Back to Sahih Bukhari

Wedlock, Marriage (Nikaah)

كتاب النكاح

Chapter 68

Hadith 5103
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَفْلَحَ، أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ـ وَهْوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ـ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

Aflah the brother of Abu Al-Qu'ais, her foster uncle, came, asking permission to enter upon her after the Verse of Al-Hijab (the use of veils by women) was revealed. `Aisha رضی اللہ عنہا added: I did not allow him to enter, but when Allah's Messenger (ﷺ) came, I told him what I had done, and he ordered me to give him permission.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے ، اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

ابو قعیس کے بھائی افلح نے ان کے یہاں اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے ( یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو ان کے ساتھ اپنے معاملے کو بتایا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں اندر آنے کی اجازت دے دوں ۔

Hadith 5104
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ أَرْضَعْتُكُمَا‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ فُلاَنَةَ بِنْتَ فُلاَنٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ لِي إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا‏.‏ وَهْىَ كَاذِبَةٌ فَأَعْرَضَ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، قُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا، دَعْهَا عَنْكَ ‏"‏ وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِي أَيُّوبَ‏.‏
English

Narrated `Uqba bin Al-Harith رضی اللہ عنہ :

I married a woman and then a black lady came to us and said, "I have suckled you both (you and your wife)." So I came to the Prophet (ﷺ) and said, "I married so-and-so and then a black lady came to us and said to me, 'I have suckled both of you.' But I think she is a liar." The Prophet (ﷺ) turned his face away from me and I moved to face his face, and said, "She is a liar." The Prophet (ﷺ) said, "How (can you keep her as your wife) when that lady has said that she has suckled both of you? So abandon (i.e., divorce) her (your wife). Ismail said it indicating with his two fingers, the forefinger and the middle finger that Ayyub Sakhtiyani would narrate it in this way.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے ، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے ، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی مریم نے بیان کیا ، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ( عبداللہ بن ابی ملیکہ نے ) بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث خود عقبہ سے بھی سنی ہے لیکن مجھے عبید کے واسطے سے سنی ہوئی حدیث زیادہ یاد ہے ۔ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نے ایک عورت ( ام یحییٰ بن ابی اہاب ) سے نکاح کیا ۔ پھر ایک کالی عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں ( میاں بیوی ) کو دودھ پلایا ہے ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلانی بنت فلاںسے نکاح کیا ہے ۔ اس کے بعد ہمارے یہاں ایک کالی عورت آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ، حالانکہ وہ جھوٹی ہے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عقبہ کا یہ کہنا کہ وہ جھوٹی ہے ناگوار گزرا ) آپ نے اس پر اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا ۔ پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا وہ عورت جھوٹی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس بیوی سے اب کیسے نکاح رہ سکے گا جبکہ یہ عورت یوں کہتی ہے کہ اس نے تم دونوںکو دودھ پلایاہے ، اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو ۔ “ ( حدیث کے راوی ) اسماعیل بن علیہ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کرکےبتایا.

Hadith 5105
Sahih
وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ‏}‏ الآيَةَ‏.‏ وَجَمَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيٍّ وَامْرَأَةِ عَلِيٍّ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لاَ بَأْسَ بِهِ‏.‏ وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ‏.‏ وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَيْنَ ابْنَتَىْ عَمٍّ فِي لَيْلَةٍ، وَكَرِهَهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ لِلْقَطِيعَةِ، وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ‏}‏ وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ يَحْيَى الْكِنْدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَأَبِي جَعْفَرٍ، فِيمَنْ يَلْعَبُ بِالصَّبِيِّ إِنْ أَدْخَلَهُ فِيهِ، فَلاَ يَتَزَوَّجَنَّ أُمَّهُ، وَيَحْيَى هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ‏.‏ وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي نَصْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَرَّمَهُ‏.‏ وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا لَمْ يُعْرَفْ بِسَمَاعِهِ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالْحَسَنِ وَبَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ‏.‏ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ تَحْرُمُ حَتَّى يُلْزِقَ بِالأَرْضِ يَعْنِي يُجَامِعَ‏.‏ وَجَوَّزَهُ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ وَالزُّهْرِيُّ‏.‏ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عَلِيٌّ لاَ تَحْرُمُ‏.‏ وَهَذَا مُرْسَلٌ‏.‏
English

