Back to Sahih Bukhari

Prayers (Salat)

كتاب الصلاة

Chapter 8

Hadith 369
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ يَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًى أَنْ لاَ يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏.‏ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

On the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja, in the year prior to the last Hajj of the Prophet (ﷺ) when Abu Bakr was the leader of the pilgrims in that Hajj) Abu Bakr sent me along with other announcers to Mina to make a public announcement: "No pagan is allowed to perform Hajj after this year and no naked person is allowed to perform the Tawaf around the Ka`ba. Then Allah's Messenger (ﷺ) sent `Ali to read out the Surat Bara'a (at-Tauba) to the people; so he made the announcement along with us on the day of Nahr in Mina: "No pagan is allowed to perform Hajj after this year and no naked person is allowed to perform the Tawaf around the Ka`ba."

Urdu

ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھے میرے بھائی ابن شہاب نے اپنے چچا کے واسطہ سے ، انھوں نے کہا مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ

اس حج کے موقع پر مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم نحر ( ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ) میں اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا ۔ تاکہ ہم منیٰ میں اس بات کا اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکتا اور کوئی شخص ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتا ۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سورۃ برات پڑھ کر سنا دیں اور اس کے مضامین کا عام اعلان کر دیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ نحر کے دن منیٰ میں دسویں تاریخ کو یہ سنایا کہ آج کے بعد کوئی مشرک نہ حج کر سکے گا اور نہ بیت اللہ کا طواف کوئی شخص ننگے ہو کر کر سکے گا ۔

Hadith 370
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْمَوَالِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تُصَلِّي وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ قَالَ نَعَمْ، أَحْبَبْتُ أَنْ يَرَانِي الْجُهَّالُ مِثْلُكُمْ، رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي هَكَذَا‏.‏
English

Narrated Muhammad bin Al-Munkadir:

I went to Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما and he was praying wrapped in a garment and his Rida was Lying beside him. When he finished the prayers, I said "O `Abdullah! You pray (in a single garment) while your Rida' is lying beside you." He replied, "Yes, I did it intentionally so that the ignorant ones like you might see me. I saw the Prophet (ﷺ) praying like this. "

Urdu

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے محمد بن منکدر سے ، کہا

میں جابر بن عبداللہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ وہ ایک کپڑا اپنے بدن پر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ، حالانکہ ان کی چادر الگ رکھی ہوئی تھی ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے ابوعبداللہ ! آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے اور آپ ( اسے اوڑھے بغیر ) نماز پڑھ رہے ہیں ۔ انھوں نے فرمایا ، میں نے چاہا کہ تم جیسے جاہل لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھ لیں ، میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا ۔

Hadith 371
Sahih
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ حَسَرَ الإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثًا‏.‏ قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ ـ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا ـ وَالْخَمِيسُ‏.‏ يَعْنِي الْجَيْشَ، قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً، فَجُمِعَ السَّبْىُ، فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً ‏"‏‏.‏ فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ادْعُوهُ بِهَا ‏"‏‏.‏ فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأَعْتَقَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَتَزَوَّجَهَا‏.‏ فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا فَقَالَ ‏"‏ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ ‏"‏‏.‏ وَبَسَطَ نِطَعًا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ ـ قَالَ فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated `Abdul `Aziz رضی اللہ عنہ :

