Shubah narrated it with this chain o narration (a hadith similar to no. 4779), but he did not say:
He took the Messenger of Allah ﷺ aside."
مجھ سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس سند کے ساتھ بیان کیا، اور انہوں نے یہ نہیں کہا: معاذ نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور یہ نہیں کہا
اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں بات کی.
It has been narrated on the authority of Alqama bin Wai'l al-Hadrami who learnt the tradition from his father. The latter said:
Salama bin Yazid al-ju'afi رضی اللہ عنہ asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Prophet of Allah, what do you think if we have rulers who rule over us and demand that we discharge our obligations towards them, but they (themselves) do not discharge their own responsibilities towards us? What do you order us to do? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) avoided giving any answer. Salama asked him again. He (again) avoided giving any answer. Then he asked again-it was the second time or the third time-when Ash'ath bin Qais رضی اللہ عنہ (finding that the Prophet was unnecessarily being pressed for answer) pulled him aside and said: Listen to them and obey them, for on them shall he their burden and on you shall be your burden.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا:محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علقمہ بن وائل حضرمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا : اللہ کے نبی! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، اس نے دوبارہ سوال کیا ، آپ نے پھر اعراض فرمایا ، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کھینچ لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے ، اس کا بوجھ تم پر ہے.
It has been narrated through a different chain of transmitters, on the authority of Simak who said:
Ash'ath bin Qais رضی اللہ عنہ pulled him (Salama bin Yazid) when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Listen to them and obey them, for on them shall be the burden of what they do and on you shall be the burden of what you do.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, شبابہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اس ( پوچھنے والے ) کو کھینچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سنو اور اطاعت کرو ، جو ذمہ داری ان پر ڈالی گئی اس کا بوجھ ان پر ہے اور جو تم پر ڈالی گئی اس کا بوجھ تم پر ہے.
It has been narrated on the authority of Hudhaifa bin al-Yaman رضی اللہ عنہ who said:
People used to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about the good times, but I used to ask him about bad times fearing lest they overtake me. I said: Messenger of Allah, we were in the midst of ignorance and evil, and then God brought us this good (time through Islam). Is there any bad time after this good one? He said: Yes. I asked: Will there be a good time again after that bad time? He said: Yes, but therein will be a hidden evil. I asked: What will be the evil hidden therein? He said: (That time will witness the rise of) the people who will adopt ways other than mine and seek guidance other than mine. You will know good points as well as bad points. I asked: Will there be a bad time after this good one? He said: Yes. (A time will come) when there will be people standing and inviting at the gates of Hell. Whoso responds to their call they will throw them into the fire. I said: Messenger of Allah, describe them for us. He said: All right. They will be a people having the same complexion as ours and speaking our language. I said: Messenger of Allah, what do you suggest if I happen to live in that time? He said: You should stick to the main body of the Muslims and their leader. I said: If they have no (such thing as the) main body and have no leader? He said: Separate yourself from all these factions, though you may have to eat the roots of trees (in a jungle) until death comes to you and you are in this state.
مجھ سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے بیان کیا، مجھ سے بسر بن عبید اللہ نے بیان کیا۔ الحدرمی، کہ انہوں نے ابو ادریس الخولانی کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے سنا, حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
لوگ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلی باتوں کو پوچھا کرتے اور میں بری بات کو پوچھتا اس ڈر سے کہ کہیں برائی میں نہ پڑجاؤں۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے پھر اﷲ نے ہم کو یہ بھلائی دی ( یعنی اسلام ) اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں لیکن اس میں دھبہ ہے۔ میں نے کہا وہ دھبہ کیسا؟ آپ نے فرمایا ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت پر نہیں چلیں گے او رمیرے طریقہ کے سوا اور راہ پر چلیں گے، ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور بری بھی۔ میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد برائی ہوگی؟ آپ نے فرمایا ہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو جہنم کے دروازے کی طرف لوگوں کو بلاویں گے، جو ان کے بات مانے گا اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔ میں نے کہا یا رسول اﷲؐ! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے؟ آپ نے فرمایا ان کا رنگ ہمارا ساہی ہوگا اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲؐ! اگر اس زمانہ کو میں پاؤں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہ اور ان کے امام کے ساتھ رہ۔ کہا اگر جماعت اور امام نہ ہوں؟ آپ نے فرمایا تو سب فرقوں کو چھوڑ دے اور اگرچہ ایک درخت کی جڑ دانت سے چباتا رہے مرتے دم تک۔
It his been narrated through a different chain of transmitters, on the authority of Hudhaifa bin al-Yaman رضی اللہ عنہ who said:
Messenger of Allah, no doubt, we had an evil time (i.e. the days of Jahiliyya or ignorance) and God brought us a good time (i. e. Islamic period) through which we are now living Will there be a bad time after this good time? He (the Holy Prophet) said: Yes. I said: Will there be a good time after this bad time? He said: Yes. I said: Will there be a bad time after good time? He said: Yes. I said: How? Whereupon he said: There will be leaders who will not be led by my guidance and who will not adopt my ways? There will be among them men who will have the hearts of devils in the bodies of human beings. I said: What should I do. Messenger of Allah, if I (happen) to live in that time? He replied: You will listen to the Amir and carry out his orders; even if your back is flogged and your wealth is snatched, you should listen and obey.
