The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour
كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ
Chapter 53
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: You will fight against the Jews and you will kill them until even a stone would say: Come here, Muslim, there is a Jew (hiding himself behind me); kill him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, محمد بن بشیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہود تم سے جنگ کریں گے اور تم انھیں اچھی طرح قتل کروگے یہاں تک کہ پتھر کہے گا : اے مسلمان! یہ یہودی ہے ، آگے بڑھ ، اس کو قتل کر ۔ "
Ubaidullah has reported this hadith with this chain of transmitters (and the Words are):
There is a Jew behind me.
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا, یحییٰ نے ہمیں عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ ر وایت کی اور اپنی حدیث میں کہا
" یہ یہودی میرے پیچھے ہے ۔ "
Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: You and the Jews would fight against one another until a stone would say: Muslim, here is a Jew behind me; come and kill him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, عمر بن حمزہ نے کہا : میں نے سالم کو کہتے ہوئے سنا : ہمیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اور یہود آپس میں جنگ کروگے ، یہاں تک کہ پتھر کہے گا : " اے مسلمان! یہ میرے پیچھے ایک یہودی ہے ، آگے بڑھ ، اسے قتل کردے ۔ "
Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم) said: The Jews will fight against you and you will gain victory over them until the stone would say: Muslim, here is a Jew behind me; kill him.
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ
ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہودی تم سے جنگ کریں گے ( آخرکار ) تمھیں ان پر تسلط عطا کردیا جائے گا ، یہاں تک کہ پتھر ( بھی ) کہے گا : اے مسلمان! یہ یہودی میرے پیچھے ہے ، اس کو قتل کردو ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The last hour would not come unless the Muslims will fight against the Jews and the Muslims would kill them until the Jews would hide themselves behind a stone or a tree and a stone or a tree would say: Muslim, or the servant of Allah, there is a Jew behind me; come and kill him; but the tree Gharqad would not say, for it is the tree of the Jews.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے یعقوب نے، یعنی ابن عبدالرحمٰن نے، ہم سے سہیل کے واسطہ سے اپنے والد سے بیان کیا, حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں کے خلاف جنگ لڑیں گے اور مسلمان ان کو قتل کریں گے حتیٰ کہ یہودی درخت یا پتھر کے پیچھے پیچھے کا اور پتھر یا درخت کہے گا : اے مسلمان!اے اللہ کے بندے!میرے پیچھے یہ ایک یہودی ہےآگے بڑھ ، اس کوقتل کردے ، سوائے غرقد کے درخت کے ( وہ نہیں کہے گا ) کیونکہ وہ یہود کا درخت ہے ۔ "
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Before the Last Hour there would be many liars, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu Ahwas of these words: I said to him: Did you hear it from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? He said: Yes.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا۔ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا اور ابوبکر نے کہا, ابو الاحوص اور ابو عوانہ نے سماک سے اور انھوں نے ح ضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" قیامت سے پہلے کئی کذاب ہوں گے ۔ ابو الاحوص کی حدیث میں انھوں ( ابوبکر بن ابی شیبہ ) نے مزید کہا کہ میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ نے یہ ( بات ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟انھوں نے کہا : ہاں ۔
This hadith has been narrated on the authority of Simak with the same chain of transmitters. and Simak said:
I heard my brother say that jabir رضی اللہ عنہ had stated: Be on your guard against them.
اور ابن مثنیٰ اور ابن بشار نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے اسی سند کےساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔ سماک نے کہا
میں نے اپنے بھائی کوکہتے ہوئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ان ( جھوٹوں ) سے بچ کررہو ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Last Hour would not come until there would arise about thirty impostors, liars, and each one of them would claim that he is a messenger of Allah.