Anas said, 'When Allah's Messenger (ﷺ) invaded Khaibar, we offered the Fajr prayer there (early in the morning) when it was still dark. The Prophet (ﷺ) rode and Abu Talha rode too and I was riding behind Abu Talha. The Prophet (ﷺ) passed through the lane of Khaibar quickly and my knee was touching the thigh of the Prophet (ﷺ) . He uncovered his thigh and I saw the whiteness of the thigh of the Prophet. When he entered the town, he said, 'Allahu Akbar! Khaibar is ruined. Whenever we approach near a (hostile) nation (to fight) then evil will be the morning of those who have been warned.' He repeated this thrice. The people came out for their jobs and some of them said, 'Muhammad (has come).' (Some of our companions added, "With his army.") We conquered Khaibar, took the captives, and the booty was collected. Dihya came and said, 'O Allah's Prophet! Give me a slave girl from the captives.' The Prophet said, 'Go and take any slave girl.' He took Safiya bint Huyai. A man came to the Prophet (ﷺ) and said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)s! You gave Safiya bint Huyai to Dihya and she is the chief mistress of the tribes of Quraidha and An-Nadir and she befits none but you.' So the Prophet (ﷺ) said, 'Bring him along with her.' So Dihya came with her and when the Prophet (ﷺ) saw her, he said to Dihya, 'Take any slave girl other than her from the captives.' Anas added: The Prophet (ﷺ) then manumitted her and married her." Thabit asked Anas, "O Abu Hamza! What did the Prophet (ﷺ) pay her (as Mahr)?" He said, "Her self was her Mahr for he manumitted her and then married her." Anas added, "While on the way, Um Sulaim dressed her for marriage (ceremony) and at night she sent her as a bride to the Prophet (ﷺ) . So the Prophet was a bridegroom and he said, 'Whoever has anything (food) should bring it.' He spread out a leather sheet (for the food) and some brought dates and others cooking butter. (I think he (Anas) mentioned As-Sawaq). So they prepared a dish of Hais (a kind of meal). And that was Walima (the marriage banquet) of Allah's Messenger (ﷺ) ."

Urdu

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے کہ کہا ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خبیر میں تشریف لے گئے ۔ ہم نے وہاں فجر کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھی ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے ۔ اور ابوطلحہ بھی سوار ہوئے ۔ میں ابوطلحہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کا رخ خیبر کی گلیوں کی طرف کر دیا ۔ میرا گھٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھو جاتا تھا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے تہبند کو ہٹایا ۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاف اور سفید رانوں کی سفیدی اور چمک دیکھنے لگا ۔ جب آپ خیبر کی بستی میں داخل ہوئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «الله اكبر» اللہ سب سے بڑا ہے ، خیبر برباد ہو گیا ، جب ہم کسی قوم کے آنگن میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو جاتی ہے ۔ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا ، اس نے کہا کہ خیبر کے یہودی لوگ اپنے کاموں کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ چلا اٹھے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آن پہنچے ۔ اور عبدالعزیز راوی نے کہا کہ بعض حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ہمارے ساتھیوں نے «والخميس‏» کا لفظ بھی نقل کیا ہے ( یعنی وہ چلا اٹھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر پہنچ گئے ) پس ہم نے خیبر لڑ کر فتح کر لیا اور قیدی جمع کئے گئے ۔ پھر دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! قیدیوں میں سے کوئی باندی مجھے عنایت کیجیئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ کوئی باندی لے لو ۔ انھوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا ۔ پھر ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ! صفیہ جو قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی ہیں ، انہیں آپ نے دحیہ کو دے دیا ۔ وہ تو صرف آپ ہی کے لیے مناسب تھیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ ، وہ لائے گئے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو ۔ راوی نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کر دیا اور انہیں اپنے نکاح میں لے لیا ۔ ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابوحمزہ ! ان کا مہر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا رکھا تھا ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خود انہیں کی آزادی ان کا مہر تھا اور اسی پر آپ نے نکاح کیا ۔ پھر راستے ہی میں ام سلیم رضی اللہ عنہا ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) نے انہیں دلہن بنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کے وقت بھیجا ۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس بھی کچھ کھانے کی چیز ہو تو یہاں لائے ۔ آپ نے ایک چمڑے کا دسترخوان بچھایا ۔ بعض صحابہ کھجور لائے ، بعض گھی ، عبدالعزیز نے کہا کہ میرا خیال ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ستو کا بھی ذکر کیا ۔ پھر لوگوں نے ان کا حلوہ بنا لیا ۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا ۔

Hadith 372
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْفَجْرَ، فَيَشْهَدُ مَعَهُ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ مُتَلَفِّعَاتٍ فِي مُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنھا :

Allah's Messenger (ﷺ) used to offer the Fajr prayer and some believing women covered with their veiling sheets used to attend the Fajr prayer with him and then they would return to their homes unrecognized .