مجھ سے محمد بن سہل بن عسکر التمیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حسن نے بیان کیا اور ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا۔ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا - وہ ابن حسن ہیں - ہم سے معاویہ نے بیان کیا - یعنی ابن سلام نے - ہم سے زید بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے ابو سلام کی سند سے کہا, حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے عرض کیا
یارسول اﷲؐ! ہم برائی میں تھے پھر اﷲ تعالیٰ نے بھلائی دی اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپ نے فرمایا۔ میں نے کہا پھر اس کے بعد بھلائی ہے آپ نے فرمایا ہاں میں نے کہا پھر اس کے بعد برائی؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کیسے؟ آپ نے فرمایا میرے بعد وہ لوگ حاکم ہوں گے جو میری راہ پر نہ چلیں گے، میری سنت پر عمل نہیں کریں گے او ران میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے سے او ربدن آدمیوں کے سے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! اس وقت میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اگر تو ایسے زمانہ میں ہو تو سن اور مان حاکم کی بات کو اگرچہ وہ تیرے پیٹھ پھوڑے اور تیرا مال لے لے پر اس اس کی بات سنے جا اور اس کا حکم مانتا رہ۔
It has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: One who defected from obedience (to the Amir) and separated from the main body of the Muslims - if he died in that state-would die the death of one belonging to the days of Jahiliyya (i.e. would not die as a Muslim). One who fights under the banner of a people who are blind (to the cause for which they are fighting, i.e. do not know whether their cause is just or otherwise), who gets flared up with family pride, calls (people) to fight for their family honour, and supports his kith and kin (i.e. fights not for the cause of Allah but for the sake of this family or tribe) - if he is killed (in this fight), he dies as one belonging to the days of Jahiliyya. Whoso attacks my Ummah (indiscriminately) killing the righteous and the wicked of them, sparing not (even) those staunch in faith and fulfilling not his promise made with those who have been given a pledge of security - he has nothing to do with me and I have nothing to do with him.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، یعنی ابن حازم نے، کہا کہ ہم سے غیلان بن جریر نے بیان کیا، وہ ابو قیس بن ریاح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲؐ نے فرمایا جو شخص حاکم کی اطاعت سے باہر ہوجاوے اور جماعت کا ساتھ چھوڑ دے پھر وہ مرے تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی اور جو شخص اندھے جھنڈے کے تلے لڑے ( جس لڑائی کی درستی شریعت سے صاف صاف ثابت نہ ہو ) غصہ ہو قوم کے لحاظ سے یا بلاتا ہو قوم کی طرف یا مدد کرتا ہو قوم کی او رخدا کی رضامندی مقصود نہ ہو پھر مارا جاوے تو اس کا مارا جانا جاہلیت کے زمانے کا سا ہوگا اور جو شخص ( میری امت پر ) دست درازی کرے اور اچھے اور بروں کو ان میں کے قتل کرے اور مومن کو بھی نہ چھورے اور جس سے عہد ہوا ہو اس کا عہد پورا نہ کرے تو وہ مجھ سے علاقہ نہیں رکھتا او رمیں اس سے تعلق نہیں رکھتا ( یعنی وہ مسلمان نہیں ہے ) ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah ﷺ said...." a Hadith like that of Jarir رضی اللہ عنہ (no. 4786). And he said: "...and does not spare the believers.
مجھ سے عبید اللہ بن عمر القواری نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، زیاد بن ریاح القیسی کی سند سے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ملتی جلتی بات کہی، اور فرمایا: وہ مومن عورت سے پرہیز نہ کرے۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Abu Huraira رضی اﷲ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever defects from obedience (to the Amir) and separates from the main body of the Muslim-and dies in that state - dies the death of one belonging to the days of jahiliyya. And he who is killed under the banner of a man who is blind (to the cause for which he is fighting), who gets flared up with family pride and fights for his tribe is not from my Ummah, and whosoever from my followers attacks my followers (indiscriminately) killing the righteous and the wicked of them, sparing not (even) those staunch in faith and fulfilling not his obligation towards them who have been given a pledge (of security), is not from me (i.e. is not my follower).
