It has been narrated on the authority of 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Behold! the Dispensers of justice will be seated on the pulpits of light beside God, on the right side of the Merciful, Exalted and Glorious. Either side of the Being is the right side both being equally mrneritorious. (The Dispensers of justice are) those who do justice in their rules, in matters relating to their families and in all that they undertake to do.
ابوبکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور ابن نمیر تینوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرو بن اوس سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، ابن نمیر اور ابوبکر نے کہا : انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، زہیر کی حدیث میں ہے ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ) کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عدل کرنے والے اللہ کے ہاں رحمٰن عزوجل کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں ، اپنے اہل و عیال اور جن کے یہ ذمہ دار ہیں ان کے معاملے میں عدل کرتے ہیں.
It has been reported on the authority of Abdul-Rahman bin Shumasa who said:
I came to A'isha رضی اللہ عنہا to inquire something from her. She said: From which people art thou? I said: I am from the people of Egypt. She said: What was the behaviour of your governor towards you in this war of yours? I said: We did not experience anything bad from him. If the camel of a man from us died, he would bestow on him a camel. If any one of us lost his slave, he would give him a slave. If anybody was in need of the basic necessities of life, he would provide them with provisions. She said: Behold! the treatment that was meted out to my brother, Muhammad bin Abu Bakr رضی اللہ عنہ , does not prevent me from telling you what I heard from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He said in this house of mine: O God, who (happens to) acquire some kind of control over the affairs of my people and is hard upon them-be Thou hard upon him, and who (happens to) acquire some kind of control over the affairs of my people and is kind to them-be Thou kind to him.
ہارون بن سعید الایلی نے مجھ سے کہا, ابن وہب نے کہا : مجھے حرملہ نے عبدالرحمن بن شماسہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی مسئلے کے بارے میں پوچھنے کے لیے گیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے عرض کی : میں اہلِ مصر میں سے ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تمہارا حاکم حالیہ جنگ کے دوران میں تمہارے ساتھ کیسا رہا؟ میں نے کہا : ہمیں اس کی کوئی بات بری نہیں لگی ، اگر ہم میں سے کشی شخص کا اونٹ مر جاتا تو وہ اس کو اونٹ دے دیتا ، اور اگر غلام مر جاتا تو وہ اس کو غلام دے دیتا اور اگر کسی کو خرچ کی ضرورت ہوتی تو وہ اس کو خرچ دیتا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : " میرے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے معاملے میں اس نے جو کچھ کیا وہ مجھے اس سے نہیں روک سکتا کہ میں تمہیں وہ بات سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس گھر میں کہتے ہوئے سنی ، ( فرمایا : ) " اے اللہ! جو شخص بھی میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر سختی کرے ، تو اس پر سختی فرما ، اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور ان کے ساتھ نرمی کی ، تو اس کے ساتھ نرمی فرما.
This hadith has been narrated on the authority of Abdul-Rahman bin Shumasa from Aishah, from prophet ﷺ.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے حرملہ المصری نے، وہ عبدالرحمٰن بن شماسہ کی سند سے۔ عائشہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار پر، خدا آپ پر رحم کرے اور آپ کو اسی طرح کی مثال کے ساتھ.
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said: Beware. every one of you is a shepherd and every one is answerable with regard to his flock. The Caliph is a shepherd over the people and shall be questioned about his subjects (as to how he conducted their affairs). A man is a guardian over the members of his family and shal be questioned about them (as to how he looked after their physical and moral well-being). A woman is a guardian over the household of her husband and his children and shall be questioned about them (as to how she managed the household and brought up the children). A slave is a guardian over the property of his master and shall be questioned about it (as to how he safeguarded his trust). Beware, every one of you is a guardian and every one of you shall be questioned with regard to his trust.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، سب نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہوگا اس کی رعیت کا ( حاکم سے مراد منتظم اور نگراں کار اور محافظ ہے ) پھر جو کوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہوگا اس کی رعیت کا کہ اس نے اپنی رعیت کے حق ادا کیے ان کی جان و مال کی حفاظت کی یا نہیں اور آدمی حاکم ہے اپنے گھر والوں کا اس سے سوال ہوگا ان کا اور عورت حاکم ہے اپنے خاوند کے گھر کی اور بچوں کی اس سے ان کا سوال ہو گا اور غلام حاکم ہے اپنے مالک کے مال کا اس سے اس کا سوال ہوگا . غرض یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک شخص حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک سے سوال ہوگا اس کی رعیت کا .