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی ، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں کئی مسلمان عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے شریک نماز ہوتیں ۔ پھر اپنے گھروں کو واپس چلی جاتی تھیں ۔ اس وقت انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا ۔

Hadith 373
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمٍ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلاَتِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا وَأَنَا فِي الصَّلاَةِ فَأَخَافُ أَنْ تَفْتِنَنِي ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنھا :

The Prophet (ﷺ) prayed in a Khamisa (a square garment) having marks. During the prayer, he looked at its marks. So when he finished the prayer he said, "Take this Khamisa of mine to Abu Jahm and get me his Inbijaniya (a woolen garment without marks) as it (the Khamisa) has diverted my attention from the prayer." Narrated `Aisha: The Prophet (ﷺ) said, 'I was looking at its (Khamisa's) marks during the prayers and I was afraid that it may put me in trial (by taking away my attention).

Urdu

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہمیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی ، انھوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی ۔ جس میں نقش و نگار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ دیکھا ۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم ( عامر بن حذیفہ ) کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ والی چادر لے آؤ ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا ۔ اور ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز میں اس کے نقش و نگار دیکھ رہا تھا ، پس میں ڈرا کہ کہیں یہ مجھے غافل نہ کر دے ۔

Hadith 374
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا، فَإِنَّهُ لاَ تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ فِي صَلاَتِي ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

`Aisha رضی اللہ عنھا had a Qiram (a thin marked woolen curtain) with which she had screened one side of her home. The Prophet (ﷺ) said, "Take away this Qiram of yours, as its pictures are still displayed in front of me during my prayer (i.e. they divert my attention from the prayer).

Urdu

ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا جسے انھوں نے اپنے گھر کے ایک طرف پردہ کے لیے لٹکا دیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو ۔ کیونکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں ۔

Hadith 375
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Uqba bin 'Amir رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) was given a silken Farruj as a present. He wore it while praying. When he had finished his prayer, he took it off violently as if with a strong aversion to it and said, "It is not the dress of Allah-fearing pious people."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے یزید بن حبیب سے بیان کیا ، انھوں نے ابوالخیر مرثد سے ، انھوں نے عقبہ بن عامر سے ، انھوں نے کہا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشم کی قباء تحفہ میں دی گئی ۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا اور نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو بڑی تیزی کے ساتھ اسے اتار دیا ۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر ناگواری محسوس کر رہے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے ۔

Hadith 376
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلاَلاً أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَاكَ الْوَضُوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلاَلاً أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا، صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ مِنْ بَيْنِ يَدَىِ الْعَنَزَةِ‏.‏
English

Narrated Abu Juhaifa:

I saw Allah's Messenger (ﷺ) in a red leather tent and I saw Bilal رضی اللہ عنہ taking the remaining water with which the Prophet had performed ablution. I saw the people taking the utilized water impatiently and whoever got some of it rubbed it on his body and those who could not get any took the moisture from the others' hands. Then I saw Bilal carrying a short spear (or stick) which he planted in the ground. The Prophet came out tucking up his red cloak, and led the people in prayer and offered two rak`at (facing the Ka`ba) taking a short spear (or stick) as a Sutra for his prayer. I saw the people and animals passing in front of him beyond the stick.

