Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
He saw a person bowing and prostrating imperfectly. When he finished his Salat, Hudhaifa told him that he had not offered Salat. The subnarrator added, "I think that Hudhaifa also said Were you to die you would die on a "Sunna" (legal way) other than that of Muhammad (ﷺ)."
ہمیں صلت بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے واصل کے واسطہ سے ، وہ ابووائل شقیق بن سلمہ سے ، وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ
انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا ۔ جب اس نے اپنی نماز پوری کر لی تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی ۔ ابووائل راوی نے کہا ، میں خیال کرتا ہوں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تو ایسی ہی نماز پر مر جاتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نہیں مرتا ۔
Narrated 'Abdullah bin Malik Ibn Buhaina:
"When the Prophet (ﷺ) prayed, he used to separate his arms from his body so widely that the whiteness of his armpits was visible."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا مجھ سے حدیث بیان کی بکر بن مضر نے جعفر سے ، وہ ابن ہرمز سے ، انھوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی اور لیث نے یوں کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever prays like us and faces our Qibla and eats our slaughtered animals is a Muslim and is under Allah's and His Apostle's protection. So do not betray Allah by betraying those who are in His protection."
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے منصور بن سعد نے میمون بن سیاہ کے واسطہ سے بیان کیا ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ ہے ۔ پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی پناہ میں خیانت نہ کرو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have been ordered to fight the people till they say: 'None has the right to be worshipped but Allah.' And if they say so, pray like our prayers, face our Qibla and slaughter as we slaughter, then their blood and property will be sacred to us and we will not interfere with them except legally and their reckoning will be with Allah."
ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ ابن مبارک نے حمید طویل کے واسطہ سے ، انھوں نے روایت کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں ۔ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں اور ہمارے قبلہ کی طرف نماز میں منہ کریں اور ہمارے ذبیحہ کو کھانے لگیں تو ان کا خون اور ان کے اموال ہم پر حرام ہو گئے ۔ مگر کسی حق کے بدلے اور ( باطن میں ) ان کا حساب اللہ پر رہے گا ۔
Narrated Maimun bin Siyah that he asked Anas bin Malik:
"O Abu Hamza! What makes the life and property of a person sacred?" He replied, "Whoever says, 'None has the right to be worshipped but Allah', faces our Qibla during the prayers, prays like us and eats our slaughtered animal, then he is a Muslim, and has got the same rights and obligations as other Muslims have."
علی بن عبداللہ بن مدینی نے فرمایا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ میمون بن سیاہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ
اے ابوحمزہ ! آدمی کی جان اور مال پر زیادتی کو کیا چیزیں حرام کرتی ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے ۔ پھر اس کے وہی حقوق ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں اور اس کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو عام مسلمانوں پر ہیں اور ابن ابی مریم نے کہا ، ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی ، انھوں نے کہا ہم سے حمید نے حدیث بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر کے حدیث بیان کی ۔
Narrated Abu Aiyub Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "While defecating, neither face nor turn your back to the Qibla but face either east or west." Abu Aiyub added. "When we arrived in Sham we came across some lavatories facing the Qibla; therefore we turned ourselves while using them and asked for Allah's forgiveness."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، کہا ہم سے زہری نے عطاء بن یزید لیثی کے واسطہ سے ، انھوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو اس وقت نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو ۔ بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف اس وقت اپنا منہ کر لیا کرو ۔ ابوایوب نے فرمایا کہ ہم جب شام میں آئے تو یہاں کے بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے تھے ( جب ہم قضائے حاجت کے لیے جاتے ) تو ہم مڑ جاتے اور اللہ عزوجل سے استغفار کرتے تھے اور زہری نے عطاء سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا ۔ اس میں یوں ہے کہ عطاء نے کہا میں نے ابوایوب سے سنا ، انھوں نے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
Narrated `Amr bin Dinar:
I asked Ibn `Umar, "Can a person who has performed the Tawaf around the Ka`ba for `Umra but has not performed the (Sa`i) Tawaf of Safa and Marwa, have a sexual relation with his wife?" Ibn `Umar replied "When the Prophet (ﷺ) reached Mecca he performed the Tawaf around the Ka`ba (circumambulated it seven times) and offered a two-rak`at prayer (at the place) behind the station (of Abraham) and then performed the Tawaf (Sa`i) of Safa and Marwa, and verily in Allah's Messenger (ﷺ) you have a good example." Then we put the same question to Jabir bin `Abdullah and he too replied, "He should not go near his wife (for sexual relation) till he has finished the Tawaf of Safa and Marwa."