Narrated Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما :

"Seven types of marriages are unlawful because of blood relations, and seven because of marriage relations." Then Ibn 'Abbas recited the Verse: "Forbidden for you (for marriages) are your mothers..." (4:23). 'Abdullah bin Ja'far married the daughter and wife of 'Ali رضی اللہ عنہ at the same time (they were step-daughter and mother). Ibn Sirin said, "There is no harm in that." But Al-Hasan Al-Basri disapproved of it at first, but then said that there was no harm in it. Al-Hasan bin Al-Hasan bin 'Ali married two of his cousins in one night. Ja'far bin Zaid disapproved of that because of it would bring hatred (between the two cousins), but it is not unlawful, as Allah said, "Lawful to you are all others [beyond those (mentioned)]. (4:24). Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said: "If somebody commits illegal sexual intercourse with his wife's sister, his wife does not become unlawful for him." And narrated Abu Ja'far, "If a person commits homosexuality with a boy, then the mother of that boy is unlawful for him to marry." Narrated Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما , "If one commits illegal sexual intercourse with his mother in law, then his married relation to his wife does not become unlawful." Abu Nasr reported to have said that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما in the above case, regarded his marital relation to his wife unlawful, but Abu Nasr is not known well for hearing Hadith from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما . Imran bin Hussain, Jabir b. Zaid, Al-Hasan and some other Iraqi's, are reported to have judged that his marital relations to his wife would be unlawful. In the above case Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said, "The marital relation to one's wife does not become unlawful except if one as had sexual intercourse (with her mother)." Ibn Al-Musaiyab, 'Urwa, and Az-Zuhri allows such person to keep his wife. 'Ali رضی اللہ عنہ said, "His marital relations to his wife does not become unlawful."

Urdu

اور امام احمد بن حنبل نے مجھ سے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، انہوں نے سفیا ن ثوری سے ، کہا مجھ سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ، انہوں نے سعید بن جبیر سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے کہا

خون کی روسے تم پر سات رشتے حرام ہیں اور شادی کی وجہ سے ( یعنی سسرال کی طرف سے ) سات رشتے بھی ۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی ۔ حرمت علیکم امہاتکم آخر تک اور عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی زینب اور علی کی بی بی ( لیلٰی بنت مسعود ) دونوں سے نکاح کیا ، ان کو جمع کیا اور ابن سیرین نے کہا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور امام حسن بصری نے ایک بار تو اسے مکروہ کہا پھر کہنے لگے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب نے اپنے دونوں چاچاؤں ( یعنی محمد بن علی اور عمرو بن علی ) کی بیٹیوں کو ایک ساتھ میں نکاح میں لے لیا اور جابر بن زید تابعی نے اس کو مکروہ جانا ، اس خیال سے کہ بہنوں میں جلا پانہ پیدا ہو مگر یہ کچھ حرام نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے سوا اور سب عورتیں تم کو حلال ہیں اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کیا اگر کسی نے اپنی سالی سے زنا کیا تو اس کی بیوی ( سالی کی بہن ) اس پر حرام نہ ہو گی اور یحییٰ بن قیس کندی سے روایت ہے ، انہوں نے شعبی اور جعفر سے ، دونوں نے کہا اگر کوئی شخص لواطت کرے اور کسی لونڈے کے دخول کر دے تو اب اس کی ماں سے نکاح نہ کرے اور یحییٰ راوی مشہور شخص نہیں ہے اور نہ کسی اور نے اس کے ساتھ ہو کر یہ روایت کی ہے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اگر کسی نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی اور ابو نصر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حرام ہو جائے گی اور اس راوی ابو نصر کا حال معلوم نہیں ۔ اس نے ابن عباس سے سنا ہے یا نہیں ( لیکن ابوزرعہ نے اسے ثقہ کہا ہے ) اور عمر ان بن حصین اور جابر بن زید اور حسن بصری اور بعض عراق والوں ( امام ثوری اوراما م ابوحنیفہ رحمہ اللہ ) کا یہی قول ہے کہ حرام ہو جائے گی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا حرام نہ ہو گی جب تک اس کی ماں ( اپنی خوشدامن ) کو زمین سے نہ لگا دے ( یعنی اس سے جماع نہ کرے ) اور سعید بن مسیب اور عروہ اور زہری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اگر کوئی ساس سے زنا کرے تب بھی اس کی بیٹی یعنی زنا کرنیوالے کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی ( اس کو رکھ سکتا ہے اور زہری نے کہا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی جورو اس پر حرام نہ ہو گی اور یہ روایت منقطع ہے ۔

