Narrated Abu Waqid al-Laithi:
While Allah's Messenger (ﷺ) was sitting in the mosque (with some people) three men came, two of them came in front of Allah's Messenger (ﷺ) and the third one went away, and then one of them found a place in the circle and sat there while the second man sat behind the gathering, and the third one went away. When Allah's Messenger (ﷺ) finished his preaching, he said, "Shall I tell you about these three persons? One of them betook himself to Allah and so Allah accepted him and accommodated him; the second felt shy before Allah so Allah did the same for him and sheltered him in His Mercy (and did not punish him), while the third turned his face from Allah, and went away, so Allah turned His face from him likewise.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہ کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ کے واسطے سے کہ عقیل بن ابی طالب کے غلام ابومرہ نے انہیں خبر دی ابوواقد لیثی حارث بن عوف صحابی کے واسطہ سے ، انھوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ تین آدمی باہر سے آئے ۔ دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضری کی غرض سے آگے بڑھے لیکن تیسرا چلا گیا ۔ ان دو میں سے ایک نے درمیان میں خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا ۔ دوسرا شخص پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا تو واپس ہی جا رہا تھا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان تینوں کے متعلق ایک بات نہ بتاؤں ۔ ایک شخص تو خدا کی طرف بڑھا اور خدا نے اسے جگہ دی ( یعنی پہلا شخص ) رہا دوسرا تو اس نے ( لوگوں میں گھسنے سے ) شرم کی ، اللہ نے بھی اس سے شرم کی ، تیسرے نے منہ پھیر لیا ۔ اس لیے اللہ نے بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا ۔
Narrated `Abbad bin Tamim that his uncle:
"I saw Allah's Messenger (ﷺ) lying flat (on his back) in the mosque with one leg on the other." Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab that `Umar and `Uthman used to do the same.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک کے واسطہ سے ، انھوں نے ابن شہاب زہری سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے ، انھوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ) سے کہ
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چت لیٹے ہوئے دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے تھے ۔ ابن شہاب زہری سے مروی ہے ، وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح لیٹتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا,(the wife of the Prophet)
I had seen my parents following Islam since I attained the age of puberty. Not a day passed but the Prophet (ﷺ) visited us, both in the mornings and evenings. My father Abu Bakr thought of building a mosque in the courtyard of his house and he did so. He used to pray and recite the Qur'an in it. The pagan women and their children used to stand by him and look at him with surprise. Abu Bakr was a Softhearted person and could not help weeping while reciting the Qur'an. The chiefs of the Quraish pagans became afraid of that (i.e. that their children and women might be affected by the recitation of Qur'an).
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے ابن شہاب زہری سے ، انھوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ
میں نے جب سے ہوش سنبھالا تو اپنے ماں باپ کو مسلمان ہی پایا اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دن کے دونوں وقت ہمارے گھر تشریف نہ لائے ہوں ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سمجھ میں ایک ترکیب آئی تو انھوں نے گھر کے سامنے ایک مسجد بنا لی ، وہ اس میں نماز پڑھتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ۔ مشرکین کی عورتیں اور ان کے بچے وہاں تعجب سے سنتے اور کھڑے ہو جاتے اور آپ کی طرف دیکھتے رہتے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے رونے والے آدمی تھے ۔ جب قرآن کریم پڑھتے تو آنسوؤں پر قابو نہ رہتا ، قریش کے مشرک سردار اس صورت حال سے گھبرا گئے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The prayer offered in congregation is twenty five times more superior (in reward) to the prayer offered alone in one's house or in a business center, because if one performs ablution and does it perfectly, and then proceeds to the mosque with the sole intention of praying, then for each step which he takes towards the mosque, Allah upgrades him a degree in reward and (forgives) crosses out one sin till he enters the mosque. When he enters the mosque he is considered in prayer as long as he is waiting for the prayer and the angels keep on asking for Allah's forgiveness for him and they keep on saying: 'O Allah! Be Merciful to him, O Allah! Forgive him, as long as he keeps on sitting at his praying place and does not pass wind. (See Hadith No. 620).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابومعاویہ نے اعمش کے واسطہ سے ، انھوں نے ابوصالح ذکوان سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں گھر کے اندر یا بازار ( دوکان وغیرہ ) میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا ثواب زیادہ ملتا ہے ۔ کیونکہ جب کوئی شخص تم میں سے وضو کرے اور اس کے آداب کا لحاظ رکھے پھر مسجد میں صرف نماز کی غرض سے آئے تو اس کے ہر قدم پر اللہ تعالیٰ ایک درجہ اس کا بلند کرتا ہے اور ایک گناہ اس سے معاف کرتا ہے ۔ اس طرح وہ مسجد کے اندر آئے گا ۔ مسجد میں آنے کے بعد جب تک نماز کے انتظار میں رہے گا ۔ اسے نماز ہی کی حالت میں شمار کیا جائے گا اور جب تک اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت خداوندی کی دعائیں کرتے ہیں «اللهم اغفر له ، اللهم ارحمه» اے اللہ ! اس کو بخش دے ، اے اللہ ! اس پر رحم کر ۔ جب تک کہ ریح خارج کر کے ( وہ فرشتوں کو ) تکلیف نہ دے ۔
Narrated Ibn `Umar or Ibn `Amr رضی اللہ عنھما :
The Prophet (ﷺ) clasped his hands, by interlacing his fingers.
