Back to Sahih Muslim

The Book of Government

كتاب الْإِمَارَةِ

Chapter 34

Hadith 4801
Sahih
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا»، أَيْ مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأَنْكَرَ بِقَلْبِهِ.
English

It has been narrated (through a different chain of tmnamitters) on the authority of Umm Salama رضی اللہ عنہا (wife of the Holy Prophet):

He said: Amirs will be appointed over you, and you will find them doing good as well as bad deeds. One who hates their bad deeds is absolved from blame. One who disapproves of their bad deeds is (also) safe (so far as Divine wrath is concerned). But one who approves of their bad deeds and imitates them (is doomed). People asked: Messenger of Allah, shouldn't we fight against them? He replied: No, as long as they say their prayer. ( Hating and disapproving refers to liking and disliking from the heart.)

Urdu

مجھ سے ابو غسان المسمعی اور محمد بن بشار نے معاذ کی سند سے بیان کیا ہے اور ہم سے معاذ نے بیان کیا ہے اور وہ ان کے بیٹے ہیں, ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حسن نے ضبہ بن محصب عنزی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ نے فرمایا : " تم پر ایسے امیر لگائے جائیں گے جن میں تم اچھائیاں بھی دیکھو گے اور برائیاں بھی ، جس نے ( برے کاموں کو ) ناپسند کیا ، وہ بری ہو گیا ، جس نے انکار کیا وہ بچ گیا ، مگر جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا ( وہ بری ہوا نہ بچ سکا ۔ ) " صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں ، آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تھا جس نے دل سے ناپسند کیا اور دل سے برا جانا.

Hadith 4802
Sahih
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، وَهِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ».
English

It was narrated that Umm Salamah said:

"The Messenger of Allah ﷺ said: "a similar report (as no. 4801), except that he said: "Whoever object to (their bad deeds) will be free of blame, and whoever dislikes (their bad deeds) will also be safe.

Urdu

مجھ سے ابو الربیع العتکی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: حماد بن زید نے کہا : ہمیں معلیٰ بن زیاد اور ہشام نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سابقہ حدیث کی طرح ، البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں " جس نے انکار کیا ، وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا ، وہ بچ گیا."

Hadith 4803
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا قَوْلَهُ: «وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» لَمْ يَذْكُرْهُ.
English

It was narrated that Umm Salamah said:

The Messenger of Allah ﷺ said... "a similar report (as no. 4801), except for the words: "...but whoever excepts and follows" which he (the sub-narrator) did not mention.

Urdu

ہم سے حسن بن ربیع البجلی نے بیان کیا, ابن مبارک نے ہشام سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر اسی کے مانند بیان کیا ، سوائے ان الفاظ کے : " جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا " یہ الفاظ بیان نہیں کیے.

Hadith 4804
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ»، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ؟ فَقَالَ: «لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُونَهُ، فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ، وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ.
English

It has been narrated on the authority of 'Auf bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: The best of your rulers are those whom you love and who love you, who invoke God's blessings upon you and you invoke His blessings upon them. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you and whom you curse and who curse you. It was asked (by those present): Shouldn't we overthrow them with the help of the sword? He said: No, as long as they establish prayer among you. If you then find anything detestable in them. You should hate their administration, but do not withdraw yourselves from their obedience.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا, یزید بن یزید بن جابر نے رُزیق بن حیان سے ، انہوں نے مسلم بن قرظہ سے ، انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے بہترین امام ( خلیفہ ) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں ، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں ، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ " عرض کی گئی : اللہ کے رسول! کیا ہم ان کو تلوار کے زور سے پھینک ( ہٹا ) نہ دیں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے عمل کو ناپسند کرو اور اس کی اطاعت سے دستکش نہ ہو.

Hadith 4805
Sahih
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَخْبَرَنِي مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ، وَهُوَ رُزَيْقُ بْنُ حَيَّانَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ قَرَظَةَ - ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ - يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ»، قَالُوا: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، أَلَا مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ، فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللهِ، فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ»، قَالَ ابْنُ جَابِرٍ: فَقُلْتُ: - يَعْنِي لِرُزَيْقٍ - حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ: آللَّهِ، يَا أَبَا الْمِقْدَامِ، لَحَدَّثَكَ بِهَذَا، أَوْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ: إِي وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَسَمِعْتُهُ مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

It has been narrated on the authority of Auf bin Malik al-Ashja'i رضی اللہ عنہ who said:

He heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: The best of your rulers are those whom you love and who love you, upon whom you invoke God's blessings and who invoke His blessing upon you. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you, who curse you and whom you curse. (Those present) said: Shouldn't we overthrow them at this? He said: No, as long as they establish prayer among you. No, as long as they establish prayer among you. Mind you! One who has a governor appointed over him and he finds that the governor indulges in an act of disobedience to God, he should condemn the governor's act, in disobedience to God, but should not withdraw himself from his obedience. Ibn Jabir رضی اللہ عنہ said: Ruzaiq narrated to me this hadith. I asked him: Abu Miqdam, have you heard it from Muslim bin Qaraza or did he describe it to you and he heard it from 'Auf (bin Malik) رضی اللہ عنہ and he transmitted this tradition of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? Upon this Ruzaiq sat upon his knees and facing the Qibla said: By Allah, besides Whom there is no other God, I heard it from Muslim bin Qaraza and he said that te had heard it from Auf (bin Malik) and he said that he had heard it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).

