Back to Sahih Muslim

The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour

كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ

Chapter 53

Hadith 7375
Sahih
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ وَالسِّيَاقُ لِعَبْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلًا عَنْ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا قَالَ يَأْتِي وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَنْتَهِي إِلَى بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فَيَقُولُ لَهُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْآنَ قَالَ فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ.
English

Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day gave a detailed account of the Dajjal and in that it was also included: He would come but would not be allowed to enter the mountain passes to Medina. So he will alight at some of the barren tracts near Medina, and a person who would be the best of men or one from amongst the best of men would say to him: I bear testimony to the fact that you are Dajjal about whom Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) had informed us. The Dajjal would say: What is your opinion if I kill this (person), then I bring him back to life; even then will you harbour doubt in this matter? They would say: No. He would then kill (the man) and then bring him back to life. When he would bring that person to life, he would say: By Allah, I had no better proof of the fact (that you are a Dajjal) than at the present time (that you are actually so). The Dajjal would then make an attempt to kill him (again) but he would not be able to do that.

Urdu

مجھ سے عمرو ناقد، حسن الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا اور ان کا قول بھی اسی طرح ہے۔ سیاق عبد سے ہے، انہوں نے کہا: اس نے مجھ سے بیان کیا۔ باقی دونوں نے کہا: یعقوب نے جو ابراہیم بن سعد کے بیٹے ہیں، ہم سے بیان کیا:صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہا : مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ دجال کے بارے میں لمبی گفتگو فرمائی ۔ اس میں آپ نے ہمارے سامنے جو بیان کیا اس میں ( یہ بھی ) تھا کہ آپ نے فرمایا : " وہ آئے گا اس پرمدینہ کے راستے حرام کردیےگئے ہوں گے ۔ وہ مدینہ سے متصل ایک نرم شوریلی زمین تک پہنچے گا اس کے پاس ایک آدمی ( مدینہ سے ) نکل کر جائے گا ۔ جولوگوں میں سے بہترین یا بہترین لوگوں میں سے ایک ہو گا اور اس سے کہے گا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو میں ہمیں بتایا تھا ۔ تودجال ( اپنے ساتھ موجود لوگوں سے ) کہے ) گا تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اس شخص کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کردوں تو کیا اس معاملے میں تمھیں کوئی شک ( باقی ) رہے گا؟وہ کہیں گے نہیں ۔ وہ اس شخص کو قتل کرے گا اور دوبارہ زندہ کردے گا ۔ جب وہ اس شخص کو زندہ کرے گاتو وہ اس سے کہے گا ۔ اللہ کی قسم!تمھارے بارے میں مجھے اب سے پہلے اس سے زیادہ بصیرت کبھی حاصل نہیں تھی ۔ فرمایا : دجال اسے قتل کرنا چاہے گا لیکن اسے اس شخص پر تسلط حاصل نہیں ہو سکے گا ۔

Hadith 7376
Sahih
قَالَ أَبُو إِسْحَقَ يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَام و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
English

This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters.

Urdu

ابو اسحاق نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ شخص خضر علیہ السلام ہے, مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن الدارمی نے بیان کیا، ہم سے ابو الایمان نے بیان کیا, شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

Hadith 7377
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ فَيَقُولُونَ لَهُ أَيْنَ تَعْمِدُ فَيَقُولُ أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ قَالَ فَيَقُولُونَ لَهُ أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا فَيَقُولُ مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ فَيَقُولُونَ اقْتُلُوهُ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ قَالَ فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ فَيَقُولُ خُذُوهُ وَشُجُّوهُ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا قَالَ فَيَقُولُ أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِي قَالَ فَيَقُولُ أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ قَالَ ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ قُمْ فَيَسْتَوِي قَائِمًا قَالَ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ أَتُؤْمِنُ بِي فَيَقُولُ مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً قَالَ ثُمَّ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ.
English

Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The Dajjal would come forth and a person from amongst the believers would go towards him and the armed men of the Dajjal would meet him and they would say to him: Where do you intend to go? He would say: I intend to go to this one who is coming forth. They would say to him: Don't you believe in our Lord? He would say: There is nothing hidden about our Lord. They would say: Kill him. Then some amongst them would say: Has your master (Dajjal) not forbidden you to kill anyone without (his consent)? And so they would take him to the Dajjal and when the believer would see him, he would say: O people. he is the Dajjil about whom Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has informed (us). The Dajjal would then order for breaking his head and utter (these words): Catch hold of him and break his head. He would be struck even on his back and on his stomach. Then the Dajjal would ask him: Don't you believe in me? He would say: You are a false Masih. He would then order him to be torn (into pieces) with a saw from the parting of his hair up to his legs. After that the Dajjal would walk between the two pieces. He would then say to him: Stand, and he would stand erect. He would then say to him: Don't you believe in me? And the person would say: It has only added to my insight concerning you (that you are really the Dajjal). He would then say: O people, he would not behave with anyone amongst people (in such a manner) after me. The Dajjal would try to catch hold of him so that he should kill him (again). The space between his neck and collar bone would be turned into copper and he would find no means to kill him. So he would catch hold of him by his hand and feet and throw him (into the air) and the people would think as if he had been thrown in the Hell-Fire whereas he would be thrown in Paradise. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He would be the most eminent amongst persons in regard to martyrdom in the eye of the Lord of the world.

