Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
It never happened that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked for anything and he said: No.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے کہا , ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا : ایسا کبھی نہیں ہوا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرما یا ہو ۔ نہیں ،
This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا،اشجعی اور عبد الرحمٰن بن مہدی دونوں نے سفیان سے انھوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : سمیں نے حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، بالکل اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
Musa bin Anas reported on the authority of his father:
It never happened that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked anything for the sake of Islam and he did not give that. There came to him a person and he gave him a large flock (of sheep and goats) and he went back to his people and said: My people, embrace Islam, for Muhammad gives so much charity as if he has no fear of want.
ہم سے عاصم بن النضر التیمی نے بیان کیا، ہم سے خالد نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن حارث نے بیان کیا، ہم سے حمید نے بیان کیا، موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام ( لا نے ) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ، کہا : ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں اسے دے دیں ، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے ۔
Anas 'bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
A person requested Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to give him a very large flock and he gave that to him. He came to his tribe and said: O people, embrace Islam. By Allah, Muhammad donates so much as if he did not fear want. Anas said that the person embraced Islam for the sake of the world but later he became Muslim until Islam became dearer to him than the world and what it contains.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، وہ حماد بن سلمہ سے, ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہ
ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں مانگیں ، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میری قوم اسلام لے آؤ ، کیونکہ اللہ کی قسم!بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : بے شک کو ئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جا تا تھا ، پھر جو نہی وہ اسلام لا تا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا ۔
Ibn Shihab reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went on the expedition of Victory, i. e. the Victory of Mecca, and then he went out along with the Muslims and they fought at Hunain, and Allah granted victory to his religion and to the Muslims, and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave one hundred camels to Safwan bin Umayya رضی اللہ عنہ . He again gave him one hundred camels, and then again gave him one hundred camels. Sa'id bin Musayyib said that Safwan رضی اللہ عنہ told him: (By Allah) Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave me what he gave me (and my state of mind at that time was) that he was the most detested person amongst people in my eyes. But he continued giving to me until now he is the dearest of people to me.
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا, یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی ، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرما ئی ، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ، پھر سواونٹ پھر سواونٹ ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: In case we get wealth from Bahrain, I would give you so much and so much; he made an indication of it with both his hands. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) died before wealth from Bahrain came, and it fell to the lot of Abu Bakr رضی اللہ عنہ after him. He commanded the announcer to make announcement to the effect that he to whom Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had held out promise or owed any debt should come (to him). I came and said: Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said to me: In case there comes to us the wealth of Bahrain I shall give you so much, and so much. Abu Bakr رضی اللہ عنہ took a handful (of the coins) and gave that to me once and asked me to count them I counted them as five hundred dinars and he said: Here is double of this for you.
ہم سے عمرو ناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن المنکدر کی سند سے، کہا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا اور ہم سے اسحاق نے بیان کیا۔ سفیان نے ابن المنکدر کی سند سے جابر کی سند سے اور عمرو کی سند سے محمد بن علی کی سند سے جابر کی روایت سے ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ ہے، ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ انھی کے ہیں ۔ کہا : سفیان نے کہا : میں نے محمد بن منکدر سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت جابر بن اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، سفیان نے یہ بھی کہا : میں نے عمرو بن دینار سے سنا ، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔ ان دونوں میں سے ( بھی ) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہسفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، ( اسی طرح ) سفیان نے ابن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، نیز عمرو سے روایت ہے ، انھوں نے محمد بن علی سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، اسی طرح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا ، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ( یعنی تین لپ بھر کر ) ۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ۔ وہ مال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لئے حکم دیا کہ جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو ، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے ۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا ، اتنا اور اتنا دیں گے ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن ۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے ( تو تین لپ ہو گئے ) ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
When Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) died, there came to Abi Bakr رضی اللہ عنہ wealth from al-'Ala' bin al-Hadrami رضی اللہ عنہ . Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: He to whom Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) owed any debt or held out any promise should come to us; the rest of the hadith is the same.
