The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour
كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ
Chapter 53
Abu Bakra رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When two Muslims (confront each other) and the one amongst them attacks his brother with a weapon, both of them are at the brink of Hell-Fire. And when one of them kills his companion, both of them get into Hell-Fire.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے شعبہ کی سند سے اور ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، منصور کی سند سے, ربعی بن حراش نے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے اورانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب وہ مسلمانوں میں سے ایک نے اپنے بھائی پر اسلحہ کشی کی تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں پھر جب ان میں سے ایک نے ( موقع پاتے ) دوسرے کو قتل کردیا تو دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہوں گے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) many ahadith and one of them was this: The last Hour will not come until the two parties (of Muslims) confront each other and there is a large-scale massacre amongst them and the claim of both of them is the same.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں
انھوں نے کئی احادیث ذکر کیں ان میں سے ( ایک یہ تھی ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت اس وقت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسلمانوں کی دوبڑی جماعتیں باہم جنگ آزماہوں گی ۔ ان دونوں کے درمیان بڑی قتل و غارتگری ہوگی جبکہ دونوں ایک ہی ( بات یعنی حق کی نصرت کا ) دعویٰ کرتے ہوں گے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The last Hour will not come unless there is much bloodshed. They said: What is harj? Thereupon he said: Bloodshed. bloodshed.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے یعقوب نے، یعنی ابن عبدالرحمٰن نے، ہم سے سہیل کے واسطہ سے اپنے والد سے بیان کیا, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ بہت زیادہ ہرج ( جانوں کی تباہی ) ہوجائے گی؟انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج ( تباہی ) کیا ہو گی؟فرمایا : " قتل ، قتل ۔ "
Thauban رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Allah drew the ends of the world near one another for my sake. And I have seen its eastern and western ends. And the dominion of my Ummah would reach those ends which have been drawn near me and I have been granted the red and the white treasure and I begged my Lord for my Ummah that it should not be destroyed because of famine, nor be dominated by an enemy who is not amongst them to take their lives and destroy them root and branch, and my Lord said: Muhammad, whenever I make a decision, there is none to change it. I grant you for your Ummah that it would not be destroyed by famine and it would not be dominated by an enemy who would not be amongst it and would take their lives and destroy them root and branch even if all the people from the different parts of the world join hands together (for this purpose), but it would be from amongst them, viz. your Ummah, that some people would kill the others or imprison the others.
ہم سے ابو الربیع العتکی اور قتیبہ بن سعید دونوں نے حماد بن زید کی سند سے بیان کیا اور قول قتیبہ کا ہے, ہم سے حماد نے بیان کیا, ایوب نے ابو قلابہ سے انھوں نے ابو اسماء سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور جہاں تک یہ زمین میرے لیے لپیٹی گئی عنقریب میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی اور مجھے سرخ اور سفید دونوں خزانے ( سونے اور چاندی کے ذخائر ) دیے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ اس کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان کے علاوہ سے ان پر کوئی دشمن مسلط نہ کرے جو مجموعی طور پر ان سب ( کی جانوں ) کورواکر لے ۔ بے شک میرے رب نے فرمایا : " اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !جب میں کو ئی فیصلہ کردوں تو وہ رد نہیں ہوتا ۔ بلاشبہ میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ بات عطا کردی ہے کہ ان کو عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر ان کے علاوہ سے کسی اور دشمن کو مسلط نہ کروں گاجو ان سب ( کی جانوں ) کورواقراردے لے ۔ چاہے ان کے خلاف ان کے اطراف والے ۔ یا کہا : ان کے اطراف والوں کے اندر سے ہوں اکٹھے کیوں نہ ہوں جائیں ۔ یہاں تک کہ یہ ( خود ) ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے ۔ اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے ۔ "
Thauban رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said. Verily, Allah drew the ends of the world near me until I saw its east and west, and He bestowed upon me two treasures, the red and the white. The rest of the hadith is the same.
