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى قُلْتِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَهْجُرُ إِلاَّ اسْمَكَ‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

Allah's Messenger (ﷺ) said to her, "I know when you are pleased with me or angry with me." I said, "Whence do you know that?" He said, "When you are pleased with me, you say, 'No, by the Lord of Muhammad,' but when you are angry with me, then you say, 'No, by the Lord of Abraham.' " Thereupon I said, "Yes (you are right), but by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ), I leave nothing but your name."

Urdu

ہم سے عبید بن اسما عیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میں خوب پہچانتا ہوں کہ کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ پر ناراض ہو جاتی ہو ۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات کس طرح سمجھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم ! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم ! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ہاں اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! ( غصے میں ) صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی ۔

Hadith 5229
Sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا وَثَنَائِهِ عَلَيْهَا، وَقَدْ أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ لَهَا فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

I never felt so jealous of any wife of Allah's Messenger (ﷺ) as I did of Khadija رضی اللہ عنہا because Allah's Messenger (ﷺ) used to remember and praise her too often and because it was revealed to Allah's Messenger (ﷺ) that he should give her (Khadija رضی اللہ عنہا ) the glad tidings of her having a palace of Qasab in Paradise .

Urdu

مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ، آپ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کسی عورت پر مجھے اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت کیا کرتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی گئی تھی کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکو جنت میں ان کے موتی کے گھر کی بشارت دے دیں ۔

Hadith 5230
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهْوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏ "‏ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلاَ آذَنُ، ثُمَّ لاَ آذَنُ، ثُمَّ لاَ آذَنُ، إِلاَّ أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ‏"‏‏.‏ هَكَذَا قَالَ‏.‏
English

Narrated Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ :

I heard Allah's Messenger (ﷺ) who was on the pulpit, saying, "Banu Hisham bin Al-Mughira have requested me to allow them to marry their daughter to `Ali bin Abu Talib, but I don't give permission, and will not give permission unless `Ali bin Abi Talib divorces my daughter in order to marry their daughter, because Fatima رضی اللہ عنہ is a part of my body, and I hate what she hates to see, and what hurts her, hurts me."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر فرما رہے تھے کہ ہشام بن مغیرہ جو ابوجہل کا باپ تھا اس کی اولاد ( حارث بن ہشام اورسلم بن ہشام ) نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے لیکن میں انہیں ہرگز اجازت نہیں دوں گا یقیناً میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ہرگز میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ۔ البتہ اگر علی بن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہیں ( تو میں اس میں رکاوٹ نہیں بنوں گا ) کیونکہ وہ ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے جگر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس کو برا لگے وہ مجھ کو بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے ۔

Hadith 5231
Sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ غَيْرِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ وَيَكْثُرَ الزِّنَا، وَيَكْثُرَ شُرْبُ الْخَمْرِ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

I will narrate to you a Habith I heard from Allah's Messenger (ﷺ) and none other than I will tell you of it. I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "From among the portents of the Hour are the following: Religious knowledge will be taken away; General ignorance (in religious matters) will increase; illegal Sexual intercourse will prevail: Drinking of alcoholic drinks will prevail. Men will decrease in number, and women will increase in number, so much so that fifty women will be looked after by one man."

Urdu

ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، میرے سوا یہ حدیث تم سے کوئی اور نہیں بیان کرنے والا ہے ۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ قرآن و حدیث کا علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت بڑھ جائے گی ۔ زنا کی کثرت ہو جائے گی اور شراب لوگ زیادہ پینے لگیں گے ۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی ۔ حالت یہ ہو جائے گی کہ پچاس پچاس عورتوں کا سنبھالنے والا ( خبر گیر ) ایک مرد ہو گا ۔

Hadith 5232
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الْحَمْوُ الْمَوْتُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Uqba bin 'Amir:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Beware of entering upon the ladies." A man from the Ansar said, "Allah's Apostle! What about Al-Hamu the in-laws of the wife (the brothers of her husband or his nephews etc.)?" The Prophet (ﷺ) replied: The in-laws of the wife are death itself.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے ابو الخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دیور کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ ( وہ اپنی بھاوج کے ساتھ جا سکتا ہے یا نہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور یا ( جیٹھ ) کا جانا ہی تو ہلاکت ہے ۔

Hadith 5233
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَاكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas :

The Prophet (ﷺ) said, "No man should stay with a lady in seclusion except in the presence of a Dhu- Muhram." A man stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My wife has gone out intending to perform the Hajj and I have been enrolled (in the army) for such-and-such campaign." The Prophet (ﷺ) said, "Return and perform the Hajj with your wife."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے ابو معبد نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے ۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری بیوی حج کرنے گئی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو واپس جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر ۔

Hadith 5234
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَلاَ بِهَا فَقَالَ ‏ "‏ وَاللَّهِ إِنَّكُنَّ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

An Ansari woman came to the Prophet (ﷺ) and he took her aside and said (to her). "By Allah, you (Ansar) are the most beloved people to me."