ہم سے حامد بن عمر نے بشر بن مفضل کے واسطہ سے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے ، کہا ہم سے واقد بن محمد نے اپنے باپ محمد بن زید کے واسطہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر یا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھماے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما that:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "O `Abdullah bin `Amr! What will be your condition when you will be left with the sediments of (worst) people?" (They will be in conflict with each other).
اور عاصم بن علی نے کہا ، ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو اپنے باپ محمد بن زید سے سنا ۔ لیکن مجھے حدیث یاد نہیں رہی تھی ۔ تو میرے بھائی واقد نے اس کو درستی سے اپنے باپ سے روایت کر کے مجھے بتایا ۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو تمہارا کیا حال ہو گا جب تم برے لوگوں میں رہ جاؤ گے اس طرح ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں کر کے دکھلائیں ) ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "A faithful believer to a faithful believer is like the bricks of a wall, enforcing each other." While (saying that) the Prophet (ﷺ) clasped his hands, by interlacing his fingers.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے ابی بردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے ، انھوں نے اپنے دادا ( ابوبردہ ) سے ، انھوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ۔ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا ۔
Narrates Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
"Allah's Messenger (ﷺ) led us in one of the two `Isha' prayers (Abu Huraira named that prayer but I forgot it)." Abu Huraira added, "He prayed two rak`at and then finished the prayer with Taslim. He stood up near a piece of wood Lying across the mosque and leaned on it in such a way as if he was angry. Then he put his right hand over the left and clasped his hands by interlacing his fingers and then put his J right cheek on the back of his left hand. The people who were in haste left the mosque through its gates. They wondered whether the prayer was reduced. And amongst them were Abu Bakr and `Umar but they hesitated to ask the Prophet. A long-handed man called Dhul- Yadain asked the Prophet, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Have you forgotten or has the prayer been reduced?' The Prophet (ﷺ) replied, 'I have neither forgotten nor has the prayer been reduced' The Prophet (ﷺ) added, 'Is what Dhul Yadain has said true?' They (the people) said, 'Yes, it is true.' The Prophet (ﷺ) stood up again and led the prayer, completing the remaining prayer, forgotten by him, and performed Taslim, and then said, 'Allahu Akbar.' And then he did a prostration as he used to prostrate or longer than that. He then raised his head saying, 'Allahu Akbar; he then again said, 'Allahu Akbar', and prostrated as he used to prostrate or longer than that. Then he raised his head and said, 'Allahu Akbar.' " (The subnarrator added, "I think that they asked (Ibn Seereen) whether the Prophet (ﷺ) completed the prayer with Taslim. He replied, "I heard that `Imran bin Husain had said, 'Then he (the Prophet) did Taslim.")