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ہم سے مہدی بن میمون نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے زیاد بن ریاح سے, ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اطاعت سے نکل جاوے اور جماعت چھوڑ دے پھ رمرے تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی اور جو شخص ایذا دھندہ جھندے کے تلے مارا جاوے جو غصہ ہوتا ہو قوم کے پاس سے اور لڑتا ہو قوم کے خیال سے وہ میرے امت میں سے نہیں ہیں اور جو میری امت پر نکلے مارتا ہوا ان کے نیکوں اور بدوں کو مومن کو بھی نہ چھوڑے جس سے عہد ہو وہ بھی پورا نہ کرے تو وہ میری امت میں نہیں ہے۔
It was narrated from Ghailan bin Jarir with this chain of narration (a hadith similar to no. 4788). As for Ibn Al-Muthanna (a sub-narrator), he did not mention the prophet ﷺ in his Hadith. As for Ibn Bash-shar (a sub narrator), he said in his report: "The Messenger of Allah ﷺ said..." like their Hadith.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے، غیلان بن جریر کی سند سے اس سند کے ساتھ بیان کیا۔ جہاں تک ابن المثنی کا تعلق ہے تو انہوں نے حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا، جہاں تک ابن بشار کا تعلق ہے، انہوں نے اپنی روایت میں کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان پر رحمت نازل فرمائیں۔ امن نے کچھ ایسا ہی کہا ان کی گفتگو...
It has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas رضی اﷲ عنہ :
The messenger of Allah (ﷺ) said: One who found in his Amir something which he disliked should hold his patience, for one who separated from the main body of the Muslims even to the extent of a handspan and then he died would die the death of one belonging to the days of Jahiliyya.
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے الجعد ابو عثمان نے، وہ میرے والد سے, ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے اس لیے کہ جو جماعت سے بالشت بھر جدا ہوجاوے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (may peace be upoh him) said: One who dislikes a thing done by his Amir should be patient over it, for anyone from the people who withdraws (his obedience) from the government, even to the extent of a handspan and died in that conditions, would die the death of one belonging to the days of jahilliyya.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا، ہم سے عبد الوارث نے بیان کیا، ہم سے الجعد نے بیان کیا، ہم سے ابوراجہ نے بیان کیا، ہم سے الطاردی نے بیان کیا, ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو کوئی بادشاہ سے بالشت بھر جدا ہو پھر مرے اسی حال میں اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہوگی۔
It has been narrated on the authority of Ibn 'Abdullah al-Bajali رضی اﷲ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: One who is killed under the banner of a man who is blind (to his just cause), who raises the slogan of family or supports his own tribe, dies the death of one belonging to the days of Jahiliyya.
ہم سے حریم بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کی روایت سے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا, جندب بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اندھے جھندے کے تلے مارا جاوے اور وہ بلاتا ہو تعصب اور قومی طرفداری کی طرف یا مدد کرتا ہو قومی تعصب کی تو اس کا قتل جاہلیت کا سا ہوگا۔
It has been reported on the authority of Nafi رضی اللہ عنہ :
'Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ paid a visit to Abdullah bin Muti' رضی اللہ عنہ in the days (when atrocities were perpetrated on the People Of Medina) at Harra in the time of Yazid bin Mu'awiya. Ibn Muti' said: Place a pillow for Abu 'Abdul-Rahman رضی اللہ عنہ (family name of 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ ). But the latter said: I have not come to sit with you. I have come to you to tell you a tradition I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard him say: One who withdraws his band from obedience (to the Amir) will find no argument (in his defence) when he stands before Allah on the Day of Judgment, and one who dies without having bound himself by an oath of allegiance (to an Amir) will die the death of one belonging to the days of Jahillyya.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم نے جو محمد بن زید کے بیٹے ہیں، ہم سے زید بن محمد نے بیان کیا , نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
عبدﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ عبدﷲ بن مطیع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو حرہ کا واقعہ ہوا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں اس نے مدینہ منورہ پر لشکر بھیجا اور مدینہ والے حرہ میں جو ایک مقام ہے مدینہ سے ملا ہوا قتل ہوئے اس طرح طرح کے ظلم مدینہ والوں پر ہوئے۔ عبداﷲ بن مطیع نے کہا ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ( یہ کنیت ہے عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ) کے لیے تو شک بچھاؤ۔ انہوں نے کہا میں اس لیے نہیں آیا کہ بیٹھوں بلکہ ایک حدیث تجھ کو سنانے کے لیے آیا ہوں جو میں نے رسول اﷲ سے سنی ہے، آپ فرماتے تھے جو شخص اپنا ہاتھ نکال لے اطاعت سے وہ قیامت کے دن خدا سے ملے گا اور کوئی دلیل اس کے پاس نہ ہوگی اور جو شخص مرجاوے اور کسی سے اس نے بیعت نہ کی ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی۔
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that he visited Ibn Muti', and related from the Prophet (ﷺ) the tradition that has gone before.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن ابی جعفر نے، وہ بکیر بن کی سند سے۔ عبداللہ بن اشجع، نافع کی سند سے، ابن عمر کی روایت سے کہ وہ ابن مطیع کے پاس آئے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کا ذکر کیا۔
A hadith like that of Nafi from Ibn Umar was narrated from Ibn Umar (as no. 4793), from the prophet ﷺ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عمرو بن جبلہ نے بیان کیا، ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سب نے کہا، ہم سے بیان کیا ہشام بن سعد، زید بن اسلم کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، ابن عمر کی سند سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، نافع حدیث کے معنی کے ساتھ۔ ابن عمر کی طرف سے.
