The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour
كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ
Chapter 53
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Euphrates would soon uncover a mountain of gold but he who is present there should not take anything from that.
ہم سے سہل بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے عقبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، وہ ابو الزناد سے, عبد الرحمٰن اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عنقریب دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کردےگا ۔ جو شخص وہاں موجود ہووہ اس میں سے کچھ نہ لے ۔ "
`Abdullah bin Harith bin Naufal reported:
I was standing along with Ubayy bin Ka`b رضی اللہ عنہ and he said: The opinions of the people differ in regard to the achievement of worldly ends. I said: Yes, of course. Thereupon he said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Euphrates would soon uncover a mountain of gold and when the people would bear of it they would flock towards it but the people who would possess that (treasure) (would say): If we allow these persons to take out of it they would take away the whole of it. So they would fight and ninety-nine out of one hundred would be killed. Abu Kamil in his narration said: I and Ubayy bin Ka`b رضی اللہ عنہ stood under the shade of the battlement of Hassan.
ابو کامل فضیل بن حسین اور ابو معن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابومعن کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبد الحمید بن جعفر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے میرے والد نے سلیمان بن یسار سے خبردی ، انھوں نے عبد اللہ بن حارث بن نوفل سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا تو انھوں نےکہا : دنیا کی طلب میں لوگوں کی گردنیں مسلسل ایک دوسرے سے مختلف ( اور باہمی جھگڑے اور عداوتیں جاری ) رہیں گی ۔ میں نے کہا : ہاں ( بالکل ایسے ہی ہو گا ) انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" ( وہ و قت ) قریب ہے کہ دریائےفرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کرے گا ۔ جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل نکلیں گے ۔ جو لوگ اس ( پہاڑ ) کے قریب ہوں گےوہ کہیں گے ۔ اگر ہم نے ( دوسرے ) لوگوں کو اس میں سے ( سونا ) لےجانے کی اجازت دے دی تو وہ سب کا سب لے جائیں گے کہا : وہ اس پر جنگ آزماہوں کے تو ہر سو میں سے ننانوے قتل ہو جائیں گے ۔ ابو کامل نے اپنی حدیث میں ( اس طرح ) کہا : انھوں نے کہا : میں اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قلعہ حسان کے سائے میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Iraq would withhold its dirhams and qafiz; Syria would withhold its mudd and dinar and Egypt would withhold its irdab and dinar and you would recoil to that position from where you started and you would recoil to that position from where you started and you would recoil to that position from where you started, the flesh and blood of Abu Huraira رضی اللہ عنہ would bear testimony to it.
ہم سے عبید بن یعش اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا - اور قول عبید کا ہے - انہوں نے کہا : ہم سے خالد بن خالد کے موکل یحییٰ بن آدم بن سلیمان نے بیان کیا : ہم سے زہیر نے سہیل بن کی سند سے بیان کیا , ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( میں دیکھ رہا ہوں کہ ) عراق نے اپنے درہم اور قفیر کو روک لیا ہے اور شام نے اپنا مدی اور دینار روک لیاہے اور مصر نے اپنا اردب اور دینار روک لیا ہے اور تم وہیں پہنچ گئے ہو جہاں سے تمھارا آغاز تھا اور تم وہیں پہنچ گئے ہو جہاں سے تمھارا آغاز تھا ۔ اور تم وہیں پہنچ گئےہو ۔ جہاں تمھارا آغاز تھا ۔ اس پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا گوشت اور خون گواہ ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Last Hour would not come until the Romans would land at al-A'maq or in Dabiq. An army consisting of the best (soldiers) of the people of the earth at that time will come from Medina (to counteract them). When they will arrange themselves in ranks, the Romans would say: Do not stand between us and those (Muslims) who took prisoners from amongst us. Let us fight with them; and the Muslims would say: Nay, by Allah, we would never get aside from you and from our brethren that you may fight them. They will then fight and a third (part) of the army would run away, whom Allah will never forgive. A third (part of the army) which would be constituted of excellent martyrs in Allah's eye, would be killed and the third who would never be put to trial would win and they would be conquerors of Constantinople. And as they would be busy in distributing the spoils of war (amongst themselves) after hanging their swords by the olive trees, the Satan would cry: The Dajjal has taken your place among your family. They would then come out, but it would be of no avail. And when they would come to Syria, he would come out while they would be still preparing themselves for battle drawing up the ranks. Certainly, the time of prayer shall come and then Jesus (peace be upon him) son of Mary would descend and would lead them in prayer. When the enemy of Allah would see him, it would (disappear) just as the salt dissolves itself in water and if he (Jesus) were not to confront them at all, even then it would dissolve completely, but Allah would kill them by his hand and he would show them their blood on his lance (the lance of Jesus Christ).
