Abu Ishaq reported:
I was sitting with 'Abdullah bin 'Utba and there was a discussion about the age of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Some of the persons said: Abu Bakr رضی اللہ عنہ was older than Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) died when he was sixty-three, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ died when he was sixty-three and so 'Umar fell as a martyr when he was sixty-three. A person from the people who was called 'Amir bin Sa'd رضی اللہ عنہ reported that Jabir رضی اللہ عنہ had said: We were sitting with Mu'awiya رضی اللہ عنہ that there was a discussion about the age of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Thereupon Mu'awiya رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) died when he had attained the age of sixty-three, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ died when he had attained the age of sixty-three, and Umar رضی اللہ عنہ fell as a martyr when he had attained the age of sixty-three.
ہم سے عبداللہ بن عمر بن محمد بن ابان الجعفی نے بیان کیا, اسلام ابواحوص نے ابو اسحاق سے روایت کی ، کہا
میں عبداللہ بن عتبہ کے پاس بیٹھا ہواتھا تو ( وہاں بیٹھےہوئے ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے بارے میں بات کی ۔ لوگوں میں سے ایک نے کہا : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑ ے تھے عبداللہ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور آپ تریسٹھ سال کے تھے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کاانتقال ہوا اور وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے ، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا اور وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے ۔ کہا : ان لوگوں میں سے ایک شخص نے ، جنھیں عامر بن سعد کہا جاتاتھا ، کہا : ہمیں جریر ( بن عبداللہ بن جابر بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے حدیث بیان کی کہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا ذکر کیاتو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بتایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور آپ تریسٹھ برس کے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے اور وہ بھی تریسٹھ برس کے تھے ۔
Jarir reported:
He heard Mu'awiya رضی اللہ عنہ say in his address that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) died at the age of sixty-three, so was the case with Abu Bakr and 'Umar, and I (am now) sixty-three.
ہم سے ابن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا - اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے - انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحاق سےسنا ، وہ عامر بن سعد بجلی سے حدیث روایت کررہے تھے ، انھوں نے جریر سے روایت کی
انھوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوخطبہ دیتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاانتقال ہوا تو آپ تریسٹھ برس کے تھے اور ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بھی اتنی ہی عمر کے ہوئے ) اوراب میں بھی تریسٹھ برس کا ہوں ۔
Ammar, the freed slave of Banu Hashim, reported:
I asked Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ how old was he when death overtook the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He said: I little know that such a thing is not known to a man like you who belong to his people. He said: I asked people about it but they differed with me, and I liked to know your opinion about it. He said: Do you know counting? He said: Yes. He then said: Bear this in mind very well that he was commissioned (as a Prophet) at the age of forty, and he stayed in Mecca for fifteen years; sometime in peace and sometime in dread, and (lived) for ten years after his migration to Medina.
نابینا ابن منہال نے مجھ سے کہا, یزید بن زریع نے کہا : ہمیں یونس ب عبید نے بنو ہاشم کے آزادکردہ غلام عمار سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ
وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی عمر مبارک ) کے کتنے سال گزرے تھے؟انھوں نے کہا : میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم جیسے شخص پر ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی قوم سے ( متعلق ) تھا ، یہ بات مخفی ہوگی ۔ کہا : میں نے عرض کی : میں نے لوگوں سے اس کے بارے میں سوال کیا تو میرے سامنے ان لوگوں نے باہم اختلاف کیا ۔ تو مجھے اچھامعلوم ہوا کہ میں اس کے بارے میں آپ کا قول معلوم کروں ، انھوں نے کہا : تم حساب کرسکتے ہو؟کہا : میں نے عرض کی : جی ہاں ، انھوں نے کہا : ( پہلے ) تو چالیس لو ، جب آپ کو مبعوث کیا گیا ، ( پھر ) پندرہ سال مکہ میں ، کبھی امن میں اور کبھی خوف میں دس سال مدینہ کی طرف ہجرت سے ( لے کر جمع کرلو ۔ )
This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا, شعبہ نے یونس سے اسی سند کے ساتھ یزید بن زریع کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی ۔
Ammar, the freed slave of Banu Hashim, reported that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) died when he had attained the age of sixty-five.