Urdu

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمر ابن ابی زائدہ نے بیان کیا عون بن ابی حجیفہ سے ، انھوں نے اپنے والد ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ سے کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ چمڑے کے خیمہ میں دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے ہیں اور ہر شخص آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وہ اسے اپنے اوپر مل لیتا اور اگر کوئی پانی نہ پا سکتا تو اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ۔ پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنی ایک برچھی اٹھائی جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا تھا اور اسے انھوں نے گاڑ دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ڈیرے میں سے ) ایک سرخ پوشاک پہنے ہوئے تہبند اٹھائے ہوئے باہر تشریف لائے اور برچھی کی طرف منہ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی ، میں نے دیکھا کہ آدمی اور جانور برچھی کے پرے سے گزر رہے تھے ۔

Hadith 377
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ الْمِنْبَرُ فَقَالَ مَا بَقِيَ بِالنَّاسِ أَعْلَمُ مِنِّي هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهُ فُلاَنٌ مَوْلَى فُلاَنَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ عُمِلَ، وَوُضِعَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ كَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ، فَهَذَا شَأْنُهُ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ـ رَحِمَهُ اللَّهُ ـ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ، فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَكُونَ الإِمَامُ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ يُسْأَلُ عَنْ هَذَا كَثِيرًا فَلَمْ تَسْمَعْهُ مِنْهُ قَالَ لاَ‏.‏
English

Narrated Abu Hazim:

Sahl bin Sa`d was asked about the (Prophet's) pulpit as to what thing it was made of? Sahl replied: "None remains alive amongst the people, who knows about it better than I. It was made of tamarisk (wood) of the forest. So and so, the slave of so and so prepared it for Allah's Messenger (ﷺ) . When it was constructed and place (in the Mosque), Allah's Messenger (ﷺ) stood on it facing the Qibla and said 'Allahu Akbar', and the people stood behind him (and led the people in prayer). He recited and bowed and the people bowed behind him. Then he raised his head and stepped back, got down and prostrated on the ground and then he again ascended the pulpit, recited, bowed, raised his head and stepped back, got down and prostrate on the ground. So, this is what I know about the pulpit." Ahmad bin Hanbal said, "As the Prophet (ﷺ) was at a higher level than the people, there is no harm according to the above-mentioned Hadith if the Imam is at a higher level than his followers during the prayers."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا ۔ کہا کہ لوگوں نے

سہل بن سعد ساعدی سے پوچھا کہ منبرنبوی کس چیز کا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ اب ( دنیائے اسلام میں ) اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا ہے ۔ منبر غابہ کے جھاؤ سے بنا تھا ۔ فلاں عورت کے غلام فلاں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنایا تھا ۔ جب وہ تیار کر کے ( مسجد میں ) رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور آپ نے قبلہ کی طرف اپنا منہ کیا اور تکبیر کہی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ پھر آپ نے قرآن مجید کی آیتیں پڑھیں اور رکوع کیا ۔ آپ کے پیچھے تمام لوگ بھی رکوع میں چلے گئے ۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ۔ پھر اسی حالت میں آپ الٹے پاؤں پیچھے ہٹے ۔ پھر زمین پر سجدہ کیا ۔ پھر منبر پر دوبارہ تشریف لائے اور قرآت رکوع کی ، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قبلہ ہی کی طرف رخ کئے ہوئے پیچھے لوٹے اور زمین پر سجدہ کیا ۔ یہ ہے منبر کا قصہ ۔ امام ابوعبداللہ بخاری نے کہا کہ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کو پوچھا ۔ علی نے کہا کہ میرا مقصد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں لوگوں سے اونچے مقام پر کھڑے ہوئے تھے اس لیے اس میں کوئی حرج نہ ہونا چاہیے کہ امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہو ۔ علی بن مدینی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے کہا کہ سفیان بن عیینہ سے یہ حدیث اکثر پوچھی جاتی تھی ، آپ نے بھی یہ حدیث ان سے سنی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ نہیں ۔

