The Book of Prayer - Travellers
كتاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا
Chapter 6
Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: There is an hour during the night in which no Muslim individual will ask Allah for good in this world and the next without His giving it to him; and that applies to every night.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے العماش کی سند سے, ابو سفیان سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " رات میں ایک گھڑی ایسی ہے ۔ جو مسلمان بندہ بھی اس کو پالیتا ہے ۔ اس میں وہ دنیا وآخرت کی کسی بھی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہےتو اللہ اسے وہ ( بھلائی ) ضرور عطا فرمادیتا ہے ۔ اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے ۔ "
Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There is an hour during the night in which no Muslim bondman will ask Allah for good in this world and the next but He will grant it to him.
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، ہم سے حسن بن عین نے بیان کیا، ہم سے معقل نے بیان کیا, ابو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رات میں ایک ایسی گھڑی ہے جو مسلمان بھی اسے پالیتا ہے اور اس میں اللہ سے کسی بھی خیر کا سوال کرتا ہے تو وہ اسے وہ ( بھلائی ) عطا فرمادیتا ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Our Lord, the Blessed and the Exalted, descends every night to the lowest heaven when one-third of the latter part of the night is left, and says: Who supplicates Me so that I may answer him? Who asks Me so that I may give to him? Who asks Me forgiveness so that I may forgive him?
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پڑھا, ابن شہاب نے ابو عبداللہ اغز اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برکت اور رفعت کا مالک ہمارا رب ، ہر رات کو جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ، ( تو ) دنیا کے آ سمان پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کون مجھے پکارتا ہے کہ میں اس کی پکار کو سنوں؟کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اس کو دوں ، اور کون مجھ سے بخشش طلب کرتاہے کہ میں اسے بخش دوں؟ "
Abu Huraira reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah descends every night to the lowest heaven when one-third of the first part of the night is over and says: I am the Lord; I am the Lord: who is there to supplicate Me so that I answer him? Who is there to beg of Me so that I grant him? Who is there to beg forgiveness from Me so that I forgive him? He continues like this till the day breaks.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے بیان کیا اور وہ عبد الرحمن القاری کے بیٹے ہیں,سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ہر رات کو ، جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ، دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : میں بادشاہ ہوں ، صرف میں بادشاہ ہوں ، کون ہے جو مجھے پکارتا ہے ہے کہ میں اس کی پکار کو سنوں؟کو ن ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اسے معاف کروں؟وہ یہی اعلان فرماتا رہتا ہے حتیٰ کہ صبح چمک اٹھتی ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When half of the night or two-third of it is over. Allah, the Blessed and the Exalted, descends to the lowest heaven and says: Is there any beggar, so that he be given? Is there any supplicator so that he be answered? Is there any beggar of forgiveness so that he be forgiven? (And Allah continues it saying) till it is daybreak.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو المغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا, ابو بن سلمہ عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب رات کا آدھا یا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے توا للہ تبارک وتعا لیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیاجائے؟کیا کوئی د عا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟کیاکوئی بخشش کا طلبگار ہے کہ اسے بخشا جائے حتیٰ کہ صبح پھوٹ پڑتی ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah descends to the lowest heaven at half of the night or at one-third of the latter part and says: Who is there to supplicate Me so that I answer him? Who is there to ask Me so that I grant him? And then says: Who will lend to One Who is neither indigent nor tyrant? (This hadith has been narrated by Sa'd bin Sa'id with the same chain of transmitters with this addition: Then the Blessed and the Exalted (Lord) stretches His Hands and says: Who will lend to One Who is neither indigent nor tyrant? ) Muslim said: Ibn Marjanah is Saeed bin 'Abdullah, and in his Marjanah.
مجھ سے حجاج بن الشعر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا, محاضر ابومورع نے کہا : ہم سے سعد بن سعید ( بن قیس انصاری ) نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابن مرجانہ نے خبر دی ، انوں نے کہامیں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آدھی رات یا رات کی آخری تہائی کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کون مجھ سے دعا کرے گا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ۔ یامجھ سے سوال کرے میں اسے عطا کرو؟پھر فرماتا ہے : کون اس ( ذات ) کو قرض دےگا جو نہ محتاج ہے اور نہ حق مارنے والی ہے ( اللہ تعالیٰ کو ) ؟ "" امام مسلمؒ نے کہا : ابن مرجانہ سے مراد سعید بن عبداللہ ( ابو العثمان المدنی ) ہیں اور مرجانہ ان کی والدہ ہیں ۔
It was narrated from S'ad bin Saeed with this chain (as similar hadith as no. 1775), and he added:
Then he spreads out his hand, may He may be blessed and exalted, and he says: 'Who will lend to One who is neither indigent nor unjust.
