Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Two men came from the east and delivered speeches, and the Prophet (ﷺ) said, "Some eloquent speech has the influence of magic." (e.g., some people refuse to do something and then a good eloquent speaker addresses them and then they agree to do that very thing after his speech)
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے ، وہ مسلمان ہو گئے اور خطبہ دیا ، نہایت فصیح و بلیغ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے ۔(مثال کے طور پر، کچھ لوگ کچھ کرنے سے انکار کرتے ہیں اور پھر ایک اچھا فصیح مقرر ان سے مخاطب ہوتا ہے اور پھر وہ اس کی تقریر کے بعد وہی کام کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں)
Narrated Ar-Rabi` رضی اللہ عنہا (the daughter of Muawwidh bin Afra):
After the consummation of my marriage, the Prophet (ﷺ) came and sat on my bed as far from me as you are sitting now, and our little girls started beating the tambourines and reciting elegiac verses mourning my father who had been killed in the battle of Badr. One of them said, "Among us is a Prophet who knows what will happen tomorrow." On that the Prophet said, "Leave this (saying) and keep on saying the verses which you had been saying before."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا ، کہ ربیع بنت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور میر ے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو ۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے ، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں ۔ اتنے میں ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا ، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتا ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں ۔ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو ۔ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
`Abdur Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ married a woman and gave her gold equal to the weight of a date stone (as Mahr). When the Prophet (ﷺ) noticed the signs of cheerfulness of the marriage (on his face) and asked him about it, he said, "I have married a woman and gave (her) gold equal to a date stone in weight (as Mahr). Qatadah has reported from Hadrat Anas رضی اللہ عنہ That Hadrat Abdur Rehman bin Auf رضی اللہ عنہ married a woman in lieu of gold equal to the size of a date-stone.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر ( سونے کے مہر پر ) نکاح کیا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر سونا دے کر نکاح کیا ہے اور قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے ۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا ۔
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:
While I was (sitting) among the people in the company of Allah's Messenger (ﷺ) a woman stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! She has given herself in marriage to you; please give your opinion of her." The Prophet did not give her any reply. She again stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! She has given herself (in marriage) to you; so please give your opinion of her. The Prophet (ﷺ) did not give her any reply. She again stood up for the third time and said, "She has given herself in marriage to you: so give your opinion of her." So a man stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Marry her to me." The Prophet asked him, "Have you got anything?" He said, "No." The Prophet (ﷺ) said, "Go and search for something, even if it were an iron ring." The man went and searched and then returned saying, "I could not find anything, not even an iron ring." Then the Prophet (ﷺ) said, "Do you know something of the Qur'an (by heart)?" He replied, "I know (by heart) such Sura and such Sura." The Prophet (ﷺ) said, "Go! I have married her to you for what you know of the Qur'an (by heart).
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، کہا میں نے ابوحازم سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس میں ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں آپ اب جو چاہیں کریں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ پھر کھڑی ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیا ہے حضور جو چاہیں کریں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ تیسری مرتبہ کھڑی ہوئیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کوحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کر دیا ، حضور جو چاہیں کریں ۔ اس کے بعد ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ایک لوہے کی انگوٹھی بھی اگر مل جائے لے آؤ ۔ وہ گئے اور تلاش کیا ، پھر واپس آ کر عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں پایا ، لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ قرآن ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ میرے پاس فلاں فلاں سورتیں ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن پر کیا جو تم کو یاد ہے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to a man, "Marry, even with (a Mahr equal to) an iron ring."
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ان سے ابوحازم نے اور ان سے صحابی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا نکاح کر ، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی پر ہی ہو ۔
Narrated `Uqba رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said: "The stipulations most entitled to be abided by are those with which you are given the right to enjoy the (women's) private parts (i.e. the stipulations of the marriage contract).
ہم سے ابو الولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے ابو الخیر اور ان سے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام شرطوں میں وہ شرطیں سب سے زیادہ پوری کی جانے کے لائق ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔ یعنی نکاح کی شرطیں ضرور پوری کرنی ہو گی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "It is not lawful for a woman (at the time of wedding) to ask for the divorce of her sister (i.e. the other wife of her would-be husband) in order to have everything for herself, for she will take only what has been written for her."