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے حدیث بیان کی ، ان سے غندر نے حدیث بیان کی ، ان سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

قبیلہ انصار کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے لوگوں سے ایک طرف ہو کر تنہائی میں گفتگو کی ۔ اس کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ ( یعنی انصار ) مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو ۔

Hadith 5235
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ الْمُخَنَّثُ لأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكُنَّ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) was with her, there was an effeminate man in the house. The effeminate man said to Um Salama's brother, `Abdullah bin Abi Umaiyya رضی اللہ عنہا , "If Allah should make you conquer Ta'if tomorrow, I recommend that you take the daughter of Ghailan (in marriage) for (she is so fat) that she shows four folds of flesh when facing you and eight when she turns her back." Thereupon the Prophet (ﷺ) said (to us), "This (effeminate man) should not enter upon you (anymore).

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے ، گھر میں ایک مغیث نامی مخنث بھی تھا ۔ اس مخنث ( ہیجڑے ) نے حضرت ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر کل اللہ نے تمہیں طائف پر فتح عنایت فرمائی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کو دکھلاؤں گا کیونکہ وہ سامنے آتی ہے تو ( مٹاپے کی وجہ سے ) اس کے چار شکنیں پڑجاتی ہیں اور جب پیچھے پھرتی ہے تو آٹھ ہو جاتی ہیں ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ام سلمہ سے ) فرمایا کہ یہ ( مخنث ) تمہارے پاس اب نہ آیا کرے ۔

Hadith 5236
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْأَمُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) was screening me with his Rida' (garment covering the upper part of the body) while I was looking at the Ethiopians who were playing in the courtyard of the mosque. (I continued watching) till I was satisfied. So you may deduce from this event how a little girl (who has not reached the age of puberty) who is eager to enjoy amusement should be treated in this respect.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا ، ان سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا ، ان سے اوزاعی نے ، ان سے زہری نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پردہ کئے ہوئے ہیں ۔ میں حبشہ کے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں ( جنگی ) کھیل کا مظا ہرہ کر رہے تھے ، آخر میں ہی اکتا گئی ۔ اب تم سمجھ لو ایک کم عمر لڑکی جس کو کھیل تماشہ دیکھنے کا بڑا شوق ہے کتنی دیر تک دیکھتی رہی ہو گی ۔

Hadith 5237
Sahih
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ لَيْلاً فَرَآهَا عُمَرُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ إِنَّكِ وَاللَّهِ يَا سَوْدَةُ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، وَهْوَ فِي حُجْرَتِي يَتَعَشَّى، وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ فَرُفِعَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ قَدْ أَذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Once Sa`da bint Zam`a went out at night for some need, and `Umar saw her, and recognizing her, he said (to her), "By Allah, O Sa`da! You cannot hide yourself from us." So she returned to the Prophet (ﷺ) and mentioned that to him while he was sitting in my dwelling taking his supper and holding a bone covered with meat in his hand. Then the Divine Inspiration was revealed to him and when that state was over, he (the Prophet (ﷺ) was saying: "O women! You have been allowed by Allah to go out for your needs."

Urdu

ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رات کے وقت باہر نکلیں تو حضرت عمر نے انہیں دیکھ لیا اور پہچان گئے ۔ پھر کہا اے سودہ ! اللہ کی قسم ! تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں ۔ جب حضرت سودہ واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرے میں شام کا کھانا کھا رہے تھے ۔ آپ کے ہاتھ میں گوشت کی ایک ہڈی تھی ۔ اس وقت آپ پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور جب نزول وحی کا سلسلہ ختم ہو اتو آپ نے فرمایا کہ تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لئے باہر نکل سکتی ہو ۔

Hadith 5238
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ يَمْنَعْهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "If the wife of anyone of you asks permission to go to the mosque, he should not forbid her."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہری نے ، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں ( نماز پڑھنے کے لئے ) جانے کی اجازت مانگے تو اسے نہ روکو بلکہ اجازت دے دو ۔

Hadith 5239
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَىَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ ‏"‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

My foster uncle came and asked permission (to enter) but I refused to admit him till I asked Allah's Apostle about that. He said, "He is your uncle, so allow him to come in." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have been suckled by a woman and not by a man." Allah's Messenger (ﷺ) said, "He is your uncle, so let him enter upon you." And that happened after the order of Al-Hijab (compulsory veiling) was revealed. Hadrat Aisha رضی اللہ عنہا says: All things which become unlawful because of blood relations are unlawful because of the corresponding foster suckling relations.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میرے دودھ ( رضاعی ) چچا ( افلح ) آئے اور میرے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن میں نے کہا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں ، اجازت نہیں دے سکتی ۔ پھر آپ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں ، انہیں اندر بلا لو ۔ میں نے اس پر کہا کہ یا رسول اللہ ! عورت نے مجھے دودھ پلایا تھا کوئی مرد نے تھوڑا ہی پلایا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہیں تو وہ تمہارے چچا ہی ( رضاعی ) اس لئے وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں ، یہ واقعہ ہمارے لئے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خون سے جو چیزیں حرام ہوتی ہیں رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتی ہیں ۔

Hadith 5240
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "A woman should not look at or touch another woman to describe her to her husband in such a way as if he was actually looking at her."

Urdu

ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے منصور بن معتمر نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے ، گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔

Hadith 5241
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "A woman should not look at or touch another woman to describe her to her husband in such a way as if he was actually looking at her."

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا ، کہا میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کوئی عورت کسی عورت سے مل کر اپنے شوہر سے اس کے حلیہ نہ بیان کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔

Hadith 5242
Sahih
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏"‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ، تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ غُلاَمًا، يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ، فَأَطَافَ بِهِنَّ، وَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ أَرْجَى لِحَاجَتِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

(The Prophet) Solomon son of (the Prophet) David said, "Tonight I will go round (i.e. have sexual relations with) one hundred women (my wives) everyone of whom will deliver a male child who will fight in Allah's Cause." On that an Angel said to him, "Say: 'If Allah will.' " But Solomon did not say it and forgot to say it. Then he had sexual relations with them but none of them delivered any child except one who delivered a half person. The Prophet (ﷺ) said, "If Solomon had said: 'If Allah will,' Allah would have fulfilled his (above) desire and that saying would have made him more hopeful."

Urdu

مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن طاؤس نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

سلیمان بن داؤد علیہاالسلام نے فرمایا کہ آج رات میں اپنی سو بیویوں کے پاس ہو آؤں گا ( اور اس قربت کے نتیجہ میں ) ہر عورت ایک لڑکا جنے گی تو سو لڑکے ایسے پیدا ہوں گے جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے ۔ فرشتہ نے ان سے کہا کہ انشاءاللہ کہہ لیجئے لیکن انہوں نے نہیں کہا اور بھول گئے ۔ چنانچہ آپ تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک کے سوا کسی کے بھی بچہ پیدا نہ ہوا اور اس ایک کے یہاں بھی آدھا بچہ پیدا ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر انشاءاللہ کہہ لیتے تو ان کی مراد بر آتی اور ان کی خواہش پوری ہونے کی امید زیادہ ہوتی ۔

Hadith 5243
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) disliked that one should go to one's family at night (on returning from a journey).

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے رات کے وقت اپنے گھر ( سفر سے اچانک ) آنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے ۔

Hadith 5244
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلاَ يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلاً ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "When anyone of you is away from his house for a long time, he should not return to his family at night."

Urdu

ہم سے محمد بن مقاتل مروزی نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو عاصم بن سلیمان نے خبر دی ، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص زیادہ دنوں تک اپنے گھر سے دور ہو تو یکا یک رات کو اپنے گھر میں نہ آ جائے ۔

Hadith 5245
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ قَطُوفٍ فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا يُعْجِلُكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَبِكْرًا تَزَوَّجْتَ أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ ‏"‏ أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً ـ أَىْ عِشَاءً ـ لِكَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي الثِّقَةُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏"‏ الْكَيْسَ الْكَيْسَ يَا جَابِرُ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي الْوَلَدَ‏.‏
English

Narrated Jabir:

I was with Allah's Messenger (ﷺ) in a Ghazwa, and when we returned, I wanted to hurry, while riding a slow camel. A rider came behind me. I looked back and saw that the rider was Allah's Messenger (ﷺ) . He said (to me), "What makes you in such a hurry?" I replied, "I am newly married." He said, "Did you marry a virgin or a matron?" I replied, "(Not a virgin but) a matron." He said, "Why didn't you marry a young girl with whom you could play and who could play with you?" Then when we approached (Medina) and were going to enter (it), the Prophet (ﷺ) said, "Wait till you enter (your homes) at night (in the first part of the night) so that the ladies with unkempt hair may comb their hair, and those whose husbands have been absent (for a long time) may shave their pubic hair." (The sub-narrator, Hashim said: A reliable narrator told me that the Prophet (ﷺ) added in this Hadith: "(Seek to beget) children! Children, O Jabir!")

