A'isha رضی اللہ عنہا reported:
When revelation descended upon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) even during the cold days, his forehead perspired.
ہم سے ابو کریب محمد بن الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے، ہشام کی سند سے، اپنے والد سے, حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہا
سخت سردی کی صبح وحی نازل ہوتی تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Harith bin Hisham رضی اللہ عنہ asked Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ): How does the the wahi (inspiration) come to you? He said: At times it comes to me like the ringing of a bell and that is most severe for me and when it is over I retain that (what I had received in the form of wahi), and at times an Angel in the form of a human being comes to me (and speaks) and I retain whatever he speaks.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا اور ہم سے ابن بشر نے بیان کیا۔ ان سب نے ہم سے ہشام کی سند سے بیان کیا اور ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا - اور قول ان کا ہے - ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کبھی وحی گھنٹی کی آواز کی طرح میں آتی ہے اور وہ مجھ پر زیادہ سخت ہوتی ہے ، پھر وحی منقطع ہوتی ہے تو میں اس کو یاد کرچک ہوتاہوں اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے میں اسے یاد رکھتا ہوں ۔ "
Ubida bin Samit رضی اللہ عنہ reported:
When wahi (inspiration) descended upon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), he felt a burden on that account and the colour of his face underwent a change.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے حطان بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بناء پر کرب کی سی کیفیت سے دو چار ہوجاتے اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا ۔
Ubida bin Samit رضی اللہ عنہ reported:
When wahi descended upon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), he lowered his head and so lowered his Companions their heads, and when (this state) was over, he raised his head.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، معاذ بن ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے ، انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی جاتی تو آپ اپنا سر مبارک جھکا لیتے اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی سر جھکا لیتے اور جب ( یہ کیفیت ) آپ سے ہٹا لی جاتی تو آپ اپنا سر اقدس اٹھاتے ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The People of the Book used to let their hair fall (on their foreheads) and the polytheists used to part them on their heads, and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) liked to conform his behaviour to the People of the Book in matters in which he received no command (from God) ; so Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) let fall his hair upon his forehead, and then he began to part it after this.
ہم سے منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے بیان کیا - منصور نے کہا : ہم سے انہوں نے بیان کیا اور ابن جعفر نے کہا , ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے ( یعنی مانگ نہیں نکالتے تھے ) اور مشرک مانگ نکالتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کے طریق پر چلنا دوست رکھتے تھے جس مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حکم نہ ہوتا ( یعنی بہ نسبت مشرکین کے اہل کتاب بہتر ہیں تو جس باب میں کوئی حکم نہ آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت اس مسئلے میں اختیار کرتے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیشانی پر بال لٹکانے لگے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگ نکالنے لگے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Al-Bara' رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was of medium height, having broad shoulders, with his hair hanging down on the lobes of his ears. He put on a red mantle over him, and never have I seen anyone more handsome than Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے آدمی تھے ، دونوں شانوں کے درمیان بہت فاصلہ تھا ، بال بڑے تھے جو کانوں کی لوتک آتے تھے ، آپ پرسرخ جوڑاتھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کبھی کوئی خوبصورت نہیں دیکھا ۔
Al-Bara' رضی اللہ عنہ reported:
Never did I see anyone more handsome than Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the red mantle. His hair had been hanging down on the shoulders and his shoulders were very broad, and he was neither very tall nor short-statured. Ibn Kuraib said he had hair.
عمرو ناقد اور ابو کریب نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے کسی د راز گیسوؤں والے شخص کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا ، آپ کے بال کندھوں کو چھوتے تھے ، آپ کے دونوں کندھوں کے د رمیان فاصلہ تھا ، قد بہت لمبا تھا نہ بہت چھوٹا تھا ۔ ابو کریب نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایسے تھے ( جو کندھوں کو چھوتے تھے ۔ )
Al-Bara' رضی اللہ عنہ سreported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had the most handsome face amongst men and he had the best disposition and he was neither very tall nor short-statured.
ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے اسحاق بن منصور نے، ابراہیم بن یوسف نے ابو اسحاق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سب لوگوں سے زیادہ حسین تھا اور ( باقی تمام اعضاء کی ) ساخت میں سب سے زیادہ حسین تھے ، آپ کا قد بہت زیادہ لمبا تھا نہ بہت چھوٹا ۔
Qatada reported:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ : How was the hair of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? Thereupon he said: His hair was neither very curly nor very straight, and they hung over his shoulders and earlobes.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا, جریر بن حازم نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا
میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کیسے تھے؟انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تقریباً سیدھے تھے ، بہت گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے ، آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان تک آتے تھے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The hair of Allah's Messenger (ﷺ) came upon his shoulders.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حبان بن ہلال نے بیان کیا، ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد الصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمام نے کہا , ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The hair of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reached half of the earlobe.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن اولیاء نے بیان کیا، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کے وسط تک تھے ۔
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had a broad face with reddish (wide) eyes, and lean heels. Shu'ba reported: I said to Simak: What does this dali-ul-fam mean? And he said: This means broad face. I said: What does this ashkal mean? He said: Long in the slit of the eye. I said: What is this manhus-ul-aqibain? He said: It implies little flesh at the heels.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا - اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے - انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سماک بن حرب نےکہا : میں نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن کشادہ تھا آنکھوں میں سرخ ڈورے چھوٹے ہوئے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں ۔ سماک سے ( شعبہ نے ) پوچھا کہ ”ضلیع الفم“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ بڑا چہرہ ۔ پھر ( شعبہ ) نے کہا ”اشکل العین“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا دراز شگاف آنکھوں کے ( لیکن سماک کا یہ کہنا غلط ہے اور صحیح وہی ہے کہ سفیدی میں سرخی ملی ہوئی ) شعبہ نے کہا ”منہوس العقبین“ کیا ہے تو انہوں نے کہا ایڑی پر کم گوشت والے ۔
Jurairi reported:
I said to Abu Tufail رضی اللہ عنہ : Did you see Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? He said: Yes, he had a white handsome face. Muslim bin Hajjaj said: Abu Tufail who died in 100 Hijra was the last of the Companions of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا, خالد بن عبداللہ نے جریری سے ،
انھوں نے حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ان ( ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا؟انھوں نے کہا : ہاں ، آپ کا رنگ سفید تھا ، چہرے پر ملاحت تھی ۔ امام مسلم بن حجاج نے کہا : حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ ایک سو ہجری میں فوت ہوئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے ۔
Abu Tufail رضی اللہ عنہ reported:
I saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and there is one amongst the people of the earth who (are living at the present time and) had seen him except me. I said to him: How did you find him? He said: He had an elegant white color, and he was of an average height.
ہم سے عبید اللہ بن عمر القواری نے بیان کیا, عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اب زمین پر سوا میرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والوں میں کوئی نہیں رہا ۔ ( راوی حدیث جریری ) کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ ملاحت لیے ہوئے تھا ، میانہ قامت تھے ۔
Ibn Sirin reported:
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ was asked whether Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) dyed his hair. He said: He had not become old enough to have white hair. Ibn Idris said that he had a few white hair. Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہ , however, dyed hair with hina' (henna).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور عمرو ناقد سب نے بیان کیا,ابن ادریس نے ہشام سے ، انھوں نے سیرین سے روایت کی ، کہا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کبھی ) بالوں کو رنگاتھا : کہا : انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال نہیں دیکھے تھے ، سوائے ( چند ایک کے ) ۔ ابن ادریس نے کہا : گویا وہ ان کی بہت ہی کم تعداد بتارہے تھے ۔ جبکہ حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہندی اور کَتَم ( کو ملاکر ان ) سے رنگتے تھے ۔
Ibn Sirin reported:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ whether Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) dyed his hair. He said: He had not reached the stage when (he needed) dyeing (of his white hair). He had a few white hair in his beard. I said to him: Did Abu Bakr رضی اللہ عنہ dye his hair? He said: Yes, with hina' (henna).
ہم سے محمد بن بکر بن الریان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا,عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی ، کہا
میں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : کیا ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ لگایاتھا؟انھوں نے کہا : آپ رنگنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے تھے ، کہا : آپ کی داڑھی میں چند ہی بال سفید تھے ۔ میں نے کہا : کیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رنگتے تھے؟انھوں نے کہا : ہاں ، وہ مہندی اور کتم سے رنگتے تھے ۔
Muhammad bin Sirin reported:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ whether Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) dyed his hair. He said: He had but little white hair.
مجھ سے حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، کہا ہم سے معالی بن اسد نے بیان کیا، ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا,,ایوب نے محمد بن سیرین سے روایت کی ، کہا
میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگا تھا؟کہا : انھوں نے آپ کے بہت ہی کم سفید بال دیکھے تھے ۔
Thabit reported:
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ was asked about the dyeing (of the hair of) Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Thereupon he said: (They were so few) that if I so liked I could count their number in his head, and he further said: (That is) he did not dye. Abu Bakr رضی اللہ عنہ , however, dyed them and so did 'Umar رضی اللہ عنہ dye them with pure henna.
مجھ سے ابو الربیع العتکی نے بیان کیا، حماد نے کہا, ثابت نے کہا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے خضاب کے بارے میں سوال کیاگیا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں جو سفید بال موجود تھے ، اگر میں انھیں گننا چاہتا تو گن لیتا ۔ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ نہیں لگایا اورحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مہندی اور کتم کو ملا کر بالوں کو رنگ لگایا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالص مہندی کا رنگ لگایا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
A person should pick out his white hair from his head or beard, and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not dye, and there was some whiteness in his hair at his chin, on his temples and very little on his head.
علی جہضمی نے کہا : ہمیں مثنیٰ بن سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
سر اور داڑھی کے سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی داڑھی میں جو نیچے کے ہونٹ تلے ہوتی ہے ، کچھ سفیدی تھی ، اور کچھ کنپٹیوں پر اور سر میں کہیں کہیں سفید بال تھے ۔