A hadith like that of Al-Laith from Nafi (no. 4724) was narrated from Nafi from Ibn Umar.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابی نے بیان کیا، ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا ہم سے خالد نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا۔ الربیع اور ابو کامل نے کہا:ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سب سے ایوب نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی نے بیان کیا۔ ہم سے فدک، الضحاک، یعنی ابن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون بن سعید العیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے اسامہ نے بیان کیا، ان سب کے بارے میں۔ نافع، ابن عمر کی سند پر، جیسے لیث کی حدیث، نافع کی سند پر۔
A hadith like that of Al-Laith from Nafi (no. 4724) was narrated from Nafi from Ibn Umar رضی اللہ عنہ .
ابو اسحاق نے کہا: ہم سے حسن بن بشر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، عبیداللہ ( بن عمر بن حفص ) نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح لیث نے نافع سے بیان کی.
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Umar, but there is (a slight change of wording) in the hadith transmitted through Zuhri that he said:
I think that he (the narrator) said: The man is a custodian of the wealth of his father, and he would be answerable for what is in his custody.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے بیان کیا کہ یہ سب کے سب چچا تھے, اسماعیل بن جعفر نے حضرت عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اور یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نافع کی حدیث کے مانند ۔ ( یونس نے ) زہری کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : کہا
میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اپنے باپ کے مال کا راعی ( محافظ ) ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا.
A hadith having the same meaning has been transmitted on the authority of 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ .
مجھ سے احمد بن عبدالرحمٰن بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے میرے چچا عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا جس نے ان کا نام لیا اور مجھے عمرو بن حارث نے بیان کیا ، بسر بن سعید نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے.
It has been narrated on the authority of Hasan who said:
Ubaidullah bin Ziyad visited Ma'qil bin Yasir al-Muzani رضی اللہ عنہ in his last illness. Ma'qil رضی اللہ عنہ said (to him): I am narrating to you a tradition I heard from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). If I knew that I am to survive this illness. I would, not narrate it to you. I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: If God appointed anyone ruler over a people and he died while he was still treacherous to his people, God would forbid his entry into Paradise.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا, ابو اشہب نے حضرت حسن بصری سے روایت کی کہ
عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس اس مرض میں ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے جس میں ان کی وفات ہوئی ۔ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، اگر مجھے ( پکا ) علم ہوتا کہ میں ابھی اور زندہ رہوں گا تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کوئی شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے کسی بھی رعیت کا ذمہ دار بنایا وہ جس دن مرے اس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا.
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Hasan who said:
Ibn Ziyad paid a visit to Ma'qil bin Yasir رضی اللہ عنہ who was seriously ill. Here follows the same tradition as has gone before with the addition that Ibn Ziyad asked: Why didn't you narrate this tradition to me before this day? Ma'qil رضی اللہ عنہ reprimanded him and said: I did not narrate it to you or I was not going to narrate it to you.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت کی ، کہا
ابن زیاد حضرت معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت ( بیمار تھے اور ) درد میں مبتلا تھے ، جیسے ابو اشہب کی حدیث ہے اور انہوں نے اضافہ کیا : اس ( ابن زیاد ) نے کہا : آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں بیان کی؟ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں کبھی حدیث نہیں سنائی ، ( تم نے حدیث کا سماع ہی نہیں کیا ) یا فرمایا : میں تمہیں حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا ( حدیث میں تمہارا استاد نہ تھا).
It has been narrated on the authority of Abu Malih:
Ubaidullah bin Ziyad visited Ma'qil bin Yasar رضی اللہ عنہ in the latter's illness. Ma'qil رضی اللہ عنہ said to him: I am narrating to you a tradition. If I were not at death's door, I would not narrate it to you. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A ruler who, having obtained control over the affairs of the Muslims, does not strive for their betterment and does not serve them sincerely shall not enter Paradise with them
ہم سے ابو غسان المسمعی، اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا: ہمیں اس نے خبر دی، اور باقی دو نے کہا: ہم سے معاذ نے بیان کیا۔ مجھ سے میرے والد ابن ہشام نے قتادہ کی روایت سے کہا, ابو ملیح سے روایت ہے کہ
عبیداللہ بن زیاد ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا ، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : " کوئی امیر نہیں جو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو ، پھر ان کے لیے جدوجہد اور خیرخواہی نہ کرے ، مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا.
It has been narrated on the authority of Abu al-Aswad who said: My father related to me that Ma'qil bin Yasir رضی اللہ عنہ fell ill. 'Ubaidullah bin Ziyad called on him to inquire after his health. Here follows the tradition as narrated by Hasan from Ma'qil رضی اللہ عنہ .
ہم سے عقبہ بن مکرم العمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سوادہ بن ابواسود نے خبر دی کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ ( آگے ) حسن بصری کی حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے.
