It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do not take the Qur'an on a journey with you, for I am afraid lost it should fall into the hands of the enemy. Ayyub (one of the narrators in the chain of transmitters) said: The enemy may seize it and may quarrel with you over it.
ہم سے ابو الربیع العتکی اور ابو کامل نے بیان کیا، کہا:حماد نے ایوب سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قرآن کے ساتھ سفر نہ کرو ، کیونکہ مجھے اس بات پر اطمینان نہیں کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ۔ "" ایوب نے کہا : قرآن مجید دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ قرآن مجید کے ذریعے سے ( اسے آڑ بنا کر ) تمہارے ساتھ مقابلہ کرے گا ۔
It was narrated from Ibn 'Umar from the prophet ﷺ (a similar hadith as no. 4841). In the Hadith of Ibn 'Ulayyah and Ath-Thaqafi it says: "I am affarid." In the Hadith of Sufyan and Adh-Dhah-hak bin 'Uthman it says:
Let the enemy get hold of it."
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, اسماعیل بن علیہ ، سفیان اور ثقفی سب نے ایوب سے حدیث بیان کی ، ایوب اور ضحاک بن عثمان نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ابن علیہ اور ثقفی کی حدیث میں ہے : "" مجھے خوف ہے "" اور سفیان اور ضحاک بن عثمان کی حدیث میں ہے : "" اس خوف سے کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے ۔ ""
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had a race of the horses which had been especially prepared for the purpose from Hafya' to Thaniyyat al-Wada' (the latter being the winning post), and of those which had not been trained from Thaniyya to the mosque of Banu Zuraiq, and Ibn Umar was among those who took part in this race.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے گھوڑوں کی حفیاء کے مقام سے مسابقت ( دوڑ ) کروائی جنہیں ( عربی طریقے سے ) فالتو چربی زائل کر کے سبک اندام بنایا گیا تھا ۔ ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع تک تھی اور جن کو سبک اندام نہ بنایا گیا تھا ان کی دوڑ ثنیہ سے مسجد بنی زُریق تک کرائی ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے جنہوں نے گھوڑے دوڑائے ۔
A hadith like that of Malik from Nafi' (no. 4843) was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہ , and in the hadith of Ayyub from Hammad and Ibn Ulayyah it adds: "Abdullah رضی اللہ عنہ said: 'I came first in the race, and the horse Jumped into the Masid me.
یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید نے لیث بن سعد سے حدیث بیان کی ۔ خلف بن ہشام ، ابو ربیع اور ابو کامل نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ زہیر نے کہا : ہمیں اسماعیل نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ عبداللہ بن نمیر ، ابو اسامہ اور یحییٰ قطان سب نے عبیداللہ سے روایت کی ۔ علی بن حجر ، احمد بن عبدہ اور ابن ابی عمر نے مجھے حدیث سنائی ، سب نے کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث سنائی ۔ ابن جریج نے کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی ۔ ابن وہب نے کہا : مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی ۔ ان سب ( لیث بن سعد ، ایوب ، عبیداللہ ، اسماعیل بن امیہ ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ بن زید ) نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مالک کی نافع سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی روایت کی ، حماد اور ابن علیہ کی ایوب سے روایت میں یہ اضافہ کیا : حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں اول آیا اور گھوڑا مجھ سمیت مسجد ( بنو زُریق ) سے آگے نکل گیا ۔ ( جہاں پہنچنا تھا ، تیز رفتاری کی بنا پر اس جگہ سے آگے نکل گیا ۔ )
It has been narrated on the authority of Ibn Umar رضی اﷲ عنہما :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: There will be great benefit in the forelock of the horses until the Day of judgment.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے نافع کی سند سے مالک رضی اللہ عنہ سے اور حضرت عبدﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں برکت ہے اور خوبی قیامت تک۔
A hadith like that of Malik from Nafi (no. 4845) was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہما from the prophet ﷺ.