Urdu

مجھ سے محمد بن عبداللہ بن قحزاد نے اہل مرو سے بیان کیا: ہم سے عبداللہ بن عثمان نے ابوحمزہ کی سند سے، قیس بن وہب کی سند سے اور ابو وداک نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دجال نکلےگا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گااسے اسلحہ بردارمحافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردارمحافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے ۔ کہا : جانا چاہتے ہو؟وہ کہے گا ۔ میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو ( اب ) نمودار ہوا ہے وہ اس سے کہیں گے ۔ کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے ؟وہ کہے گا ، ہمارے رب ( کی ربوبیت اور صفات ) میں کوئی پوشیدگی نہیں وہ ( اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے ) کہیں گے ۔ اس کو قتل کردو ۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے ۔ کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس ( کے سامنے پیش کرنے ) سےپہلے کسی کو قتل نہ کرو ۔ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے ۔ وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا لوگو!یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا ۔ فرمایا : تودجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس ( کے اعضاء ) کو کھینچ کر باندھ دیا جا ئے گا پھر وہ کہے گا ۔ اسے پکڑواور اس کاسر اور منہ توڑ دو ، تو ( مارمارکر ) اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کردی جائے گی ۔ فرمایا : پھر وہ ( دجال ) کہے گا ۔ کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤگے؟فرمایا : " تو وہ کہے گا تم جھوٹے ( بناوٹی ) مسیح ہو ۔ فرمایا : " پھر اس کے بارے میں حکم دیا جا ئے گا ۔ تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا ۔ یہاں تک کے اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے ۔ فرمایا : " پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا ۔ پھر اس سےکہے گا ۔ کھڑے ہوجاؤچنانچہ وہ سید ھا کھڑا ہو جا ئے گا ۔ فرمایا : وہ پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟وہ کہے گا ۔ ( اس سب کچھ سے ) تمھارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا ۔ فرمایا : پھر وہ شخص کہے گا لوگو!یہ ( دجال ) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا ۔ فرمایا : دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ( کاحصہ ) تانبے کا بنایا جا ئے گا وہ کسی طریقے سے ( اسے ذبح ) نہ کر سکے گا ۔ فرمایا ۔ تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کراسے پھینکےگا ۔ لوگ سمجھیں گےاس ( دجال ) نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ ( اصل میں وہ ) جنت میں ڈال دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شہادت میں رب العالمین کے سامنے یہ شخص سب لوگوں سے بڑا ہے ۔

Hadith 7378
Sahih
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ قَالَ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالْأَنْهَارَ قَالَ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ.
English

Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ reported:

No one asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) more about Dajjil than I asked him. He said: He should not be a source of worry to you for he would not be able to do any harm to you. I said: Allah's Messenger, it is alleged that he would have along with him (abundance of) food and water. Thereupon he said: He would be very insignificant in the eye of Allah (even) with all this.

Urdu

ہم سے شہاب بن عباد العبدی نے بیان کیا, ابراہیم بن حمید رؤاسی نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نےقیس بن ابی حازم سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا ۔ آپ نے فرمایا : " اس ( کے حوالے ) سے تمھیں کیا بات اتنا تھکا رہی ہے؟ وہ تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ کہا : میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ کہتے ہیں اس کے ہمراہ کھانے ( کےڈھیر ) اور ( پانی کے ) دریا ہوں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے نزدیک وہ اس سے حقیر تر ہے ( کہ ایسی چیزوں کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کر سکے ، )

Hadith 7379
Sahih
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ قَالَ وَمَا سُؤَالُكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ وَنَهَرٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ.
English

Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ reported:

None asked Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about Dajjal more than I asked him. I (one of the narrators other than Mughira bin Shu'ba) said: What did you ask? Mughira replied: I said that the people alleged that he would have a mountain load of bread and mutton and rivers of water. Thereupon he said: He would be more insignificant in the eye of Allah compared with all this.

Urdu

ہم سے سریج بن یونس نے بیان کیا, ہشیم نے اسماعیل سے انھوں نے قیس سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’تمھارے سوال کا ( سبب ) کیا ہے ؟ " کہا : میں نے عرض کی وہ ( لوگ ) کہتے ہیں اس کے ہمراہ روٹی اور گوشت کے پہاڑ اور پانی کا دریاہوگافرمایا : " وہ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ حقیرہے ۔ "

Hadith 7380
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ فَقَالَ لِي أَيْ بُنَيَّ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Isma'il through other chains of transmitters with a slight variation of wording.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، اور ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا اور ہم سے سفیان نے بیان کیا, ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا, وکیع ، جریر ، سفیان ، یزید بن ہارون اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ابراہیم بن حمید کی طرح روایت کی اور یزید کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے بیٹے ! "

Hadith 7381
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُ بِهِ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَكُونُ وَيَكُونُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا فَيَتَمَثَّلُ لَهُمْ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلَا تَسْتَجِيبُونَ فَيَقُولُونَ فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ قَالَ فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوْ الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ فَيُقَالُ مِنْ كَمْ فَيُقَالُ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَذَاكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ.
English

Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ reported:

A person came to him and said: What is this hadith that you narrate that the Last Hour would come at such and such time? Thereupon he said: Hallowed be Allah, there is no god but Allah (or the words to the same effect). I have decided that I would not narrate anything to anyone now. I had only said that you would see after some time an important event that the (sacred) House (Ka'ba) would be burnt and it would happen and definitely happen. He then reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The Dajjal would appear in my Ummah and he would stay (in the world) for forty - I cannot say whether he meant forty days, forty months or forty years. And Allah would then send Jesus son of Mary who would resemble 'Urwa bin Mas'ud رضی اللہ عنہ . He (Jesus Christ) would chase him and kill him. Then people would live for seven years that there would be no rancour between two persons. Then Allah would send cold wind from the side of Syria that none would survive upon the earth having a speck of good in him or faith in him but he would die, so much so that even if some amongst you were to enter the innermost part of the mountain, this wind would reach that place also and that would cause his death. I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Only the wicked people would survive and they would be as careless as birds with the characteristics of beasts. They would never appreciate the good nor condemn evil. Then Satan would come to them in human form and would say: Don't you respond? And they would say: What do you order us? And he would command them to worship the idols but, in spite of this, they would have abundance of sustenance and lead comfortable lives. Then the trumpet would be blown and no one would hear that but he would bend his neck to one side and raise it from the other side and the first one to hear that trumpet would be the person who would be busy in setting right the tank meant for providing water to the camels. He would swoon and the other people would also swoon, then Allah would send or He would cause to send rain which would be like dew and there would grow out of it the bodies of the people. Then the second trumpet would be blown and they would stand up and begin to look (around). Then it would be said: O people, go to your Lord, and make them stand there. And they would be questioned. Then it would be said: Bring out a group (out of them) for the Hell-Fire. And then it would be asked: How much? It would be said: Nine hundred and ninty-nine out of one thousand for the Hell-Fire and that would be the day which would make the children old because of its terror and that would be the day about which it has been said: On the day when the shank would be uncovered (lxviii. 42).