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے ، کہا ہم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے
ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے بیت اللہ کا طواف عمرہ کے لیے کیا لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کی، کیا ایسا شخص ( بیت اللہ کے طواف کے بعد ) اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی، پھر صفا اور مردہ کی سعی کی اور تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔“ ( الاحزاب: 21 ) حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، ان سے مذکورہ شخص کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: صفا اور مروا کے طواف سے پہلے ہر گز اپنی بیوی سے صحبت نہ کرے۔
Narrated Mujahid:
Someone came to Ibn `Umar and said, "Here is Allah's Messenger (ﷺ) entering the Ka`ba." Ibn `Umar said, "I went there but the Prophet (ﷺ) had come out of the Ka`ba and I found Bilal standing between its two doors. I asked Bilal, 'Did the Prophet (ﷺ) pray in the Ka`ba?' Bilal replied, 'Yes, he prayed two rak`at between the two pillars which are to your left on entering the Ka`ba. Then Allah's Messenger (ﷺ) came out and offered a two-rak`at prayer facing the Ka`ba.' "
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا سیف ابن ابی سلیمان سے ، انھوں نے کہا میں نے مجاہد سے سنا ، انھوں نے کہا کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ، اے لو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے اور آپ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں جب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے نکل چکے تھے ، میں نے دیکھا کہ بلال دونوں دروازوں کے سامنے کھڑے ہیں ۔ میں نے بلال سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ ہاں ! دو رکعت ان دو ستونوں کے درمیان پڑھی تھیں ، جو کعبہ میں داخل ہوتے وقت بائیں طرف واقع ہیں ۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز ادا فرمائی ۔
Narrated Ibn `Abbas:
When the Prophet (ﷺ) entered the Ka`ba, he invoked Allah in each and every side of it and did not pray till he came out of it, and offered a two-rak`at prayer facing the Ka`ba and said, "This is the Qibla."
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں ابن جریج نے خبر پہنچائی عطاء ابن ابی رباح سے ، انھوں نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو اس کے چاروں کونوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور نماز نہیں پڑھی ۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو دو رکعت نماز کعبہ کے سامنے پڑھی اور فرمایا کہ یہی قبلہ ہے ۔
Narrated Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) prayed facing Baitul-Maqdis for sixteen or seventeen months but he loved to face the Ka`ba (at Mecca) so Allah revealed: "Verily, We have seen the turning of your face to the heaven!" (2:144) So the Prophet (ﷺ) faced the Ka`ba and the fools amongst the people namely "the Jews" said, "What has turned them from their Qibla (Baitul-Maqdis) which they formerly observed"" (Allah revealed): "Say: 'To Allah belongs the East and the West. He guides whom he will to a straight path'." (2:142) A man prayed with the Prophet (facing the Ka`ba) and went out. He saw some of the Ansar praying the `Asr prayer with their faces towards Baitul-Maqdis, he said, "I bear witness that I prayed with Allah's Messenger (ﷺ) facing the Ka`ba." So all the people turned their faces towards the Ka`ba.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ، کہا انھوں نے ابواسحاق سے بیان کیا ، کہا انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( دل سے ) چاہتے تھے کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں ۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ’’ ہم آپ کا آسمان کی طرف باربار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں ۔ پھر آپ نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا اور احمقوں نے جو یہودی تھے کہنا شروع کیا کہ انہیں اگلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا ۔ آپ فرما دیجیئے کہ اللہ ہی کی ملکیت ہے مشرق اور مغرب ، اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( جب قبلہ بدلا تو ) ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر نماز کے بعد وہ چلا اور انصار کی ایک جماعت پر اس کا گزر ہوا جو عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھ رہے تھے ۔ اس شخص نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ نماز پڑھی ہے جس میں آپ نے موجودہ قبلہ ( کعبہ ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے ۔ پھر وہ جماعت ( نماز کی حالت میں ہی ) مڑ گئی اور کعبہ کی طرف منہ کر لیا ۔
Narrated Jabir:
Allah's Messenger (ﷺ) used to pray (optional, non-obligatory prayer) while riding on his mount (Rahila) wherever it turned, and whenever he wanted to pray the compulsory prayer he dismounted and prayed facing the Qibla.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عبداللہ دستوائی نے ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ سے ، انھوں نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر خواہ اس کا رخ کسی طرف ہو ( نفل ) نماز پڑھتے تھے لیکن جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو سواری سے اتر جاتے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) prayed (and the sub-narrator Ibrahim said, "I do not know whether he prayed more or less than usual"), and when he had finished the prayers he was asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Has there been any change in the prayers?" He said, "What is it?' The people said, "You have prayed so much and so much." So the Prophet (ﷺ) bent his legs, faced the Qibla and performed two prostration's (of Sahu) and finished his prayers with Taslim (by turning his face to right and left saying: 'As-Salamu `Alaikum- Warahmat-ullah'). When he turned his face to us he said, "If there had been anything changed in the prayer, surely I would have informed you but I am a human being like you and liable to forget like you. So if I forget remind me and if anyone of you is doubtful about his prayer, he should follow what he thinks to be correct and complete his prayer accordingly and finish it and do two prostrations (of Sahu).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے ، کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ۔ ابراہیم نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور ( سہو کے ) دو سجدے کئے اور سلام پھیرا ۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی ضرور کہہ دیتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں ، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں ۔ اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلایا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اس وقت ٹھیک بات سوچ لے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے ۔
Narrated `Umar (bin Al-Khattab) رضی اللہ عنہ :
My Lord agreed with me in three things: 1. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ), I wish we took the station of Abraham as our praying place (for some of our prayers). So came the Divine Inspiration: And take you (people) the station of Abraham as a place of prayer (for some of your prayers e.g. two rak`at of Tawaf of Ka`ba)". (2.125) 2. And as regards the (verse of) the veiling of the women, I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! I wish you ordered your wives to cover themselves from the men because good and bad ones talk to them.' So the verse of the veiling of the women was revealed. 3. Once the wives of the Prophet (ﷺ) made a united front against the Prophet (ﷺ) and I said to them, 'It may be if he (the Prophet) divorced you, (all) that his Lord (Allah) will give him instead of you wives better than you.' So this verse (the same as I had said) was revealed." (66.5). Narrated Anas: as above (395).
