It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ who said:
Allah has undertaken to provide for one who leaves his home (only) to fight for His cause and to affirm the truth of His word; Allah will either admit him to Paradise or will bring him back home from where he had come out, with his reward and booty.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ابوزناد سے خبر دی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی , فرمایا :
" جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اسے اپنےگھر سے اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کلمے کی تصدیق کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں نکالا تو اللہ اس کے لیے اس بات کا کفیل بنا ہے کہ ( شہید ہو گیا تو ) اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر اس غنیمت اور اجر سمیت جو اسے ملا ، اس کے اسی ٹھکانے میں اس کو واپس لے جائے گا جہاں سے وہ ( جہاد کے لیے ) نکلا تھا ۔ "
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: One who is wounded in the way of Allah-and Allah knows better who is wounded in His way-will appear on the Day of Judgment with his wound bleeding. The colour (of its discharge) will be the colour of blood, (but) its smell will be the smell of musk.
عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شخص اللہ کی راہ میں زخمی نہیں کیا گیا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کسے زخمی کیا گیا مگر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم سے خون امڈ رہا ہو گا ، رنگ خوب کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی ۔ "
It has been narrated on the authority of Abu Haraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Every wound received by a Muslim in the way of Allah will appear on the Day of Judgment in the same condition as it was when it was inflicted, and would be bleeding profusely. The color (of its discharge) will be the color of blood, but its smell will be the smell of musk. By the Being in Whose Hand is Muhammad's life, if it were not hard upon the Muslims, I would not lag behind any expedition undertaken for Jihad, but I do not possess abundant means to provide the Mujahids with riding animals, nor do they (i.e. all of them) have abundant means (to provide themselves with all the means of Jihad) to follow me, nor would it please their hearts to stay behind me.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے ، قیامت کے دن پھر اسی طرح اپنی اسی حالت میں ہو گا جس طرح زخم لگتے وقت تھا ، اس سے خون ٹپک رہا ہو گا ، اس کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری جیسی ہو گی ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر یہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں ڈالوں گا تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ بیٹھا رہتا ، لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان ( مسلمانوں ) کو سواریاں مہیا کروں ، نہ ان کے پاس اتنی وسعت ہے کہ وہ سواریاں مہیا کر کے میرے پیچھے آئیں ، ان کے دل اس پر ( بھی ) راضی نہیں ہوتے کہ وہ میرے پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں ۔ "
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ who said:
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: I would not stay behind (when) an expedition (for Jihad was being mobilised) if it were going to be too hard upon the believers.... This is followed by the same words as have appeared in the previous tradition, but this tradition has the same ending as the previous hadith with a slight difference in the wording: By the Being in Whose Hand is my life, I love that I should be killed in the way of Allah; then I should be brought back to life and be killed again in His way....
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں مبتلا کروں گا تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا ۔ " ان کی حدیث کے مانند ۔ اور اسی سند کے ساتھ ( اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی روایت کردہ حدیث کے مطابق ۔
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If it were not hard upon my Umma (to follow my example), I would not lag behind any expedition-as in the traditions gone before.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، ہم سے ثقفی نے بیان کیا، ان سے ابو بکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ح. ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ ( خدشہ ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشکل میں ڈالوں گا تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہوں ۔ " ان سب کی حدیث کی مانند ۔
It was narrated that Abu Huraira رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Allah takes care of one who goes out in the way of Allah but ends in the words: I would not lag behind any expedition which is undertaken to fight in the way of Allah, the Exalted.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا, سہیل منے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا ، اللہ اس کے لیے اس بات کی ضمانت دیتا ہے " سے لے کر " میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا " تک ۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم) said: Nobody who dies and has something good for him with Allah will (ever like to) return to this world even though he were offered the whole world and all that is in its (as an inducement), except the martyr who desires to return and be killed in the world for the (great) merit of martyrdom that he has seen.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابو خالد احمر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ اور حُمید سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی ذی روح جو فوت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے بھلائی موجود ہو ، یہ بات پسند نہیں کرتا کہ وہ دنیا میں واپس جائے یا دنیا اور جو کچھ بھی دنیا میں ہے ، اس کو مل جائے ، سوائے شہید کے ، صرف وہ شہادت کی جو فضیلت دیکھتا ہے اس کی وجہ سے اس بات کی تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اللہ کی راہ میں ( دوبارہ ) شہید کیا جائے ۔ "
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ (through a different chain of transmitters):
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Nobody who enters Paradise will (ever like to) return to this world even if he were offered everything on the surface of the earth (as an inducement) except the martyr who will desire to return to this world and be killed ten times for the sake of the great honor that has been bestowed upon him.