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا ہم سے سہیل نے اپنے والد سے بیان کیا, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہو گی ، یہاں تک کہ رومی ( عیسائی ) اعماق ( شام میں حلب اور انطاکیہ کے درمیان ایک پر فضا علاقہ جو دابق شہر سے متصل واقع ہے ) یا دابق میں اتریں گے ۔ ان کے ساتھ مقابلے کے لیے ( دمشق ) شہر سے ( یامدینہ سے ) اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں کا ایک لشکر روانہ ہو گا جب وہ ( دشمن کے سامنے ) صف آراءہوں گے تو رومی ( عیسائی ) کہیں گے تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنھوں نے ہمارے لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے ہم ان سے لڑیں گے تو مسلمان کہیں گے ۔ اللہ کی قسم!نہیں ہم تمھارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے ۔ چنانچہ وہ ان ( عیسائیوں ) سے جنگ کریں گے ۔ ان ( مسلمانوں ) میں سے ایک تہائی شکست تسلیم کر لیں گے اللہ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا اور ایک تہائی قتل کر دیے جائیں گے ۔ وہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہداء ہوں گے اور ایک تہائی فتح حاصل کریں گے ۔ وہ کبھی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے ۔ ( ہمیشہ ثابت قدم رہیں گے ) اور قسطنطنیہ کو ( دوبارہ ) فتح کریں گے ۔ ( پھر ) جب وہ غنیمتیں تقسیم کر رہے ہوں گے اور اپنے ہتھیار انھوں نے زیتون کے درختوں سے لٹکائے ہوئے ہوں گے تو شیطان ان کے درمیان چیخ کر اعلان کرے گا ۔ مسیح ( دجال ) تمھارےپیچھے تمھارے گھر والوں تک پہنچ چکا ہے وہ نکل پڑیں گے مگر یہ جھوٹ ہو گا ۔ جب وہ شام ( دمشق ) پہنچیں گے ۔ تووہ نمودار ہو جا ئے گا ۔ اس دوران میں جب وہ جنگ کے لیے تیاری کررہے ہوں گے ۔ صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے تو نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے تو ان کا رخ کریں گے پھر جب اللہ کا دشمن ( دجال ) ان کو دیکھے گاتو اس طرح پگھلےگا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے اگر وہ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ پگھل کر ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے ان ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کے ہاتھ سے قتل کرائے گااور لوگوں کو ان کے ہتھیارپر اس کا خون دکھائےگا ۔
Mustaurid al-Qurashi رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Last Hour would come (when) the Romans would form a majority amongst people. 'Amr said to him (Mustaurid Qurashi): See what you are saying? He said: I say what I heard from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Thereupon he said: If you say that, it is a fact for they have four qualities. They have the patience to undergo a trial and immediately restore themselves to sanity after trouble and attack again after flight. They (have the quality) of being good to the destitute and the orphans, to the weak and, fifthly, the good quality in them is that they put resistance against the oppression of kings.