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ان سے زکریا نے جو ابو زائدہ کے صاحبزادے ہیں ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ اپنی کسی ( سوکن ) بہن کی طلاق کی شرط اس لئے لگائے تاکہ اس کے حصہ کا پیالہ بھی خود انڈیل لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے مقدر میں ہو گا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
`Abdur-Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ came to Allah's Messenger (ﷺ) and he had marks of Sufra (yellow perfume). Allah's Messenger (ﷺ) asked him (about those marks). `AbdurRahman bin `Auf told him that he had married a woman from the Ansar. The Prophet (ﷺ) asked, "How much Mahr did you pay her?" He said, "I paid gold equal to the weight of a date stone." Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "Give a wedding banquet, even if with one sheep."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، ان کو مالک نے خبر دی ، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انصارکی ایک عورت سے نکاح کیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اسے مہر کتنا دیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے برابر سونا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) offered a wedding banquet on the occasion of his marriage to Zainab رضی اللہ عنہا , and provided a good meal for the Muslims. Then he went out as was his custom on marrying, he came to the dwelling places of the mothers of the Believers (i.e. his wives) invoking good (on them), and they were invoking good (on him). Then he departed (and came back) and saw two men (still sitting there). So he left again. I do not remember whether I informed him or he was informed (by somebody else) of their departure).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور مسلمانوںکے لئے کھانے کا انتظام کیا ۔ ( کھانے سے فراغت کے بعد ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے ، جیسا کہ نکاح کے بعد آپ کا دستور تھا ۔ پھر آپ امہات المؤمنین کے حجروں میں تشریف لے گئے ۔ آپ نے ان کے لئے دعا کی اور انہوں نے آپ کے لئے دعا کی ۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو دو صحابہ کو دیکھا ( کہ ابھی بیٹھے ہوئے تھے ) اس لئے آپ پھر تشریف لے گئے ( انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ میں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا کسی اور نے خبر دی کہ وہ دونوں صحابی بھی چلے گئے ہیں ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) saw the traces of Sufra (yellow perfume) on `Abdur-Rahman bin `Auf and said, "What is this?" `Abdur-Rahman, said, "I have married a woman and have paid gold equal to the weight of a datestone (as her Mahr). The Prophet (ﷺ) said to him, "May Allah bless you: Offer a wedding banquet even with one sheep."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When the Prophet (ﷺ) married me, my mother came to me and made me enter the house where I saw some women from the Ansar who said, "May you prosper and have blessings and have good omen."
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میری والدہ ( ام رومان بنت عامر ) میرے پاس آئیں اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے گئیں ۔ گھر کے اندر قبیلہ انصار کی عورتیں موجود تھیں ۔ انہوں نے ( مجھ کو اور میری ماں کو ) یوں دعادی بارک وبارک اللہ اللہ کرے تم اچھی ہو تمہارا نصیبہ اچھا ہو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "A prophet among the prophets went for a military expedition and said to his people: "A man who has married a lady and wants to consummate his marriage with her and he has not done so yet, should not accompany me.' "
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا ، ان سے معمربن راشد نے ، ان سے ہمام نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گزشتہ انبیاء میں سے ایک نبی ( حضرت یوشع علیہ السلام یا حضرت داؤد ) علیہ السلام نے غزوہ کیا اور ( غزوہ سے پہلے ) اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ چلے جس نے کسی نئی عورت سے شادی کی ہو اور اس کے ساتھ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی صحبت نہ کرے۔
Narrated 'Urwa:
The Prophet (ﷺ) wrote the (marriage contract) with `Aisha رضی اللہ عنہا while she was six years old and consummated his marriage with her while she was nine years old and she remained with him for nine years (i.e. till his death).
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عروہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال کی تھی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) stayed for three days at a place between Khaibar and Medina, and there he consummated his marriage with Safiyya bint Huyay رضی اللہ عنہا . I invited the Muslims to a banquet which included neither meat nor bread. The Prophet (ﷺ) ordered for the leather dining sheets to be spread, and then dates, dried yogurt and butter were provided over it, and that was the Walima (banquet) of the Prophet. The Muslims asked whether Safiyya رضی اللہ عنہا would be considered as his wife or as a slave girl of what his right hands possessed. Then they said, "If the Prophet (ﷺ) screens her from the people, then she Is the Prophet's wife but if he does not screen her, then she is a slave girl." So when the Prophet (ﷺ) proceeded, he made a place for her (on the camel) behind him and screened her from people.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے خبر دی ، انہیں حمید نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( راستہ میں ) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی ۔ میں نے مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا ۔ آپ نے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور ، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا ۔ مسلمانوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ( کہا کہ ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے ( کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں ۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لئے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں ۔ جب سفر ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
When the Prophet (ﷺ) married me, my mother came to me and made me enter the house (of the Prophet) and nothing surprised me but the coming of Allah's Messenger (ﷺ) to me in the forenoon.
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، اپنے والد سے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی ۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اورتنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا ۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے ۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Did you get Anmat?" I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! From where can we have Anmat?" The Prophet (ﷺ) said, "Soon you will have them (Anmat).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا ، ان سے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( جب انہوں نے شادی کی ) فرمایا تم نے جھالر دار چادریں بھی لی ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ہمارے پاس جھالر دار چادریں کہاں ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلد ہی میسر ہو جائیں گی ۔
Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا :
She prepared a lady for a man from the Ansar as his bride and the Prophet said, "O 'Aisha! Haven't you got any amusement (during the marriage ceremony) as the Ansar like amusement?"