مجھ سے زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا۔ اسحاق نے کہا: ہم سے اس نے بیان کیا، اور دوسروں نے کہا: ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, قتادہ نے ابوقلابہ سے انھوں نے ابو اسماء یحییٰ سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا حتیٰ کہ میں نے اس کےمشارق کو مغارب کو دیکھ لیا اور اس نے مجھے سرخ اور سفید وہ خزانے عطا فرمائے ۔ " اس کے بعد ابو قلابہ سے ایوب کی روایت کی طرح بیان کیا ۔
Amir bin Sa'd reported on the authority of his father:
One day Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came from a high, land. He passed by the mosque of Banu Mu'awiya, went in and observed two rak'ahs there and we also observed prayer along with him and he made a long supplication to his Lord. He then came to us and said: I asked my Lord three things and He has granted me two but has withheld one. I begged my Lord that my Ummah should not be destroyed because of famine and He granted me this. And I begged my Lord that my Ummah should not be destroyed by drowning (by deluge) and He granted me this. And I begged my Lord that there should be no bloodshed among the people of my Ummah, but He did not grant it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبد اللہ بن نمیر نے کہا , ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ کے ) بالائی علاقے سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے تو آپ اس میں داخل ہوئے اور وہ رکعتیں ادا فرمائیں ۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے اپنے رب سے بہت لمبی دعا کی پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا تو فرمایا : " میں نے اپنے رب سے تین ( چیزیں ) مانگیں ۔ اس نے وہ مجھے عطا فرمادیں اور ایک مجھ سے روک لی ۔ میں نے اپنے رب سے یہ مانگا کہ وہ میری ( پوری ) امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے تو اس نے مجھے یہ چیز عطا فرمادی اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو اس نے یہ ( بھی ) مجھے عطافرمادی اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی آپس میں جنگ نہ ہو تو اس نے یہ ( بات ) مجھ سے روک لی ۔
Amir bin Sa'd reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came with a group of his Companions and he passed by the mosque of Banu Mu'awiya. The rest of the hadith is the same.
اور ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا, مروان بن معاویہ نے کہا , ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے ۔ ( آگے ) ابن نمیرکی حدیث کے مانند ۔
Hudhaifa bin al-Yaman رضی اللہ عنہ reported:
By Allah, I have the best knowledge amongst people about every turmoil which is going to appear in the period intervening me and the Last Hour; and it is not for the fact that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) told me something confidentially pertaining to it and he did not tell anybody else about it, but it is because of the fact that I was present in the assembly in which he had been describing the turmoil. and he especially made a mention of three turmoils which would not spare anything and amongst these there would be turmoils like storms in the hot season. Some of them would be violent and some of them would be comparatively mild. Hudhaifa رضی اللہ عنہ said: All (who were present) except I have gone (to the next world).
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبردی کہ ابو ادریس خولانی کہا کرتے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا
اللہ کی قسم!میں اب سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے تمام فتنوں کے بارے میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ جانتاہوں ۔ اور ( انھیں بیان کرنےمیں ) میرے لیے اس کے سوا اور کوئی ( مانع ) نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی چیز راز کے طورپر مجھے بتائی تھی جو آپ نے میرے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی تھی ۔ ( ایسی باتیں میں کبھی بیان نہیں کروں گا ) البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جہاں میں مو جود تھا فتنوں کو شمار کر رہے تھے : " ان میں سے تین ( فتنے ) ایسے ہیں جو تقریباً کسی چیزکو باقی نہیں چھوڑیں گے اور ان میں سے کچھ فتنے ایسے ہیں جو موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں ان میں کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں ۔ " حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے سوا وہ سب لوگ ( جو اس مجلس میں موجود تھے ) رخصت ہوگئے ۔
Hudhaifa رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood before us one day and he did not leave anything unsaid (that he had to say) at that very spot which would happen (in the shape of turmoil) up to the Last Hour. Those who had to remember them preserved them in their minds and those who could not remember them forgot them. My friends knew them and there are certain things which slip out of my mind, but I recapitulate them when anyone makes a mention of them just as a person is lost from one's mind but is recalled to him on seeing his face.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا۔ عثمان نے کہا: ہم سے اسحاق نے بیان کیا, جریر نے اعمش سے انھوں نے شقیق سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے کھڑے ہونے کے اس وقت سے لے کر قیامت تک ہونے والی کوئی ( اہم ) بات نہ چھوڑی مگر اسے بیان فرمادیا جس نے اس ( بیان ) کو یاد رکھا اس نے اسے یاد رکھا اور جس نے اسے بھلادیا اس نے اسے بھلادیا ۔ وہ سب کچھ میرے ان ساتھیوں کے علم میں آیا پھر ان میں سے کوئی چیز پیش آتی ہے جو میں بھول چکا ہوتا ہوں تو جب اسے دیکھتا ہوں تو وہ مجھے یاد آجاتی ہے بالکل اسی طرح جیسے انسان کسی غائب ہو جانے والے شخص کا چہرہ یاد رکھتا ہے جب اسے دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے ۔
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters up to the words:
"And he forgot who had to forget," that and. he did not make a mention of what follows after this.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا, سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ان ( حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے اس قول تک