ہم سے عبد الملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا, موسیٰ بن علی نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا : حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سامنے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " قیامت آئے گی تورومی ( عیسائی ) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے ۔ : " حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : دیکھ لوتم کیا کہہ رہے ہو ۔ انھوں نے کہا : میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے ۔ ( حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اگر تم نے یہ کہا ہے تو ان میں چار خصلتیں ہیں وہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے زیادہ برد بار ہیں اور مصیبت کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد اس سے سنبھلتے ہیں اور پیچھے ہٹنے کے بعد سب لوگوں کی نسبت جلد دوبارہ حملہ کرتے ہیں اور مسکینوں یتیموں اور کمزوروں کے لیے سب لوگوں کی نسبت بہتر ہیں اور پانچویں خصلت بہت اچھی اور خوبصورت ہے وہ سب لوگوں سے بڑھ کر بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں ۔
Mustaurid Qurashi رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Last Hour would come when the Romans would form a majority amongst people. This reached 'Amr bin al-'As رضی اللہ عنہ and he said: What are these ahadith which are being transmitted from you and which you claim to have heard from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? Mustaurid رضی اللہ عنہ said to him: I stated only that which I heard from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Thereupon 'Amr رضی اللہ عنہ said: If you state this (it is true), for they have the power of tolerance amongst people at the time of turmoil and restore themselves to sanity after trouble, and are good amongst people so far as the destitute and the weak are concerned.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے ابو شریح نے بیان کیا, عبد الکریم بن حارث نے ابو شریح کو حدیث بیان کی کہ حضرت مستوردقرشی رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قیامت آئے گی تورومی ( عیسائی ) لوگوں میں سب سے زیادہ ہوں گے ۔ " کہا : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو انھوں نے ان سے کہا : یہ کیسی احادیث ہیں جو تمھاری طرف سے بیان کی جارہی ہیں ۔ کہ تم ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہو؟حضرت مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے وہی کچھ کہا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : ( مستورد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا کہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر تم یہ کہہ رہے ہو ( توسنو! ) یقیناًوہ آزمائش کے وقت سب لوگوں سے بڑھ کر بردبار ہیں مصیبت پیش آنے پر سب لوگوں سے زیادہ سخت جان ہیں اور اپنے مسکینوں اور کمزوروں کے حق میں سب لوگوں کی نسبت بہترہیں ۔
Yusair bin Jabir رضی اللہ عنہ reported:
Once there blew a red storm in Kufah that there came a person who had nothing to say but (these words): `Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہ , the Last Hour has come. He (`Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہ ) was sitting reclining against something, and he said: The Last Hour would not come until shares of inheritance are not distributed and there is no rejoicing over spoils of war. Then he said pointing towards Syria, with the gesture of his hand like this: The enemy shall muster strength against Muslims and the Muslims will muster strength against them (Syrians). I said: You mean Rome? And he said: Yes, and there would be a terrible fight and the Muslims would prepare a detachment (for fighting unto death) which would not return but victorious. They will fight until night will intervene them; both the sides will return without being victorious and both will be wiped out. The Muslims will again prepare a detachment for fighting unto death so that they may not return but victorious. When it would be the fourth day, a new detachment out of the remnant of the Muslims would be prepared and Allah will decree that the enemy should be routed. And they would fight such a fight the like of which would not be seen, so much so that even if a bird were to pass their flanks, it would fall down dead before reaching the end of them. (There would be such a large scale massacre) that when counting would be done, (only) one out of a hundred men related to one another would be found alive. So what can be the joy at the spoils of such war and what inheritance would be divided! They would be in this very state that they would hear of a calamity more horrible than this. And a cry would reach them: The Dajjal has taken your place among your offspring. They will, therefore, throw away what would be in their hands and go forward sending ten horsemen, as a scouting party. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I know their names and the names of their forefathers and the color of their horses. They will be the best horsemen on the surface of the earth on that day or amongst the best horsemen on the surface of the earth on that day. Ibn Abi Shaybah said in his narration (instead of Yasir): It was narrated from Asir bin Jabir.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور علی بن حجر نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے ابن علیہ سے روایت کی ۔ اور الفاظ ابن حجرکےہیں ۔ کہا : ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حمید بن بلال سے ، انھوں نےابو قتادہ عدوی سے اور انھوں نے یسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی تو ایک شخص آیا اس کا تکیہ کلام ہی یہ تھا ۔ عبد اللہ بن مسعود !قیامت آگئی ہے ۔ وہ ( عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نیک لگائے ہوئے تھے ( یہ بات سنتے ہی ) اٹھ کر بیٹھ گئے ، پھر کہنے لگے ۔ قیامت نہیں آئے گی ۔ یہاں تک کہ نہ میراث کی تقسیم ہو گی نہ غنیمت حاصل ہونے کی خوشی پھر انھوں نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کا رخ شام کی طرف کیا اور کہا : دشمن ( غیر مسلم ) اہل اسلام کے خلاف اکٹھے ہو جا ئیں گے اور اہل اسلام ان کے ( مقابلے کے ) لیے اکٹھے ہو جا ئیں گے ۔ میں نے کہا : آپ کی مراد رومیوں ( عیسائیوں ) سے ہے؟انھوں نے کہا : ہاں پھر کہا : تمھاری اس جنگ کے زمانے میں بہت زیادہ پلٹ پلٹ کر حملے ہوں گے ۔ مسلمان موت کی شرط قبول کرنے والے دستے آگے بھیجیں کے کہ وہ غلبہ حاصل کیے بغیر واپس نہیں ہوں گے ( وہیں اپنی جانیں دے دیں گے ۔ ) پھر وہ سب جنگ کریں گے ۔ حتیٰ کہ رات درمیان میں حائل ہو جائے گی ۔ یہ لو گ بھی واپس ہوجائیں گے اور وہ بھی ۔ دونوں ( میں سےکسی ) کوغلبہ حاصل نہیں ہو گا ۔ اور ( موت کی ) شرط پرجانے والے سب ختم ہو جا ئیں گے ۔ پھر مسلمان موت کی شرط پر ( جانے والے دوسرے ) دستےکو آکے کریں گے کہ وہ غالب آئے بغیر واپس نہیں آئیں گےپھر ( دونوں فریق ) جنگ کریں گے ۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی ۔ یہ بھی واپس ہو جا ئیں اور وہ بھی کوئی بھی غالب نہیں ( آیا ) ہو گااورموت کی شرط پر جانے والے ختم ہوجائیں گے ۔ پھر مسلمان موت کے طلبگاروں کادستہ آگے کریں گے ۔ اور شام تک جنگ کریں گے ، پھر یہ بھی واپس ہو جا ئیں گے اور وہ بھی کوئی بھی غالب نہیں ( آیا ) ہو گا اور موت کے طلبگار ختم ہو جا ئیں گے ۔ جب چوتھا دن ہو گا تو باقی تمام اہل اسلام ان کے خلاف انھیں کے ، اللہ تعالیٰ ( جنگ کے ) چکرکوان ( کافروں ) کے خلاف کردے گا ۔ وہ سخت خونریزجنگ کریں گے ۔ انھوں نے یا تویہ الفاظ کہے ۔ اس کی مثال نہیں دیکھی جائے گی ۔ یہاں تک کہ پرندہ ان کے پہلوؤں سے گزرے گاوہ ان سے جونہی گزرےگامرکز جائے گا ۔ ( ہوابھی اتنی زہریلی ہو جا ئےگی ۔ ) ایک باپ کی اولاد اپنی گنتی کرے گی ، جو سوتھے ، تو ان میں سے ایک کے سواکوئی نہ بچا ہوگا ۔ ( اب ) وہ کس غنیمت پر خوش ہوں گے ۔ اور کیسا ورثہ ( کن وارثوں میں ) تقسیم کریں گے ۔ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک ( نئی ) مصیبت کے بارے میں سنیں گے ۔ جو اس سے بھی بڑی ہوگی ۔ ان تک یہ زوردار پکار پہنچےگی ۔ کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں تک پہنچ گیا ہے ۔ ان کے ہاتھوں میں جو ہوگا ۔ سب کچھ پھینک دیں گے اور تیزی سے آئیں گے اور دس جاسوس شہسوار آگے بھیجیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں ان کے اور ان کے آباء کے نام اور ان کےگھوڑوں ( سواریوں ) کے رنگ تک پہچانتا ہوں ۔ وہ اسوقت روئے زمین پر بہترین شہسوار ہوں گے ۔ یا ( فرمایا : ) روئے زمین کے بہترین شہسواروں میں سے ہوں گے ۔ "" ابن ابی شیبہ نے ا پنی روایت میں ( یسیر کے بجائے ) کہا : اسیر بن جابر سے مروی ہے ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
I was in the company of Ibn Mas'ud that there blew a red storm. The rest of the hadith is the same.