Urdu

داود بن رُشید نے کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے بنو فزارہ کے آزاد کردہ غلام رزیق بن حیان نے خبر دی کہ انہوں نے عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد مسلم بن قرظہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" تمہارے بہترین امام ( حکمران ) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں ، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں ۔ اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ "" ( حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے ) کہا : صحابہ نے عرض کی : کیا ہم ایسے موقع پر ان کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ، نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ، سن رکھو! جس پر کسی شخص کو حاکم بنایا گیا ، پھر اس نے اس حاکم کو اللہ کی کسی معصیت میں مبتلا دیکھا تو وہ اللہ کی اس معصیت کو برا جانے اور اس کی اطاعت سے ہرگز ہاتھ نہ کھینچے ۔ "" ابن جابر نے کہا : میں نے رزیق سے ، جب انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ، پوچھا : ابو مقدام! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، واقعی انہوں نے یہ حدیث آپ کو بیان کی ، یا آپ نے مسلم بن قرظہ سے سنی جبکہ وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے عوف ( بن مالک ) رضی اللہ عنہ سے سنی اور وہ یہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ کہا : تو وہ ( رزیق ) دو زانو بیٹھ گئے اور قبلے کی طرف منہ کر لیا اور کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! میں نے یہ حدیث مسلم بن قرظہ سے سنی ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا.

Hadith 4806
Sahih
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ رُزَيْقٌ، مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ، قَالَ مُسْلِمٌ: وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
English

Ibn Jabir رضی اللہ عنہ narrated it with chain of narration (a Hadith similar to no. 4805).

Urdu

اسحٰق بن موسیٰ انصاری نے کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جابر نے اسی سند سے خبر دی اور کہا : بنو گزارہ کے آزاد کردہ غلام رزیق ۔ امام مسلم نے کہا : یہ حدیث معاویہ بن صالح نے بھی ربیعہ بن یزید سے روایت کی ، انہوں نے مسلم بن قرظہ سے ، انہوں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی.

Hadith 4807
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةً، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَهِيَ سَمُرَةٌ، وَقَالَ: «بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ.
English

It has been narrated on the authority of Jabir رضی اللہ عنہ who said:

We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya. We swore fealty to him (the Holy Prophet ﷺ) and 'Umar رضی اللہ عنہ was holding the latter's hand (when he was sitting) under the tree (called) Samura (to administer the oath to the Companions). The narrator added: We took oath to the effect that we would not flee (from the battlefield if there was an encounter with the Meccans), but we did not take oath to fight to death.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا

حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔ وہ ببول ( کیکر ) کا درخت تھا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے اس بات پر آپ سے بیعت کی کہ ہم فرار نہ ہوں گے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی.

Hadith 4808
Sahih
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ.
English

It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir رضی اللہ عنہ who said:

While swearing fealty to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) we did not take the oath to death but that we would not run away (from the battlefield).

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا اور ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا, سفیان نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر جانے پر بیعت نہیں کی ، ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں گے.

Hadith 4809
Sahih
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرًا، يَسْأَلُ، كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟ قَالَ: «كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، فَبَايَعْنَاهُ، وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَهِيَ سَمُرَةٌ، فَبَايَعْنَاهُ غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ.
English

It has been narrated on the authority of Abu Zubair:

Who heard Jabir رضی اللہ عنہ being questioned as to how many people were there on the Day of Hudaibiya. He replied: We were fourteen hundred. We swore fealty to him, and Umar رضی اللہ عنہ was holding his hand while he was sitting under the tree (to administer the oath). The tree was a samura (a wild tree found in deserts). All of as took the oath of fealty at his hands except Jadd bin Qais al-Ansari who hid himself under the belly of his camel.

Urdu

محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ

انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا : ہم چودہ سو تھے ، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا ، وہ ببول کا درخت تھا ، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے ، ( اس نے آپ سے بیعت نہیں کی ) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا.

Hadith 4810
Sahih
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَسْأَلُ، هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ؟ فَقَالَ: «لَا، وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا، وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ، إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ.
English

It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Abu Zubair:

Who heard Jabir رضی اللہ عنہ being questioned as to whether the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took the oath of fealty at Dhu'l-Hulaifa. He said: No! But he offered his prayers at that place, and he administered the oath of fealty nowhere except near the tree in (the plain oo Hudaibiya. Ibn Juraij said that he was informed by Abu Zabair who heard Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ say: The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) prayed over the well at Hudaibiya (as a result of which its scanty water rose up and increased so as to be sufficient for the 1400 or 1500 men who had encamped at the place).