Hadith 5106
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ ‏"‏ فَأَفْعَلُ مَاذَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ تَنْكِحُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتُحِبِّينَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِيكَ أُخْتِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي ‏"‏‏.‏ قُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ‏.‏
English

Narrated Um Habiba:

I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you like to have (my sister) the daughter of Abu Sufyan?" The Prophet (ﷺ) said, "What shall I do (with her)?" I said, "Marry her." He said, "Do you like that?" I said, "(Yes), for even now I am not your only wife, so I like that my sister should share you with me." He said, "She is not lawful for me (to marry)." I said, "We have heard that you want to marry." He said, "The daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "Even if she were not my stepdaughter, she should be unlawful for me to marry, for Thuwaiba suckled me and her father (Abu Salama). So you should neither present your daughters, nor your sisters, to me." Laith has said with reference to Hisham that her name was Durrah, the daughter of abu Salamah.

Urdu

ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام حبیبہ نے بیان کیا کہ

میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کی صاحبزادی ( غرہ یادرہ یاحمنہ ) کو چاہتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں اس کے ساتھ کیا کروں گا ؟ میں نے عرض کیا کہ اس سے آپ نکاح کر لیں ۔ فرمایا کیا تم اسے پسند کروگی ؟ میں نے عرض کیا میں کوئی تنہا تو ہوں نہیں اور میں اپنی بہن کے لئے یہ پسند کرتی ہوں کہ وہ بھی میرے ساتھ آپ کے تعلق میں شریک ہو جائے ۔ اس پر آنحضرت نے فرمایا کہ وہ میرے لئے حلال نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ( زینب سے ) نکاح کا پیغام بھیجا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلمہ کی لڑکی کے پاس ؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لئے حلال نہ ہوتی ۔ مجھے اور اس کے والد ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا ۔ دیکھو تم آئندہ میرے نکاح کے لئے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو اور لیث بن سعد نے بھی اس حدیث کو ہشام سے روایت کیا ہے اس میں ابوسلمہ کی بیٹی کا نام درہ مذکور ہے ۔

Hadith 5107
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَتُحِبِّينَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ، لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Um Habiba رضی اللہ عنہا :

I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Marry my sister, the daughter of Abu Sufyan." He said, "Do you like that?" I said, "Yes, for even now I am not your only wife; and the most beloved person to share the good with me is my sister." The Prophet (ﷺ) said, "But that is not lawful for me (i.e., to be married to two sisters at a time.)" I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, we have heard that you want to marry Durra, the daughter of Abu Salama رضی اللہ عنہ ." He said, "You mean the daughter of Um Salama رضی اللہ عنہ ?" I said, "Yes." He said, "By Allah ! Even if she were not my stepdaughter, she would not be lawful for me to marry, for she is my foster niece, for Thuwaiba has suckled me and Abu Salama; so you should neither present your daughters, nor your sisters to me."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری بہن ( غرہ ) بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کر لیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تمہیں بھی پسند ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں کوئی میں تنہا تو ہوں نہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میرے لئے حلال نہیں ہے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ، اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آپ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لڑکی سے ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ فرمایا اللہ کی قسم اگو وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لئے حلال نہیں تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے ۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا ۔ ( اس لئے وہ میری رضاعی بھتیجی ہو گئی ) تم لوگ میرے نکاح کے لئے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو ۔

Hadith 5108
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، سَمِعَ جَابِرًا، رضى الله عنه قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا‏.‏ وَقَالَ دَاوُدُ وَابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏.‏
English

Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) forbade that a woman should be married to man along with her paternal or maternal aunt. Dawood bin Aun from Shabi and he has reported from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ .

Urdu

ہم سےعبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو عاصم نے خبر دی ، انہیں شعبی نے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیاکہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی عورت سے نکاح کرنے سے منع کیا تھا جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو ۔ اور داؤ د بن عون نے شعبی سے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ۔

Hadith 5109
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "A woman and her paternal aunt should not be married to the same man; and similarly, a woman and her maternal aunt should not be married to the same man."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کسی عورت کواس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے ۔

Hadith 5110, 5111
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةُ وَخَالَتُهَا‏.‏ فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ‏.‏لأَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) forbade that a woman should be married to a man along with her paternal aunt or with her maternal aunt (at the same time). Az-Zuhri (the sub-narrator) said: There is a similar order for the paternal aunt of the father of one's wife, for 'Urwa told me that `Aisha رضی اللہ عنہا said, "What is unlawful because of blood relations, is also unlawful because of the corresponding foster suckling relations."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھ سے قبیصہ ابن ذویب نے بیان کیا اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ( زہری نے کہا کہ ) ہم سمجھتے ہیں کہ عورت کے باپ کی خالہ بھی ( حرام ہونے میں ) اسی درجہ میں ہے کیونکہ کیونکہ عروہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جو چیز خونی رشتوں کی وجہ سے حرام ہے وہی رضاعی دودھ پلانے کی وجہ سے بھی حرام ہے۔

Hadith 5112
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) forbade Ash-Shighar, which means that somebody marries his daughter to somebody else, and the latter marries his daughter to the former without paying Mahr.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” شغار “ سے منع فرمایا ہے ۔ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی ( بیٹی یا بہن ) اس کو بیاہ دے اور کچھ مہر نہ ٹھہرے ۔

Hadith 5113
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ مِنَ اللاَّئِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلرَّجُلِ فَلَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏تُرْجِئُ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ‏}‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلاَّ يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ‏.‏ رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَعَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ‏.‏
English

Narrated Hisham's father:

Khaula bint Hakim رضی اللہ عنہا was one of those ladies who presented themselves to the Prophet (ﷺ) for marriage. `Aisha رضی اللہ عنہ said, "Doesn't a lady feel ashamed for presenting herself to a man?" But when the Verse: "(O Muhammad) You may postpone (the turn of) any of them (your wives) that you please,' (33.51) was revealed, " `Aisha رضی اللہ عنہ said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! I do not see, but, that your Lord hurries in pleasing you.' Abu Saeed, Moaddib, Muhammad bin Bishr, Abdullah from Hisham and he from Urwah bin Zubair and he has reported it from Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا and every one has narrated it from the other with a bit addition.

Urdu

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ

حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کیا تھا ۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ایک عورت اپنے آپ کو کسی مرد کے لئے ہبہ کرتے شرماتی نہیں ۔ پھر جب آیت ترجی من تشاء منھن ( اے پیغمبر ! تو اپنی جس بیوی کو چاہے پیچھے ڈال دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے ) نازل ہوئی تو میں نے کہا ، یا رسول اللہ ! اب میں سمجھی اللہ تعالیٰ جلد جلدآپ کی خوشی کو پورا کرتا ہے ۔ اس حدیث کو ابوسعید ( محمد بن مسلم ) ، مؤدب اور محمد بن بشر اور عبدہ بن سلیمان نے بھی ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ۔ ایک نے دوسرے سے کچھ زیادہ مضمون نقل کیا ہے ۔

Hadith 5114
Sahih
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُحْرِمٌ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) got married while he was in the state of Ihram.

Urdu

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ، کہا ہم کو عمرو بن دینا ر نے خبر دی ، کہا ہم سے جابر بن زید نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے ) نکاح کیا اور اس وقت آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۔

Hadith 5115
Sahih
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ‏.‏
English

Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :

I said to Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما , "During the battle of Khaibar the Prophet (ﷺ) forbade (Nikah) Al-Mut'a and the eating of donkey's meat."

Urdu

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، انہوں نے زہری سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے حسن بن محمد بن علی اور ان کے بھائی عبداللہ بن محمد بن علی نے اپنے والد ( محمد بن الحنفیہ ) سے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اورگدھے کے گوشت سے جنگ خیبر کے زمانہ میں منع فرمایا تھا ۔

Hadith 5116
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَخَّصَ فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

When he was asked about the Mut'a with the women, and he permitted it (Nikah-al-Mut'a). On that a freed slave of his said to him, "That is only when it is very badly needed and women are scarce." On that, Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "Yes."