مجھ سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن منصور نے بیان کیا ,اسحاق نے بتایا , زہیر نے کہا, ہمیں عبدالرحمٰن نے بیان کیا، اور وہ ابن مہدی ہیں، مالک کی سند سے، ابو الزناد نے,اعرج نے حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت قائم نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ دجالوں اور کذابوں کو بھیجا جائے گا جو تیس کے قریب ہوں گے ۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرتا ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔ "
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ with a slight variation of wording.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ نے حضر ت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے کہا : یہا ں تک کہ وہ ( شیطان کی طرف سے ) مبعوث بن کر آئیں گے ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
We were along with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that we happened to pass by children amongst whom there was Ibn Sayyad. The children made their way but Ibn Sayyad kept sitting there (and it seemed) as if Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not like it (his sitting with the children) and said to him: May your nose he besmeared with dust, don't you bear testimony to the fact that I am the Messenger of Allah? Thereupon he said: No, but you should bear testimony that I am the messenger of Allah. Thereupon 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger, permit me that I should kill him. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If he is that person who is in your mind (Dajjal ), you will not be able to kill him.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور لفظ عثمان کا ہے, ہم سے اسحاق نے بیان کیا، اور عثمان نے کہا, جریر نےاعمش سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم چند لڑکوں کے پاس سے گزرے ، ان میں ابن صیاد بھی تھا ، سب بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا ، تو ایسا لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تیرے ہاتھ خاک آلودہوں!کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو قتل کردوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ وہی ہے جو تمہارا گمان ہے تو تم اس کو قتل نہیں کرسکوگے ۔ "
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
We were walking with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that Ibn Sayyad happened to pass by him. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: I have concealed for you (something to test you, so tell me that). He said: It is Dukh. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Be off. You cannot get farther than your rank, whereupon 'Umar رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger, permit me to strike his neck. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Leave him; if he is that one (Dajjal) whom you apprehend, you will not be able to kill him.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم اور ابو کریب نے بیان کیا اور یہ الفاظ ابو کریب سے ہیں۔ ابن نمیر نے کہا: اس نے ہم سے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا: ابو معاویہ نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ابن صیاد کے پاس سے گزرے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " میں تمہارے لیے ( دل میں ) ایک بات چھپائی ہے ۔ " وہ دُخَ ہے ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " دور دفع ہوجا!تو اپنی حیثیت سے کبھی نہیں بڑھ سکےگا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےکہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے چھوڑ دو ، اگر یہ وہی ہے جس کا تمھیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کرسکوگے ۔ "
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) met him (Ibn Sayyad) and so did Abu Bakr رضی اللہ عنہ and 'Umar رضی اللہ عنہ on some of the roads of Medina. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do you bear testimony to the fact that I am the Messenger of Allah? Thereupon he said: Do you bear testimony to the fact that I am the messenger of Allah? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I affirm my faith in Allah and in His Angels and in His Books, and what do you see? He said: I see the throne over water. Whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: You see the throne of Iblis upon the water, and what else do you see? He said: I see two truthfuls and a liar or two liars and one truthful. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Leave him He has been confounded.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے سالم بن نوح نے بیان کیا, حریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
مدینہ کے ایک راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس ( ابن صیاد ) سے ملاقات ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " اس نے کہا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا؛ " میں اللہ پر ، اس کےفرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا ہوں ، تجھے کیا نظر آتا ہے؟ " اس نے کہا : مجھے پانی پر ایک تخت نظر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھ رہے ہو ، تجھے اور کیا نظر آتا ہے؟ " اس نے کہا : میں دو سچوں اور ایک جھوٹے کویا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو د یکھتا ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس کا معاملہ خود ) اس کے سامنے گڈ مڈ کردیاگیا ہے ۔ اسے چھوڑ د و ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) met Ibn Sa'id (Sayyad) and there were with him Abu Bakr رضی اللہ عنہ and 'Umar رضی اللہ عنہ and Ibn Sayyad was in the company of children. The rest of the hadith is the same.
یہ یحییٰ بن حبیب یا محمد بن عبد الاعلی کا قول ہے, معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں ابو نضرہ نے حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا کہ
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابن صائد سے ملاقات ہوئی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے اور ابن صائد ( دوسرے ) لڑکوں کے ساتھ تھا ، پھر جریری کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
I accompanied Ibn Sayyad to Mecca and he said to me: What I have gathered from people is that they think that I am Dajjal. Have you not heard Allah's Messenger (may peace upon him) as saying: He will have no children, I said: Yes, of course. Thereupon he said: But I have children. Have you not heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He would not enter Mecca and Medina? I said: Yes, of course. Thereupon he said I have been once in Medina and now I intend to go to Mecca. And he said to me at the end of his talk: By Allah, I know his place of birth his abode where he is just now. He (Abu Sa'id) said: This caused confusion in my mind (in regard to his identity).