ہم سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا
آپ نے فرمایا : " جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ دنیا میں واپس جائے ، یا زمین پر موجود کوئی چیز اس کی ہو جائے ، سوائے شہید کے ، وہ ( اپنی ) جو عزت افزائی دیکھتا ہے اس کی بنا پر یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دس بار واپس جائے اور قتل کیا جائے ۔ "
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ who said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked: What deed could be an equivalent of Jihad in the way of Allah, the Almighty and Exalted? He answered: You do not have the strength to do that deed. The narrator said: They repeated the question twice or thrice. Every time he answered: You do not have the strength to do it. When the question was asked for the third time, he said: One who goes out for Jihad is like a person who keeps fasts, stands in prayer (constantly), (obeying) Allah's (behests contained in) the verses (of the Qur'an), and does not exhibit any lassitude in fasting and prayer until the Mujahid returns from Jihad in the way of Allah, the Exalted.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا, خالد بن عبداللہ واسطی نے سہیل بن ابی صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : صحابہ نے دو یا تین بار سوال دہرایا ، آپ نے ہر بار فرمایا : " تم اس کی اسطاعت نہیں رکھتے ۔ " تیسری بار فرمایا : " اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہو ، اللہ کے سامنے اس کی آیات کے ساتھ زاری کر رہا ہو ، وہ اس وقت تک نہ روزے میں وقفہ آنے دے ، نہ نماز میں یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے ۔ "
A similar report (as no. 4869) was narrated from Suhail with this chain of narration.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا:ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ابو عوانہ ، جریر اور ابو معاویہ سب نے اسی سند کے ساتھ سہیل سے اسی کے مانند روایت کی ۔
It has been narrated on the authority of Nu'man bin Bashir رضی اللہ عنہ who said:
As I was (sitting) near the pulpit of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), a man said: I do not care if, after embracing Islam, I do not do any good deed (except) distributing drinking water among the pilgrims. Another said: I do not care if, after embracing Islam, I do not do any good deed beyond maintenance service to the Sacred Mosque. Another said: Jihad in the way of Allah is better than what you have said. 'Umar رضی اللہ عنہ reprimanded them and said: Don't raise your voices near the pulpit of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on Friday. When prayer was over, I entered (the apartment of the Holy Prophet) and asked his verdict about the matter in which they had differed. (It was upon this that) Allah, the Almighty and Exalted, revealed the Qur'anic verse: Do you make the giving of drinking water to the pilgrims and the maintenance of the Sacred Mosque equal to (the service of those) who believe in Allah and the Last Day and strive hard in the cause of Allah. They are not equal in the sight of God. And Allah guides not the wrongdoing people.
حسن بن علی الحلوانی نے مجھ سے کہا, ابوتوبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے زید بن سلام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوسلام سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف حاجیوں کو پانی پلاؤں اور اس کے سوا کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ دوسرے نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف مسجد حرام کو آباد کروں اور اس کے سوا اور کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ تیسرے نے کہا : جو تم سب نے کہا اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا افضل ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس آواز اونچی نہ کرو ۔ ( پھر بتایا کہ ) وہ جمعے کا دن تھا ۔ لیکن ( جمعے سے پہلے گفتگو کرنے کے بجائے ) جب میں نے جمعہ پڑھ لیا تو حاضر خدمت ہوں گا اور جس کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا ، تو ( اس موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ( ہوئی ) بھی ( جو آپ نے سنائی ) : " کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص کے ( عمل ) جیسا سمجھتے ہو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا ( اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا؟ ) " آیت کے آخر تک ۔
Nu'man bin Bashir رضی اللہ عنہ said:
"I was in the Minbar of the Messenger of Allah ﷺ..." a Hadith like that of Abu Tawbah.
عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے مجھ سے کہا, یحییٰ بن حسان نے کہا : ہمیں معاویہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زید نے خبر دی کہ انہوں نے ابوسلام سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا ، جس طرح ابوتوبہ کی حدیث ہے ۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Leaving (for Jihad) in the way of Allah in the morning or in the evening (will merit a reward) better than the world and all that is in it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے، ثابت کی سند سے, حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح کو یا شام کو ایک بار اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔ "
It has been narrated on the authority of Sahl bin Sa'd as-Sa'idi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The journey undertaken by a person in the morning (for Jihad) in the way of Allah (will merit a reward) better than the world and all that is in it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں بندہ صبح کے وقت جو ایک سفر کرتا ہے ( جس وقت سفر کرنا آسان بھی ہوتا ہے ) تو وہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے ۔ "
It has been narrated on the authority of Sahl bin Sa'd as-Sa'idi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: A journey undertaken in the morning or evening (fond Jihad) in the way of Allah (will merit a reward) better than the world and all that is in it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا, سفیان نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کے وقت کا ایک سفر یا شام کے وقت کا ایک سفر ، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔ "
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If some persons of my Umma (were not to undertake the hardships of Jihad), and he (Abu Huraira) then narrated the rest of the hadith and then said: A journey undertaken for jihad in the evening or morning merits a reward better than the world and all that is in it.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن سعید کی سند سے اور ابوصالح کی روایت سے, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میری حالت میں ایسے لوگ نہ ہوتے ۔ " ( جو جہاد پر جانے کے لیے انتہائی ضروری سامان مہیا نہیں کر سکتے اور نہ میں ان کے لیے مہیا کر سکتا ہوں ) پھر آپ نے گفتگو فرمائی ، اس میں آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کا ایک سفر کرنا یا شام کا ایک سفر کرنا دنیا و ما فہیا سے بہتر ہے ۔ "
It has been narrated on the authority of Abu Ayyub رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: A journey undertaken in the morning or evening (for Jihad) in the way of Allah is better than (anything) on which the sun rises or sets.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، اور یہ قول ابوبکر اور اسحاق نے کہا: اس نے ہمیں بتایا، اور باقی دو نے بتایا, عبداللہ بن یزید مقری نے سعید بن ابی ایوب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک معافری نے ابوعبدالرحمٰن حُبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں ایک بار صبح کو یا شام کو نکلنا ( یا پہرہ دینا ) ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے ۔ "
Abu Ayyub رضی اللہ عنہ said: "The Messenger of Allah ﷺ said..." A similar report (as no. 4877).
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن قحز اد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن الحسن نے بیان کیا, عبداللہ بن مبارک نے روایت کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابی ایوب اور حیوہ بن شریح نے بتایا ، دونوں میں سے ہر ایک نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بالکل پچھلی روایت کے مانند ۔
It has been narrated on the authority of Abu Sa`id al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said (to him): Abu Sa`id, whoever cheerfully accepts Allah as his Lord, Islam as his religion and Muhammad as his Apostle is necessarily entitled to enter Paradise. He (Abu Sa`id رضی اللہ عنہ ) wondered at it and said: Messenger of Allah, repeat it for me. He (the Messenger of Allah ﷺ) did that and said: There is another act which elevates the position of a man in Paradise to a grade one hundred (higher), and the elevation between one grade and the other is equal to the height of the heaven from the earth. He (Abu Sa`id رضی اللہ عنہ ) said: What is that act? He replied: Jihad in the way of Allah! Jihad in the way of Allah!
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو ہانی الخولانی نے بیان کیا، وہ ابوعبدالرحمٰن ہبلی کی سند سے، انہوں نے ابوذر کی سند سے۔ سعید الخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوسعید! جو شخص اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ( دل کی گہرائیوں ) سے راضی ہو گیا ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ " حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کو یہ بات اچھی لگی تو کہنے لگے : اللہ کے رسول! یہی بات میرے سامنے دوبارہ ارشاد فرمائیں ، آپ نے ایسا ہی کیا ، اس کے بعد فرمایا : " ایک بات اور بھی ہے جس کی وجہ سے بندے کو سو درجے رفعت بخشی جاتی ہے اور ہر دو درجوں میں زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے ۔ " کہا : ( میں نے عرض کی ) اللہ کے رسول! وہ ( بات ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔ "
It has been narrated on the authority of Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up among them (his Companions) to deliver his sermon in which he told them that Jihad in the way of Allah and belief in Allah (with all His Attributes) are the most meritorious of acts. A man stood up and said: Messenger of Allah, do you think that if I am killed in the way of Allah, my sins will be blotted out from me? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Yes, in case you are killed in the way of Allah and you were patient and sincere and you always fought facing the enemy, never turming your back upon him. Then he added: What have you said (now)? (Wishing to have further assurance from him for his satisfaction), he asked (again): Do you think if I am killed in the way of Allah, all my sins will be obliterated from me? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Yes, it you were patient and sincere and always fought facing the enemy and never turning your back upon him, (all your lapses would be forgiven) except debt. Gabriel has told me this.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے سعید بن ابی سعید ( مقبری ) سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام میں ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے اور انہیں بتایا : " اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا ( باقی ) تمام اعمال سے افضل ہے ۔ " ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اللہ کی راہ میں اس حالت میں شہید کر دیے جاؤ کہ تم صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر نہ بھاگ رہے ہو ۔ " اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے کس طرح کہا تھا؟ " اس نے عرض کی ( میں نے اس طرح کہا تھا ) : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں تو کیا میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے ۔ " آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اس حالت میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جاؤ کہ صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہیں ، ( تو سارے گناہ مٹا دیے جائیں گے ) سوائے قرض کے ۔ جبریل علیہ السلام نے ( ابھی آ کر ) مجھ سے یہ کہا ہے ۔ "