Urdu

عبید اللہ بن معاذ عنبری نے کہا , ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے یعقوببن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے سنا ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا

ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : یہ کیا حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں ۔ کہ فلاں فلاں بات ہونے تک قیامت قائم ہو جائے گی انھوں نے سبحان اللہ ! ۔ یا ۔ ۔ ۔ لاالہ الااللہ ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ اس جیسا کوئی کلمہ کہا : ( اورکہنے لگے ) میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ میں کسی کو کبھی کوئی بات بیان نہیں کروں گا ۔ میں نے یہ کہا تھا تم لوگ تھوڑے عرصے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے ۔ بیت اللہ کو جلا دیا جا ئےگا ۔ اور یہ ہوگا پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت میں دجال نمودار ہو گا اور چالیس مجھے یاد نہیں کہ چالیس دن ( فرمائے ) یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیں گے ۔ وہ اس طرح ہیں جیسے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ اسے ڈھونڈیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے پھر لوگ سات سال تک اس حالت میں رہیں گے ۔ کہ کوئی سے دو آدمیوں کے درمیان دشمنی تک نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہواچلائے گاتو روئے زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو گا ۔ مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کرے گی یہاں تک کہااگر تم میں سے کوئی شخص پہاڑ کے جگرمیں گھس جائے گا تو وہاں بھی وہ ( ہوا ) داخل ہو جا ئے گی ۔ یہاں تک کہ اس کی روح قبض کرلے گی ۔ " انھوں نے کہا : یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ آپ نے فرمایا : " پرندوں جیسا ہلکا پن اور درندوں جیسی عقلیں رکھنے والے بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے ۔ نہ اچھائی کو اچھا سمجھیں گے نہ برائی کو برا جانیں گے ۔ شیطان کوئی شکل اختیار کر کے ان کے پاس آئے گا اور کہے گا : " کیا تم میری بات پر عمل نہیں کروگے؟وہ کہیں گے ۔ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے ۔ ؟وہ انھیں بت پوجنے کا حکم دے گا وہ اسی حالت میں رہیں گے ان کا رزق اترتا ہوگا ان کی معیشت بہت اچھی ہو گی پھر صور پھونکا جائے گا ۔ جو بھی اسے سنے گا وہ گردن کی ایک جانب کو جھکائے گا اور دوسری جانب کو اونچا کرے گا ( گردنیں ٹیڑھی ہو جائیں گی ) سب سے پہلا شخص جواسے سنے گاوہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا ۔ وہ پچھاڑ کھا کر گر جائے گا ۔ اور دوسرے لوگ بھی گر ( کر مر ) جائیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بارش نازل فرمائےگا ۔ جو ایک پھوار کے مانند ہو گی ۔ یا سائے کی طرح ہو گی ۔ شک کرنے والے نعمان ( بن سالم ) ہیں اس سے انسانوں کے جسم اُگ آئیں گے ۔ پھر صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی ۔ تو وہ سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے ، ( زندہ ہو جا ئیں گے ) پھر کہا جا ئے گا لوگو! اپنے پروردگارکی طرف آؤ !اور ( فرشتوں سے کہا جائے گا ان کولاکھڑا کرو ان سے سوال پوچھے جائیں گے ۔ حکم دیا جا ئےگا ۔ آگ میں بھیجے جانے والوں کو ( اپنی صفوں سے ) باہرنکالو پوچھا جائے گا ۔ کتنوں میں سے ( کتنے؟ ) کہاجائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ انھوں نے کہا : تویہ وہ دن ہو گا جو بچوں کو بوڑھا کردے گا ۔ اور وہی دن ہو گا جب پنڈلی سے پردہ ہٹا ( کر دیدار جمال کرایا ) جائے گا ۔ "

Hadith 7382
Sahih
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِنَّكَ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا فَكَانَ حَرِيقَ الْبَيْتِ قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ.
English

Ya'qub bin 'Asim bin Urwa bin Mas'ud reported:

I heard a person saying to 'Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہ : You say that the Last Hour would come at such and such time, whereupon he said: I had made up my mind that I would not narrate anything to you. I only said: But you would soon see after some time a very significant affair, for example the burning of the House (Ka'ba). Shu'ba said like this and 'Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہ reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: The Dajjal would appear in my Ummah. And in another hadith (the words are): None would survive who would have even a speck of faith in his heart, but he would be dead. Muhammad bin Ja'far رضی اللہ عنہ reported that Shu'ba narrated to him this hadith many a time and I also read it out to him many a time.