Urdu

مجھے ابراہیم بن دینار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مجالد کے آزاد کردہ غلام حجاج بن محمد اعور نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ

انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے سوال کیا گیا تھا : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا : نہیں ، البتہ آپ نے وہاں نماز پڑھی تھی اور حدیبیہ کے درخت کے سوا آپ نے کسی اور درخت کے نیچے بیعت نہیں لی ۔ ابن جریج نے کہا : انہیں ابوزبیر نے یہ بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنویں پر دعا کی تھی.

Hadith 4811
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالَ سَعِيدٌ، وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ»، وقَالَ جَابِرٌ: «لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ.
English

It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir رضی اللہ عنہ who said:

We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya when the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to us: Today you are the best people on the earth. And Jabir said: If I had the eyesight, I could show you the place of the tree.

Urdu

ہم سے سعید بن عمرو اشعثی، سوید بن سعید، اسحاق بن ابراہیم اور احمد بن عبدہ نے بیان کیا اور یہ الفاظ سعید سے ہیں۔ ہم سے سعید اور اسحاق نے بیان کیا اور باقی دونوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا, عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : "" آج تم روئے زمین کے بہترین افراد ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں دیکھ سکتا تو میں تم کو اس درخت کی جگہ دکھاتا.

Hadith 4812
Sahih
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ: «لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ.
English

It has been narrated on the authority of Salim bin Abu al-Ja'd who said:

I asked Jabir bin 'Abdullah about the number of the Companions (of the Prophet who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا, عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، کہا

میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ ( بیعت رضوان کرنے والوں کی تعداد ) کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) ایک ہزار پانچ سو لوگ تھے.

Hadith 4813
Sahih
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ح وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ، كِلَاهُمَا يَقُولُ: عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.
English

It has been narrated on the authority of Jabir رضی اللہ عنہ who said:

If we had been a hundred thousand in number, it (the water) would have sufficed us, but actually we were fifteen hundred.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، اور ہم سے رفاعہ بن الہیثم نے بیان کیا، ہم سے خالد نے بیان کیا۔ اس کا مطلب ہے ملر، وہ دونوں کہتے ہیں, حصین نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) پندرہ سو تھے.

Hadith 4814
Sahih
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ.
English

It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Salim bin al-Ja'd who said:

I asked Jabir رضی اللہ عنہ : How many were you on the Day of Hudaibiya? He said: One thousand and four hundred.

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی، اور عثمان نے کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا, اعمش نے کہا : مجھے سالم بن ابی جعد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا

میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا : ایک ہزار چار سو ۔ ( یعنی بیعت کرنے والے)

Hadith 4815
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ.
English

It has been narrated on the authority of 'Abdullah bin Abu Aufa رضی اللہ عنہ who said:

The Companions of the Tree (i.e. those who swore fealty under the tree) were one thousand and three hundred, and the people of Aslam tribe were one-eighth of the Muhajirs.

Urdu

عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ

اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے ۔ ( انہوں نے یہ تعداد اندازے سے بتائی.)

Hadith 4816
Sahih
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

A similar report (as no. 4825) was narrated from Shubah with this chain of narration.

Urdu

ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا, ابوداود اور نضر بن شمیل نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی.

Hadith 4817
Sahih
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ، وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: «لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ».
English

It has been narrated on the authority of Ma'qil bin Yasar رضی اللہ عنہ who aaid:

I remember being present on the Day of the Tree, and the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے.

Hadith 4818
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، یونس رضی اللہ عنہ نے اسی سند سے ، اس سلسلہ کے ساتھ۔

Hadith 4819
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ»، قَالَ: «فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ، فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا، فَإِنْ كَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ».
English

It has been narrated on the authority of Sa'id bin Musayyab who said:

My father was one of those who swore fealty to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) near the tree. When we passed that way next year intending to perform the Hajj, the place of the tree was hidden to us. If you could point out clearly, you would (certainly) be knowing better.

Urdu

ہم سے حمید بن عمر نے بیان کیا, ابوعوانہ نے طارق سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا

میرے والد بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ، انہوں نے کہا : جب ہم اگلے سال حج کے لیے گئے تو ہمیں اس کی جگہ نہیں ملی ، اگر تم لوگوں کو وہ جگہ معلوم ہو گئی ہے تو تم لوگ زیادہ جاننے والے ہو ۔

Hadith 4820
Sahih
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ: وَقَرَأْتُهُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الشَّجَرَةِ»، قَالَ: «فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ».
English

It has also been narrated on the authority of Sa'id bin Musayyib who learnt from his father:

They were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in the year of the Tree (i.e. in the year of the fealty of God's pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree.

Urdu

مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: اور میں نے ابو احمد کی روایت سے نصر بن علی کو پڑھا, سفیان نے طارق بن عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ

بیعت رضوان کے سال وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، پھر اگلے سال وہ لوگ اس درخت کو بھول چکے تھے ۔