Hadith 378
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ، فَجُحِشَتْ سَاقُهُ أَوْ كَتِفُهُ، وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَجَلَسَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ، فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا، وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ‏"‏‏.‏ وَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Once Allah's Messenger (ﷺ) fell off a horse and his leg or shoulder got injured. He swore that he would not go to his wives for one month and he stayed in a Mashruba (attic room) having stairs made of date palm trunks. So his companions came to visit him, and he led them in prayer sitting, whereas his companions were standing. When he finished the prayer, he said, "Imam is meant to be followed, so when he says 'Allahu Akbar,' say 'Allahu Akbar' and when he bows, bow and when he prostrates, prostrate and if he prays standing pray, standing. After the 29th day the Prophet (ﷺ) came down (from the attic room) and the people asked him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You swore that you will not go to your wives for one month." He said, "The month is 29 days."

Urdu

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کہ کہا ہم سے یزید بن ہارون نے ، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( 5 ھ میں ) اپنے گھوڑے سے گر گئے تھے ۔ جس سے آپ کی پنڈلی یا کندھا زخمی ہو گئے اور آپ نے ایک مہینے تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ۔ آپ اپنے بالاخانہ پر بیٹھ گئے ۔ جس کے زینے کھجور کے تنوں سے بنائے گئے تھے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مزاج پرسی کو آئے ۔ آپ نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور وہ کھڑے تھے ۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اگر کھڑے ہو کر تمہیں نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور آپ انتیس دن بعد نیچے تشریف لائے ، تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے تو ایک مہینہ کے لیے قسم کھائی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے ۔

Hadith 379
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ وَأَنَا حَائِضٌ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ‏.‏
English

Narrated Maimuna رضی اللہ عنھا :

"Allah's Messenger (ﷺ) was praying while I was in my menses, sitting beside him and sometimes his clothes would touch me during his prostration." Maimuna added, "He prayed on a Khumra (a small mat sufficient just for the face and the hands while prostrating during prayers).

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا خالد سے ، کہا کہ ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا عبداللہ بن شداد سے ، انھوں نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا سے ، آپ نے فرمایا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور حائضہ ہونے کے باوجود میں ان کے سامنے ہوتی ، اکثر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا ۔ انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے ) مصلے پر نماز پڑھتے تھے ۔

Hadith 380
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ لَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ قُومُوا فَلأُصَلِّ لَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْتُ وَالْيَتِيمَ وَرَاءَهُ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ‏.‏
English

Narrated 'Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

"My grandmother Mulaika invited Allah's Messenger (ﷺ) for a meal which she herself had prepared. He ate from it and said, 'Get up! I will lead you in the prayer.' " Anas added, "I took my Hasir, washed it with water as it had become dark because of long use and Allah's Messenger (ﷺ) stood on it. The orphan (Damira or Ruh) and I aligned behind him and the old lady (Mulaika) stood behind us. Allah's Messenger (ﷺ) led us in the prayer and offered two rak`at and then left."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ

ان کی نانی ملیکہ نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا تیار کر کے کھانے کے لیے بلایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے بعد فرمایا کہ آو تمہیں نماز پڑھا دوں ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے گھر سے ایک بوریا اٹھایا جو کثرت استعمال سے کالا ہو گیا تھا ۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے ( اسی بورئیے پر ) کھڑے ہوئے اور میں اور ایک یتیم ( کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابوضمیرہ کے لڑکے ضمیرہ ) آپ کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہو گئے اور بوڑھی عورت ( انس کی نانی ملیکہ ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی اور واپس گھر تشریف لے گئے ۔

Hadith 381
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ‏.‏
English

Narrated Maimuna رضی اللہ عنہا :

Allah's Messenger (ﷺ) used to pray on Khumra.