Urdu

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا, محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا ، انھوں نے کہا

میں نے ایک شخص کو سنا ، اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے کہا : آپ یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ( بات پوری ہوجائے ) پر قیامت قائم ہوجائے گی ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث نہ سناؤں ، میں تو یہ کہاتھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا معاملہ دیکھو گے تو بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ ہوگیا ۔ شعبہ نے یہ الفاظ کہےیا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میری امت میں دجال نمودار ہوگا ۔ "" اور ( اس کے بعد محمد بن جعفر نے ) معاذ کی حدیث کےمانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں کہا : "" کوئی ا یک شخص بھی جس نے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو ، نہیں بچے کا مگر وہ ( ہوگا ) اس کی روح قبض کرلے گی ۔ "" محمد بن جعفر نے کہا : شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار سنائی اورمیں نے ( کئی بار ) اسے ان کے سامنے دہرایا ۔

Hadith 7383
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبٌ.
English

`Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہ reported:

I committed to memory a hadith from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and I did not forget it after I had heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: The first sign (out of the signs of the appearance of the Dajjal) would be the appearance of the sun from the west, the appearance of the beast before the people in the forenoon and which of the two happens first, the second one would follow immediately after that.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, محمد بن بشیر نے ابو حیان سے ، انھوں نے ابو زرعہ سے اور انھوں نے حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جس کو سننے کے بعد میں اسے بھولا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " نمودار ہونے والی سب سے پہلے نشانی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور دن چڑھے لوگوں کے سامنے زمین کے چوپائے کانکلنا ہے ۔ ان میں سے جو بھی نشانی دوسری سے پہلے ظاہر ہوگی ، دوسری اس کے بعد جلد نمودار ہوجائے گی ۔ "

Hadith 7384
Sahih
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا الدَّجَّالُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
English

Abu Zur'a reported:

Three persons amongst Muslims had been sitting in Medina in the presence of Marwan bin Hakam and they heard him narrate these signs from him and the first amongst them was the appearance of the Dajjal. 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ reported that Marwin said nothing (particular in this connection). I, however, heard a hadith from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and I did not forget that after I had heard that from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and he reported a hadith like the foregoing.

Urdu

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ابو حیان نے ابوزرعہ سے بیان کیا ، کہا

مسلمانوں میں سے تین شخص مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے اور اسے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے سن رہے تھے کہ ان میں سے پہلی دجال کا ظہور ہوگا ، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : ( تم لوگ یوں سمجھو کہ ) مروان نے کچھ بھی نہیں کہا ( کیونکہ اس کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہیں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جسے میں بھولا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔

Hadith 7385
Sahih
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ تَذَاكَرُوا السَّاعَةَ عِنْدَ مَرْوَانَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْكُرْ ضُحًى.
English

Abu Zur'a reported:

There was a discussion in the presence of Marwan about the Last Hour, and Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ said: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying. The rest of the hadith is the same, but there is no mention of forenoon.

Urdu

ہم سے نصر بن علی الجھمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو احمد نے بیان کیا ,سفیان نے ابو حیان سے اور انھوں نے ابو زرعہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا

لوگوں نے مروان کی موجودگی میں قیامت کے بارے میں مذاکرہ کیا تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ ( آگے ) ان دونوں کی حدیث کے مانند بیان کیا اور " دن چڑھنے کے وقت " کاذ کر نہیں کیا ۔

Hadith 7386
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ شَعْبُ هَمْدَانَ أَنَّهُ سَأَلَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَتْ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ فَقَالَ حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسْنِدِيهِ إِلَى أَحَدٍ غَيْرِهِ فَقَالَتْ لَئِنْ شِئْتَ لَأَفْعَلَنَّ فَقَالَ لَهَا أَجَلْ حَدِّثِينِي فَقَالَتْ نَكَحْتُ ابْنَ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ مِنْ خِيَارِ شَبَابِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ فَأُصِيبَ فِي أَوَّلِ الْجِهَادِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا تَأَيَّمْتُ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَوْلَاهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَكُنْتُ قَدْ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَمْرِي بِيَدِكَ فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ فَقُلْتُ سَأَفْعَلُ فَقَالَ لَا تَفْعَلِي إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ كَثِيرَةُ الضِّيفَانِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فِهْرِ قُرَيْشٍ وَهُوَ مِنْ الْبَطْنِ الَّذِي هِيَ مِنْهُ فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي سَمِعْتُ نِدَاءَ الْمُنَادِي مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ فِي صَفِّ النِّسَاءِ الَّتِي تَلِي ظُهُورَ الْقَوْمِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ مَسِيحِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ فَلَعِبَ بِهِمْ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ ثُمَّ أَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ حَتَّى مَغْرِبِ الشَّمْسِ فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبْ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ فَقَالُوا وَيْلَكِ مَا أَنْتِ فَقَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ قَالُوا وَمَا الْجَسَّاسَةُ قَالَتْ أَيُّهَا الْقَوْمُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ قَالَ لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً قَالَ فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدُّهُ وِثَاقًا مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ قُلْنَا وَيْلَكَ مَا أَنْتَ قَالَ قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ قَالُوا نَحْنُ أُنَاسٌ مِنْ الْعَرَبِ رَكِبْنَا فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ فَصَادَفْنَا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا ثُمَّ أَرْفَأْنَا إِلَى جَزِيرَتِكَ هَذِهِ فَجَلَسْنَا فِي أَقْرُبِهَا فَدَخَلْنَا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ لَا يُدْرَى مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ فَقُلْنَا وَيْلَكِ مَا أَنْتِ فَقَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ قُلْنَا وَمَا الْجَسَّاسَةُ قَالَتْ اعْمِدُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا وَفَزِعْنَا مِنْهَا وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً فَقَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ قُلْنَا عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا هَلْ يُثْمِرُ قُلْنَا لَهُ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ قُلْنَا عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ هَلْ فِيهَا مَاءٌ قَالُوا هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ قَالَ أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ قَالُوا عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ قُلْنَا لَهُ نَعَمْ هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ وَأَهْلُهَا يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ قَالُوا قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ قَالَ أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنْ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ قَالَ لَهُمْ قَدْ كَانَ ذَلِكَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ فَلَا أَدَعَ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ فَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ وَعَنْ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ أَلَا إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّأْمِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ قَالَتْ فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

Amir bin Sharahil Sha'bi Sha'b Hamdan reported:

He asked Fatima رضی اللہ عنہ , daughter of Qais and sister of ad-Dahhak bin Qais رضی اللہ عنہ and she was the first amongst the emigrant women: Narrate to me a hadith which you had heard directly from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and there is no extra link in between them. She said: Very well, if you like, I am prepared to do that, and he said to her: Well, do It and narrate that to me. She said: I married the son of Mughira and he was a chosen young man of Quraish at that time, but he fell as a martyr in the first Jihad (fighting) on the side of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). When I became a widow, 'Abdul-Rahman bin Auf, one amongst the group of the Companions of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), sent me the proposal of marriage. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) also sent me such a message for his freed slave Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ . And it had been conveyed to me that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said (about Usama): He who loves me should also love Usama. When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) talked to me (about this matter), I said: My affairs are in your hand. You may marry me to anyone whom you like. He said: You better shift now to the house of Umm Sharik, and Umm Sharik was a rich lady from amongst the Ansar. She spent generously for the cause of Allah and entertained guests very hospitably. I said: Well, I will do as you like. He said: Do not do that for Umm Sharik is a woman who is very frequently visited by guests and I do not like that your head may be uncovered or the cloth may be removed from your shank and the strangers may catch sight of them which you abhor. You better shift to the house of your cousin 'Abdullah bin 'Amr bin Umm Maktum and he is a person of the Bani Fihr branch of the Quraish, and he belonged to that tribe (to which Fatima رضی اللہ عنہا ) belonged. So I shifted to that house, and when my period of waiting was over, I heard the voice of an announcer making an announcement that the prayer would be observed in the mosque (where) congregational prayer (is observed). So I set out towards that mosque and observed prayer along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and I was in the row of the women which was near the row of men. When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had finished his prayer, he sat on the pulpit smiling and said: Every worshipper should keep sitting at his place. He then said: Do you know why I had asked you to assemble? They said: Allah and His Messenger know best. He said: By Allah. I have not made you assemble for exhortation or for a warning, but I have detained you here, for Tamim Dari, a Christian, who came and accepted Islam, told me something, which agrees with what I was telling, you about the Dajjal. He narrated to me that he had sailed in a ship along with thirty men of Bani Lakhm and Bani Judham and had been tossed by waves in the ocean for a month. Then these (waves) took them (near) the land within the ocean (island) at the time of sunset. They sat in a small side-boat and entered that island. There was a beast with long thick hair (and because of these) they could not distinguish his face from his back. They said: Woe to you, who can you be? Thereupon it said: I am al-Jassasa. They said: What is al-Jassasa? And it said: O people, go to this person in the monastery as he is very much eager to know about you. He (the narrator) said: When it named a person for us we were afraid of it lest it should be a devil. Then we hurriedly went on till we came to that monastery and found a well-built person there with his hands tied to his neck and having iron shackles between his two legs up to the ankles. We said: Woe be upon thee, who are you? And he said: You would soon come to know about me. but tell me who are you. We said: We are people from Arabia and we embarked upon a boat but the sea-waves had been driving us for one month and they brought as near this island. We got Into the side-boats and entered this island and here a beast met us with profusely thick hair and because of the thickness of his hair his face could not be distinguished from his back. We said: Woe be to thee, who are you? It said: I am al-Jassasa. We said: What is al-Jassasa? And it said: You go to this very person in the monastery for he is eagerly waiting for you to know about you. So we came to you in hot haste fearing that that might be the Devil. He (that chained person) said: Tell me about the date-palm trees of Baisan. We said: About what aspect of theirs do you seek information? He said: I ask you whether these trees bear fruit or not. We said: yes. Thereupon he said: I think these would not bear fruits. He said: Inform me about the lake of Tabariyya? We said: Which aspect of it do you want to know? He said: Is there water in it? They said: There is abundance of water in it. Thereupon he said: I think it would soon become dry. He again said: Inform me about the spring of Zughar. They said: Which aspect of it you want to know? He (the chained person) said: Is there water in it and does it irrigate (the land)? We said to him: Yes, there is abundance of water in it and the inhabitants (of Medina) irrigate (land) with the help of it, He said: Inform me about the unlettered Prophet; what has he done? We said: He has come out from Mecca and has settled In Yathrib (Medina). He said: Do the Arabs fight against him? We said: Yes. He said: How did he deal with them? We informed him that he had overcome those in his neighbourhood and they had submitted themselves before him. Thereupon he said to us: Has it actually happened? We said: Yes. Thereupon he said: If it is so that is better for them that they should show obedience to him. I am going to tell you about myself and I am Dajjal and would be soon permitted to get out and so I shall get out and travel in the land, and will not spare any town where I would not stay for forty nights except Mecca and Medina as these two (places) are prohibited (areas) for me and I would not make an attempt to enter any one of these two. An angel with a sword in his hand would confront me and would bar my way and there would be angels to guard every passage leading to it; then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) striking the pulpit with the help of the end of his staff said: This implies Taiba meaning Medina. Have I not, told you an account (of the Dajjal) like this? 'The people said: Yes, and this account narrated by Tamim Dari was liked by me for it corroborates the account which I gave to you in regard to him (Dajjal) at Medina and Mecca. Behold he (Dajjal) is in the Syrian sea (Mediterranean) or the Yemen sea (Arabian sea). Nay, on the contrary, he is in the east, he is in the east, he is in the east, and he pointed with his hand towards the east. I (Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا ) said: I preserved it in my mind (this narration from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).