ہم سے قتیبہ اور ابن روم نے لیث بن سعد کی سند سے بیان کیا، ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے علی بن مشر اور عبد نے بیان کیا۔ ہم سے اللہ ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابی ایچ نے بیان کیا، ہم سے عبید نے بیان کیا، ہم سے اللہ ابن سعید نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، یہ سب عبید اللہ سے روایت کرتے ہیں۔ اور اس نے ہم سے بات کی۔ہم سے ہارون بن سعید عیلی، ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے اسامہ نے بیان کیا، ان سب نے نافع کی سند سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مالک نافع کی سند پر.
It has been narrated on the authority of Jarir bin Abdullah رضی اللہ عنہ who said:
I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) was twisting the forelock of a horse with his fingers and he was saying: (A great) benefit. i.e. reward (for rearing them for Jihad) and spoils of war, has been tied to the forelocks of horses until the Day of Judgment.
ہم سے نصر بن علی الجمی اور صالح بن حاتم بن وردان سب نے یزید کی سند سے بیان کیا - الجہدمی نے کہا : ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا - ہم سے یونس بن عبید نے عمرو بن سعید کی سند سے بیان کیا, جریر بن عبدﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
میں نے رسول ﷲؐ کو دیکھا آپ ایک گھوڑے کی پیشانی کے بال انگلی سے مل رہے تھے اور فرماتے تھے گھوڑوں کی پیشانیوں سے برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک یعنی ثواب او رغنیمت۔
The above tradition has also been narrated on the authority of Yunus through a different chain of transmitters.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن، ابو شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سفیان سے۔ یہ دونوں یونس علیہ السلام کے اختیار میں ہیں، اس سلسلہ کی نشریات اس سے ملتی جلتی ہیں۔
The same tradition has been narrated on the authority of Urwat al-Bariqi who said:
The Prophet (ﷺ) said: Great good is attached to the forelock of the horses until the Day of Judgment.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، عامر کی سند سے, عروہ بارقی سے روایت ہے
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برکت بندھی ہوئی ہے گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک یعنی ثواب اور غنیمت۔
Urwat al-Bariqi reported:
Allah's Messenger (ﷺ) having said this: Good is tied to the forelock of the horses. It Was said to him: Messenger of Allah, why is it so? He (the Prophet said): For reward and booty until the Day of Judgment.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے ابن فضیل نے اور ہم سے ابن ادریس نے، حصین رضی اللہ عنہ نے شعبی کی سند سے بیان کیا, عروہ بارقی سے روایت ہے
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برکت بندھی ہوئی ہے گھوڑوں کی پیشانیوں سے۔ لوگوں نے عرض کیا کیونکر یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا ثواب ہے اور غنیمت قیامت تک ( کیونکہ جہاد قائم رہے گا قیامت تک ) ۔
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters with the difference that here instead of Urwat al-Bariqi there is Urwa bin ja'd.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، حصین رضی اللہ عنہ کی سند سے، سوائے عروہ بن الجعد نے۔
It was narrated from 'Urwah Al-Bariqi, from the prophet ﷺ (a Hadith similar to no. 4850), but he did not mention "Reward and spoils of war," In the hadith of Sufyan (it says): "He heard 'Urwah Al-Bariqi, who heard the prophet ﷺ.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، خلف بن ہشام اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ابو الاحواس اور اسحاق بن کی سند سے بیان کیا۔ ابراہیم اور ابن ابی عمر، دونوں سفیان کی سند پر، سب شبیب بن غرقدہ کی سند پر، عروہ الباریقی کی سند پر۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ثواب اور غنیمت کا ذکر نہیں کیا اور سفیان کی حدیث میں ہے کہ عروہ الباری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا سنا؟ سنا.