ہم سے محمد بن حاتم بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا, ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے محمد بن علی سے خبر دی ، انھو ں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، نیز کہا : مجھے محمد بن منکدر نے ( بھی ) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے خبردی تھی ، انھوں نے کہا
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو ئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس ( بحرین کے گورنر ) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کو ئی قرض ہو یا آپ کی طرف سے کسی کے ساتھ وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۔ ( آگے ) ابن عیینہ کی حدیث کی مانند ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: A child was born into me this night and I named him after the name of my father Ibrahim. He then sent him to Umm Saif رضی اللہ عنہا , the wife of a blacksmith who was called Abu Saif. He (the Holy Prophet) went to him and I followed him until we reached Abu Saif and he was blowing fire with the help of blacksmith's bellows and the house was filled with smoke. I hastened my step and went ahead of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Abu Saif, stop it, as there comes Allah's Messenger (may peace he upon him). He stopped and Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) called for the child. He embraced him and said what Allah had desired. Anas رضی اللہ عنہ said: I saw that the boy breathed his last in the presence of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The eyes of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) shed tears and he said: Ibrahim, our eyes shed tears and our hearts are filled with grief, but we do not say anything except that by which Allah is pleased. O Ibrahim, we are grieved for you.
ہم سے حداب بن خالد اور شیبان بن فروخ نے بیان کیا، ان دونوں نے سلیمان سے اور لفظ شیبان ہے، ہم سے سلیمان بن المغیرہ نے بیان کیا، ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" آج رات میرا ایک بیٹا پیداہوا ہے جس کا نام میں نے اپنے والد کے نام پر ابرا ہیم رکھا ہے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو ابو سیف نامی لوہار کی بیوی ام سیف رضی اللہ عنہا کے سپرد کر دیا ، پھر ( ایک روز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے پاس جا نے کے لیے چل پڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا ہم ابو سیف کے پاس پہنچے وہ بھٹی پھونک رہا تھا ۔ گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا ۔ میں تیزی سے چلتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہوگیا اور کہا : ابو سیف!رک جاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں ، وہ رک گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو منگوا بھیجا ، آپ نے اسے اپنے ساتھ لگالیا اور جو اللہ چاہتا تھا ، آپ نے فرمایا ( محبت وشفقت کے بول بولے ۔ ) تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اس بچے کو دیکھا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی آنکھوں ) کے سامنے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر رہا تھا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آنکھیں آنسوبہارہی ہیں اور دل غم سے بھر ا ہواہے لیکن ہم اس کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو ، اللہ کی قسم!ابراہیم!ہم آپ کی ( جدائی کی ) وجہ سے سخت غمزدہ ہیں ۔ ""
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
I have never seen anyone more kind to one's family than Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and Ibrahim was sent to the suburb of Medina for suckling. He used to go there and we accompanied him. He entered the house, and it was filled with smoke as his foster-father was a bricksmith. He took him (his son Ibrihim) and kissed him and then came back. 'Amr said that when Ibrahim died. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Ibrahim is my son and he dies as a suckling babe. He has now two foster-mothers who would complete his suckling period in Paradise.
ہم سے زہیر بن حرب اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا اور اس کا لفظ زہیر ہے انہوں نے کہا : ہم سے اسماعیل نے جو کہ ابن اولیاء ہیں نے روایت کیا , عمرو بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنی اولاد پر شفیق نہیں دیکھا ، ( آپ کے فرزند ) حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ کی بالائی بستی میں دودھ پیتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے ، آپ گھر میں داخل ہوتے تو وہاں دھوا ں ہوتا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رضاعی والد لوہار تھا ۔ آپ بچے کو لیتے ، اسے پیار کرتے اور پھر لوٹ آتے ۔ عمرو ( بن سعید ) نے کہا : جب حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" ابراہیم میر ابیٹا ہے اور وہ دودھ پینے کے ایام میں فوت ہواہے ، اس کی دودھ پلانے والی دو مائیں ہیں جو جنت میں اس کی رضاعت ( کی مدت ) مکمل کریں گی ۔ ""
A'isha ( رضی اللہ عنہا) reported:
There came a few desert Arabs to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Do you kiss your children? He said: Yes. Thereupon they said: By Allah but we do not kiss our children. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Then what can I do if Allah has deprived you of mercy? Ibn Numair said: (We has deprived) your heart of mercy
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو اسامہ اور ابن نمیر نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س بادیہ سے کچھ لوگ آئےاور انھوں نےپوچھا : کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو کچھ بوسہ دیتے ہیں؟لوگوں نے کہا : ہاں ، تو ان لوگوں نے کہا : لیکن واللہ! ہم تو اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیتے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر اللہ تعالیٰ نے تمھارے اندر سے رحمت نکال دی ہے ( تو کیا ہوسکتا ہے! ) "" ابن نمیر کی روایت میں ہے : "" تمھارے دل سے رحمت نکال دی ہے ۔ ""
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Al-Aqra' bin Habis رضی اللہ عنہ saw Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) kissing Hasan رضی اللہ عنہ. He said: I have ten children, but I have never kissed any one of them, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who does not show mercy (towards his children), no mercy would be shown to him.