Urdu

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے عبداللہ بن شداد کے واسطے سے ، انھوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے ، انھوں نے کہا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ گاہ ( یعنی چھوٹے مصلے ) پر نماز پڑھا کرتے تھے ۔

Hadith 382
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرِجْلاَىَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلَىَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا‏.‏ قَالَتْ وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا ( the wife of the Prophet ﷺ):

"I used to sleep in front o Allah's Messenger (ﷺ) and my legs were opposite his Qibla and in prostration he pushed my legs and I withdrew then and when he stood, I stretched them.' `Aisha added, "In those days the houses were without lights."

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہ کہا مجھ سے امام مالک نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سالم کے حوالہ سے ، انھوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ۔ آپ نے بتلایا کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ میں ہوتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے ، تو میرے پاؤں کو آہستہ سے دبا دیتے ۔ میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور آپ جب کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھر پھیلا دیتی ۔ ان دنوں گھروں میں چراغ بھی نہیں ہوا کرتے تھے ۔

Hadith 383
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهْىَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ، اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Allah Messenger ﷺ prayed while I was lying like a dead body on his family bed between him and his Qibla.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، ان کو عروہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بچھونے پر نماز پڑھتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتیں جیسے ( نماز کے لیے ) جنازہ رکھا جاتا ہے ۔

Hadith 384
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَنَامَانِ عَلَيْهِ‏.‏
English

Narrated `Urwa رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) prayed while `Aisha رضی اللہ عنہا was lying between him and his Qibla on the bed on which they used to sleep.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے حدیث بیان کی یزید سے ، انھوں نے عراک سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بچھونے پر نماز پڑھتے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سوتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان اس بستر پر لیٹی رہتیں ۔

Hadith 385
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعُ أَحَدُنَا طَرَفَ الثَّوْبِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ فِي مَكَانِ السُّجُودِ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

We used to pray with the Prophet (ﷺ) and some of us used to place the ends of their clothes at the place of prostration because of scorching heat.

Urdu

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھے غالب قطان نے بکر بن عبداللہ کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا کہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔ پھر سخت گرمی کی وجہ سے کوئی کوئی ہم میں سے اپنے کپڑے کا کنارہ سجدے کی جگہ رکھ لیتا ۔

Hadith 386
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الأَزْدِيُّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ‏.‏
English

Narrated Abu Maslama Sa`id bin Yazid Al-Azdi I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

whether the Prophet (ﷺ) had ever, prayed with his shoes on. He replied "Yes."

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابومسلمہ سعید بن یزید ازدی نے بیان کیا ، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ ہاں ! ۔

Hadith 387
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَسُئِلَ فَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مِثْلَ هَذَا‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَكَانَ يُعْجِبُهُمْ، لأَنَّ جَرِيرًا كَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ أَسْلَمَ‏.‏
English

Narrated Hammam bin Al-Harith:

"I saw Jarir bin `Abdullah urinating. Then he performed ablution and passed his (wet) hands over his Khuffs (socks made from thick fabric or leather), stood up and prayed. He was asked about it. He replied that he had seen the Prophet (ﷺ) doing the same." They approved of this narration as Jarir was one of those who embraced Islam very late.

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے اعمش کے واسطہ سے ، اس نے کہا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے سنا ۔ وہ ہمام بن حارث سے روایت کرتے تھے ، انھوں نے کہا کہ

میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انھوں نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ پھر کھڑے ہوئے اور ( موزوں سمیت ) نماز پڑھی ۔ آپ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا ، تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ۔ ابراہیم نخعی نے کہا کہ یہ حدیث لوگوں کی نظر میں بہت پسندیدہ تھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ آخر میں اسلام لائے تھے ۔

Hadith 388
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَصَلَّى‏.‏
English

Narrated Al-Mughira bin Shu'ba:

I helped the Prophet (ﷺ) in performing ablution and he passed his wet hands over his Khuffs and prayed.

Urdu

ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا کہ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا اعمش کے واسطہ سے ، انھوں نے مسلم بن صبیح سے ، انھوں نے مسروق بن اجدع سے ، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ سے ، انھوں نے کہا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی ۔