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا ، کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ،

ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی ، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں ۔

Hadith 5117, 5118
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah and Salama bin Al-Akwa`:

While we were in an army, Allah's Messenger (ﷺ) came to us and said, "You have been allowed to do the Mut'a (marriage), so do it."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینا ر نے بیان کیا ، ان سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے اور ا ن سے جابر بن عبداللہ انصاری اور سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا کہ

ہم ایک لشکر میں تھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لئے تم نکاح کر سکتے ہو ۔

Hadith 5119
Sahih
وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ تَوَافَقَا فَعِشْرَةُ مَا بَيْنَهُمَا ثَلاَثُ لَيَالٍ فَإِنْ أَحَبَّا أَنْ يَتَزَايَدَا أَوْ يَتَتَارَكَا تَتَارَكَا ‏"‏‏.‏ فَمَا أَدْرِي أَشَىْءٌ كَانَ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَيَّنَهُ عَلِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَنْسُوخٌ‏.‏
English

Narrated Salama bin Al-Akwa`:

Allah's Messenger (ﷺ)'s said, "If a man and a woman agree (to marry temporarily), their marriage should last for three nights, and if they like to continue, they can do so; and if they want to separate, they can do so." I do not know whether that was only for us or for all the people in general. Abu `Abdullah (Al-Bukhari) said: `Ali رضی اللہ عنہ made it clear that the Prophet said, "The Mut'a marriage has been cancelled (made unlawful).

Urdu

اور ابن ابی ذئب نے بیان کیا کہ مجھ سے ایاس بن سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد اور عورت متعہ کر لیں اور کوئی مدت متعین نہ کریں تو ( کم سے کم ) تین دن تین رات مل کر رہیں ، پھر اگر وہ تین دن سے زیادہ اس متعہ کو رکھنا چاہیں یا ختم کرنا چاہیں تو انہیں اس کی اجازت ہے ( سلمہ بن الاکوع کہتے ہیں کہ ) مجھے معلوم نہیں یہ حکم صرف ہمارے ( صحابہ ) ہی کے لئے تھا یا تمام لوگوں کے لئے ہے ابوعبداللہ ( امام بخاری ) کہتے ہیں کہ خود علی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایت کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ کی حلت منسوخ ہے ۔

Hadith 5120
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، قَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ بِي حَاجَةٌ، فَقَالَتْ بِنْتُ أَنَسٍ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا وَاسَوْأَتَاهْ وَاسَوْأَتَاهْ‏.‏ قَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا‏.‏
English

Narrated Thabit Al-Banani:

I was with Anas رضی اللہ عنہ while his daughter was present with him. Anas رضی اللہ عنہ said, "A woman came to Allah's Apostle and presented herself to him, saying, 'O Allah's Messenger (ﷺ), have you any need for me (i.e. would you like to marry me)?' "Thereupon Anas's daughter said, "What a shameless lady she was ! Shame! Shame!" Anas رضی اللہ عنہ said, "She was better than you; she had a liking for the Prophet (ﷺ) so she presented herself for marriage to him."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز بصریٰ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے سنا ، انہوں نے بیان کیاکہ

میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کے پاس ان کی بیٹی بھی تھیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے ؟ اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولیں کہ وہ کیسی بےحیاء عورت تھی ۔ ہائے بے شرمی ! ہائے بے شرمی ! حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا وہ تم سے بہتر تھیں ، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت تھی ، اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کیا ۔

Hadith 5121
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ امْرَأَةً، عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي وَلَهَا نِصْفُهُ ـ قَالَ سَهْلٌ وَمَا لَهُ رِدَاءٌ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلَسُهُ قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ أَوْ دُعِي لَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمْلَكْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :

A woman presented herself to the Prophet (for marriage). A man said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (If you are not in need of her) marry her to me." The Prophet (ﷺ) said, "What have you got?" The man said, "I have nothing." The Prophet (ﷺ) said (to him), "Go and search for something) even if it were an iron ring." The man went and returned saying, "No, I have not found anything, not even an iron ring; but this is my (Izar) waist sheet, and half of it is for her." He had no Rida' (upper garment). The Prophet (ﷺ) said, "What will she do with your waist sheet? If you wear it, she will have nothing over her; and if she wears it, you will have nothing over you." So the man sat down and when he had sat a long time, he got up (to leave). When the Prophet (ﷺ) saw him (leaving), he called him back, or the man was called (for him), and he said to the man, "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" The man replied I know such Sura and such Sura (by heart)," naming the Suras The Prophet (ﷺ) said, "I have married her to you for what you know of the Qur'an ."