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، ان سے ہشیم بن بشیر نے ، ان سے سیار بن دروان نے ، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد ( تبوک ) میں تھا ، جب ہم واپس ہو رہے تھے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آئے ۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ آپ نے فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے ۔ آپ نے دریافت فرمایا ، کنواری عورت سے تم نے شادی کی یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے ۔ آپ نے اس پر فرمایا ، کنواری سے کیوں نہ کی ؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے سا تھ کھیلتی ۔ جابر نے بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو جائیں لیکن آپ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ۔ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ تمہاری بیویاں جو پراگندہ بال ہیں وہ کنگھی چوٹی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ موئے زیر ناف صاف کر لیں ۔ ہشیم نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ الکیس الکیس یعنی اے جابر ! جب تو گھر پہنچے تو خوب خوب کیس کیجؤ ( امام بخاری نے کہا ) کیس کا مطلب ہے کہ اولاد ہونے کی خواہش کیجؤ ۔

Hadith 5246
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا دَخَلْتَ لَيْلاً فَلاَ تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَعَلَيْكَ بِالْكَيْسِ الْكَيْسِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَيْسِ‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "If you enter (your town) at night (after coming from a journey), do not enter upon your family till the woman whose husband was absent (from the house) shaves her pubic hair and the woman with unkempt hair, combs her hair" Allah's Messenger (ﷺ) further said, "(O Jabir!) Seek to have offspring, seek to have offspring!" Obaidullah from Wahb, he from Hadrat Jabir and he has reported from the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے محمد بن ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سیار نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت ) فرمایا ، جب رات کے وقت تم مدینہ میں پہنچو تو اس وقت تک اپنے گھروں میں نہ جانا جب تک ان کی بیویاں جو مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے ، اپنا موئے زیر ناف صاف نہ کر لیں اورجن کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھا نہ کر لیں ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر ضروری ہے کہ جب تم گھر پہنچو تو خوب خوب کیس کیجو ۔ شعبی کے ساتھ اس حدیث کو عبیداللہ نے بھی وہب بن کیسان سے ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ، اس میں بھی کیس کا ذکر ہے ۔

Hadith 5247
Sahih
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَسَارَ بَعِيرِي كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الإِبِلِ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ بِكْرًا تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ ‏"‏ أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً ـ أَىْ عِشَاءً ـ لِكَىْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

We were with the Prophet (ﷺ) in Ghazwa, and when we returned and approached Medina, I wanted to hurry while riding a slow camel. A rider overtook me and pricked my camel with a spear which he had, whereupon my camel started running as fast as any other fast camel you may see. I looked back, and behold, the rider was Allah's Messenger (ﷺ) . I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I am newly married " He asked, "Have you got married?" I replied, "Yes." He said, "A virgin or a matron?" I replied, "(Not a virgin) but a matron" He said, "Why didn't you marry a young girl so that you could play with her and she with you?" When we reached (near Medina) and were going to enter it, the Prophet (ﷺ) said, "Wait till you enter your home early in the night so that the lady whose hair is unkempt may comb her hair and that the lady whose husband has been away may shave her pubic hair."

Urdu

مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو سیار نے خبر دی ، انہیں شعبی نے ، انہیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ، انہوں نے بیان کیا کہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( تبوک ) میں تھے ۔ واپس ہوتے ہوئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا ۔ ایک صاحب نے پیچھے سے میرے قریب پہنچ کر میرے اونٹ کو ایک چھڑی سے جو ان کے پاس تھی ، مارا ۔ اس سے اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا ، جیسا کہ تم نے اچھے اونٹوں کو چلتے ہوئے دیکھا ہو گا ۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری شادی نئی ہوئی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پوچھا ، کیا تم نے شادی کر لی ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ دریافت فرمایا ، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے ؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کنواری سے کیوں نہ کی ؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی ۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو شہر میں داخل ہونے لگے لیکن آپ نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ پراگندہ بال عورت چوٹی کنگھا کر لے اور جس کا شوہر موجود نہ رہا ہو ، وہ موئے زیر ناف صاف کر لے ۔