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے ، انھوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ ابن عون نے خبر دی ، انھوں نے محمد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے کہا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کے بعد کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی ۔ ( ظہر یا عصر کی ) ابن سیرین نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نام تو لیا تھا ۔ لیکن میں بھول گیا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا ۔ اس کے بعد ایک لکڑی کی لاٹھی سے جو مسجد میں رکھی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ بہت ہی خفا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا اور ان کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا اور آپ نے اپنے دائیں رخسار مبارک کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے سہارا دیا ۔ جو لوگ نماز پڑھ کر جلدی نکل جایا کرتے تھے وہ مسجد کے دروازوں سے پار ہو گئے ۔ پھر لوگ کہنے لگے کہ کیا نماز کم کر دی گئی ہے ۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر ( رضی اللہ عنہما ) بھی موجود تھے ۔ لیکن انہیں بھی آپ سے بولنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ انہیں میں ایک شخص تھے جن کے ہاتھ لمبے تھے اور انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا ۔ انھوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے یا نماز کم کر دی گئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کوئی کمی ہوئی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا ۔ کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہے ہیں ۔ حاضرین بولے کہ جی ہاں ! یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور باقی رکعتیں پڑھیں ۔ پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور سہو کا سجدہ کیا ۔ معمول کے مطابق یا اس سے بھی لمبا سجدہ ۔ پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی ۔ پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا ۔ معمول کے مطابق یا اس سے بھی طویل پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی ، لوگوں نے باربار ابن سیرین سے پوچھا کہ کیا پھر سلام پھیرا تو وہ جواب دیتے کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ عمران بن حصین کہتے تھے کہ پھر سلام پھیرا ۔
Narrated Musa bin `Uqba:
"I saw Salim bin `Abdullah رضی اللہ عنہما looking for some places on the way and prayed there. He narrated that his father used to pray there, and had seen the Prophet (ﷺ) praying at those very places." Narrated Nafi` on the authority of Ibn `Umar who said, "I used to pray at those places." Musa the narrator added, "I asked Salim on which he said, 'I agree with Nafi` concerning those places, except the mosque situated at the place called Sharaf Ar-Rawha."
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے کہا
میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ( مدینہ سے مکہ تک ) راستے میں کئی جگہوں کو ڈھونڈھ کر وہاں نماز پڑھتے اور کہتے کہ ان کے باپ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان مقامات پر نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مقامات پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق بیان کیا کہ وہ ان مقامات پر نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اور میں نے سالم سے پوچھا تو مجھے خوب یاد ہے کہ انھوں نے بھی نافع کے بیان کے مطابق ہی تمام مقامات کا ذکر کیا ۔ فقط مقام شرف روحاء کی مسجد کے متعلق دونوں نے اختلاف کیا ۔
Narrrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
When Allah's Apostle ﷺ would perform Umrah or Hajj, where there is Dhul Hulaifah Mosque he ﷺ would return from any battle, or Hajj or Umrah, he ﷺ would alight in the depression of the Valley. When he ﷺ would go up from the depth of the valley, he would make his she-camel kneel down at batha that is located on the outskirts of the valley in eastwards. Then, he ﷺ would spend the whole night there till the morning emerged. This place is neither near to that Mosque which is made of stones nor on that mound where the Mosque has been built because there was a strait in that place. Hadrat Abdullah would perform prayer near to it and there were some mounds of sand at its bed. Allah's Apostle ﷺ would perform prayer there. Then, a flood came there from batha and it obliterated (the trace of: Irfan) that place where Hadrat Abdullah رضی اللہ عنہما would perform the prayer.
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا ، کہا ہم سے انس بن عیاض نے ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کے قصد سے تشریف لے گئے اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب حج کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں قیام فرمایا ۔ ذوالحلیفہ کی مسجد کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ببول کے درخت کے نیچے اترے اور جب آپ کسی جہاد سے واپس ہوتے اور راستہ ذوالحلیفہ سے ہو کر گزرتا یا حج یا عمرہ سے واپسی ہوتی تو آپ وادی عتیق کے نشیبی علاقہ میں اترتے ، پھر جب وادی کے نشیب سے اوپر چڑھتے تو وادی کے بالائی کنارے کے اس مشرقی حصہ پر پڑاؤ ہوتا جہاں کنکریوں اور ریت کا کشادہ نالا ہے ۔ ( یعنی بطحاء میں ) یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو صبح تک آرام فرماتے ۔ یہ مقام اس مسجد کے قریب نہیں ہے جو پتھروں کی بنی ہے ، آپ اس ٹیلے پر بھی نہیں ہوتے جس پر مسجد بنی ہوئی ہے ۔ وہاں ایک گہرا نالہ تھا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہیں نماز پڑھتے ۔ اس کے نشیب میں ریت کے ٹیلے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز پڑھا کرتے تھے ۔ کنکریوں اور ریت کے کشادہ نالہ کی طرف سے سیلاب نے آ کر اس جگہ کے آثار و نشانات کو پاٹ دیا ہے ، جہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھا کرتے تھے ۔
Narrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
The prophet ﷺ performed the prayer at the place where the small Mosque is located that is near to the Mosque located on the height of Rauha. Hadrat Abdullah رضی اللہ عنہما knew that place where the prophet ﷺ perform prayer. He would say: When you stand up in the Mosque to perform prayer, that place lies in your right direction. When you are going to Makkah Mukarramah, the Mosque is located on the right side of the way. There is a stone's throw or a similar distance between this small Mosque and the big one.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے یہ بھی بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ نماز پڑھی جہاں اب شرف روحاء کی مسجد کے قریب ایک چھوٹی مسجد ہے ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس جگہ کی نشاندہی کرتے تھے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی ۔ کہتے تھے کہ یہاں تمہارے دائیں طرف جب تم مسجد میں ( قبلہ رو ہو کر ) نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے ہو ۔ جب تم ( مدینہ سے ) مکہ جاؤ تو یہ چھوٹی سی مسجد راستے کے دائیں جانب پڑتی ہے ۔ اس کے اور بڑی مسجد کے درمیان ایک پتھر کی مار کا فاصلہ ہے یا اس سے کچھ کم زیادہ ۔
Narrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
The prayer near to that hill which is situated on the last edge of Rouha and one end of this hill is near to the Mosque. Now there has been built another Mosque in the place of the Mosque which, while going to Makkah Mukarramah, was situated between this hill and the last part of Rouha. Hadrat Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما would not perform the prayer in that Mosque but leave it on the left hand side and perform the prayer ahead near to the hill. Hadrat Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما would leave Rauha in the morning, then would not perform The Zuhr prayer but when he would reach that place, he would perform the Zuhr prayer. And he would come back from Makkah Mukkarramah and passed there some moments before down or in the last moments before dawn, he would take rest for some moments and then perform the prayer.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
اس چھوٹی پہاڑی کی طرف نماز پڑھتے جو روحاء کے آخر کنارے پر ہے اور یہ پہاڑی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں راستے کا کنارہ ہے ۔ اس مسجد کے قریب جو اس کے اور روحاء کے آخری حصے کے بیچ میں ہے مکہ کو جاتے ہوئے ۔ اب وہاں ایک مسجد بن گئی ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ اس کو اپنے بائیں طرف مقابل میں چھوڑ دیتے اور آگے بڑھ کر خود پہاڑی عرق الطبیہ کی طرف نماز پڑھتے تھے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب روحاء سے چلتے تو ظہر اس وقت تک نہ پڑھتے جب تک اس مقام پر نہ پہنچ جاتے ۔ جب یہاں آ جاتے تو ظہر پڑھتے ، اور اگر مکہ سے آتے ہوئے صبح صادق سے تھوڑی دیر پہلے یا سحر کے آخر میں وہاں سے گزرتے تو صبح کی نماز تک وہیں آرام کرتے اور فجر کی نماز پڑھتے ۔
Narrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
The prophet ﷺ would alight under any shady tree or any extensive and soft place near Rowaitha on the right side of the way (and then he would move on: Irfan) till he left the mound away that was nearly two miles away from Rowaitha. The upper part of this tree has snapped off and it has bent down from the middle. Now, it is standing on its root and there are many mounds near to it.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے کے دائیں طرف مقابل میں ایک گھنے درخت کے نیچے وسیع اور نرم علاقہ میں قیام فرماتے جو قریہ رویثہ کے قریب ہے ۔ پھر آپ اس ٹیلہ سے جو رویثہ کے راستے سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہے چلتے تھے ۔ اب اس درخت کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے ۔ اور درمیان میں سے دوہرا ہو کر جڑ پر کھڑا ہے ۔ اس کی جڑ میں ریت کے بہت سے ٹیلے ہیں ۔
Narrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
The prophet ﷺ performed prayer on the mound that lies behind Arj (a place) when you are going towards "Hadbah" (a colossal mountain: Irfan). Two or three graves lie near to this Mosque, and there are stones on the upper and lower sides of these graves. On the right side of the way, near the trees which are on the way, Hadrat Abdullah , when the sun passed the meridian, would leave Arj at noon among these trees and perform the Zuhr prayers in that Mosque.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے یہ بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریہ عرج کے قریب اس نالے کے کنارے نماز پڑھی جو پہاڑ کی طرف جاتے ہوئے پڑتا ہے ۔ اس مسجد کے پاس دو یا تین قبریں ہیں ، ان قبروں پر اوپر تلے پتھر رکھے ہوئے ہیں ، راستے کے دائیں جانب ان بڑے پتھروں کے پاس جو راستے میں ہیں ۔ ان کے درمیان میں ہو کر نماز پڑھی ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قریہ عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد چلتے اور ظہر اسی مسجد میں آ کر پڑھا کرتے تھے ۔
Narrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
Allah's Apostle ﷺ would dismount near those colossal trees which are on the left side of the way and are connected with the pass near to Harsha (a mountain : Irfan) and this distance from the way is within an arrow's range. And Hadrat Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما would perform the prayer in the direction of that tree which was the nearest to the way and the tallest one.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے کے بائیں طرف ان گھنے درختوں کے پاس قیام فرمایا جو ہرشی پہاڑ کے نزدیک نشیب میں ہیں ۔ یہ ڈھلوان جگہ ہرشی کے ایک کنارے سے ملی ہوئی ہے ۔ یہاں سے عام راستہ تک پہنچنے کے لیے تیر کی مار کا فاصلہ ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بڑے درخت کی طرف نماز پڑھتے تھے جو ان تمام درختوں میں راستے سے سب سے زیادہ نزدیک ہے اور سب سے لمبا درخت بھی یہی ہے ۔
Narrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
The prophet ﷺ would dismount near that pass which is near to Marr-Iz-Zahran in the direction of Madinah Munawwarah. And when he would descend from Safrawat, he ﷺ would alight in the depression of that pass (valley: Irfan) on the left side of the way if you are going to Makkah Mukarramah. There is a stone's throw distance between the route and the place where Allah's Apostle ﷺ would alight.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نالے میں اترا کرتے تھے جو وادی مرالظہران کے نشیب میں ہے ۔ مدینہ کے مقابل جب کہ مقام صفراوات سے اترا جائے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ڈھلوان کے بالکل نشیب میں قیام کرتے تھے ۔ یہ راستے کے بائیں جانب پڑتا ہے جب کوئی شخص مکہ جا رہا ہو ( جس کو اب بطن مرو کہتے ہیں ) راستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل کے درمیان صرف ایک پتھر ہی کے مار کا فاصلہ ہوتا ۔
Narrated Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
When the prophet ﷺ would alight at Dee Tuwa, he ﷺ would spend night there and after performing the Fajr prayer, he proceeded to Makkah Mukarramah. The place where Allah' Apostle ﷺ would perform prayer was the concrete mound and not that Mosque which had been built there but was the concrete mound under it.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ذی طویٰ میں قیام فرماتے اور رات یہیں گزارا کرتے تھے اور صبح ہوتی تو نماز فجر یہیں پڑھتے ۔ مکہ جاتے ہوئے ۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک بڑے سے ٹیلے پر تھی ۔ اس مسجد میں نہیں جواب وہاں بنی ہوئی ہے بلکہ اس سے نیچے ایک بڑا ٹیلا تھا ۔
Narrator Abdullah bin Umer رضی اللہ عنہما :
The prophet ﷺ would face the both edges (ways: irfan) of that mountain which is between it and the long mountain in the direction of the ka,aba. Then, he ﷺ kept the Mosque which had been built their on the left sideof that Mosque which is situated on the edge of the mound. And the place where the prophet ﷺ would perform prayer is on the black mound under it, and you, leaving an area of ten yards or similar to it from the mound, should perform prayer before the both edges of the mountain that is between you and the kaaba.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت نافع سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑ کے دونوں کونوں کا رخ کیا جو اس کے اور جبل طویل کے درمیان کعبہ کی سمت ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کو جو اب وہاں تعمیر ہوئی ہے اپنی بائیں طرف کر لیتے ٹیلے کے کنارے ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اس سے نیچے سیاہ ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے جو تمہارے اور کعبہ کے درمیان ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Once I came riding a she-ass when I had just attained the age of puberty. Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer at Mina with no wall in front of him and I passed in front of some of the row. There I dismounted and let my she-ass loose to graze and entered the row and nobody objected to me about it.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ
میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا ۔ اس زمانہ میں بالغ ہونے والا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ لیکن دیوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ تھی ۔ میں صف کے بعض حصے سے گزر کر سواری سے اترا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا ۔ پس کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) came out on `Id day, he used to order that a Harba (a short spear) to be planted in front of him (as a Sutra for his prayer) and then he used to pray facing it with the people behind him and used to do the same while on a journey. After the Prophet (ﷺ) , this practice was adopted by the Muslim rulers (who followed his traditions).
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ۔ انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن ( مدینہ سے ) باہر تشریف لے جاتے تو چھوٹے نیزہ ( برچھا ) کو گاڑنے کا حکم دیتے وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے گاڑ دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے ۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں بھی کیا کرتے تھے ۔ ( مسلمانوں کے ) خلفاء نے اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت بنا لی ہے ۔