ہم سے فضیل بن یعقوب نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
وہ ایک دلہن کو ایک انصاری مرد کے پاس لے گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! تمہارے پاس لہو ( دف بجانے والا ) نہیں تھا ، انصار کو دف پسند ہے ۔
Narrated Anas bin Malik:
"Whenever the Prophet (ﷺ) passed by (my mother Um-Sulaim) he used to enter her and greet her. Anas رضی اللہ عنہ further said: Once the Prophet (ﷺ) way a bridegroom during his marriage with Zainab رضی اللہ عنہ , Um Sulaim رضی اللہ عنہ said to me, "Let us give a gift to Allah's Messenger (ﷺ) ." I said to her, "Do it." So she prepared Haisa (a sweet dish) made from dates, butter and dried yoghurt and she sent it with me to him. I took it to him and he said, "Put it down," and ordered me to call some men whom he named, and to invite whomever I would meet. I did what he ordered me to do, and when I returned, I found the house crowded with people and saw the Prophet (ﷺ) keeping his hand over the Haisa and saying over it whatever Allah wished (him to say). Then he called the men in batches of ten to eat of it, and he said to them, "Mention the Name of Allah, and each man should eat of the dish the nearest to him." When all of them had finished their meals, some of them left and a few remained there talking, over which I felt unhappy. Then the Prophet (ﷺ) went out towards the dwelling places (of his wives) and I too, went out after him and told him that those people had left. Then he returned and entered his dwelling place and let the curtains fall while I was in (his) dwelling place, and he was reciting the Verses:-- 'O you who believe! Enter not the Prophet's house until leave is given you for a meal, (and then) not (as early as) to what for its preparation. But when you are invited, enter, and when you have taken your meals, disperse without sitting for a talk. Verily such (behavior) annoys the Prophet; and he would be shy of (asking) you (to go), but Allah is not shy of (telling you) the Truth.' (33-53) Abu Uthman said: Anas رضی اللہ عنہ said, "I served the Prophet for ten years."
ابراھیم نے ابو عثمان - جن کا نام الجعد ہے - انس بن مالک سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: وہ ہمارے پاس سے مسجد بنی رفاع میں گزرے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے ، ان کو سلام کرتے ( وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے ۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکا ح کیا تھا تو ام سلیم ( میری ماں ) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے ۔ میں نے کہا مناسب ہے ۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا ، میں لے کر آپ کے پاس چلا ، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا ۔ لوٹ کر جو آ یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونو ں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا ( برکت کی دعا فرمائی ) پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لئے بلانا شروع کیا ۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے ۔ ( رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے ) یہا ں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے ۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا ( اس خیال سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی ) آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں ۔ اس وقت آپ لوٹے اور ( زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ) آئے ۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میری اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا ۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے ۔ ” مسلمانو ! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرومگر جب کھانے کے لئے تم کو اند ر آنے کی اجازت دی جائے اس وقت جا ؤ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر آ جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو ۔ باتوں میں لگ کر وہا ں بیٹھے نہ رہا کرو ، ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی ، اس کو تم سے شرم آتی تھی ( کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ ) اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا ۔ “ ابوعثمان ( جعدی بن دینار ) کہتے تھے کہ انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے ۔ کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
She borrowed a necklace from Asma' رضی اللہ عنہا and then it got lost. So Allah's Messenger (ﷺ) sent some people from his companions in search of it. In the meantime the stated time for the prayer became due and they offered their prayer without ablution. When they came to the Prophet, they complained about it to him, so the Verse regarding Tayammum was revealed . Usaid bin Hudair رضی اللہ عنہا said, "(O `Aisha!) may Allah bless you with a good reward, for by Allah, never did a difficulty happen in connection with you, but Allah made an escape from it for you, and brought Allah's Blessings for the Muslims."
مجھ سے عبید بن اسمعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
انہوں نے ( اپنی بہن ) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ ًلے لیا تھا ، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لئے بھیجا ۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا ( اور پانی نہیں تھا ) اس لئے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی ۔ پھر جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ کے سامنے یہ شکوہ کیا ۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی ۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ ! اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے ، واللہ ! جب بھی آپ پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اسے دور کیا اور مزید برآ ں یہ کہ مسلمانوں کے لئے برکت اور بھلائی ہوئی
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you, when having sexual intercourse with his wife, says: Bismillah, Allahumma jannibni-Sh-Shaitan wa jannib-ish-Shaitan ma razaqtana, and if it is destined that they should have a child, then Satan will never be able to harm him."
ہم سے سعد بن حفص طلحی نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے منصور بن معتمر نے ، ان سے سالم بن ابی الجعد نے ، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہمبستری کے لئے جب آئے تو یہ دعا پڑھے بسم اللہ اللھم جنبنی الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا یعنی میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو ( اولاد ) ہمیں تو عطا کرے ۔ پھر اس عرصہ میں ان کے لئے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا ۔