Urdu

ہم سے عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث اور حجاج بن الش اعر نے عبد الصمد کی سند سے بیان کیا۔ لفظ عبد الوارث بن عبد الصمد کا ہے۔ میرے والد نے ہم سے میرے دادا کی سند سے حسین بن ذکوان کی سند سے بیان کیا, ابن بریدہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عامر بن شراحیل شعبی نے جن کا تعلق شعب ہمدان سے تھا ، حدیث بیان کی

انھوں نے ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمشیرہ سید ہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، وہ اولین ہجرت کرنے والوں میں سے تھیں کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بلاواسطہ ) سنی ہو ۔ وہ بولیں کہ اچھا ، اگر تم یہ چاہتے ہو تو میں بیان کروں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہاں بیان کرو ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ابن مغیرہ سے نکاح کیا اور وہ ان دنوں قریش کے عمدہ جوانوں میں سے تھے ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلے ہی جہاد میں شہید ہو گئے ۔ جب میں بیوہ ہو گئی تو مجھے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند کے ساتھ آ کر نکاح کا پیغام دیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مولیٰ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لئے پیغام بھیجا ۔ اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث سن چکی تھی کہ جو شخص مجھ سے محبت رکھے ، اس کو چاہئے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے بھی محبت رکھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس بارے میں گفتگو کی تو میں نے کہا کہ میرے کام کا اختیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے چاہیں نکاح کر دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ام شریک کے گھر چلی جاؤ اور ام شریک انصار میں ایک مالدار عورت تھی اور اللہ کی راہ میں بہت زیادہ خرچ کرتی تھیں ، اس کے پاس مہمان اترتے تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ بہت اچھا ، میں ام شریک کے پاس چلی جاؤں گی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام شریک کے پاس مت جا اس کے پاس مہمان بہت آتے ہیں اور مجھے برا معلوم ہوتا ہے کہ کہیں تیری اوڑھنی گر جائے یا تیری پنڈلیوں پر سے کپڑا ہٹ جائے اور لوگ تیرے بدن میں سے وہ دیکھیں جو تجھے برا لگے گا ۔ تم اپنے چچا کے بیٹے عبداللہ بن عمرو ابن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ اور وہ بنی فہر میں سے ایک شخص تھا اور فہر قریش کی ایک شاخ ہے اور وہ اس قبیلہ میں سے تھا جس میں سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ پھر سیدہ فاطمہ نے کہا کہ میں ان کے گھر میں چلی گئی ۔ جب میری عدت گزر گئی تو میں نے پکارنے والے کی آواز سنی اور وہ پکارنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی تھا ، وہ پکار رہا تھا کہ نماز کے لئے جمع ہو جاؤ ۔ میں بھی مسجد کی طرف نکلی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ میں اس صف میں تھی جس میں عورتیں لوگوں کے پیچھے تھیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو منبر پر بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر ایک آدمی اپنی نماز کی جگہ پر رہے ۔ پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟ صحابہ بولے کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے تمہیں رغبت دلانے یا ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا ، بلکہ اس لئے جمع کیا کہ تمیم داری ایک نصرانی تھا ، وہ آیا اور اس نے بیعت کی اور مسلمان ہوا اور مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو اس حدیث کے موافق ہے جو میں تم سے دجال کے بارے میں بیان کیا کرتا تھا ۔ اس نے بیان کیا کہ وہ یعنی تمیم سمندر کے جہاز میں تیس آدمیوں کے ساتھ سوار ہوا جو لخم اور جذام کی قوم میں سے تھے ، پس ان سے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں کھیلتی رہیں ۔ پھر وہ لوگ سمندر میں ڈوبتے سورج کی طرف ایک جزیرے کے کنارے جا لگے ۔ پس وہ جہاز سے پلوار ( یعنی چھوٹی کشتی ) میں بیٹھے اور جزیرے میں داخل ہو گئے وہاں ان کو ایک جانور ملا جو کہ بھاری دم ، بہت بالوں والا کہ اس کا اگلا پچھلا حصہ بالوں کے ہجوم سے معلوم نہ ہوتا تھا ۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ اے کمبخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میں جاسوس ہوں ۔ لوگوں نے کہا کہ جاسوس کیا؟ اس نے کہا کہ اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے ، کہ وہ تمہاری خبر کا بہت مشتاق ہے ۔ تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب اس نے مرد کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں شیطان نہ ہو ۔ تمیم نے کہا کہ پھر ہم دوڑتے ہوئے ( یعنی جلدی ) دیر میں داخل ہوئے ۔ دیکھا تو وہاں ایک بڑے قد کا آدمی ہے کہ ہم نے اتنا بڑا آدمی اور ویسا سخت جکڑا ہوا کبھی نہیں دیکھا ۔ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور دونوں زانوں سے ٹخنوں تک لوہے سے جکڑا ہوا تھا ۔ ہم نے کہا کہ اے کمبخت! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تم میری خبر پر قابو پا گئے ہو ( یعنی میرا حال تو تم کو اب معلوم ہو جائے گا ) ، تم اپنا حال بتاؤ کہ تم کون ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم عرب لوگ ہیں ، سمندر میں جہاز میں سوار ہوئے تھے ، لیکن جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا پھر ایک مہینے کی مدت تک لہر ہم سے کھیلتی رہی ، پھر ہم اس جزیرے میں آ لگے تو چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے ، پس ہمیں ایک بھاری دم کا اور بہت بالوں والا جانور ملا ، ہم اس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا پچھلا حصہ نہ پہچانتے تھے ۔ ہم نے اس سے کہا کہ اے کمبخت! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میں جاسوس ہوں ۔ ہم نے کہا کہ جاسوس کیا؟ اس نے کہا کہ اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے اور وہ تمہاری خبر کا بہت مشتاق ہے ۔ پس ہم تیری طرف دوڑتے ہوئے آئے اور ہم اس سے ڈرے کہ کہیں بھوت پریت نہ ہو ۔ پھر اس مرد نے کہا کہ مجھے بیسان کے نخلستان کی خبر دو ۔ ہم نے کہا کہ تو اس کا کون سا حال پوچھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں اس کے نخلستان کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ پھلتا ہے؟ ہم نے اس سے کہا کہ ہاں پھلتا ہے ۔ اس نے کہا کہ خبردار رہو عنقریب وہ نہ پھلے گا ۔ اس نے کہا کہ مجھے طبرستان کے دریا کے بارے میں بتلاؤ ۔ ہم نے کہا کہ تو اس دریا کا کون سا حال پوچھتا ہے؟ وہ بولا کہ اس میں پانی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اس میں بہت پانی ہے ۔ اس نے کہا کہ البتہ اس کا پانی عنقریب ختم ہو جائے گا ۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں خبر دو ۔ لوگوں نے کہا کہ اس کا کیا حال پوچھتا ہے؟ اس نے کہا کہ اس چشمہ میں پانی ہے اور وہاں کے لوگ اس پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے اس سے کہا کہ ہاں! اس میں بہت پانی ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں ۔ اس نے کہا کہ مجھے امییّن کے پیغمبر کے بارے میں خبر دو کہ وہ کیا رہے؟ لوگوں نے کہا کہ وہ مکہ سے نکلے ہیں اور مدینہ میں گئے ہیں ۔ اس نے کہا کہ کیا عرب کے لوگ ان سے لڑے؟ ہم نے کہا کہ ہاں ۔ اس نے کہا کہ انہوں نے عربوں کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے کہا کہ وہ اپنے گرد و پیش کے عربوں پر غالب ہوئے اور انہوں نے ان کی اطاعت کی ۔ اس نے کہا کہ یہ بات ہو چکی؟ ہم نے کہا کہ ہاں ۔ اس نے کہا کہ خبردار رہو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہے کہ پیغمبر کے تابعدار ہوں ۔ اور البتہ میں تم سے اپنا حال کہتا ہوں کہ میں مسیح ( دجال ) ہوں ۔ اور البتہ وہ زمانہ قریب ہے کہ جب مجھے نکلنے کی اجازت ہو گی ۔ پس میں نکلوں گا اور سیر کروں گا اور کسی بستی کو نہ چھوڑوں گا جہاں چالیس رات کے اندر نہ جاؤں ، سوائے مکہ اور طیبہ کے ، کہ وہاں جانا مجھ پر حرام ہے یعنی منع ہے ۔ جب میں ان دونوں بستیوں میں سے کسی کے اندر جانا چاہوں گا تو میرے آگے ایک فرشتہ بڑھ آئے گا اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہو گی ، وہ مجھے وہاں جانے سے روک دے گا اور البتہ اس کے ہر ایک ناکہ پر فرشتے ہوں گے جو اس کی چوکیداری کریں گے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی منبر پر مار کر فرمایا کہ طیبہ یہی ہے ، طیبہ یہی ہے ، طیبہ یہی ہے ۔ یعنی طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے ۔ خبردار رہو! بھلا میں تم کو اس حال کی خبر دے نہیں چکا ہوں؟ تو اصحاب نے کہا کہ ہاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمیم رضی اللہ عنہ کی بات اچھی لگی جو اس چیز کے موافق ہوئی جو میں نے تم لوگوں سے دجال اور مدینہ اور مکہ کے حال سے فرما دیا تھا ۔ خبردار ہو کہ وہ شام یا یمن کے سمندر میں ہے؟ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے ، وہ مشرق کی طرف ہے ، وہ مشرق کی طرف ہے ( مشرق کی طرف بحر ہند ہے شاید دجال بحر ہند کے کسی جزیرہ میں ہو ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا ۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہے ۔