مجھ سے عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے کہا, سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویت کی کہ
اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بوسہ دے رہے تھے ، انھوں نے کہا : میرے دس بچے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا ۔
A similar report was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ , from the prophet ﷺ.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
It was narrated that Jarir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who shows no mercy to the people, Allah, the Exalted and Glorious, does not show mercy to him.
ہم سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, جریر ، عیسیٰ بن یونس ، ابو معاویہ اور حفص بن غیاث سب نے اعمش سے ، انھوں نے زید بن وہب اور ابوظبیان سے ، انھوں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا ۔ "
A hadith like that of Al-Amash (no. 6030) was narrated from Jarir, from the Prophet ﷺ.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، وکیع نے اور ہم سے عبداللہ بن نمیر نے اسماعیل کی سند سے بیان کیا, قیس اور نافع بن جبیر نے جریر سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was more modest than the virgin behind the curtain (or in the apartment), and when he disliked anything, we recognised that from his face.
مجھ سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے, عبداللہ بن ابی عتبہ نے کہا : میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنواری لڑکی سے زیادہ حیا کرنے والے تھے جو پردے میں ہوتی ہے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو ناپسند فرماتے تو ہمیں آپ کے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا ۔
Masruq reported:
We went to Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ when Mu'dwiya رضی اللہ عنہ came to Kufa, and he made a mention of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: He was never immoderate in his talk and he never reviled others. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) also said: The best amongst you are those who are best in morals. Uthman said: When he came to Kufa along with Mu'awiya رضی اللہ عنہ... (The rest of the hadith is the same).
ہم سے زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے العماش کی سند سے، شقیق سے اور مسروق کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم داخل ہوئے۔ عبداللہ بن عمرو جب معاویہ کوفہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور کہا: وہ نہ تو فحش تھا اور نہ ہی زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ہم ( ان کے ساتھ آنے والے ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے جا کرملے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طبعاً زبان سے کوئی بری بات نکالنے والے تھے اور نہ تکلف کرکے برا کہنے والے تھے ، نیز انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم میں سب سے اچھے لوگ وہی ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں ۔ "" عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے کہا : جس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوفہ آئے تھے ۔
This hadith had been narrated on the authority of al-A'mash through another chain of transmitters also.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابو معاویہ ، وکیع ، عبداللہ بن نمیر اور ابوخالد احمر ، ان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند رویت کی ۔
Simak bin Harb reported:
I said to Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ : Did you have the privilege of sitting in the company of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? He said: Yes, very frequently, and added: He did not stand up (and go) from the place where he offered the dawn prayer until the sun rose, and after the rising of the sun he stood up, and they (his Companions) entered into conversation with one another and they talked of the things (that they did during the Days of Ignorance), and they laughed (on their unreasonable and ridiculous acts). Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) smiled only.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خیثمہ نے بیان کیا, سماک بن حرب سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت کرتے تھے؟انھوں نے کہا : ہاں ، بہت شرکت کی ، آپ جس جگہ پر صبح کی نماز پڑھتے تھے تو سورج نکلنے سے پہلے وہاں نہیں اٹھتے تھے ۔ جب سورج نکل آیا تو آپ وہاں سے اٹھتے ، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جاہلیت کے ( کسی نہ کسی ) معاملے کو لیتے اور ( اس پر باہم ) بات چیت کرتے تو ہنسی مذاق بھی کرتے ، ( لیکن ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( صرف ) مسکراتے تھے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
"The Allah's Messenger (ﷺ) was on one of his journey, and a black slave called Anjasha was singing camel-driving songs. The Allah's Messenger (ﷺ) saidto him: 'O Anjasha, go slowly when you are driving mount that are carrying glass vessels.'"
ہم سے ابو الربیع العتکی، حمید بن عمر، قتیبہ بن سعید اور ابو کامل نے ہم سے حماد بن ابی الربیع نے بیان کیا۔ ہم سے حماد، ایوب نے ابوقلابہ سے اور انس رضی اللہ عنہ سےانہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں تھے کہ انجشہ نام کا ایک سیاہ فام لڑکا ادھر ادھر بھاگ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:"اے انجشہ جب تم شیشے کے برتنوں والی سواری پر چل رہی ہو تو آہستہ چلو۔"
Anas رضی اللہ عنہ reported:
This hadith has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے ابو الربیع العتکی، حمید بن عمر اور ابو کامل نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے، انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح بیان کیا۔