محمد بن عبید الغبری نے مجھ سے کہا, حماد بن زید نے ایوب سے ، انھوں نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے ابو قتادہ سے اور انھوں نے یسیرین جابر سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ
سرخ آندھی آئی ، پھر اسی کے مطابق حدیث بیان کی ، البتہ ابن علیہ کی روایت مکمل اورسیر حاصل ہے ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
I was in the house of 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ and the house was fully packed that a red storm blew in Kufah.
شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے ابو قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسیر بن جابرسے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے جبکہ گھر بھرا ہوا تھا ۔ کہا
اس وقت کوفہ میں سرخ آندھی چلی ، پھر ابن علیہ کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Nafi' bin Utba رضی اللہ عنہ reported:
We were with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in an expedition that there came a people to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) from the direction of the west. They were dressed in woollen clothes and they stood near a hillock and they met him as Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was sitting. I said to myself: Better go to them and stand between him and them that they may not attack him. Then I thought that perhaps there had been going on secret negotiation amongst them. I however, went to them and stood between them and him and I remember four of the words (on that occasion) which I repeat (on the fingers of my hand) that he (Allah's Messenger) said: You will attack Arabia and Allah will enable you to conquer it, then you would attack Persia and He would make you to conquer it. Then you would attack Rome and Allah will enable you to conquer it, then you would attack the Dajjal and Allah will enable you to conquer him. Nafi' said: Jabir رضی اللہ عنہ, we thought that the Dajjal would appear after Rome (Syrian territory) would be conquered.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا, عبدالملک بن عمیر نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم ایک جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے جو اون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ٹیلے کے پاس آ کر ملے ۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ۔ میرے دل نے کہا کہ تو چل اور ان لوگوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں جا کر کھڑا ہو ، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ فریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالیں ۔ پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپکے سے کچھ باتیں ان سے کرتے ہوں ( اور میرا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرے ) ۔ پھر میں گیا اور ان لوگوں کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کھڑا ہو گیا ۔ پس میں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں یاد کیں ، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہلے تو عرب کے جزیرہ میں ( کافروں سے ) جہاد کرو گے ، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا ۔ پھر فارس ( ایران ) سے جہاد کرو گے ، اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح کر دے گا پھر نصاریٰ سے لڑو گے روم والوں سے ، اللہ تعالیٰ روم کو بھی فتح کر دے گا ۔ پھر دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی فتح کر دے گا ( یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا معجزہ ہے ) ۔ نافع نے کہا کہ اے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے کے بعد ہی نکلے گا ۔
Hudhaifa bin Usaid al-Ghifari رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to us all of a sudden as we were (busy in a discussion). He said: What do you discuss about? They (the Companions) said. We are discussing about the Last Hour. Thereupon he said: It will not come until you see ten signs before and (in this connection) he made a mention of the smoke, Dajjal, the beast, the rising of the sun from the west, the descent of Jesus son of Mary (Allah be pleased with him), the Gog and Magog, and land-slides in three places, one in the east, one in the west and one in Arabia at the end of which fire would burn forth from the Yemen, and would drive people to the place of their assembly.
