Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said (to me), "You were shown to me in a dream. An angel brought you to me, wrapped in a piece of silken cloth, and said to me, 'This is your wife.' I removed the piece of cloth from your face, and there you were. I said to myself. 'If it is from Allah, then it will surely be.' "
ہم سے مسددنے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نکاح سے پہلے ) میں نے تمہیں خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ( جبرائیل علیہ السلام ) ریشم کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لپیٹ کر لے آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہے ۔ میں نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تم تھیں ۔ میں نے کہا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے خود ہی پورا کر دے گا ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
A woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have come to you to present myself to you (for marriage)." Allah's Messenger (ﷺ) glanced at her. He looked at her carefully and fixed his glance on her and then lowered his head. When the lady saw that he did not say anything, she sat down. A man from his companions got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If you are not in need of her, then marry her to me." The Prophet (ﷺ) said, "Have you got anything to offer." The man said, 'No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said (to him), "Go to your family and try to find something." So the man went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! I have not found anything." The Prophet said, "Go again and look for something, even if it were an iron ring." He went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! I could not find even an iron ring, but this is my Izar (waist sheet).' He had no Rida (upper garment). He added, "I give half of it to her." Allah's Messenger (ﷺ) said "What will she do with your Izar? If you wear it, she will have nothing over herself thereof (will be naked); and if she wears it, then you will have nothing over yourself thereof ' So the man sat for a long period and then got up (to leave). When Allah's Messenger (ﷺ) saw him leaving, he ordered that he e called back. When he came, the Prophet (ﷺ) asked (him), "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" The man replied, I know such Sura and such Sura and such Sura," naming the suras. The Prophet (ﷺ) said, "Can you recite it by heart?" He said, 'Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Go I let you marry her for what you know of the Qur'an (as her Mahr).
ہم سے قتیبہ بن سعیدنے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے ، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور نظر اٹھا کر دیکھا ، پھر نظر نیچی کر لی اور سر کو جھکا لیا ۔ جب خاتون نے دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو بیٹھ گئیں ۔ اس کے بعد آپ کے صحابہ میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں تو ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز مل جائے ۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! میں نے کوئی چیز نہیں پائی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دیکھ لو ، اگر ایک لوہے کی انگو ٹھی بھی مل جائے ۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی ، البتہ یہ میرا تہمد ہے ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی ( ان صحابی نے کہا کہ ) ان خاتون کو اس تہمد میں سے آدھا عنایت فرما دیجئیے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے تہمد کا کیا کرے گی اگر تم اسے پہنو گے تو اس کے لئے اس میں سے کچھ باقی نہیں رہے گا ۔ اس کے بعد وہ صاحب بیٹھ گئے اور دیر تک بیٹھے رہے پھر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس جاتے ہوئے دیکھا اور انہیں بلانے کے لئے فرمایا ، انہیں بلایا گیا ۔ جب وہ آئے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا تمہارے پاس قرآن مجید کتنا ہے ۔ انہوں نے عرض کیا فلاں فلاں سورتیں ۔ انہوں نے ان سورتوں کو گنا یا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ان سورتوں کو زبانی پڑھ لیتے ہو ۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا جاؤ میں نے اس خاتون کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کی وجہ سے دیا جو تمہارے پاس ہے ۔
Narrated 'Urwa bin Az-Zubair:
Aishah رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet (ﷺ) told him that there were four types of marriage during Pre-Islamic period of Ignorance. One type was similar to that of the present day i.e. a man used to ask somebody else for the hand of a girl under his guardianship or for his daughter's hand, and give her Mahr and then marry her. The second type was that a man would say to his wife after she had become clean from her period. "Send for so-and-so and have sexual intercourse with him." Her husband would then keep awy from her and would never sleep with her till she got pregnant from the other man with whom she was sleeping. When her pregnancy became evident, he husband would sleep with her if he wished. Her husband did so (i.e. let his wife sleep with some other man) so that he might have a child of noble breed. Such marriage was called as Al-Istibda'. Another type of marriage was that a group of less than ten men would assemble and enter upon a woman, and all of them would have sexual relation with her. If she became pregnant and delivered a child and some days had passed after delivery, she would sent for all of them and none of them would refuse to come, and when they all gathered before her, she would say to them, "You (all) know waht you have done, and now I have given birth to a child. So, it is your child so-and-so!" naming whoever she liked, and her child would follow him and he could not refuse to take him. The fourth type of marriage was that many people would enter upon a lady and she would never refuse anyone who came to her. Those were the prostitutes who used to fix flags at their doors as sign, and he who would wished, could have sexual intercourse with them. If anyone of them got pregnant and delivered a child, then all those men would be gathered for her and they would call the Qa'if (persons skilled in recognizing the likeness of a child to his father) to them and would let the child follow the man (whom they recognized as his father) and she would let him adhere to him and be called his son. The man would not refuse all that. But when Muhammad (ﷺ) was sent with the Truth, he abolished all the types of marriages observed in pre-Islamic period of Ignorance except the type of marriage the people recognize today.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا ہم سے احمدبن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبردی
اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے ۔ ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں ، ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی زیر پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کر لیتا ۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے جب وہ حیض سے پاک ہو جاتی تو کہتا تو فلاں شخص کے پاس چلی جا اور اس سے منہ کالا کرا لے اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے چھوتا بھی نہیں ۔ پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے وہ عارضی طور پر صحبت کرتی رہتی ، تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا ۔ ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ ان کا لڑکا شریف اور عمدہ پیدا ہو ۔ یہ نکاح ” استبضاع “ کہلاتا تھا ۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے ۔ پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضع حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان تمام مردوں کو بلاتی ۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکا ر نہیں کر سکتا تھا ۔ چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہو جاتے اور وہ ان سے کہتی کہ جو تمہارا معاملہ تھا وہ تمہیں معلوم ہے اور اب میں نے یہ بچہ جنا ہے ۔ پھر وہ کہتی کہ اے فلاں ! یہ بچہ تمہارا ہے ۔ وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا ، وہ شخص اس سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا تھا ۔ چوتھا نکاح اس طور پر تھا کہ بہت سے لوگ کسی عورت کے پاس آیا جایا کرتے تھے ۔ عورت اپنے پاس کسی بھی آنے والے کو روکتی نہیں تھی ۔ یہ کسبیاں ہوتی تھیں ۔ اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رہتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے ۔ جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا ۔ اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچہ کا ناک نقشہ جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کر دیتے اور وہ بچہ اسی کا بیٹا کہا جا تا ، اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا ۔ پھر جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق کے ساتھ رسول ہو کر تشریف لائے آپ نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
(as regards the Verse): 'And about what is recited unto you in the Book, concerning orphan girls to whom you give not the prescribed portions and yet, whom you desire to marry.' (4.127) This Verse is about the female orphan who is under the guardianship of a man with whom she shares her property and he has more right over her (than anybody else) but does not like to marry her, so he prevents her, from marrying somebody else, lest he should share the property with him.
ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عر وہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
آیت وما یتلیٰ علیکم فی الکتاب الخ یعنی وہ ( آیات بھی ) جو تمہیں کتاب کے اندر ان یتیم لڑکوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جنہیں تم وہ نہیں دیتے ہو جو ان کے لئے مقرر ہو چکا ہے اور اس سے بیزار ہو کہ ان کا کسی سے نکاح کرو ۔ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کسی شخص کی پر ورش میں ہو ۔ ممکن ہے کہ اس کے مال و جائیداد میں بھی شریک ہو ، وہی لڑکی کا زیادہ حقدار ہے لیکن وہ اس سے نکاح نہیں کر نا چاہتا البتہ اس کے مال کی وجہ سے اسے روکے رکھتا ہے اور کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی نہیں ہونے دیتا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے مال میں حصہ دار بنے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
When Hafsa رضی اللہ عنہما , `Umar's daughter became a widow because of the death of her (husband) Ibn Hudhafa As-Sahmi who was one of the companion of the Prophet (ﷺ) and the one of the Badr warriors and died at Medina, `Umar رضی اللہ عنہما said, "I met `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ and gave him an offer, saying, 'If you wish, I will marry Hafsa to you.' He said. 'I will think it over' I waited for a few days, then he met me and said, 'I have made up my mind not to marry at present' "`Umar رضی اللہ عنہ added, "Then I met Abu Bakr رضی اللہ عنہ and said to him, 'If you wish, I will marry Hafsa to you.' "
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
جب حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما ابن حذافہ سہمی سے بیوہ ہوئیں ۔ ابن حذافہ رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے اور بدر کی جنگ میں شریک تھے ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملااور انہیں پیش کش کی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کروں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا چند دن میں نے انتظار کیا اس کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ابھی نکا ح نہ کروں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں ۔
Narrated Al-Hasan:
concerning the Verse: 'Do not prevent them' (2.232) Ma'qil bin Yasar رضی اللہ عنہ told me that it was revealed in his connection. He said, "I married my sister to a man and he divorced her, and when her days of 'Idda (three menstrual periods) were over, the man came again and asked for her hand, but I said to him, 'I married her to you and made her your bed (your wife) and favored you with her, but you divorced her. Now you come to ask for her hand again? No, by Allah, she will never go back to you (again)!' That man was not a bad man and his wife wanted to go back to him. So Allah revealed this Verse: 'Do not prevent them.' (2.232) So I said, 'Now I will do it (let her go back to him), O Allah's Messenger (ﷺ)."So he married her to him again.
ہم سے احمد بن عمرو نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد حفص بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے حسن بصری نے
آیت ” فلا تعضلوھن “ کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا ۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص ( ابو البداح ) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا ۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا ( اپنی بہن ) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کاپیغام لے کر آئے ہو ۔ ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا ۔ وہ شخص ابو البداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ ” تم عورتوں کو مت روکو “ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب میں کر دوں گا ۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
(regarding His Statement): 'They ask your instruction concerning the women. Say: Allah instructs you about them ...' (4.127) It is about the female orphan who is under the guardianship of a man with whom she shares her property and he does not want to marry her and dislikes that someone else should marry her, lest he should share the property with him, so he prevents her from marrying. So Allah forbade such a guardian to do so (i.e. to prevent her from marrying).
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ، کہا ہم سے ہشا م نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے
آیت یستفتونک فی النساء الایۃ اور آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ ان کے بارے میں تمہیں مسئلہ بتاتا ہے آخر آیت تک فرمایا کہ یہ آیت یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی ، جو کسی مرد کی پرورش میں ہو ۔ وہ مرد اس کے مال کے مال میں بھی شریک ہو اور اس سے خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور اس کا نکاح کسی دوسرے سے کرنا پسند نہ کرتا ہو کہ کہیں دوسرا شخص اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے اس غرض سے وہ لڑکی کو روکے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے منع کیا ہے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
While we were sitting in the company of the Prophet (ﷺ) a woman came to him and presented herself (for marriage) to him. The Prophet (ﷺ) looked at her, lowering his eyes and raising them, but did not give a reply. One of his companions said, "Marry her to me O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) asked (him), "Have you got anything?" He said, "I have got nothing." The Prophet (ﷺ) said, "Not even an iron ring?" He Sa`d, "Not even an iron ring, but I will tear my garment into two halves and give her one half and keep the other half." The Prophet; said, "No. Do you know some of the Qur'an (by heart)?" He said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Go, I have agreed to marry her to you with what you know of the Qur'an (as her Mahr)."
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو حاز م نے بیان کیا ، کہا ہم سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کیا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر نیچی او پر کر کے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ۔ آنحضور صلی علیہ وسلم نے دریافت فرمایا لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے ۔ البتہ میں اپنی یہ چادرپھاڑ کے آدھی انہیں دے دوں گا اور آدھی خود رکھوں گا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، تمہارے پاس کچھ قرآن بھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن مجید کی وجہ سے کیا جو تمہارے ساتھ ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) married her when she was six years old and he consummated his marriage when she was nine years old, and then she remained with him for nine years (i.e., till his death).
