Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) had said, "Offer some of your prayers (Nawafil) at home, and do not take your houses as graves."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، انھوں نے عبیداللہ بن عمر کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں میں بھی نمازیں پڑھا کرو اور انہیں بالکل مقبرہ نہ بنا لو ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not enter (the places) of these people where Allah's punishment had fallen unless you do so weeping. If you do not weep, do not enter (the places of these people) because Allah's curse and punishment which fell upon them may fall upon you."
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، انھوں نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ان عذاب والوں کے آ ثار سے اگر تمہارا گزر ہو تو روتے ہوئے گزرو ، اگر تم اس موقع پر رو نہ سکو تو ان سے گزرو ہی نہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی ان کا سا عذاب آ جائے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Um Salama رضی اللہ عنہا told Allah's Messenger (ﷺ) about a church which she had seen in Ethiopia and which was called Mariya. She told him about the pictures which she had seen in it. Allah's Messenger (ﷺ) said, "If any righteous pious man dies amongst them, they would build a place of worship at his grave and make these pictures in it; they are the worst creatures in the sight of Allah."
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی ، انھوں نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے باپ عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انھوں نے حبش کے ملک میں دیکھا اس کا نام ماریہ تھا ۔ اس میں جو مورتیں دیکھی تھیں وہ بیان کیں ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں کوئی نیک بندہ ( یا یہ فرمایا کہ ) نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہ بت رکھتے ۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات سے بدتر ہیں ۔
Narrated `Aisha and `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہم :
When the last moment of the life of Allah's Messenger (ﷺ) came he started putting his 'Khamisa' on his face and when he felt hot and short of breath he took it off his face and said, "May Allah curse the Jews and Christians for they built the places of worship at the graves of their Prophets." The Prophet (ﷺ) was warning (Muslims) of what those had done.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے ، انھوں نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو باربار چہرے پر ڈالتے ۔ جب کچھ افاقہ ہوتا تو اپنے مبارک چہرے سے چادر ہٹا دیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اضطراب و پریشانی کی حالت میں فرمایا ، یہود و نصاریٰ پر اللہ کی پھٹکار ہو کہ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما کر امت کو ایسے کاموں سے ڈراتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah's curse be on the Jews for they built the places of worship at the graves of their Prophets."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انھوں نے مالک کے واسطے سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have been given five things which were not given to any amongst the Prophets before me. These are: 1. Allah made me victorious by awe (by His frightening my enemies) for a distance of one month's journey. 2. The earth has been made for me (and for my followers) a place for praying and a thing to perform Tayammum. Therefore my followers can pray wherever the time of a prayer is due. 3. The booty has been made Halal (lawful) for me (and was not made so for anyone else). 4. Every Prophet used to be sent to his nation exclusively but I have been sent to all mankind. 5. I have been given the right of intercession (on the Day of Resurrection.)
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابوالحکم سیار نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یزید فقیر نے ، کہا ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء کو نہیں دی گئی تھیں ۔ ( 1 ) ایک مہینے کی راہ سے میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ۔ ( 2 ) میرے لیے تمام زمین میں نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے کی اجازت ہے ۔ اس لیے میری امت کے جس آدمی کی نماز کا وقت ( جہاں بھی ) آ جائے اسے ( وہیں ) نماز پڑھ لینی چاہیے ۔ ( 3 ) میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ۔ ( 4 ) پہلے انبیاء خاص اپنی قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔ لیکن مجھے دنیا کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ ( 5 ) مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
There was a black slave girl belonging to an 'Arab tribe and they manumitted her but she remained with them. The slave girl said, "Once one of their girls (of that tribe) came out wearing a red leather scarf decorated with precious stones. It fell from her or she placed it somewhere. A kite passed by that place, saw it Lying there and mistaking it for a piece of meat, flew away with it. Those people searched for it but they did not find it. So they accused me of stealing it and started searching me and even searched my private parts." The slave girl further said, "By Allah! while I was standing (in that state) with those people, the same kite passed by them and dropped the red scarf and it fell amongst them. I told them, 'This is what you accused me of and I was innocent and now this is it.' " `Aisha added: That slave girl came to Allah's Messenger (ﷺ) and embraced Islam. She had a tent or a small room with a low roof in the mosque. Whenever she called on me, she had a talk with me and whenever she sat with me, she would recite the following: "The day of the scarf (band) was one of the wonders of our Lord, verily He rescued me from the disbelievers' town. `Aisha added: "Once I asked her, 'What is the matter with you? Whenever you sit with me, you always recite these poetic verses.' On that she told me the whole story. "
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے ہشام کے واسطہ سے ، انھوں نے اپنے باپ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ
عرب کے کسی قبیلہ کی ایک کالی لونڈی تھی ۔ انھوں نے اسے آزاد کر دیا تھا اور وہ انہیں کے ساتھ رہتی تھی ۔ اس نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ان کی ایک لڑکی ( جو دلہن تھی ) نہانے کو نکلی ، اس کا کمربند سرخ تسموں کا تھا اس نے وہ کمربند اتار کر رکھ دیا یا اس کے بدن سے گر گیا ۔ پھر اس طرف سے ایک چیل گزری جہاں کمربند پڑا تھا ۔ چیل اسے ( سرخ رنگ کی وجہ سے ) گوشت سمجھ کر جھپٹ لے گئی ۔ بعد میں قبیلہ والوں نے اسے بہت تلاش کیا ، لیکن کہیں نہ ملا ۔ ان لوگوں نے اس کی تہمت مجھ پر لگا دی اور میری تلاشی لینی شروع کر دی ، یہاں تک کہ انھوں نے اس کی شرمگاہ تک کی تلاشی لی ۔ اس نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ اسی حالت میں کھڑی تھی کہ وہی چیل آئی اور اس نے ان کا وہ کمربند گرا دیا ۔ وہ ان کے سامنے ہی گرا ۔ میں نے ( اسے دیکھ کر ) کہا یہی تو تھا جس کی تم مجھ پر تہمت لگاتے تھے ۔ تم لوگوں نے مجھ پر اس کا الزام لگایا تھا حالانکہ میں اس سے پاک تھی ۔ یہی تو ہے وہ کمربند ! اس ( لونڈی ) نے کہا کہ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسلام لائی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے لیے مسجدنبوی میں ایک بڑا خیمہ لگا دیا گیا ۔ ( یا یہ کہا کہ ) چھوٹا سا خیمہ لگا دیا گیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ لونڈی میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی ۔ جب بھی وہ میرے پاس آتی تو یہ ضرور کہتی کہ کمربند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے ۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس سے کہا ، آخر بات کیا ہے ؟ جب بھی تم میرے پاس بیٹھتی ہو تو یہ بات ضرور کہتی ہو ۔ آپ نے بیان کیا کہ پھر اس نے مجھے یہ قصہ سنایا ۔
Narrated Nafi `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما said:
I used to sleep in the mosque of the Prophet (ﷺ) while I was young and unmarried.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے عبیداللہ کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ کو نافع نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
وہ اپنی نوجوانی میں جب کہ ان کے بیوی بچے نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سویا کرتے تھے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) went to Fatima's house but did not find `Ali there. So he asked, "Where is your cousin?" She replied, "There was something between us and he got angry with me and went out. He did not sleep (midday nap) in the house." Allah's Messenger (ﷺ) asked a person to look for him. That person came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! He (Ali) is sleeping in the mosque." Allah's Messenger (ﷺ) went there and `Ali was lying. His upper body cover had fallen down to one side of his body and he was covered with dust. Allah's Messenger (ﷺ) started cleaning the dust from him saying: "Get up! O Aba Turab. Get up! O Aba Turab (literally means: O father of dust).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، انھوں نے اپنے باپ ابوحازم سہل بن دینار سے ، انھوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں ؟ انھوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آ گئی اور وہ مجھ پر خفا ہو کر کہیں باہر چلے گئے ہیں اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کرو کہ کہاں ہیں ؟ وہ آئے اور بتایا کہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے ، چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جسم سے دھول جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے اٹھو ابوتراب اٹھو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I saw seventy of As-Suffa men and none of them had a Rida' (a garment covering the upper part of the body). They had either Izars (only) or sheets which they tied round their necks. Some of these sheets reached the middle of their legs and some reached their heels and they used to gather them with their hands lest their private parts should become naked.
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن فضیل نے اپنے والد کے واسطہ سے ، انھوں نے ابوحازم سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
آپ نے فرمایا کہ میں نے ستر اصحاب صفہ کو دیکھا کہ ان میں کوئی ایسا نہ تھا جس کے پاس چادر ہو ۔ فقط تہہ بند ہوتا ، یا رات کو اوڑھنے کا کپڑا جنھیں یہ لوگ اپنی گردنوں سے باندھ لیتے ۔ یہ کپڑے کسی کے آدھی پنڈلی تک آتے اور کسی کے ٹخنوں تک ۔ یہ حضرات ان کپڑوں کو اس خیال سے کہ کہیں شرمگاہ نہ کھل جائے اپنے ہاتھوں سے سمیٹے رہتے تھے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah:
I went to the Prophet (ﷺ) in the mosque (the sub-narrator Mas`ar thought that Jabir had said, "In the forenoon.") He ordered me to pray two rak`at. He owed me some money and he repaid it to me and gave more than what was due to me.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسعر نے ، کہا ہم سے محارب بن دثار نے جابر بن عبداللہ کے واسطہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ مسعر نے کہا میرا خیال ہے کہ محارب نے چاشت کا وقت بتایا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( پہلے ) دو رکعت نماز پڑھ اور میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض تھا ۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا اور زیادہ ہی دیا ۔
Narrated Abu Qatada Al-Aslami رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you enters a mosque, he should pray two rak`at before sitting."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انھوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے یہ خبر پہنچائی ، انھوں نے عمرو بن سلیم زرقی کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے ابوقتادہ سلمی رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The angels keep on asking Allah's forgiveness for anyone of you, as long as he is at his Musalla (praying place) and he does not pass wind (Hadath). They say, 'O Allah! Forgive him, O Allah! be Merciful to him."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہ کہا ہمیں مالک نے ابوالزناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم اپنے مصلے پر جہاں تم نے نماز پڑھی تھی ، بیٹھے رہو اور ریاح خارج نہ کرو تو ملائکہ تم پر برابر درود بھیجتے رہتے ہیں ۔ کہتے ہیں «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» ’’ اے اللہ ! اس کی مغفرت کیجیئے ، اے اللہ ! اس پر رحم کیجیئے ۔‘‘
Narrated `Abdullah bin `Umar:
In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the mosque was built of adobes, its roof of the leaves of date-palms and its pillars of the stems of date-palms. Abu Bakr did not alter it. `Umar expanded it on the same pattern as it was in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) by using adobes, leaves of date-palms and changing the pillars into wooden ones. `Uthman changed it by expanding it to a great extent and built its walls with engraved stones and lime and made its pillars of engraved stones and its roof of teak wood.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھ سے میرے والد ابراہیم بن سعید نے صالح بن کیسان کے واسطے سے ، ہم سے نافع نے ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجدنبوی کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی ۔ اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی تھی اور ستون اسی کی کڑیوں کے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کی زیادتی نہیں کی ۔ البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بڑھایا اور اس کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجوروں کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی کڑیوں ہی کے رکھے ۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی عمارت کو بدل دیا اور اس میں بہت سی زیادتی کی ۔ اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچھ سے بنائیں ۔ اس کے ستون بھی منقش پتھروں سے بنوائے اور چھت ساگوان سے بنائی ۔
Narrated `Ikrima Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said to me and to his son `Ali:
"Go to Abu Sa`id and listen to what he narrates." So we went and found him in a garden looking after it. He picked up his Rida', wore it and sat down and started narrating till the topic of the construction of the mosque reached. He said, "We were carrying one adobe at a time while `Ammar was carrying two. The Prophet (ﷺ) saw him and started removing the dust from his body and said, "May Allah be Merciful to `Ammar. He will be inviting them (i.e. his murderers, the rebellious group) to Paradise and they will invite him to Hell-fire." `Ammar said, "I seek refuge with Allah from affliction."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے عکرمہ سے ، انھوں نے بیان کیا کہ مجھ سے اور اپنے صاحبزادے علی سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان کی احادیث سنو ۔ ہم گئے ۔ دیکھا کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے باغ کو درست کر رہے تھے ۔ ہم کو دیکھ کر آپ نے اپنی چادر سنبھالی اور گوٹ مار کر بیٹھ گئے ۔ پھر ہم سے حدیث بیان کرنے لگے ۔ جب مسجدنبوی کے بنانے کا ذکر آیا تو آپ نے بتایا کہ ہم تو ( مسجد کے بنانے میں حصہ لیتے وقت ) ایک ایک اینٹ اٹھاتے ۔ لیکن عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا ، افسوس ! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی ۔ جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں فتنوں سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) sent someone to a woman telling her to "Order her slave, carpenter, to prepare a wooden pulpit for him to sit on."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبدالعزیز نے ابوحازم کے واسطہ سے ، انھوں نے سہل رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس ایک آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہے کہ میرے لیے ( منبر ) لکڑیوں کے تختوں سے بنا دے جن پر میں بیٹھا کروں ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہما :
A woman said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I get something constructed for you to sit on as I have a slave who is a carpenter?" He replied, "Yes, if you like." So she had that pulpit constructed.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہ
ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کریں ۔ میرا ایک بڑھئی غلام بھی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو منبر بنوا دے ۔
Narrated `Uthman bin `Affan:
when people argued too much about his intention to reconstruct the mosque of Allah's Messenger (ﷺ), "You have talked too much. I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'Whoever built a mosque, (Bukair thought that `Asim, another sub-narrator, added, "Intending Allah's Pleasure"), Allah would build for him a similar place in Paradise.' "
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا انھوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے عاصم بن عمرو بن قتادہ نے بیان کیا ، انھوں نے عبیداللہ بن اسود خولانی سے سنا ، انھوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
مسجدنبوی کی تعمیر کے متعلق لوگوں کی باتوں کو سن کر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے بہت زیادہ باتیں کی ہیں ۔ حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس نے مسجد بنائی بکیر ( راوی ) نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو ، تو اللہ تعالیٰ ایسا ہی ایک مکان جنت میں اس کے لیے بنائے گا ۔
Narrated `Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
"A man passed through the mosque carrying arrows. Allah's Apostle said to him, 'Hold them by their heads.' "
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، انھوں نے کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کیا تم نے جابر بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ
ایک شخص مسجدنبوی میں آیا اور وہ تیر لیے ہوئے تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ان کی نوکیں تھامے رکھو ۔
Narrated Abu Burda bin `Abdullah (on the authority of his father):
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever passes through our mosques or markets with arrows should hold them by their heads lest he should injure a Muslim."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے کہ کہا ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد ( ابوموسیٰ اشعری صحابی ) سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص ہماری مساجد یا ہمارے بازاروں میں تیر لیے ہوئے چلے تو ان کے پھل تھامے رہے ، ایسا نہ ہو کہ اپنے ہاتھوں سے کسی مسلمان کو زخمی کر دے ۔