ہم سے ابوخیثمہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر مکی نے بیان کیا، اور لفظ زہیر کا ہے۔ اسحاق نے کہا: ہمیں اسحاق نے خبر دی، اور باقی دو نے کہا, سفیان بن عینیہ نے فرات قزازسے ، انھوں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نےحضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم باتیں کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیا باتیں کر رہے ہو؟ ہم نے کہا کہ قیامت کا ذکر کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ دس نشانیاں اس سے پہلے نہیں دیکھ لو گے ۔ پھر ذکر کیا دھوئیں کا ، دجال کا ، زمین کے جانور کا ، سورج کے مغرب سے نکلنے کا ، عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے کا ، یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ، تین جگہ خسف کا یعنی زمین کا دھنسنا ایک مشرق میں ، دوسرے مغرب میں ، تیسرے جزیرہ عرب میں ۔ اور ان سب نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی ان کے ( میدان ) محشر کی طرف لے جائے گی ۔
Hudhaifa bin Usaid رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was in an apartment and we were beneath that, that he peeped in and said to us: What are you discussing about? We said: (We are discussing about the Last) Hour. Thereupon he said: The Last Hour would not come until the ten signs appear: land-sliding in the east, and land-sliding in the west, and land-sliding in the peninsula of Arabia, the smoke, the Dajjal, the beast of the earth, Gog and Magog, the rising of the sun from the west and the fire which would emit from the lower part of 'Adan. Shu'ba said that 'Abdul-'Aziz bin Rufai' reported on the authority of Abu Tufail who reported on the authority of Abu Sariha رضی اللہ عنہ a hadith like this that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not make a mention of (the tenth sign) but he said that out of the ten one was the descent of Jesus, son of Mary (peace be upon him), and in another version it is the blowing of the violent gale which would drive the people to the ocean.
عبیداللہ بن معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نےفرات قزاز سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو طفیل سے ، انھوں نے حضرت ابو سریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیچے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : "" تم کس بات کا ذکر کررہے ہو؟ "" ہم نے عرض کی قیامت کا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب تک دس نشانیاں ظاہر نہیں ہوں گی ، قیامت نہیں آئے گی : مشرق میں زمین کا دھنسنا ، مغرب میں زمین کا دھنسنا اور جزیرہ عرب میں زمین کا دھنسنا ، دھواں ، دجال ، زمین کا چوپایہ ، یاجوج ماجوج ، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اورایک آگ جو عدن کے آخری کنارے سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانکے گی ۔ "" شعبہ نے کہا : عبدالعزیز بن رفیع نے مجھے بھی ابو طفیل سے اور انھوں نے ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے اسی کےمانند روایت کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ( موقوف حدیث بیان کی ) اور ( مجھے حدیث سنانے والے فرات اور عبدالعزیز ) دونوں میں سے ایک نے دسویں ( نشانی ) کے بارے میں کہا : عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کانزول اور دوسرے نے کہا : ایک ہوا ( آندھی ) ہوگی جو لوگوں کو سمندر میں پھینکے گی ۔
Abu Sariha رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was in an (upper) apartment and we were standing lower to him and discussing (about the Last Hour). The rest of the hadith is the same, and Shu'ba said: I think he also said these words: The fire would descend along with them where they would land and where they would take rest (during midday (it would also cool down for a while). Shu'ba said: This hadith has been transmitted to me through Abu Tufail رضی اللہ عنہ and Abu Sariha رضی اللہ عنہ and none could trace it back directly to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). However, there is a mention of the descent of Jesus Christ son of Mary in one version and in the other there is a mention of the blowing of a violent gale which would drive them to the ocean.