نصر بن علی نے مجھ سے کہا, بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام عمارنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پینسٹھ برس کے تھے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Khalid with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابن علیہ نے خالد سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stayed in Mecca for fifteen years (after his advent as a Prophet) and he heard the voice of Gabriel and saw his radiance for seven years but did not see any visible form, and then received revelation for ten years, and he stayed in Medina for ten years.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنثلی نے بیان کیا، ہم سے ایک روح نے بیان کیا، حماد بن سلمہ نے عمار بن ابی عمار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ برس تک آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے سات برس تک ، لیکن کوئی صورت نہیں دیکھتے تھے پھر آٹھ برس تک وحی آیا کرتی تھی اور دس برس تک مدینہ میں رہے ۔
Jubair bin Mut'im رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I am Muhammad and I am Ahmad, and I am al-Mahi (the obliterator) by whom unbelief would be obliterated, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet mankind will be gathered, and I am 'Aqib (the last to come) after whom there will be no Prophet.
مجھ سے زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے بیان کیا اور یہ قول زہیر کا ہے، اسحاق نے کہا: انہوں نے ہمیں خبر دی، اور باقی دو نے کہا: ہم سے بات کریں سفیان بن عیینہ نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے محمد جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ( مٹانے والا ) ہوں ، میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کفر مٹادے گا ، میں حاشر ( جمع کرنے والا ) ہوں ، لوگوں کو میرے پیچھے حشر کے میدان میں لایاجائےگا اور میں عاقب ( آخر میں آنے والا ) ہوں اور عاقب وہ ہوتاہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔ "
Jubair bin Mut'im reported on the authority of his father:
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I have many names: I am Muhammad, I am Ahmad, I am al-Mahi through whom Allah obliterates unbelief, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet people will be gathered, and I am 'Aqib (after whom there would be none), and Allah has named him as compassionate and merciful.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے محمد جبیر بن معطم سے ، انھوں نے ا پنے والد سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے کئی نام ہیں ، میں محمد ، احمد اور ماحی یعنی میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا ۔ اور میں حاشر ہوں ، لوگ میرے پاس قیامت کے دن شفاعت کے لئے اکٹھے ہوں گے ۔ اور میں عاقب ہوں ، یعنی میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رؤف اور رحیم رکھا ( بہت نرم اور بہت مہربان ) ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
This hadith has been transmitted on the authority of Ma'mar (and the words are): I said to Zuhri:
What does (the word) al-'Aqib imply? He said: One after whom there is no Prophet, and in the hadith transmitted on the authority of Ma'mar and 'Uqail there is a slight variation of wording.
مجھ سے عبد الملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، کہا: میرے والد نے میرے دادا کی سند سے مجھ سے کہا, عقیل ، معمر اور شعیب ، سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، شعیب اور معمر کی حدیث میں ( حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ) یہ الفاظ ( منقول ) ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ معمرکی حدیث میں ہے ، کہا : میں نے زہری سے کہا
عاقب ( سے مراد ) کیا ہے؟انھوں نے کہا : جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ، معمر اورعقیل کی حدیث میں ہے : کافروں کو ( مٹادے گا ) اورشعیب کی حدیث میں ہے : کفر کو ( مٹادے گا ۔ )
Abu Musa Ash'ari رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) mentioned many names of his and said: I am Muhammad, Ahmad. Muqaffi (the last in succession), Hashir, the Prophet of repentance, and the Prophet of Mercy.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنثلی نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے الاعمش کی سند سے، وہ عمرو بن مرہ کی سند سے، انہوں نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے, سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی نام ہم سے بیان کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور احمد اور مقفی ( آخر میں آنے والا ہوں ) اور حاشر اور نبی التوبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے کثیر خلقت توبہ کرے گی ) اور نبی الرحمۃ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے انسان بہت سی نعمتوں سے نوازے جائیں گے ۔ ) "
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did an act, and held it to be valid. This news reached some persons amongst his Companions (and it was felt) that they did not approve of it and avoided (it). This reaction of theirs was conveyed to him. He stood to deliver an address; and said: What has happened to the people to whom there was conveyed on my behalf a matter for which I granted permission and they disapproved it and avoided it? By Allah, I have the best knowledge of Allah amongst them, and I fear Him most amongst them.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو ضحیٰ ( مسلم ) سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں بعض کو یہ خبر پہنچی ، انھوں نے گویا کہ اس ( رخصت اور اجازت ) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا ۔ ؛ " ان لوگوں کا کیاحال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انھوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا ۔ اللہ کی قسم!میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اوراس ( اللہ ) کی خشیت میں ان سب سےبڑھ کر ہوں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of A'mash through a different chain of transmitters.