مجھ سے عبید اللہ بن عمر القواری اور محمد بن المثنی نے بیان کیا: ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا, داود نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
مکہ کی طرف جاتے ہوئے ( راستے میں ) میرا اور ابن صیاد کاساتھ ہوگیا ۔ اس نے مجھ سے کہا : میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سناتھا : " اس کے بچے نہیں ہوں گے " ؟کہا : میں نے کہا : کیوں نہیں ! ( سناتھا ۔ ) اس نے کہا : میرے بچے ہوئے ہیں ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا : " وہ ( دجال ) مدینہ میں داخل ہوگا اور نہ مکہ میں " ؟میں نے کہا : کیوں نہیں!اس نے کہا : میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا ۔ اور اب مکہ کی طرف جارہا ہوں ۔ انھوں نے کہا : پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا : دیکھیں !اللہ کی قسم!میں اس ( دجال ) کی جائے پیدائش ، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں ۔ ( اس طرح ) اس نے ( اپنی حیثیت کے بارے میں ) مجھے الجھا دیا ۔
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Ibn Sa'id said to me something for which I felt ashamed. He said: I can excuse others; but what has gone wrong with you, O Companions of Muhammad, that you take me as Dajjal? Has Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) not said that he would be a Jew whereas I am a Muslim and he also said that he would not have children, whereas I have children, and he also said: verily, Allah has prohibited him to enter Mecca whereas I have performed Pilgrimage, and he went on saying this that I was about to be impressed by his talk. He (however) said this also: I know where he (Dajjal) is and I know his father and mother, and it was said to him: Won't you feel pleased if you would be the same person? Thereupon he said: If this offer is made to me, I would not resent that.
ہمیں یحییٰ بن حبیب اور محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا, معتمر کے والد ( سلیمان ) ابونضرہ سے اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، کہا
مجھ سے ابن صائد نے ایک بات کہی تو مجھے اس کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی ۔ ( اس نے کہا : ) اس بات پر میں اور لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں ، مکر اے اصحاب محمد! آپ لوگوں کا میرے ساتھ کیامعاملہ ہے ؟ "" کیا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا : "" دجال یہودی ہوگا ۔ "" اور میں مسلمان ہوچکا ہوں ۔ کہا : "" وہ لاولد ہوگا ۔ "" جبکہ میری اولاد ہوئی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" اللہ نے مکہ ( میں داخلہ ) اس پر حرام کردیا ہے ۔ "" اور میں حج کرچکا ہوں ۔ ( حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : وہ ( ابن صائد ) مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا جن سے امکان تھا کہ اس کی بات میرے دل میں بیٹھ جاتی ، کہا : پھر وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے میں اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں ۔ کہااس سے پوچھا گیا کہ کیا تمھیں یہ بات ا چھی لگےگی کہ تمھی وہ ( دجال ) آدمی ہو؟اس نے کہا ، اگر مجھ کو اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا ۔
Abu Sa`id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
We came back after having performed Pilgrimage or `Umra and lbn Sa'id was along with us. And we encamped at a place and the people dispersed and I and he were left behind. I felt terribly frightend from him as it was said about him that he was the Dajjal. He brought his goods and placed them by my luggage and I said: It is intense heat. Would you not place that under that tree? And he did that. Then there appeared before us a flock of sheep. He went and brought a cup of milk and said: Abu Sa`id رضی اللہ عنہ , drink that. I said it is intense heat and the milk is also hot (whereas the fact was) that I did not like to drink from his hands or to take it from his hand and he said: Abu Sa`id رضی اللہ عنہ , I think that I should take a rope and suspend it by the tree and then commit suicide because of the talks of the people, and he further said. Abu Sa`id رضی اللہ عنہ he who is ignorant of the saying of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (he is to be pardoned), but O people of Ansar, is this hadith of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) concealed from you whereas you have the best knowledge of the hadith of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) amongst people? Did Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) not say that he (Dajjal) would be a non believer whereas I am a believer? Did Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) not say he would be barren and no child would be born to him, whereas I have left my children in Medina? Did Allah's Messenger (ﷺ) not say: He would not get into Medina and Mecca whereas I have been coming from Medina and now I intend to go to Mecca? Abu Sa`id رضی اللہ عنہ said: I was about to accept the excuse put forward by him. Then he said: I know the place where he would be born and where he is now. So I said to him: May your whole day be spent.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سالم بن نوح نے بیان کیا, جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا ۔ ایک منزل میں ہم اترے ، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صائد دونوں رہ گئے ۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے ( کہ دجال ہے ) ابن صائد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا ( مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی ) میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے ۔ اس نے ایسا ہی کیا ۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں ۔ ابن صائد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی ۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا ۔ ابن صائد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں ۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے ۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے ۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے ) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں ( اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں ) کہ پھر کہنے لگا البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : باقی سارا دن تیرے لئے تباہی اور ہلاکت ہو! ( تیرا اس سے اتنا قرب کیسے ہوا؟ )