Hadith 7387
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ يُقَالُ لَهُ رُطَبُ ابْنِ طَابٍ وَأَسْقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ قَالَتْ طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي قَالَتْ فَنُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةً قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فِيمَنْ انْطَلَقَ مِنْ النَّاسِ قَالَتْ فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنْ النِّسَاءِ وَهُوَ يَلِي الْمُؤَخَّرَ مِنْ الرِّجَالِ قَالَتْ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ فَقَالَ إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْوَى بِمِخْصَرَتِهِ إِلَى الْأَرْضِ وَقَالَ هَذِهِ طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ.
English

Al-Sha'bi reported:

We visited Fatima bin Qais رضی اللہ عنہ and she served us fresh dates which are called rutab and she also served us barley. I asked her about that woman in whose case three divorces had been pronounced as to how much time she should count as the waiting period. She said: My husband pronounced three divorces in my case and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) permitted me to spend any waiting period in my family. (It was during this period) that announcement was made for the people to observe prayer in the bigger Mosque. I went there along with people and I was in the front row meant for women and it was adjacent to the last row of men and I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) deliver sermon sitting on the pulpit. He said: The cousin of Tamim (Dari) sailed in the ocean. The rest of the hadith is the same but with this addition: (I see) as if I am looking to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) pointing his rod towards the land (and saying): It is Taiba, i.e. Medina.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث الحجیمی ابو عثمان نے بیان کیا، ہم سے قرہ نے بیان کیا, سیار ابو الحکم نے کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا

ہم حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں گئے ، انھوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کاتحفہ دیا جن کو ابن طاب کی تازہ کھجوریں کہا جاتا تھا اور جو کے ستو پلائے ، میں نے ان سے ا س عورت کے بارے میں پوچھا جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟انھوں نے کہا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی کہ میں انے گھر والوں کے درمیان عدت گزار لوں ، ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : پھر ( عدت کے بعد ) لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز کی جماعت ہونے والی ہے ، میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز کے لئے چل دی ، میں عورتوں کی پہلی صف میں تھی جو مردوں کی آخری صف کے پیچھے تھی ۔ انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پرخطبہ دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " تمیم داری کے چچا کے بیٹے ( ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے رشتہ دار ) سمندر ( کے جہاز ) میں سوار ہوئے ۔ " اسکے بعد ( سیار نے پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں مزید کہا کہ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں ، آپ نے اپنے عصا کو زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا : " یہ طیبہ ہے ۔ " آپ کی مراد مدینہ سے تھی ۔

Hadith 7388
Sahih
و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ فَتَاهَتْ بِهِ سَفِينَتُهُ فَسَقَطَ إِلَى جَزِيرَةٍ فَخَرَجَ إِلَيْهَا يَلْتَمِسُ الْمَاءَ فَلَقِيَ إِنْسَانًا يَجُرُّ شَعَرَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَدْ وَطِئْتُ الْبِلَادَ كُلَّهَا غَيْرَ طَيْبَةَ فَأَخْرَجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ فَحَدَّثَهُمْ قَالَ هَذِهِ طَيْبَةُ وَذَاكَ الدَّجَّالُ.
English

It was narrated that Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا said:

Tamim Dari رضی اللہ عنہ came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and informed Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) that he sailed in an ocean and his ship lost direction and thus landed at an island. They moved about in that land in search of water. There they saw a person who had been pulling his hair. The rest of the hadith is the same. And he (Dajjal) said: If I were to be permitted to set out I would have covered all the lands except Taiba. Then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) brought (Tamim Dari) before the public and he narrated to them and said: That is Taiba and that is the Dajjal.