" اور جس نے اسے بھلادیا اس نے اسے بھلادیا " روایت کی اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
Hudhaifa رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) informed me of what is going to happen before the approach of the Last Hour. And there is nothing that I did not ask him in this connection except this that I did not ask him as to what would turn the people of Medina out from Medina.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا, محمد بن جعفر غندرنے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن یزید سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی مجھے خبر دی اور ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا البتہ میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز باہر نکالے گی ۔
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا, وہب بن جریر نے کہا , ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Abu Zaid (Amr bin Akhtab) رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) led us in the dawn prayer and then mounted the pulpit and addressed us until it was (time for the) noon prayer. He then came down the pulpit and observed prayer and then again mounted the pulpit and again addressed us until it was time for the 'Asr prayer. He then again came down and observed the prayer and again mounted the pulpit and addressed us until the sun was set and he informed (about) everything (pertaining to turmoil) that lay hidden in the past and what lies in (the womb) of) the future and the most learned amongst us is one who remembers them well.
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی اور حجاج بن الشاعر نے ابو عاصم کی سند سے بیان کیا, حجاج نے کہا, ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہیں عذرا بن ثابت نے خبر دی، جس نے ہمیں خبر دی: علباء بن احمر نے کہا : حضرت ابو زید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا آپ ( منبرسے ) اترے ہمیں نماز پڑھائی پھر دوبارہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور ( آگے ) خطبہ ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا پھر آپ اترے نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ نے جو کچھ ہوا اور جو ہونے والاتھا ( سب ) ہمیں بتادیا ہم میں سے زیادہ جاننے والا وہی ہے جو یا دواشت میں دوسروں سے بڑھ کر ہے ۔
Hudhaifa رضی اللہ عنہ reported:
We were one day in the company of 'Umar رضی اللہ عنہ that he said: Who amongst you has preserved in his mind most perfectly the hadith of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in regard to the turmoil as he told about it? I said: It is I. Thereupon he said: You are bold (enough to make this claim). And he further said: How? I said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would (first) be turmoil for a person in regard to his family, his property, his own self, his children, his neighbours (and the sins committed in their connection) would be expiated by fasting, prayer, charity, enjoining good and prohibiting evil. Thereupon 'Umar رضی اللہ عنہ said: I do not mean (that turmoil on a small scale) but that one which would emerge like the mounting waves of the ocean. I said: Commander of the Faithful, you have nothing to do with it, for the door is closed between you and that. He said: Would that door be broken or opened? I said: No, it would be broken. Thereupon he said: Then it would not be closed despite best efforts. We said to Hudhaifa رضی اللہ عنہ : Did Umar know the door? Thereupon he said: Yes, he knew it (for certain) just as one knows that night precedes the next day. And I narrated to him something in which there was nothing fabricated. Shaqiq (one of the narrators) said: We dared not ask Hudhaifa رضی اللہ عنہ about that door. So we requested Masruq to ask him. So he asked him and he said: (By that door, he meant) 'Umar رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور محمد بن العلاء ابو کریب نے بیان کیا, ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے کہا : فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جس طرح آپ نے خود فرمایا تھا تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے عرض کی : مجھے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تم بہت جرات مند ہو ۔ ( یہ بتاؤ کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ارشاد فرمایاتھا؟میں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے ۔ انسان اپنے گھروالوں اپنےمال اپنی جان اور اپنے ہمسائے کے بارے میں جس فتنے میں مبتلا ہوتاہے تو روزہ نماز ، صدقہ ، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بن جاتے ہیں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میری مراد اس سے نہیں میری مراد تواس ( فتنے ) سے ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈکرآتا ہے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المؤمنین!آپ کو اس فتنے سے کیا ( خطرہ ) ہے؟آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بنددروازہ ہے ۔ انھوں نے کہا : وہ دروازہ توڑاجائے گا یا کھولا جا ئے گا؟کہا : میں نے جواب دیا نہیں بلکہ توڑاجائےگا ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ ( دروازہ دوبارہ ) کبھی بند نہیں کیا جا سکے گا ۔ ( شقیق نے ) کہا : ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے؟انھوں نے کہا : ہاں اسی طرح جیسے وہ یہ بات جانتے تھے کہ صبح کے بعد رات ہے میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی تھی وہ کوئی اٹکل بچو بات نہ تھی ۔ کہا : پھر ہم اس بات سے ڈرگئے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھیں وہ دروازہ کون تھا؟ ہم نے مسروق سے کہا : آپ ان ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھیں انھوں نے پوچھا تو ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( وہ دروازہ ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( تھے ).