It has been narrated on the authority of 'Arfaja رضی اللہ عنہ who said:
I have heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: Different evils will make their appearance in the near future. Anyone who tries to disrupt the affairs of this Umma while they are united you should strike him with the sword whoever he be. (If remonstrance does not prevail with him and he does not desist from his disruptive activities, he is to be killed.)
مجھ سے ابوبکر بن نافع اور محمد بن بشار نے بیان کیا، ابن نافع نے کہا: ہم سے غندر نے بیان کیا، اور ابن بشار نے کہا: ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا, جعفر، شعبہ نے زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عَرفجہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جلد ہی فتنوں پر فتنے برپا ہوں گے ، تو جو شخص اس امت کے معاملے ( نظام سلطنت ) کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہے جبکہ وہ متحد ہو تو اسے تلوار کا نشانہ بنا دو ، وہ جو کوئی بھی ہو ، سو ہو.
In another version of the tradition narrated on the same authority through a different chains of transmitters we have the words:
Kill him.
ہم سے احمد بن خراش نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان نے بیان کیا، ابو عوانہ ، شیبان ، اسرائیل ، عبداللہ بن مختار اور ایک آدمی جس کا حماد نے نام لیا تھا ، ان سب نے زیاد بن علاقہ سے ، انہوں نے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر ان سب کی حدیث میں
" اسے قتل کر دو " کے الفاظ ہیں.
It has been narrated (through a still different chain of transmitters) on the Same authority (i.e. 'Arfaja رضی اللہ عنہ ) who said similarly-but adding:
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: When you are holding to one single man as your leader, you should kill who seeks to undermine your solidarity or disrupt your unity.
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، یونس بن ابو یعفور نے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تمہارا نظام ( حکومت ) ایک شخص کے ذمے ہو ، پھر کوئی تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت کو منتشر کرنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو اسے قتل کر دو.
It has been narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When oath of allegiance has been taken for two caliphs, kill the one for whom the oath was taken later.
مجھ سے وہب بن بقیہ الوسطی نے بیان کیا، ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، الجریری کی سند سے، ابو نادرہ کی سند سے, حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب دو خلیفوں کے لیے بیعت لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو.
It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah ﷺ said: In the near future there will be Amirs and you will like their good deeds and dislike their bad deeds. One who sees through their bad deeds (and tries to prevent their repetition by his band or through his speech), is absolved from blame, but one who hates their bad deeds (in the heart of his heart, being unable to prevent their recurrence by his hand or his tongue), is (also) fafe ( so far as God's wrath is concerned). But one who approves of their bad deeds and imitates them is spiritually ruined. People asked (the Holy Prophet ﷺ): Shouldn't we fight against them? He replied: No, as long as they say their prayers.
ہمیں حداب بن خالد الازدی نے بیان کیا ہمام بن یحییٰ نے کہا : ہمیں قتادہ نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جلد ہی ایسے حکمران ہوں گے کہ تم انہیں ( کچھ کاموں میں ) صحیح اور ( کچھ میں ) غلط پاؤ گے ۔ جس نے ( ان کی رہنمائی میں ) نیک کام کیے وہ بَری ٹھہرا اور جس نے ( ان کے غلط کاموں سے ) انکار کر دیا وہ بچ گیا لیکن جو ہر کام پر راضی ہوا اور ( ان کی ) پیروی کی ( وہ بَری ہوا نہ بچ سکا ۔ ) " صحابہ نے عرض کی : کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ( جنگ نہ کرو.)