Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle (ﷺ) came to his wives as the camel-driver who was called Anjasha had been, driving (the camels) on which (they were riding). Thereupon he said: Anjasha, be careful, drive slowly for you are driving the mounts who carry vessels of glass. Abu Qilaba said that Allah's Messenger (ﷺ) uttered words which if someone had uttered amongst you, you would have found fault with him.
مجھ سے عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، ان دونوں نے ابن الیہ کی سند سے، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا۔ قلابہ، انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج مطہرات کے پاس اس طرح تشریف لائے کہ اونٹ چلانے والا جسے انجشہ کہا جاتا ہے، وہ (اونٹوں کو) چلا رہے تھے جن پر وہ سوار تھے۔ اس کے بعد اس نے کہا: انجشہ، ہوشیار رہو، آہستہ چلو کیونکہ تم وہ سوار چلا رہے ہو جو شیشے کے برتن لے جاتے ہیں۔ ابو قلابہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کلمات کہے جو اگر تم میں سے کوئی کہتا تو تم اس پر عیب پاتے۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہreported:
Umm Sulaim رضی اللہ عنہ was with the wives of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and a camel-driver had been driving (the camels) oil which they were riding. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Anjasha, drive slowly, for you are carrying (on the camels) vessels of glass.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، سلیمان تیمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، کہا
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ساتھ تھیں اور ایک اونٹ ہانکنے والا ان کے اونٹ ہانک رہا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انجشہ !شیشہ آلات ( خواتین ) کو آہستگی اور آ رام سے چلاؤ ۔ "
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had a camel-driver who had a very melodious voice. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Anjasha, drive slowly; do not break the vessels of glass, meaning the weak women.
ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا, ہمام نے کہا , ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، کہا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوش آواز حدی خواں تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا؛ " انجشہ!آرام سے ( ہانکو ) شیشہ آلات کو مت توڑو ، " یعنی کمزور عورتوں کو ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported this hadith through another chain of transmitters, but he made no mention of a camel-driver having a melodious voice.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا, ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں خوش الحان حدی خواں کا ذکر نہیں کیا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had completed his dawn prayer, the servants of Medina came to him with utensils containing water, and no utensil was brought in which he did not dip his hand; and sometime they came in the cold dawn (and he did not feel reluctant in acceding to their request even in the cold weather) and dipped his hand in them.
ہم سے مجاہد بن موسیٰ، ابوبکر بن النضر بن ابی النضر اور ہارون بن عبداللہ سب نے ابو النضر کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو ہم سے بکر، ابو النضر یعنی ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن المغیرہ نے بیان کیا, ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے خادم ( غلام ) اپنے برتن لے آتے جن میں پانی ہوتا ، جو بھی برتن آپ کے سامنے لایاجاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک اس میں ڈبو تے ، بسا اوقات سخت ٹھنڈی صبح میں برتن لائے جاتے تو آپ ( پھر بھی ) ان میں اپنا ہاتھ ڈبودیتے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
I saw when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got his hair cut by the barber, his Companions came round him and they eagerly wanted that no hair should fall but in the hand of a person.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو النضر نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے، ثابت کی سند سے, ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، بال مونڈنے والا آپ کےسرکےبال اتاررہاتھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ کے اردگرد تھے ، وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کاکوئی بھی بال ان میں سے کسی ایک کے ہاتھوں کےعلاوہ کہیں اورگرے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
A woman had a partial derangement in her mind, so she said. Allah's Messenger, I want something from you. He said: Mother of so and so, see on which side of the road you would like (to stand and talk) so that I may do the needful for you. He stood aside with her on the roadside until she got what she needed.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، وہ حماد بن سلمہ سے, ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک عورت کی عقل میں کچھ نقص تھا ( ایک دن ) وہ کہنے لگی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے آپ سے کام ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بہت شفقت واحترام سے ) فرمایا : " ام فلاں!دیکھو تم سڑک کے کس کنارے پر (کھڑے ہو کر بات کرنا) چاہتی ہو تاکہ میں تمہارے لیے ضروری کام کروں۔ وہ اس کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑا رہا یہاں تک کہ اسے اپنی ضرورت کی چیز مل گئی۔
A'isha رضی اللہ عنہا the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said:
Whenever he had to choose between two things he adopted the easier one, provided it was nor sin, but if it was any sin he was the one who was the farthest from it of the people; and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) never took revenge from anyone because of his personal grievance, unless what Allah, the Exalted and Glorious, had made inviolable had been violated.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، مالک بن انس کی سند سے، وہ جو ان سے پڑھی گئی، اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا, امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ( ایک کا ) انتخاب کرنا ہوتاتو آپ ان دونوں میں سے زیادہ آسان کو منتخب فرماتے ۔ بشرط یہ کہ وہ گناہ نہ ہوتا اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا ، سوائے اس صورت کے کہ اللہ کی حد کو توڑا جاتا ۔
It was narrated from Urwah, from Aishah رضی اللہ عنہا (a similar to no. 6045).
ہم سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم سب نے جریر کی سند سے بیان کیا اور ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، ہم سے فضیل بن عیاض نے بیان کیا, منصور نے محمد سے ۔ فضیل کی روایت میں ہے : ابن شہاب سے ، جریر کی روایت میں ہے : محمد زہری سے ۔ انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( یہی ) روایت بیان کی ۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shibab through another chain of transmitters.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Never did Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) make a choice between two things but adopting the easier one as compared to the difficult one, but his choice for the easier one was only in case it did not involve any sin, but if it involved sin he was the one who was the farthest from it amongst the people.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں انتخاب کرناہوتا ، ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت آسان ہوتا تو آپ ان میں سے آسان ترین کا انتخاب فرماتے ، الایہ کہ وہ گناہ ہو ۔ اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دورہوتے ۔
It was narrated from Hisham with this chain of narrators (a hadith similar to no. 6048), as for as the word, "...The easier of the two...", but he did not mention what comes after that.
ابو کریب اور ابن نمیر دونوں نے عبداللہ بن نمیر سے ، انھوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ان کے قول " دونوں میں سے زیادہ آسان " تک روایت کی اور ان دونوں ( ابو کریب اور ابن نمیر ) نے اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) never beat anyone with his hand, neither a woman nor a servant, but only, in the case when he had been fighting in the cause of Allah and he never took revenge for anything unless the things made inviolable by Allah were made violable; he then took revenge for Allah, the Exalted and Glorious.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ، نہ کسی عورت کو ، نہ کسی غلام کو ، مگر یہ کہ آپ اللہ کے راستے میں جہاد کررہے ہوں ۔ اور جب بھی آپ کو نقصان پہنچایا گیا تو کبھی ( ایسا نہیں ہوا کہ ) آپ نے اس سے انتقام لیا ہومگر یہ کہ کوئی اللہ کی محرمات میں سے کسی کو خلاف ورزی کرتاتو آپ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لے لیتے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبدہ ، وکیع ، اور ابو معاویہ ، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان میں سے کوئی راوی دوسرے سے کچھ زائد ( الفاظ ) بیان کر تا ہے ۔
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
I prayed along with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) the first prayer. He then went to his family and I also went along with him when he met some children (on the way). He began to pat the cheeks of each one of them. He also patted my cheek and I experienced a coolness or a fragrance of his hand as if it had been brought out from the scent bag of a perfumer.
ہم سے عمرو بن حماد بن طلحہ کنند نے بیان کیا جو کہ ابن نصر ہمدانی ہیں ,سماک نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر جانے کو نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ۔ سامنے کچھ بچے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک بچے کے رخسار پر ہاتھ پھیرا اور میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں وہ ٹھنڈک اور وہ خوشبو دیکھی جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبو ساز کے ڈبہ میں سے ہاتھ نکالا ہو ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
I never smelt ambergris or musk as fragrant as the fragrance of the body of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and I never touched brocade or silk and found it as soft as the body of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, جعفر بن سلیمان اور سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
میں نے کبھی کوئی عنبر ، کوئی کستوری اور کوئی بھی ایسی خوشبونہیں سونگھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے جسم اطہر ) کی خوشبو سے زیادہ اچھی اور پاکیزہ ہو اور میں نے کبھی کوئی ریشم یا دیباج نہیں چھوا جو چھونے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے ہاتھوں ) سے زیادہ نرم وملائم ہو ۔
Anas رضی اللہ عنہ سreported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had a very fair complexion and (the drops) of his perspiration shone like pearls, and when he walked he walked inclining forward, and I never touched brocade and silk (and found it) as soft as the softness of the palm of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and I never smelt musk or ambergris and found its fragrance as sweet as the fragrance of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے احمد بن سعید بن صخر الدارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان نے بیان کیا, حماد نے کہا , ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید ، چمکتا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک موتی کی طرح تھا اور جب چلتے تو اور میں نے دیباج اور حریر بھی اتنا نرم نہیں پایا جتنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نرم تھی اور میں نے مشک اور عنبر میں بھی وہ خوشبو نہ پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں تھی ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to come to our house and there was perspiration upon his body. My mother brought a bottle and began to pour the sweat in that. When Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got up he said: Umm Sulaim, what is this that you are doing? Thereupon she said: That is your sweat which we mix in our perfume and it becomes the most fragrant perfume.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم نے، یعنی ابن القاسم نے، سلیمان کی سند سے بیان کیا, ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to the house of Umm Sulaim and slept in her bed while she was away from her house. On the other day too he slept in her bed. She came and it was said to her: It is Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who is having siesta in your house, lying in your bed. She came and found him sweating and his sweat falling on the leather cloth spread on her bed. She opened her scent-bag and began to fill the bottles with it. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was startled and woke up and said: Umm Sulaim, what are you doing? She said: Allah's Messenger, we seek blessings for our children through it. Thereupon he said: You have done something right.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے حجين بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز نے جو ابن ابی سلمہ ہیں، بیان کیا, اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر میں جاتے اور ان کے بچھونے پر سو رہتے ، اور وہ گھر میں نہیں ہوتیں تھیں ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچھونے پر سو رہے ۔ لوگوں نے انہیں بلا کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بچھونے پر سو رہے ہیں ، یہ سن کر وہ آئیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ چمڑے کے بچھونے پر جمع ہو گیا ہے ۔ ام سلیم نے اپنا ڈبہ کھولا اور یہ پسینہ پونچھ پونچھ کر شیشوں میں بھرنے لگیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ اے ام سلیم! کیا کرتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا ۔
Umm Sulaim رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) visited her house and (took rest) and she spread a piece of cloth for him and he had had a siesta on it. And he sweated profusely and she collected his sweat and put it in a perfume and in bottles. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Umm Sulaim, what is this? She said: It is your sweat, which I put in my perfume. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sweated in cold weather when revelation descended upon him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا, ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے ۔