Urdu

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو غسان نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لئے پیش کیا ۔ پھر ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کرادیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس ( مہر کے لئے ) کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم ، میں نے کوئی چیز نہیں پائی ۔ مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی ، البتہ یہ میرا تہمد میرے پاس ہے اس کا آدھا انہیں دے دیجئیے ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی ۔ مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی ، اگریہ اسے پہن لے گی تو یہ اس قدر چھوٹا کپڑا ہے کہ پھر تو تمہارے لئے اس میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا اور اگر تم پہنو گے تو اس کے لئے کچھ نہیں رہے گا ۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے ، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے ( اور جانے لگے ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور بلایا ، یا انہیں بلایا گیا ( راوی کو ان الفاظ میں شک تھا ) پھر آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں قرآن کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں چند سورتیں انہوں نے گنائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے نکاح میں اس کو اس قرآن کے بدلے دے دیا جو تمہیں یاد ہے ۔

Hadith 5122
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ـ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي‏.‏ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ زَوَّجْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ‏.‏ فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا، وَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا‏.‏ قَالَ عُمَرُ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ عَلَىَّ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا، فَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبِلْتُهَا‏.‏
English

Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہما :

"When Hafsa bint `Umar رضی اللہ عنہا became a widow after the death of (her husband) Khunais bin Hudhafa As-Sahmi who had been one of the companions of the Prophet, and he died at Medina. I went to `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ and presented Hafsa رضی اللہ عنہا (for marriage) to him. He said, "I will think it over.' I waited for a few days, then he met me and said, 'It seems that it is not possible for me to marry at present.' " `Umar رضی اللہ عنہ further said, "I met Abu Bakr As-Siddique رضی اللہ عنہ and said to him, 'If you wish, I will marry my daughter Hafsa رضی اللہ عنہا to you." Abu Bakr رضی اللہ عنہ kept quiet and did not say anything to me in reply. I became more angry with him than with `Uthman رضی اللہ عنہا . I waited for a few days and then Allah's Messenger (ﷺ) asked for her hand, and I gave her in marriage to him. Afterwards I met Abu Bakr رضی اللہ عنہ who said, 'Perhaps you became angry with me when you presented Hafsa to me and I did not give you a reply?' I said, 'Yes.' Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, 'Nothing stopped me to respond to your offer except that I knew that Allah's Apostle had mentioned her, and I never wanted to let out the secret of Allah's Messenger (ﷺ). And if Allah's Apostle had refused her, I would have accepted her.' "

Urdu

ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے متعلق سناکہ

جب ( ان کی صاحبزادی ) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ( اپنے شوہر ) خنیس بن حذافہ سہمی کی وفات کی وجہ سے بیوہ ہو گئیں اور خنیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی للہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے لئے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا ۔ میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا ۔ پھر مجھ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ملاقات کی اور میں نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی حفصہ رضی اللہ عنہا سے کر دوں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا ۔ ان کی اس بیرخی سے مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملہ سے بھی زیادہ رنج ہوا ۔ کچھ دنوں تک میں خاموش رہا ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شادی کر دی ۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ جب تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ میرے سامنے پیش کیا تھا تو میں اس پر میرے خاموش رہنے سے تمہیں تکلیف ہوئی ہو گی کہ میں نے تمہیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ واقعی ہوئی تھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے جو کچھ میرے سامنے رکھا تھا ، اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ میرے علم میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے اور میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیتے تو میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو اپنے نکاح میں لے آتا ۔

Hadith 5123
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ نَاكِحٌ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَعَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَوْ لَمْ أَنْكِحْ أُمَّ سَلَمَةَ مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّ أَبَاهَا أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Zainab bint Salama:

Um Habiba رضی اللہ عنہا said to Allah's Messenger (ﷺ) "We have heard that you want to marry Durra bint Abu-Salama." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Can she be married along with Um Salama رضی اللہ عنہا (her mother)? Even if I have not married Um Salama رضی اللہ عنہا , she would not be lawful for me to marry, for her father is my foster brother."

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے عراک بن مالک نے اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی کہ

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں معلوم ہو اہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس سے اس کے باوجود نکاح کرسکتاہوںکہ ( ان کی ماں ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں پہلے ہی سے موجود ہیں اور اگر میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح نہ کئے ہوتا جب بھی وہ درہ میرے لئے حلال نہیں تھی ۔ کیونکہ اس کے والد ( ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ) میرے رضاعی بھائی تھے ۔

Hadith 5124
Sahih
وَقَالَ لِي طَلْقٌ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏{‏فِيمَا عَرَّضْتُمْ‏}‏ يَقُولُ إِنِّي أُرِيدُ التَّزْوِيجَ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ تَيَسَّرَ لِي امْرَأَةٌ صَالِحَةٌ‏.‏ وَقَالَ الْقَاسِمُ يَقُولُ إِنَّكِ عَلَىَّ كَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا‏.‏ أَوْ نَحْوَ هَذَا‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ يُعَرِّضُ وَلاَ يَبُوحُ يَقُولُ إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي، وَأَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ نَافِقَةٌ‏.‏ وَتَقُولُ هِيَ قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ‏.‏ وَلاَ تَعِدُ شَيْئًا وَلاَ يُوَاعِدُ وَلِيُّهَا بِغَيْرِ عِلْمِهَا، وَإِنْ وَاعَدَتْ رَجُلاً فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ ‏{‏لاَ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا‏}‏ الزِّنَا‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏{‏الْكِتَابُ أَجَلَهُ‏}‏ تَنْقَضِي الْعِدَّةُ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

"Hint your intention of marrying' is made by saying (to the widow) for example: "I want to marry, and I wish that Allah will make a righteous lady available for me.' " Al-Qasim said: One may say to the widow: 'I hold all respect for you, and I am interested in you; Allah will bring you much good, or something similar 'Ata said: One should hint his intention, and should not declare it openly. One may say: 'I have some need. Have good tidings. Praise be to Allah; you are fit to remarry.' She (the widow) may say in reply: I am listening to what you say,' but she should not make a promise. Her guardian should not make a promise (to somebody to get her married to him) without her knowledge. But if, while still in the Iddat period, she makes a promise to marry somebody, and he ultimately marries her, they are not to be separated by divorce (i.e., the marriage is valid). Hadrat Hasan Basri says: ''‏لاَ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا ‏ '' means adultery. And it is reported from Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما that '' الْكِتَابُ أَجَلَهُ‏ '' means the completion of the prescribed waiting period.

Urdu

امام بخاری رحمہ اللہ نے کہامجھ سے طلق بن غنام نے بیان کیا ، کہا ہم سے زائد ہ بن قدام نے بیان کیا ، ان سے منصور بن معتمر نے ، ان سے مجاہد نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے

آیت ” فیما عرضتم “ کی تفسیر میں کہا کہ کوئی شخص کسی ایسی عورت سے جو عدت میں ہو کہے کہ میرا ارادہ نکاح کاہے اور میری خواہش ہے کہ مجھے کوئی نیک بخت عورت میسر آ جائے اور اس نکاح میں قاسم بن محمد نے کہا کہ ( تعریض یہ ہے کہ عدت میں عورت سے کہے کہ تم میری نظر میں بہت اچھی ہو اور میرا خیال نکاح کرنے کاہے اور اللہ تمہیں بھلائی پہنچائے گا یا اسی طرح کے جملے کہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ تعریض وکنایہ سے کہے ۔ صاف صاف نہ کہے ( مثلاً ) کہے کہ مجھے نکاح کی ضرورت ہے اور تمہیں بشارت ہو اور اللہ کے فضل سے اچھی ہو اور عورت اس کے جواب میں کہے کہ تمہاری بات میں نے سن لی ہے ( بصراحت ) کوئی وعدہ نہ کرے ایسی عورت کا ولی بھی اس کے علم کے بغیر کوئی وعدہ نہ کرے اور اگر عورت نے زمانہ عدت میں کسی مرد سے نکاح کا وعدہ کر لیا اور پھر بعد میں اس سے نکاح کیا تو دونوں میں جدائی نہیں کرائی جائے گی ۔ حسن نے کہا کہ لاتواعدوھن سرا سے یہ مراد ہے کہ عورت سے چھپ کر بدکاری نہ کرو ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ” الکتاب اجلہ “ سے مراد عدت کا پورا کرنا ہے ۔