Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "None of you should spit in front or on his right but he could spit either on his left or under his foot."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھے قتادہ نے خبر دی ، انھوں نے کہامیں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرو ، البتہ بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "A faithful believer while in prayer is speaking in private to his Lord, so he should neither spit in front of him nor to his right side but he could spit either on his left or under his foot."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے ۔ اس لیے وہ اپنے سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے ، ہاں بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے ۔
Narrated Abu Sa`id:
The Prophet (ﷺ) saw sputum on (the wall of) the mosque in the direction of the Qibla and scraped it off with gravel. Then he forbade Spitting in front or on the right, but allowed it on one's left or under one's left foot.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے ابو سعید خدری سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے کھرچ ڈالا ۔ پھر فرمایا کہ کوئی شخص سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے ، البتہ بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Spitting in the mosque is a sin and its expiation is to bury it."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا ہم سے قتادہ نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے ( زمین میں ) چھپا دینا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Prophet said, "If anyone of you stands for prayer, he should not spit in front of him because in prayer he is speaking in private to Allah and he should not spit on his right as there is an angel, but he can spit either on his left or under his left foot and bury it (i.e. expectoration).
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں عبدالرزاق نے معمر بن راشد سے ، انھوں نے ہمام بن منبہ سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک اپنی نماز کی جگہ میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتا رہتا ہے اور دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس طرف فرشتہ ہوتا ہے ، ہاں بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لے اور اسے مٹی میں چھپا دے ۔
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) saw expectoration (on the wall of the mosque) in the direction of the Qibla and scraped it off with his hand. It seemed that he disliked it and the sign of disgust was apparent from his face. He said, "If anyone of you stands for the prayer, he is speaking in private to his Lord, (or) his Lord is between him and his Qibla, therefore he should not spit towards his Qibla, but he could spit either on his left or under his foot." Then he took the corner of his sheet and spat in it, folded it and said, "Or do this."
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے ، کہا ہم سے حمید نے انس بن مالک سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے ، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے ۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو ، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کونا ( کنارہ ) لیا ، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا ، یا اس طرح کر لیا کرے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do you consider or see that my face is towards the Qibla? By Allah, neither your submissiveness nor your bowing is hidden from me, surely I see you from my back."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میرا منہ ( نماز میں ) قبلہ کی طرف ہے ، اللہ کی قسم مجھ سے نہ تمہارا خشوع چھپتا ہے نہ رکوع ، میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھتا رہتا ہوں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) led us in a prayer and then got up on the pulpit and said, "In your prayer and bowing, I certainly see you from my back as I see you (while looking at you.)"
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے ہلال بن علی سے ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مرتبہ نماز پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، پھر نماز کے باب میں اور رکوع کے باب میں فرمایا میں تمہیں پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا رہتا ہوں جیسے اب سامنے سے دیکھ رہا ہوں ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) ordered for a horse race; the trained horses were to run from a place called Al-Hafya' to Thaniyat Al-Wada` and the horses which were not trained were to run from Al-Thaniya to the Masjid (mosque of) Bani Zuraiq. The sub narrator added: Ibn `Umar was one of those who took part in the race.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انھوں نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی جنھیں ( جہاد کے لیے ) تیار کیا گیا تھا مقام حفیاء سے دوڑ کرائی ، اس دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کرائی ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس گھوڑ دوڑ میں شرکت کی تھی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Some goods came to Allah's Messenger (ﷺ) from Bahrain. The Prophet (ﷺ) ordered the people to spread them in the mosque --it was the biggest amount of goods Allah's Messenger (ﷺ) had ever received. He left for prayer and did not even look at it. After finishing the prayer, he sat by those goods and gave from those to everybody he saw. Al-`Abbas came to him and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! give me (something) too, because I gave ransom for myself and `Aqil". Allah's Messenger (ﷺ) told him to take. So he stuffed his garment with it and tried to carry it away but he failed to do so. He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Order someone to help me in lifting it." The Prophet (ﷺ) refused. He then said to the Prophet: Will you please help me to lift it?" Allah's Messenger (ﷺ) refused. Then Al-`Abbas threw some of it and tried to lift it (but failed). He again said, "O Allah's Messenger (ﷺ) Order someone to help me to lift it." He refused. Al-`Abbas then said to the Prophet: "Will you please help me to lift it?" He again refused. Then Al-`Abbas threw some of it, and lifted it on his shoulders and went away. Allah's Messenger (ﷺ) kept on watching him till he disappeared from his sight and was astonished at his greediness. Allah's Messenger (ﷺ) did not get up till the last coin was distributed.
ابراہیم بن طہمان نے کہا ، عبدالعزیز بن صہیب سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے رقم آئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مسجد میں ڈال دو اور یہ رقم اس تمام رقم سے زیادہ تھی جو اب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ چکی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں فرمائی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو آ کر مال ( رقم ) کے پاس بیٹھ گئے اور اسے تقسیم کرنا شروع فرما دیا ۔ اس وقت جسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے اسے عطا فرما دیتے ۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور بولے کہ یا رسول اللہ ! مجھے بھی عطا کیجیئے کیونکہ میں نے ( غزوہ بدر میں ) اپنا بھی فدیہ دیا تھا اور عقیل کا بھی ( اس لیے میں زیر بار ہوں ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لیجیئے ۔ انھوں نے اپنے کپڑے میں روپیہ بھر لیا اور اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن ( وزن کی زیادتی کی وجہ سے ) وہ نہ اٹھا سکے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! کسی کو فرمائیے کہ وہ اٹھانے میں میری مدد کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ( یہ نہیں ہو سکتا ) انھوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اٹھوا دیجیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی انکار کیا ، تب حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں سے تھوڑا سا گرا دیا اور باقی کو اٹھانے کی کوشش کی ، ( لیکن اب بھی نہ اٹھا سکے ) پھر فرمایا کہ یا رسول اللہ ! کسی کو میری مدد کرنے کا حکم دیجیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا تو انھوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اٹھوا دیجیئے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی انکار کیا ، تب انھوں نے اس میں سے تھوڑا سا روپیہ گرا دیا اور اسے اٹھا کر اپنے کاندھے پر رکھ لیا اور چلنے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس حرص پر اتنا تعجب ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ان کی طرف دیکھتے رہے جب تک وہ ہماری نظروں سے غائب نہیں ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں سے اس وقت تک نہ اٹھے جب تک کہ ایک چونی بھی باقی رہی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
I found the Prophet (ﷺ) in the mosque along with some people. He said to me, "Did Abu Talha send you?" I said, "Yes". He said, "For a meal?" I said, "Yes." Then he said to his companions, "Get up." They set out and I was ahead of them.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے مالک نے اسحاق بن عبداللہ سے انھوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور بھی کئی لوگ تھے ۔ میں کھڑا ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تجھ کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کھانے کے لیے ؟ ( بلایا ہے ) میں نے عرض کی کہ جی ہاں ! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب موجود لوگوں سے فرمایا کہ چلو ، سب حضرات چلنے لگے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا ۔
Narrated Sahl bin Sa`d:
A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If a man finds another man with his wife, (committing adultery) should the husband kill him?" Later on I saw them (the man and his wife) doing Li`an in the mosque (taking oaths, one accusing, and the other denying adultery).
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے ، کہا ہم کو ابن جریج نے ، کہا ہمیں ابن شہاب نے سہل بن سعد ساعدی سے کہ
ایک شخص نے کہا ، یا رسول اللہ ! اس شخص کے بارہ میں فرمائیے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو ( بدفعلی کرتے ہوئے ) دیکھتا ہے ، کیا اسے مار ڈالے ؟ آخر اس مرد نے اپنی بیوی کے ساتھ مسجد میں لعان کیا اور اس وقت میں موجود تھا ۔
Narrated `Itban bin Malik:
The Prophet (ﷺ) came to my house and said, "Where do you like me to pray?" I pointed to a place. The Prophet then said, "Allahu Akbar", and we aligned behind him and he offered a two-rak`at prayer.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے محمود بن ربیع سے انھوں نے عتبان بن مالک سے ( جو نابینا تھے ) کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم اپنے گھر میں کہاں پسند کرتے ہو کہ تمہارے لیے نماز پڑھوں ۔ عتبان نے بیان کیا کہ میں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ( نفل ) پڑھائی ۔
Narrated `Itban bin Malik رضی اللہ عنہ :
Who was one of the companions of Allah's Messenger (ﷺ) and one of the Ansar's who took part in the battle of Badr: I came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ) I have weak eyesight and I lead my people in prayers. When it rains the water flows in the valley between me and my people so I cannot go to their mosque to lead them in prayer. O Allah's Messenger (ﷺ)! I wish you would come to my house and pray in it so that I could take that place as a Musalla. Allah's Messenger (ﷺ) said. "Allah willing, I will do so." Next day after the sun rose high, Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr came and Allah's Messenger (ﷺ) asked for permission to enter. I gave him permission and he did not sit on entering the house but said to me, "Where do you like me to pray?" I pointed to a place in my house. So Allah's Messenger (ﷺ) stood there and said, 'Allahu Akbar', and we all got up and aligned behind him and offered a two-rak`at prayer and ended it with Taslim. We requested him to stay for a meal called "Khazira" which we had prepared for him. Many members of our family gathered in the house and one of them said, "Where is Malik bin Al-Dukhaishin or Ibn Al-Dukhshun?" One of them replied, "He is a hypocrite and does not love Allah and His Apostle." Hearing that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not say so. Haven't you seen that he said, 'None has the right to be worshipped but Allah' for Allah's sake only?" He said, "Allah and His Apostle know better. We have seen him helping and advising hypocrites." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has forbidden the (Hell) fire for those who say, 'None has the right to be worshipped but Allah' for Allah's sake only."
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری نے کہ عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور غزوہ بدر کے حاضر ہونے والوں میں سے تھے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! میری بینائی میں کچھ فرق آ گیا ہے اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھایا کرتا ہوں لیکن جب برسات کا موسم آتا ہے تو میرے اور میری قوم کے درمیان جو وادی ہے وہ بھر جاتی ہے اور بہنے لگ جاتی ہے اور میں انہیں نماز پڑھانے کے لیے مسجد تک نہیں جا سکتا یا رسول اللہ ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور ( کسی جگہ ) نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں ۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان سے فرمایا ، انشاء اللہ تعالیٰ میں تمہاری اس خواہش کو پورا کروں گا ۔ عتبان نے کہا کہ ( دوسرے دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب دن چڑھا تو دونوں تشریف لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی ، میں نے اجازت دے دی ۔ جب آپ گھر میں تشریف لائے تو بیٹھے بھی نہیں اور پوچھا کہ تم اپنے گھر کے کس حصہ میں مجھ سے نماز پڑھنے کی خواہش رکھتے ہو ۔ عتبان نے کہا کہ میں نے گھر میں ایک کونے کی طرف اشارہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس جگہ ) کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور صف باندھی پس آپ نے دو رکعت ( نفل ) نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا ۔ عتبان نے کہا کہ ہم نے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے روکا اور آپ کی خدمت میں حلیم پیش کیا جو آپ ہی کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔ عتبان نے کہا کہ محلہ والوں کا ایک مجمع گھر میں لگ گیا اور مجمع میں سے ایک شخص بولا کہ مالک بن دخشن یا ( یہ کہا ) ابن دخشن دکھائی نہیں دیتا ۔ اس پر کسی دوسرے نے کہہ دیا کہ وہ تو منافق ہے جسے خدا اور رسول سے کوئی محبت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ایسا مت کہو ، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے «لا إله إلا الله» کہا ہے اور اس سے مقصود خالص خدا کی رضامندی حاصل کرنا ہے ۔ تب منافقت کا الزام لگانے والا بولا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ہم تو بظاہر اس کی توجہات اور دوستی منافقوں ہی کے ساتھ دیکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے «لا إله إلا الله» کہنے والے پر اگر اس کا مقصد خالص خدا کی رضا حاصل کرنا ہو دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے ۔ ابن شہاب نے کہا کہ پھر میں نے محمود سے سن کر حصین بن محمد انصاری سے جو بنوسالم کے شریف لوگوں میں سے ہیں ( اس حدیث ) کے متعلق پوچھا تو انھوں نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ محمود سچا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to start every thing from the right (for good things) whenever it was possible in all his affairs; for example: in washing, combing or wearing shoes.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی اشعث بن سلیم کے واسطہ سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں جہاں تک ممکن ہوتا دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے ۔ طہارت کے وقت بھی ، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Um Habiba رضی اللہ عنہا and Um Salama رضی اللہ عنہا mentioned about a church they had seen in Ethiopia in which there were pictures. They told the Prophet (ﷺ) about it, on which he said, "If any religious man dies amongst those people they would build a place of worship at his grave and make these pictures in it. They will be the worst creature in the sight of Allah on the Day of Resurrection."
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ خبر پہنچائی کہ
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انھوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں مورتیں ( تصویریں ) تھیں ۔ انھوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار ( نیک ) شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی مورتیں ( تصویریں ) بنا دیتے پس یہ لوگ خدا کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) arrived Medina he dismounted at `Awali-i-Medina amongst a tribe called Banu `Amr bin `Auf. He stayed there For fourteen nights. Then he sent for Bani An-Najjar and they came armed with their swords. As if I am looking (just now) as the Prophet (ﷺ) was sitting over his Rahila (Mount) with Abu Bakr riding behind him and all Banu An-Najjar around him till he dismounted at the courtyard of Abu Aiyub's house. The Prophet (ﷺ) loved to pray wherever the time for the prayer was due even at sheep-folds. Later on he ordered that a mosque should be built and sent for some people of Banu-An-Najjar and said, "O Banu An-Najjar! Suggest to me the price of this (walled) piece of land of yours." They replied, "No! By Allah! We do not demand its price except from Allah." Anas added: There were graves of pagans in it and some of it was unleveled and there were some date-palm trees in it. The Prophet (ﷺ) ordered that the graves of the pagans be dug out and the unleveled land be level led and the date-palm trees be cut down . (So all that was done). They aligned these cut date-palm trees towards the Qibla of the mosque (as a wall) and they also built two stone side-walls (of the mosque). His companions brought the stones while reciting some poetic verses. The Prophet (ﷺ) was with them and he kept on saying, "There is no goodness except that of the Hereafter, O Allah! So please forgive the Ansars and the emigrants. "
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، انھوں نے ابوالتیاح کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے کہا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہاں کے بلند حصہ میں بنی عمرو بن عوف کے یہاں آپ اترے اور یہاں چوبیس راتیں قیام فرمایا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونجار کو بلا بھیجا ، تو وہ لوگ تلواریں لٹکائے ہوئے آئے ۔ انس نے کہا ، گویا میری نظروں کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تشریف فرما ہیں ، جبکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوایوب کے گھر کے سامنے اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے فوراً نماز ادا کر لیں ۔ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے ، پھر آپ نے یہاں مسجد بنانے کے لیے حکم فرمایا ۔ چنانچہ بنو نجار کے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوا کر فرمایا کہ اے بنو نجار ! تم اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے لے لو ۔ انھوں نے جواب دیا نہیں یا رسول اللہ ! اس کی قیمت ہم صرف اللہ سے مانگتے ہیں ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جیسا کہ تمہیں بتا رہا تھا یہاں مشرکین کی قبریں تھیں ، اس باغ میں ایک ویران جگہ تھی اور کچھ کھجور کے درخت بھی تھے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کو اکھڑوا دیا ویرانہ کو صاف اور برابر کرایا اور درختوں کو کٹوا کر ان کی لکڑیوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب بچھا دیا اور پتھروں کے ذریعہ انہیں مضبوط بنا دیا ۔ صحابہ پتھر اٹھاتے ہوئے رجز پڑھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ ! آخرت کے فائدہ کے علاوہ اور کوئی فائدہ نہیں پس انصار و مہاجرین کی مغفرت فرمانا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) prayed in the sheep fold." Later on I heard him saying, "He prayed in the sheep folds before the construction of the, mosque."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے ابوالتیاح کے واسطے سے ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھتے تھے ، ابوالتیاح یا شعبہ نے کہا ، پھر میں نے انس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑہ میں مسجد کی تعمیر سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے ۔
Narrated Nafi`:
"I saw Ibn `Umar praying while taking his camel as a Sutra in front of him and he said, "I saw the Prophet doing the same."
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے سلیمان بن حیان نے ، کہا ہم سے عبیداللہ نے نافع کے واسطہ سے ، انھوں نے کہا کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے اونٹ کی طرف نماز پڑھتے دیکھا اور انھوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے دیکھا تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
The sun eclipsed and Allah's Messenger (ﷺ) offered the eclipse prayer and said, "I have been shown the Hellfire (now) and I never saw a worse and horrible sight than the sight I have seen today."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انھوں نے امام مالک کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انھوں نے فرمایا کہ
سورج گہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور فرمایا کہ مجھے ( آج ) دوزخ دکھائی گئی ، اس سے زیادہ بھیانک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