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو اس وقت ان کی عمر نو برس کی تھی اور وہ نو برس آپ کے پاس رہیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) married her when she was six years old and he consummated his marriage when she was nine years old. Hisham said: I have been informed that `Aisha رضی اللہ عنہا remained with the Prophet (ﷺ) for nine years (i.e. till his death).
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی ۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
A woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I present myself (to you) (for marriage). She stayed for a long while, then a man said, "If you are not in need of her then marry her to me." The Prophet (ﷺ) said, "Have you got anything m order to pay her Mahr?" He said, "I have nothing with me except my Izar (waist sheet)." The Prophet (ﷺ) said, "If you give her your Izar, you will have no Izar to wear, (so go) and search for something. He said, "I could not find anything." The Prophet (ﷺ) said, "Try (to find something), even if it were an iron ring But he was not able to find (even that) The Prophet (ﷺ) said (to him). "Do you memorize something of the Qur'an?" "Yes. ' he said, "such Sura and such Sura," naming those Suras The Prophet (ﷺ) said, "We have married her to you for what you know of the Qur'an (by heart).
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوحازم مسلم بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں ۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی ۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لئے کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہمد کے سوا اور کچھ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہمد اس کو دے دوگے تو تمہارے پاس پہننے کے لئے تہمد بھی نہیں رہے گا ۔ کوئی اور چیز تلاش کر لو ۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو ، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی ! اسے وہ بھی نہیں ملی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ۔ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن مجید ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! فلاں فلاں سورتیں ہیں ، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "A matron should not be given in marriage except after consulting her; and a virgin should not be given in marriage except after her permission." The people asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! How can we know her permission?" He said, "Her silence (indicates her permission).
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے ، ان سے یحییٰ بن ابی بشیر نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجاز ت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے ۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کنواری عورت اذن کیونکر دے گی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی صور ت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے ۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! A virgin feels shy." He said, "Her consent is (expressed by) her silence."
ہم سے عمرو بن ربیع بن طارق نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے لیث بن سعد نے خبر دی ، انہیں ابن ابی ملیکہ نے ، انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابی عمرو ذکوان نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کنواری لڑکی ( کہتے ہوئے ) شرماتی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا خاموش ہو جانا ہی اس کی رضامندی ہے ۔
Narrated Khansa bint Khidam Al-Ansariya رضی اللہ عنہا :
Her father gave her in marriage when she was a matron and she disliked that marriage. So she went to Allah's Messenger (ﷺ) and he declared that marriage invalid.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے عبدالرحمٰن اورمجمع نے جو دونوںیزید بن حارثہ کے بیٹے ہیں ، ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا نے کہ
ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا تھا ، وہ ثیبہ تھیں ، انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا ، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin Yazid and Majammi bin Yazid:
The same ,Hadith above: A man called Khidam married a daughter of his (to somebody) against her consent.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی ، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی ، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید اور مجمع بن یزید نے بیان کیا کہ
خذام نامی ایک صحابی نے اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا تھا ۔ پھر پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Narrated 'Urwa bin Az-Zubair:
that he asked `Aisha رضی اللہ عنہا , saying to her, "O Mother! (In what connection was this Verse revealed): 'If you fear that you shall not be able to deal justly with orphan girls (to the end of the verse) that your right hands possess?" (4.3) Aisha رضی اللہ عنہا said, "O my nephew! It was about the female orphan under the protection of her guardian who was interested in her beauty and wealth and wanted to marry her with a little or reduced Mahr. So such guardians were forbidden to marry female orphans unless they deal with them justly and give their full Mahr; and they were ordered to marry women other than them."`Aisha رضی اللہ عنہا added, "(Later) the people asked Allah's Messenger (ﷺ), for instructions, and then Allah revealed: 'They ask your instruction concerning the women . . . And yet whom you desire to marry.' (4.127) So Allah revealed to them in this Verse that-if a female orphan had wealth and beauty, they desired to marry her and were interested in her noble descent and the reduction of her Mahr; but if she was not desired by them because of her lack in fortune and beauty they left her and married some other woman. So, as they used to leave her when they had no interest in her, they had no right to marry her if they had the desire to do so, unless they deal justly with her and gave her a full amount of Mahr."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے اور ( دوسری سند ) اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب زہری نے ، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ
انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اے ام المؤمنین ! اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف کرسکوگے تو اسے ” ماملکت ایمانکم “ تک کہ اس آیت میں کیا حکم بیان ہوا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے ! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم یبان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی کو اس کے حسن اور اس کے مال کی وجہ سے اس کی طرف توجہ ہو اور وہ اس کا مہر کم کر کے اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح سے ممانعت کی گئی ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ ان کے مہر کے بارے میں انصاف کریں ( اور اگر انصاف نہیں کر سکتے تو انہیں ان کے سوادوسری عورتوںسے نکاح کا حکم دیا گیا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت ” اور آپ سے عورتوںکے بارے میں پوچھتے ہیں ، سے “ وترغبون تک نازل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ حکم نازل کیا کہ یتیم لڑکیاں جب صاحب مال اور صاحب جمال ہوتی ہیں تب تو مہر میں کمی کر کے اس سے نکاح کرنا رشتہ لگانا پسند کرتے ہیں اور جب دولت مند ی یا خوبصورتی نہیں رکھتی اس وقت اس کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر دیتے ہیں ( یہ کیا بات ) ان کو چاہئے کہ جیسے مال و دولت اور حسن وجمال نہ ہونے کی صورت میں اس کو چھوڑ دیتے ہیں ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دیں جب وہ مالدا ر اور خوبصورت ہو البتہ اگر انصاف سے چلیں اور اس کا پورا مہر مقرر کریں تو خیر نکاح کر لیں ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
A woman came to the Prophet,, and presented herself to him (for marriage). He said, "I am not in need of women these days." Then a man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Marry her to me." The Prophet (ﷺ) asked him, "What have you got?" He said, "I have got nothing." The Prophet (ﷺ) said, "Give her something, even an iron ring." He said, "I have got nothing." The Prophet (ﷺ) asked (him), "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" He said, "So much and so much." The Prophet (ﷺ) said, "I have married her to you for what you know of the Qur'an."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے ، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے آپ کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لئے پیش کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب عورت کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو کچھ دو خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی ۔ انہوں نے کہا کہ حضور ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے ؟ عرض کیا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا ۔ اس قرآن کے بدلے جو تم کو یاد ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) decreed that one should not try to cancel a bargain already agreed upon between some other persons (by offering a bigger price). And a man should not ask for the hand of a girl who is already engaged to his Muslim brother, unless the first suitor gives her up, or allows him to ask for her hand.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریج نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے نافع سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاو پر بھاو لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی ( دینی ) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے د ے تو جائز ہے ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "Beware of suspicion (about others), as suspicion is the falsest talk, and do not spy upon each other, and do not listen to the evil talk of the people about others' affairs, and do not have enmity with one another, but be brothers. And none should ask for the hand of a girl who is already engaged to his (Muslim) brother, but one should wait till the first suitor marries her or leaves her."
ہم سے یحی بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیس بن سعد نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن ربیعہ ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ( اور لوگوں کے رازوں کی ) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ ( لوگوں کی نجی گفتگووں کو ) کان لگا کر سنو ، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو ، اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑدے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
"When Hafsa رضی اللہ عنہا became a widow," `Umar رضی اللہ عنہ said, "I met Abu Bakr رضی اللہ عنہ and said to him, 'If you wish I will marry Hafsa bint `Umar رضی اللہ عنہما to you.' I waited for a few days then Allah's Messenger (ﷺ) asked for her hand. Later Abu Bakr رضی اللہ عنہ met me and said, 'Nothing stopped me from returning to you concerning your offer except that I knew that Allah's Messenger (ﷺ) had mentioned (his wish to marry) her, and I could never let out the secret of Allah's Messenger (ﷺ) . If he had left her, I would have accepted her.' " Similarly Younus, Musa bin Uqbah, Ibn-e-Abi Ateeq reported from Zuhri.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زھری نے ، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعدحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے ۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا ۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یو نس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے ر وایت کیا ہے ۔