It has been narrated on the authority of Hasan that A'idh bin 'Amr رضی اللہ عنہ who was one of the Companions of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) called on 'Ubaidullah bin Ziyad and said (to him):
O my son, I have heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: The worst of guardians is the cruel ruler. Beware of being one of them. Ubaidullah said (to him out of arrogance): Sit you down. You are from the chaff of the Companions of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ). A'idh said: Was there worthless chaff among them? Such worthless chaff appeared after them and among other people.
ہم سے شیبان بن فرو خ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا, حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا
میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بدترین راعی ، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے ، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو ۔ " اس نے کہا : آپ بیٹھیے : آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چھلنی میں بچ جانے والے آخری حصے کی طرح ہیں ۔ ( آخر میں چونکہ تنکے ، پتھر ، بھوسی بچ جاتے ہیں ، اس لیے ) انہوں نے کہا : کیا ان میں بھوسی ، تنکے ، پتھر تھے؟ یہ تو ان کے بعد ہوئے اور ان کے علاوہ دوسروں میں ہوئے.
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ who said:
One day the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood among us (to deliver a sermon). He talked about the misappropriation of booty, and declared it to be a serious matter and a grave sin. Then he said: I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a growling camel mounted on his neck, and should appeal to me for help saying: Messenger of Allah, help me. and I should say: I have no authority to help you; I already communicated to you. I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a bleating ewe mounted on his neck, and he should say to me: Messenger of Allah, help me, and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that one of you should come on the Day of Judgment with a Person crying loudly mounted on his neck, and he should say to me: Messenger of Allah, help me, and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that any one of you should come on the Day of Judgment with fluttering clothes wrapped round his neck and he should say to me: Messenger of Allah, help me, and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldn't find that any of you should come on the Day of Judgment with a heap of gold and silver placed on his neck and he should say to me: Messenger of Allah, help me. and I should say: I have no authority to help you; I already conveyed to you (the warning from the Almighty).
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, اسماعیل بن ابراہیم نے ابوحیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ اور آپ نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا : آپ نے ایسی خیانت اور اس کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ، پھر فرمایا : " میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس طرح آتا ہوا نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو کر بلبلا رہا ہو اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے ، اور میں جواب میں کہوں : میں تمہارے لئے کچھ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں ( دنیا ہی میں ) حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہو کر ہنہنا رہا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں کہ میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری سوار ہو کر ممیا رہی ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں حق سے آگاہ کر دیا تھا ، میں تم میں سے کسی شخص کو روزِ قیامت اس حالت میں نہ دیکھوں کہ اس کی گردن پر کسی شخص کی جان سوار ہو اور وہ ( ظلم کی دہائی دیتے ہوئے ) چیخیں مار رہی ہو ، اور وہ شخص کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑا لدا ہوا پھڑپھڑا رہا ہو ، اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے بس میں کچھ نہیں ، میں نے تم کو سب کچھ سے آگاہ کر دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گرن پر نہ بولنے والا مال ( سونا چاندی ) لدا ہوا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں ، میں نے تم کو ( انجام ) کی خبر پہنچا دی تھی.
A hadith like that of Ismail from Abu Hayyan (no. 4734) was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبدالرحیم بن سلیمان نے ابوحیان سے ، جریر نے ان سے اور عمارہ بن قعقاع سے ، ان سب نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوحیان سے اسماعیل کی روایت کردہ حدیث کی طرح روایت بیان کی.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ has narrated this hadith with a slight variation of words.
مجھ سے احمد بن سعید بن صخر الدارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا, حماد بن زید نے ایوب سے ، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کی سنگینی بیان کی اور انہوں ( ایوب ) نے پوری حدیث بیان کی ۔ حماد نے کہا : پھر اس کے بعد میں نے یحییٰ بن سعید کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔ انہوں نے بعینہ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ہمیں ایوب نے ان سے بیان کی تھی.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ has narrated this hadith similar to the above mentioned hadith.
مجھ سے احمد بن الحسن بن خراش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معمر نے بیان کیا, ہمیں عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا : ہمیں ایوب نے یحییٰ بن سعید بن حیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ س سے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث روایت کی.