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے حمید کے واسطہ سے ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
میری تین باتوں میں جو میرے منہ سے نکلا میرے رب نے ویسا ہی حکم فرمایا ۔ میں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! اگر ہم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا سکتے تو اچھا ہوتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ’’ اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو ‘‘ دوسری آیت پردہ کے بارے میں ہے ۔ میں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ کاش ! آپ اپنی عورتوں کو پردہ کا حکم دیتے ، کیونکہ ان سے اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ بات کرتے ہیں ۔ اس پر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں جوش و خروش میں آپ کی خدمت میں اتفاق کر کے کچھ مطالبات لے کر حاضر ہوئیں ۔ میں نے ان سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک تمہیں طلاق دلا دیں اور تمہارے بدلے تم سے بہتر مسلمہ بیویاں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت کریں ، تو یہ آیت نازل ہوئی «عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن» اور سعید ابن ابی مریم نے کہا کہ مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی ، کہا کہ ہم سے حمید نے بیان کیا ، کہا میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:
While the people were offering the Fajr prayer at Quba' (near Medina), someone came to them and said: "It has been revealed to Allah's Messenger (ﷺ) tonight, and he has been ordered to pray facing the Ka`ba." So turn your faces to the Ka`ba. Those people were facing Sham (Jerusalem) so they turned their faces towards Ka`ba (at Mecca).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں امام مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر سے ، آپ نے فرمایا کہ
لوگ قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا ۔ اس نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کل وحی نازل ہوئی ہے اور انہیں کعبہ کی طرف ( نماز میں ) منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے ۔ چنانچہ ان لوگوں نے بھی کعبہ کی جانب منہ کر لیے جب کہ اس وقت وہ شام کی جانب منہ کئے ہوئے تھے ، اس لیے وہ سب کعبہ کی جانب گھوم گئے ۔
Narrated `Abdullah:
"Once the Prophet (ﷺ) offered five rak`at in Zuhr prayer. He was asked, "Is there an increase in the prayer?" The Prophet (ﷺ) said, "And what is it?" They said, "You have prayed five rak`at.' So he bent his legs and performed two prostrations (of Sahu).
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے شعبہ کے واسطے سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے انھوں نے عبداللہ سے ، انھوں نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بھولے سے ) ظہر کی نماز ( ایک مرتبہ ) پانچ رکعت پڑھی ہیں ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پھر آپ نے اپنے پاؤں موڑ لیے اور ( سہو کے ) دو سجدے کئے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) saw some sputum in the direction of the Qibla (on the wall of the mosque) and he disliked that and the sign of disgust was apparent from his face. So he got up and scraped it off with his hand and said, "Whenever anyone of you stands for the prayer, he is speaking in private to his Lord or his Lord is between him and his Qibla. So, none of you should spit in the direction of the Qibla but one can spit to the left or under his foot." The Prophet (ﷺ) then took the corner of his sheet and spat in it and folded it and said, "Or you can do this. "
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے حمید کے واسطہ سے ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھائی دینے لگی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے ، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے ۔ اس لیے کوئی شخص ( نماز میں اپنے ) قبلہ کی طرف نہ تھوکے ۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے ۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا ، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا ، یا اس طرح کر لیا کرو ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) saw sputum on the wall of the mosque in the direction of the Qibla and scraped it off. He faced the people and said, "Whenever any one of you is praying, he should not spit in front of him because in the prayer Allah is in front of him."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے امام مالک نے نافع کے واسطہ سے روایت کیا ، کہا انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی دیوار پر تھوک دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز میں ہو تو اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے کیونکہ نماز میں منہ کے سامنے اللہ عزوجل ہوتا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا , (the mother of faithful believers):
Allah's Messenger (ﷺ) saw some nasal secretions, expectoration or sputum on the wall of the mosque in the direction of the Qibla and scraped it off.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار پر رینٹ یا تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھرچ ڈالا ۔
Narrated Abu Huraira and Abu Sa`id رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, "If anyone of you wanted to spit he should neither spit in front of him nor on his right but he could spit either on his left or under his left foot."
ہم سے سعید بن اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر بلغم دیکھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اسے صاف کر دیا ۔ پھر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تھوکے تو اسے اپنے منہ کے سامنے یا دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہیے ، البتہ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے ۔
Narrated Abu Huraira and Abu Sa`id رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, "If anyone of you wanted to spit, he should neither spit in front of him nor on his right but could spit either on his left or under his left foot."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے عقیل بن خالد کے واسطے سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی کو تھوکنا ہو تو اسے اپنے چہرے کے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