اور محمد بن بشار نے ہم سے کہا, محمد بن جعفر نےکہا : ہمیں شعبہ نے فرات سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو طفیل رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو سریحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر تے ہوئے سنا : انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے اوراہم اس کے نیچے باتیں کررہے تھے ، اور ( آگے ) اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔ شعبہ نے کہا : اور میرا خیال ہے ( کہ فرات نے ) کہا : وہ جب قیام کے لئے رکیں گے تو وہ ( آگ ) بھی ان کے ساتھ رک جائے گی اور جب وہ دوپہر کو آرام کریں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ سکون پذیر ہوجائے گی ۔ شعبہ نےکہا : مجھے کسی شخص نے ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے حضر ت ابو سریحۃ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی اور اسے مرفوع بیان نہیں کیا ۔ کہا : ان دونوں ( کسی شخص اورفرات قزاز ) میں سے ایک نے کہا : "" عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول "" اور ددسرے نے کہا : "" ہواجو انھیں سمندر میں لاڈالے گی ۔ ""
Another chain of transmitters reports the like of the previous two chains. Abu Sariha رضی اللہ عنہ reported: We were discussing (the Last Hour) that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) looked towards us. The rest of the hadith is the same and the tenth (sign) was the descent of Jesus Christ son of Mary, and Shu'ba said: 'Abdul-'Aziz did not trace it directly to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
محمد بن مثنیٰ نے بھی ہمیں یہی ( حدیث ) بیان کی ، کہا : ابو نعمان حکم بن عبداللہ عجلی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : شعبہ نے ہمیں فرات سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کررہے تھے ، کہا : ہم باتیں کررہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر سے جھانک کرہمیں دیکھا ، ( اس کے بعد ) معاذ اور ابن جعفر کی حدیث ہے ۔ ابن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابو نعمان حکیم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالعزیز بن رفیع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ، کہا : دسویں ( علامت ) حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہے ۔ شعبہ نے کہا : عبدالعزیز نےاسے مر فوع بیان نہیں کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Last Hour would not come until fire emits from the earth of Hijaz which would illuminate the necks of the camels of the Busra.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس اور عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ابن مسیب نے کہا : مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ارض حجاز سے ایک آگ نکلے گی جو ( شام کے شہر ) بصری میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کردے گی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: (The Last Hour would not come) until the habitations of Medina would extend to Ihab or Yahab. Zubair said: I said to Suhail how far these were from Medina. He said: So and so miles.
مجھے عمرو الناقد نے بتایا, اسود بن عامر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہیر نے سہیل بن ابی صالح سے حدیث سنائی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ( مدینہ منورہ کے ) گھر اباب یایہاب ( کے مقام تک ) پہنچ جائیں گے ۔ "" زبیر نے کہا : میں نے سہیل سے پوچھا : یہ جگہ مدینہ سے کتنے فاصلے پر ہے؟انھوں نے کہا : اتنے اتنے میل ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The famine would not break out because of drought, but there would be famine despite heavy rainfall as nothing would grow from the earth.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے یعقوب نے، یعنی ابن عبدالرحمٰن نے، ہم سے سہیل کے واسطہ سے اپنے والد سے بیان کیا, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قحط یہ نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو بلکہ قحط یہ ہے کہ بارش ہو ، پھر بارش ہو لیکن زمین کوئی چیز نہ اُگائے ۔ "
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying (in a state) that he had turned his face towards the east: Behold, turmoil would appear from this side, from where the horns of Satan would appear.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناجبکہ آپ مشرق کارخ کیے ہوئے فرمارہے تھے : " سنو! فتنہ یہاں ہوکا ، سنو!یہاں ہوکا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتاہے ۔ "
Ibn `Umar رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood by the door (of the apartment of) Hafsa رضی اللہ عنہا and, pointing towards the east, he said: The turmoil would appear from this side, viz. where the horns of Satan would appear, and he uttered these words twice or thrice and `Ubaidullah bin Sa`id in his narration said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had been standing by the door of `A'isha رضی اللہ عنہا .
عبیداللہ بن عمر قواریری ، محمد بن مثنیٰ اور عبیداللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، ان سب نے یحییٰ ( بن سعید ) قطان سے روایت کی ، قواریری نے کہا : مجھے یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمارہے تھے : "" فتنہ اس سمت میں ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے ۔ "" یہ بات آپ نے دو یاتین بار ارشاد فرمائی ۔ عبیداللہ بن سعید نے اپنی روایت میں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے تھے ۔
Salim bin Abdullah reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), while turning his face towards the east, said: The turmoil would appear from this side; verily, the turmoil would appear from this side; verily, the turmoil would appear from this side - the side where appear the horns of Satan.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جبکہ آپ نے مشرق کی طرف ر خ کیا ہوا تھا : " یاد رکھو! فتنہ یہاں ہے ، یاد رکھو! فتنہ یہا ہے ، یاد رکھو! فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے ۔ "