It has been narrated on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi رضی اللہ عنہ who said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) appointed a man from the Asad tribe who was called Ibn Lutbiyya in charge of Sadaqa (i.e. authorised hign to receive Sadaqa from the people on behalf of the State. When he returned (with the collictions), he said: This is for you and (this is mine as) it was presented to me as a gift. The narrator said: The Messenger of Allah (may peace be upod him) stood on the pulpit and praised God and extolled Him. Then he said: What about a State official whom I give an assignment and who (comes and) says: This is for you and this has been presented to me as a gift? Why didn't he remain in the house of his father or the house of his mother so that he could observe whether gifts were presented to him or not. By the Being in Whose Hand is the life of Muhammad, any one of you will not take anything from it but will bring it on the Day of Judgment, carrying on his neck a camel that will be growling, or a cow that will be bellowing or an ewe that will be bleating. Then he raised his hands so that we could see the whiteness of his armpits. Then he said twice: O God, I have conveyed (Thy Commandments).
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، ۔ ۔ الفاظ ابوبکر بن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو جسے ابن لُتبیہ کہا جاتا تھا ، عامل مقرر کیا ۔ ۔ عمرو اور ابن ابی عمر نے کہا : زکاۃ کی وصولی پر ( مقرر کیا ) ۔ ۔ جب وہ ( زکاۃ وصول کر کے ) آیا تو اس نے کہا : یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : "" ایک عامل کا حال کیا ہوتا ہے کہ میں اس کو ( زکاۃ وصول کرنے ) بھیجتا ہوں اور وہ آ کر کہتا ہے : یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ، ایسا کیوں نہ ہوا کہ یہ اپنے باپ یا اپنی ماں کےگھر میں بیٹھتا ، پھر نظر آتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ وہ اس ( مال ) میں سے ( اپنے لیے ) کچھ لے ، مگر وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس نے اسے اپنی گردن پر اٹھا رکھا ہو گا ، قیامت کے دن اونٹ ہو گا ، بلبلا رہا ہو گا ، گائے ہو گی ، ڈکرا رہی ہو گی ، بکری ہو گئی ، ممیا رہی ہو گی ۔ "" پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ ہمیں آپ کی دونوں بغلوں کے سفید حصے نظر آئے ، پھر آپ نے دو مرتبہ فرمایا : "" اے اللہ! کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا؟
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi رضی اللہ عنہ who said:
The Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) appointed Ibn Lutbiyya, a man from the Azd tribe, in charge of Sadaqa (authorizing him to receive gifts from the people on behalf of the State). He came with the collection, gave it to the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and said: This wealth is for you and this is a gift presented to me. The Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Why didn't you remain in the house of your father and your mother to see whether gifts were presented to you or not. Then he stood up to deliver a sermon. Here follows the tradition like the tradition of Sufyan.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا.
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Sa'idi رضی اللہ عنہ who said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) appointed a man from the Azd tribe called Ibn al-Utbiyya, in charge of Sadaqat to be received from Banu Sulaim. When he came (back), the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) asked him to render his account. He said: This wealth is for you (i.e. for the public treasury) and this is a gift (presented to me). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: You should have remained in the house of your father and your mother, until your gift came to you if you spoke the truth; then he addressed us. He praised God and extolled Him, and afterwards said: I appoint a man from you to a responsible post sharing with him authority that God has entrusted to me, and he comes to me saying: This wealth is for you (i.e. for the public treasury) and this is a gift presented to me. Why did he not remain in the house of his father and his mother and his gift came to him, if he was truthful? By God, any one of you will not take anything from (the public funds) without any justification, but will meet his Lord carrying it on himself on the Day of judgment. I will recognize any one of you meeting Allah and carrying a growling camel, or a cow bellowing or a goat bleating. Then he raised his hands so high that whiteness of his armpits could be seen. Then he said: O my Lord, I have conveyed (They Commandments). The narrator says: My eyes saw (the Prophet standing in that pose) and my ears heard (what he said).
ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے عامل بنایا ، اسے ابن اُتبیہ کہا جاتا تھا ۔ جب وہ مال وصول کر کے آیا تو ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس کے ساتھ حساب کیا ۔ وہ کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر کیوں نہ بیٹھ گئے تاکہ تمہارا ہدیہ تمہارے پاس آ جاتا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ، پھر فرمایا : " اما بعد! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت ( انتظام ) اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے ملا ہے ۔ وہ شخص اگر سچا ہے تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا تاکہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا ، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اس مال میں سے کوئی چیز اپنے حق کے بغیر لے گا ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ وہ چیز اس نے اپنی گردن پر اٹھا رکھی ہو گی ، میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ضرور پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ اس نے اونٹ اٹھایا ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا ، یا گائے اٹھا رکھی ہو گی جو ڈکرا رہی ہو گی ، یا بکری اٹھائی ہو گی جو ممیا رہی ہو گی ، " پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، ( اس وقت ) آپ فرما رہے تھے : " اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیگام ) پہنچا دیا؟ " ( ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ سب ) میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا.