Narrated Ibn Shihab:
Allah's Messenger (ﷺ) used to get up at night and pray while I used to lie across between him and the Qibla on his family's bed.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا ،
انھوں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ کیا نماز کو کوئی چیز توڑ دیتی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ نہیں ، اسے کوئی چیز نہیں توڑتی ۔ کیونکہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان عرض میں بستر پر لیٹی رہتی تھی ۔
Narrated Abu Qatada Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) was praying and he was carrying Umama the daughters of Zainab, the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) and she was the daughter of 'As bin Rabi`a bin `Abd Shams. When he prostrated, he put her down and when he stood, he carried her (on his neck).
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے عامر بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے خبر دی ، انھوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے ، انھوں نے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بعض اوقات ) نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے ۔ ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی حدیث میں ہے کہ سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے ۔
Narrated Maimuna bint Al-Harith رضی اللہ عنہا :
My bed was beside the praying place (Musalla) of the Prophet (ﷺ) and sometimes his garment fell on me while I used to lie in my bed.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشیم نے شیبانی کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد سے ، کہا مجھے میری خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
میرا بستر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے کے برابر میں ہوتا تھا ۔ اور بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا ( نماز پڑھتے میں ) میرے اوپر آ جاتا اور میں اپنے بستر پر ہی ہوتی تھی ۔
Narrated Maimuna رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to pray while I used to sleep beside him during my periods (menses) and in prostration his garment used to touch me.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبانی سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن شداد بن ہاد نے بیان کیا ، کہا ہم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ فرماتی تھیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر میں سوتی رہتی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، آپ نے فرمایا کہ
تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی ۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی ۔
Narrated `Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہما :
"While Allah's Messenger (ﷺ) was praying beside the Ka`ba, there were some Quraish people sitting in a gathering. One of them said, 'Don't you see this (who does deeds just to show off)? Who amongst you can go and bring the dung, blood and the Abdominal contents (intestines, etc.) of the slaughtered camels of the family of so and so and then wait till he prostrates and put that in between his shoulders?' The most unfortunate amongst them (`Uqba bin Abi Mu'ait) went (and brought them) and when Allah's Messenger (ﷺ) prostrated, he put them between his shoulders. The Prophet remained in prostration and they laughed so much so that they fell on each other. A passerby went to Fatima, who was a young girl in those days. She came running and the Prophet (ﷺ) was still in prostration. She removed them and cursed upon the Quraish on their faces. When Allah's Messenger (ﷺ) completed his prayer, he said, 'O Allah! Take revenge on Quraish.' He said so thrice and added, 'O Allah! take revenge on `Amr bin Hisham, `Utba bin Rabi`a, Shaiba bin Rabi`a, Al-Walid bin `Utba, Umaiya bin Khalaf, `Uqba bin Abi Mu'ait and `Umar a bin Al-Walid." `Abdullah added, "By Allah! I saw all of them dead in the battle field on the day of Badr and they were dragged and thrown in the Qalib (a well) at Badr: Allah's Messenger (ﷺ) then said, 'Allah's curse has descended upon the people of the Qalib (well).
ہم سے احمد بن اسحاق سرماری نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق کے واسطہ سے بیان کیا ۔ انھوں نے عمرو بن میمون سے ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے ، کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۔ قریش اپنی مجلس میں ( قریب ہی ) بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ان میں سے ایک قریشی بولا اس ریاکار کو نہیں دیکھتے ؟ کیا کوئی ہے جو فلاں قبیلہ کے ذبح کئے ہوئے اونٹ کا گوبر ، خون اور اوجھڑی اٹھا لائے ۔ پھر یہاں انتظار کرے ۔ جب یہ ( آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ) سجدہ میں جائے تو گردن پر رکھ دے ( چنانچہ اس کام کو انجام دینے کے لیے ) ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت شخص اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر یہ غلاظتیں ڈال دیں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی کی حالت میں سر رکھے رہے ۔ مشرکین ( یہ دیکھ کر ) ہنسے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے ۔ ایک شخص ( غالباً ابن مسعود رضی اللہ عنہما ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ۔ وہ ابھی بچہ تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا دوڑتی ہوئی آئیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی سجدہ ہی میں تھے ۔ پھر ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ) ان غلاظتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے ہٹایا اور مشرکین کو برا بھلا کہا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر کے فرمایا ’’ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر ۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر ۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر ۔ ‘‘ پھر نام لے کر کہا خدایا ! عمرو بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عتبہ ، امیہ بن خلف ، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ ابن ولید کو ہلاک کر ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا ، خدا کی قسم ! میں نے ان سب کو بدر کی لڑائی میں مقتول پایا ۔ پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنویں والے خدا کی رحمت سے دور کر دئیے گئے ۔