This hadith has transmitted on the authority of Abu Sa'id رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) asked Ibn Sa'id about the earth of Paradise. Thereupon he said: Abu'l-Qasim, It is like a fine white musk, whereupon he (the Holy Prophet) said: 'You have told the the truth.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا: بشر یعنی ابن مفضل نے بیان کیا, ابومسلمہ نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا : " جنت کی مٹی کیسی ہے؟ " اس نے کہا : اے ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !باریک سفید ، کستوری ( جیسی ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو نے سچ کہا ۔ "
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
Ibn Sayyad asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about the earth of Paradise. Whereupon he said: It is like white shining pure musk.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی مٹی کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " باریک سفید ، خالص کستوری ( کی طرح ) ہے ۔ "
Muhammad bin Munkadir reported:
As I saw Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ taking an oath in the name of Allah that it was Ibn Sa'id who was the Dajjal I said: Do you take an oath in the name of Allah? Thereupon he said: I heard 'Umar رضی اللہ عنہ taking an oath in the presence of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to this effect but Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not disapprove of it.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سعد بن ابراہیم سے, محمد بن منکدرسے روایت ہے ، کہا
میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ اللہ کی قسم کھاکر کہہ رہے تھے کہ ابن صائد دجال ہے ۔ میں نے کہا : آپ ( اس بات پر ) اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر قسم کھاتے ہوئے دیکھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا تھا ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ reported:
'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ went along with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the company of some persons to Ibn Sayyad that he found him playing with children near the battlement of Bani Maghala and Ibn Sayyad was at that time just at the threshold of adolescence and he did not perceive (the presence of Holy Prophet) until Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) struck his back with his hands. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Ibn Sayyad, don't you bear witness that I am the messenger of Allah? Ibn Sayyad looked toward him and he said: I bear witness to the fact that you the messenger of the unlettered. Ibn Sayyad said to the Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Do you bear witness to the fact that I am the messenger of Allah? Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) rejected this and said: I affirm my faith in Allah and in His messengers. Then Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: What do you see? Ibn Sayyad said: It is a Dukh. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: May you be disgraced and dishonoured, you would not not be able to go beyond your rank. 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said: Allah's Messenger, permit me that I should strike his neck. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If he is the same (Dajjal) who would appear near the Last Hour, you would not be able to overpower him, and if he is not that there is no good for you to kill him.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ بن عبداللہ بن حرملہ بن عمران التجیبی نے بیان کیا, مجھ سے ابن وہب نے کہا, یونس نے ابن شہاب سے ر وایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انھیں بتایا ، انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگوں میں ابن صیاد کے پاس گئے حتیٰ کہ اسے بنی مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا ۔ اس کو خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم امییّن کے رسول ہو ( امی کہتے ہیں ان پڑھ اور بے تعلیم کو ) ۔ پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کچھ جواب نہ دیا؟ ( اور اس سے مسلمان ہونے کی درخواست نہ کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مسلمان ہونے سے مایوس ہو گئے اور ایک روایت میں صاد مہملہ سے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لات سے مارا ) اور فرمایا کہ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ وہ بولا کہ میرے پاس کبھی سچا آتا ہے اور کبھی جھوٹا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کام گڑبڑ ہو گیا ( یعنی مخلوط حق و باطل دونوں سے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات دل میں چھپائی ہے ۔ ابن صیاد نے کہا کہ وہ دخ ( دھواں ) ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذلیل ہو ، تو اپنی قدر سے کہاں بڑھ سکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے چھوڑئیے میں اس کی گردن مارتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ( یعنی دجال ) ہے تو تو اس کو مار نہ سکے گا اور اگر یہ وہ ( دجال ) نہیں ہے تو تجھے اس کا مارنا بہتر نہیں ہے ۔