This hadith has been narrated on the authority of Hudhaifa رضی اللہ عنہ through other chains of transmitters also.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید اشجع نے بیان کیا , وکیع جریر عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عیسیٰ سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابو معاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور شقیق سے اعمش اور ان سے عیسیٰ کی حدیث میں یہ ( جملہ ) ہے کہا : میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ۔
Hudhaifa رضی اللہ عنہ reported:
Umar رضی اللہ عنہ said: 'Who tell us about tribulation?'" And he narrated a similar Hadith (as no. 7268).
ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے جامع بن ابی راشد سے اور اعمش نے ابو وائل ( شقیق ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کون ہے جو ہمیں فتنے کے بارے میں حدیث بیان کرے گا؟اور ( پھر ) ا ن سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Jundub رضی اللہ عنہ reported:
I came on the day of Jara`a that a person was (found) sitting. I said: They would shed their blood today. That person said: By Allah not at all. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it, and I have heard a hadith of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) which I am narrating to you in this connection. I said: You are a bad seat fellow. I have been opposing you since morning and you are listening to me in spite of the fact that you have heard a hadith from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (contrary to my statement). I myself felt that there was no use of this annoyance. (He could tell me earlier that it was a hadith of the Prophet (may peace be upon him], and I would not have opposed him at all.) I turned my face toward him and asked him and he was Hadrat Hudhaifa رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے ابن عون نے بیان کیا, محمد ( بن سیرین ) سے روایت ہے انھوں نے کہا : حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا
میں جرعہ کے دن وہاں آیا تو ( وہاں ) ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے کہا : آج یہاں بہت خونریزی ہو گی ۔ اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم!ہر گز نہیں ہو گی ۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم!ضرورہو گی اس نے کہا : واللہ !ہر گز نہیں ہو گی ، میں نے کہا واللہ!ضرورہوگی اس نے کہا : واللہ!ہرگز نہیں ہو گی ، یہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو آپ نے مجھے ارشاد فرمائی تھی ۔ میں نے جواب میں کہا : آج تم میرے لیے آج کے بد ترین ساتھی ( ثابت ہوئے ) ہو ۔ تم مجھ سے سن رہے ہو کہ میں تمھاری مخالفت کرر ہا ہوں اور تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہےا س کی بنا پر مجھے روکتے نہیں؟پھر میں نے کہا : یہ غصہ کیسا؟چنانچہ میں ( ٹھیک طرح سے ) ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Last Hour would not come before the Euphrates uncovers a mountain of gold, for which people would fight. Ninety-nine out of each one hundred would die but every man amongst them would say that perhaps he would be the one who would be saved (and thus possess this gold).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے ہمیں سہیل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت نہیں آئے گی ۔ یہاں تک کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا ۔ اس پر ( لڑتے ہوئے ) ہر سو میں سے ننانوے لوگ مارے جائیں گے اور ان ( لڑنے والوں ) میں سے ہر کوئی کہے گا ۔ شاید میں ہی بچ جاؤں گا ۔ ( اور سارے سونے کا مالک بن جاؤں گا ۔ )
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters but with this addition:
My father said: If you see that, do not even go near it.
مجھ سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا, روح نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی اور مزید کہا
تو میرے والد نے کہا : اگر تم اس پہاڑ کو دیکھ لو تو اس کے قریب بھی مت جانا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Last Hour would not come unless the Euphrates would uncover a treasure of gold, so he who finds it should not take anything out of that.
ہم سے ابومسعود سہل بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عقبہ بن خالد السکونی نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن کی سند سے, حفص بن عاصم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عنقریب دریائے فرات سونے کے ایک خزانے کو ظاہر کردےگا جو شخص وہاں موجودہو تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ۔ "