ہم سے ابو سعید الاشجج نے بیان کیا,حفص بن غیاث اورعیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) granted permission for doing a thing, but some persons amongst the people avoided it. This was conveyed to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he was so much annoyed that the sign of his anger appeared on his face. He then said: What has happened to the people that they avoid that for which permission has been granted to me? By Allah, I have the best knowledge of Allah amongst them, and fear Him most amongst them.
ابو کریب نے ہم سے کہا, ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( ابوضحیٰ ) مسلم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی ۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کوایسا کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سےظاہر ہوا ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
Urwa bin Zubair reported:
'Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہ had narrated to him that a person from the Ansar disputed with Zubair رضی اللہ عنہ in the presence of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in regard to the watering places of Harra from which they watered the date-palms. The Ansari said: Let the water flow, but he (Zubair) refused to do this and the dispute was brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said to Zubair رضی اللہ عنہ: Zubair, water (your date-palms), then let the water flow to your neighbor. The Ansari was enraged and said: Allah's Messenger, (you have given this decision) for he is the son of your father's sister. The face of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) underwent a change, and then said: Zubair, water (your date-palms), then hold it until it rises up to the walls. Zubair رضی اللہ عنہ said: I think, by Allah, that this verse: Nay, by the Lord, they will not (really) (believe) until they make thee a judge of what is in dispute among them, and find in this no dislike of what thou decidest and submit with full submission (iv. 65).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ابن شہاب کی سند سے, عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں ( برساتی نالیوں ) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے ۔ انصاری کہتا تھا : پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے ، انھوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کردیا ۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کونرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان ) سے کہا : " تم ( جلدی سے اپنے باغ کو ) پلاکر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کردو ۔ " انصاری غضبناک ہوگیا اورکہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس لئے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے ۔ ( صدمے سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کارنگ بدل گیا ، پھر آپ نے فرمایا : " زبیر! ( باغ کو ) پانی دو ، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے " زبیر رضی اللہ عنہ نےکہا : اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت : " نہیں!آپ کےرب کی قسم !وہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے " اسی ( واقعے ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Avoid that which I forbid you to do and do that which I command you to do to the best of your capacity. Verily the people before you went to their doom because they had put too many questions to their Prophets and then disagreed with their teachings.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی ، ان دونوں نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا ، "" میں جس کام سے تمھیں روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کا م کا حکم دوں ، اپنی استطاعت کے مطا بق اس کو کرو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت اور اپنے انبیاء علیہ السلام سے اختلا ف نے ہلا ک کردیا ۔ "" .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن احمد بن ابی خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو سلمہ نے جو منصور بن سلمہ الخزاعی ہیں، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا, یزید بن ہاد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی ۔
It was narrated that Abu Huraira رضی اللہ عنہ said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having said: Abandon that which I have asked you to abandon, for the people before you went to their doom (for asking too many questions).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، اور ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابی دونوں نے بیان کیا, ابو صالح ، اعرج ، محمد بن زیاد اور ہمام بن منبہ ، سب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ( آپ نے فرمایا : ) " جب تک میں تمھیں چھوڑ رکھوں ( کو ئی حکم نہ دوں ) تم بھی مجھے چھوڑ ے رکھو ( خواہ مخواہ کے سوال مت کرو ) " اور ہمام کی حدیث میں ہے ۔ " جب تک تمھیں چھوڑ دیا جا ئے ، کیونکہ وہ لو گ جو تم سے پہلے تھے ( کثرت سوال سے ) ہلا ک ہو گئے ۔ پھر انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ سے زہری کی حدیث کی طرح ( آگے ) بیان کیا ۔
Amir bin Sa'd reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The greatest sinner amongst the Muslims is one who asked about a thing (from Allah's Apostle) which had not been forbidden for the Muslims and it was forbidden for them because of his persistently asking about it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, ابرا ہیم بن سعد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عامر بن سعد سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کے بارےمیں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تو اس کے سوال کی بنا پر اسے حرا م کر دیا جائے ۔
It was narrated from 'Amir bin Sa'd that his father said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The greatest sinner of the Muslims amongst Muslims is one who asked about a certain thing which had not been prohibited and it was prohibited because of his asking about it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن ابی عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان ( بن عیینہ ) نے حدیث بیان کی ، کہا : ۔ مجھے یہ اسی طرح یاد ہے جس طرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یاد ہے ۔ زہری نے عامر بن سعد سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " مسلمانوں میں سے مسلمانوں کے بارے میں سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے ، جس نے ایسے معاملے کے متعلق سوال کیا جیسے حرام نہیں کیا گیا تھا تو اس کے سوال کی بنا پر اس کو لو گوں کے لیے حرا م کر دیا گیا ۔ "