This was narrated from 'Urwah bin Al-ja'd from the prophet ﷺ, Reward and spoils of war.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے ابوحنیفہ نے بیان کیا، ان سے ابن المثنیٰ نے اور ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان دونوں نے ان کی سند سے شعبہ، ابواسحاق کی سند سے، الاثار بن حارث کی سند سے، عروہ کی سند سے، ابن الجعد سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس روایت میں ثواب اور غنیمت کا ذکر نہیں ہے۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: There is a blessing in the forelocks of the war horses.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے ابوحنیفہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن المثنیٰ نے اور ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان دونوں سے شعبہ کی سند سے، ابو الطیہ کی سند سے، انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے یحییٰ بن حبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ہم سے ابن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ولید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو الطیہ کی سند سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی بات بیان کرتے ہوئے سنا۔
It has been narrated on the authority of Abn Huraira رضی اللہ عنہ:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to dislike the Shikal horse.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یحییٰ نے خبر دی، اور انہوں نے کہا۔ وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے سلم بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں میں شِکال کو ناپسند فرماتے تھے ۔ ( شِکال کا مفہوم اگلی حدیث میں بیان ہوا ہے ۔ )
A similar report (as no. 4856) was narrated from Sufyan with this chain of narration. In the Hadith of 'Abdur-Razzaq it adds:
Shikal is when a horse has some whiteness on its right hind foot and left forefoot, or on its right forefoot nd its left hind foot."
عبداللہ بن نمیر اور عبدالرزاق نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں یہ اضافہ کیا
شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے داہنے پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو ( الٹی طرف کے آگے اور پیچھے دو قدم سفید ہوں ۔ )
A hadith like that of Waki (no. 4556) was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ , from the prophet ﷺ. According to the report of Wahb: "From 'Abdullah bin Yazid," but he did not mention An-Nakha'i.
محمد بن جعفر اور وہب بن جریر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن یزید نخعی سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح وکیع کی حدیث ہے ۔ اور وہب کی روایت میں ( سند اس طرح ) ہے : انہوں نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی لیکن نخعی کا ذکر نہیں کیا ۔
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has undertaken to look after the affairs of one who goes out to fight in His way believing in Him and affirming the truth of His Apostles. He is committed to His care that Re will either admit him to Paradise or bring him back to his home from where he set out with a reward or (his share of) booty. By the Being in Whose Hand is the life of Muhammad. If a person gets wounded in the way of Allah, he will come on the Day of Judgment with his wound in the same condition as it was when it was first inflicted; its colour being the colour of blood but its smell will be the smell of musk. By, the Being in Whose Hand is Muhammad's life, if it were not to be too hard upon the Muslim. I would not lag behind any expedition which is going to fight in the cause of Allah. But I do not have abundant means to provide them (the Mujahids) with riding beasts, nor have they (i. e. all of them) abundant means (to provide themselves with all the means of Jihad) so that they could he left behind. By the Being in Whose Hand is Muhammad's life, I love to fight in the way of Allah and be killed, to fight and again be killed and to fight again and be killed.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, جریر نے عمارہ بن قعقاع سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے خود ( ایسے شخص کی ) ضمانت دی ہے کہ جو شخص اس کے راستے میں نکلا ، میرے راستے میں جہاد ، میرے ساتھ ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے سوا اور کسی چیز نے اسے گھر سے نہیں نکالا ، اس کی مجھ پر ضمانت ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا ، یا پھر اسے اس کی اسی قیام گاہ میں واپس لے آؤں گا جس سے وہ ( میری خاطر ) نکلا تھا ، جو اجر اور غنیمت اس نے حاصل کی وہ بھی اسے حاصل ہو گی ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے ( تو زخم کھانے والا ) قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا جس حالت میں اس کو زخم لگا تھا ، اس ( زخم ) کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی بھی لشکر سے مختلف رویہ اپناتے ہوئے ( گھر میں ) نہ بیٹھتا ، لیکن میرے پاس اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ میں سب مسلمانوں کو سواریاں مہیا کر سکوں اور نہ ہی ان ( سب ) کے پاس اتنی وسعت ہوتی ہے اور یہ بات ان کو بہت شاق گزرتی ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں ۔ اس ذات کی قسم کس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں اور پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں ۔ "
It was narrated from 'Umrah with this chain of narration (a hadith similar to no. 4859).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن فضیل نے عمارہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