Urdu

ہم سے حسن بن علی الحلوانی اور احمد بن عثمان النوفلی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, غیلان بن جریر نے شعبی سے اور انھوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ سمندر ( کےجہاز ) میں سوار ہوئے تو ان کا جہاز راستے سے ہٹ گیا ، وہ ایک جزیرے میں جا اترے ، وہ اس جزیرے میں نکل کر پانی ڈھونڈنے لگے ، وہاں ایک انسان سے ملاقات ہوئی جو اپنے بال گھسیٹ رہاتھا ، پھر ( پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی کہا : پھر اس ( دجال ) نے کہا : اگر مجھے نکلنے کی اجازت دی گئی تو میں طیبہ ( مدینہ ) کے سوا تمام شہروں میں جاؤں گا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ) کو لوگوں کے سامنے لے گئے اور ( ان کی موجودگی میں ) آپ نے ان ( لوگوں ) کے سامنے ( یہ واقعہ ) بیان کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ طیبہ ہے اور وہ ( شخص ) دجال ہے ۔ "

Hadith 7389
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ كَانُوا فِي الْبَحْرِ فِي سَفِينَةٍ لَهُمْ فَانْكَسَرَتْ بِهِمْ فَرَكِبَ بَعْضُهُمْ عَلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَخَرَجُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
English

Fatima bin Qais رضی اللہ عنہا reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) sat on the pulpit and said: O people, Tamim Dari has reported to me that some persons of his tribe sailed in the ocean in a boat and it capsised and then some of them travelled on one of the planks of the boat and they went to an island in the ocean. The rest of the hadith is the same.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے المغیرہ نے بیان کیا، یعنی الحزامی نے, ابو زناد نے شعبی سے اور انھوں نےحضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا : " لوگو! مجھے تمیم داری نے یہ بتایا ہے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اپنے ایک جہاز میں سمندر میں تھے ، وہ جہاز ٹوٹ گیا اوران میں سے کچھ لوگ جہاز کے تختوں میں سے ایک تختے پر سوار ہوگئے اور سمندر میں ایک جزیرے کی طرف جانکلے ۔ " اور پھر ( آگے باقی ماندہ ) حدیث بیان کی ۔

Hadith 7390
Sahih
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ وَلَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ تَحْرُسُهَا فَيَنْزِلُ بِالسِّبْخَةِ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ يَخْرُجُ إِلَيْهِ مِنْهَا كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ.
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: There will be no land which would not be covered by the Dajjal but Mecca and Medina, and there would no passage out of the passages leading to them which would not be guarded by angels arranged in rows. Then he (the Dajjal) would appear in a barren place adjacent to Medina and it would rock three times that every unbeliever and hypocrite would get out of it towards him.

Urdu

مجھ سے علی بن حجر السعدی نے بیان کیا: ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا, ابن عمر واوزاعی نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئی شہر نہیں مگر دجال! اسے روندے گا ۔ ان ( دو شہروں ) کے راستوں میں سے ہر راستے پر فرشتے صف باندھتے ہوئے پہرہ دے رہے ہوں گے پھر وہ ایک شوریلی زمین میں اترے گا ۔ اس وقت مدینہ تین بارلرز ےگا اور ہر کافر اور منافق اس میں سے نکل کر اس ( دجال ) کے پاس چلا جائے گا ۔ "

Hadith 7391
Sahih
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَيَأْتِي سِبْخَةَ الْجُرُفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ وَقَالَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ.
English

This hadith has been transmitted on the authority of Anas رضی اللہ عنہ:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said this but with this addition that (the Dajjal would come) and pitch his tent in the waste-land of Juruf and thus there would come out of (the city) every hypocrite, man and woman.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا, حماد بن سلمہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح بیان کیا ، مگر اس میں کہا : چنانچہ وہ ( دجال ) جرف کی شوریلی زمین میں آکر اپنا خیمہ لگائے گا اور کہا : ہر منافق مرد اور عورت نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے ۔

Hadith 7392
Sahih
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمْ الطَّيَالِسَةُ.
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: The Dajjal would be followed by seventy thousand Jews of Isfahan wearing Persian shawls.

Urdu

ہم سے منصور بن ابی مزاحم نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے الاوزاعی کی سند سے، اسحق بن عبداللہ نے اپنے چچا کی سند سے بیان کیا, حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اصبہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار ( یہودی ) دجال کی پیروی کریں گے ، ان ( کے جسموں ) پر طینسان کی حبائیں ہوں گی ۔ "

Hadith 7393
Sahih
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنْ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ هُمْ قَلِيلٌ.
English

Umm Sharik reported:

I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The people would run away from the Dajjal seeking shelter in the mountains. She said: Where would be the Arabs then in that day? He said: They would be small in number.

Urdu

ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا, حجاج بن محمد نے کہا , ابن جریج نے کہا کہ مجھے ابو زبیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے ام شریک نے خبر دی کہ انھوں نے

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " لوگ دجال سے فرار ہوکر پہاڑوں میں جائیں گے ۔ " حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ ( جو دین کے دفاع میں سینہ سپر ہوجاتے ہیں ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " وہ بہت کم ہوں گے ۔ "

Hadith 7394
Sahih
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار اور عبد بن حمید نے بیان کیا, ابو عاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