ہم سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دو, سلیمان بن بلال نے سعد بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس میں یہ اضافہ ہے
" پھراللہ تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے ۔ : کون اسکو قرض دے گا جو نہ محتاج ہے اور نہ ہی ظالم ۔ "
Abu Sa'id and Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah waits till when one-third of the first part of the night is over; He descends to the lowest heaven and says: It there any supplicator of forgiveness? Is there any penitant? Is there any petitioner (for mercy and favour)? Is there any solicitor? -till it is daybreak.
ہم سے عثمان، ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا، اور ہم سے ابی شیبہ کے دو بیٹوں نے بیان کیا، اور ہم سے ران جریر نے بیان کیا, منصور نے ابو اسحاق سے اور انھوں نے اغر ابو مسلم سے روایت کی ، وہ حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ دونوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ( بندوں کو آرام کی ) مہلت دیتاہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتاہے تو وہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے؟کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟کیاکوئی مانگنے والاہے؟کیاکوئی پکارنے والا ہے؟حتیٰ کہ فجر پھوٹ پڑتی ہے ۔ "
This hadith is narrated by Ishaq with the same chain uf transmitters except this that the hadith transmitted by Mansur (the above one) is more comprehensive and lengthy.
اور ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے ابو اسحاق سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث بیان کی ، البتہ منصور کی روایت مکمل اور زیادہ ( تفصیلات پر محیط ) ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who observed prayer at night during Ramadan, because of faith and seeking his reward from Allah, his previous sins would be forgiven.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابن شہاب کی سند سے مالک کو پڑھا, حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کے ایمان ( کی حالت میں ) اور اجر طلب کرتے ہوئے رمضان کا قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردیئے گئے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to exhort (his Companions) to pray (at night) during Ramadan without commanding them to observe it as an obligatory act, and say: He who observed the night prayer in Ramadan because of faith and seeking his reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven. When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) died, this was the practice, and it continued thus during Abu Bakr's caliphate and the early part of 'Umar's caliphate.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, امام زہری نے ابو سلمہ ( بن عبدالرحمان ) سے اور انھوں نے ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لازم ٹھہرائے بغیر رمضان کے قیام کی ترغیب دیتے تھے ، آپ فرماتے : " جس نے رمضان کا قیام ایمان ( کی حالت میں ) اوراجر طلب کرتے ہوئے کیا ، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ یہی رہا ، پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی طرح رہا ( ترغیب دی جاتی رہی ، اجتماعی طور پر اہتمام نہیں کیاگیا ) -
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who observed the fasts of Ramadan with faith and seeking reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven, and he who observed prayer on Lailat-ul-Qadr with faith and seeking reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، مجھ سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, حییٰ بن ابی کثیر نے کہا : ہمیں سلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی ۔ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے رمضان کے روزے ایمان ( کی حالت میں ) اور ثواب کے لئے رکھے ، اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور جس نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لئے کیا تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who prayed on the Lailat-ul-Qadr (the Majestic Night) knowing that it is (the same night). I (believe) that he (the Prophet also) said: (He who does) it with faith and seeking reward (from Allah), his sins would be forgiven.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، مجھ سے شبابہ نے بیان کیا، مجھ سے ورقہ نے بیان کیا، ابو الزناد سے, اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص لیلۃ القدر کا قیام کرے گا اور اس کو پالے گا ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ۔ ایمان کے عالم میں اور احتساب کے لئے ، اسے بخش دیا جائے گا ۔ "
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) prayed one night in the mosque and people also prayed along with him. He then prayed on the following night and there were many persons. Then on the third or fourth night (many people) gathered there, but the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not come out to them (for leading the Tarawih prayer). When it was morning he said: I saw what you were doing, but I desisted to come to you (and lead the prayer) for I feared that this prayer might become obligatory for you. (He the narrator) said: It was the month of Ramadan.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے پڑھا,امام مالکؒ نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ اور لوگوں نے ( بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر آپ نے اس سے اگلی ر ات نماز پڑھی تو لوگوں ( کی تعداد ) میں اضافہ ہوگیا ، پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے ۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو تم نے کیا میں نے دیکھا ، مجھے تمہارے پاس آنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ ( نماز ) تم پر فرض نہ ہوجائے ۔ "" ( عروہ یا ان کے بعد کے کسی راوی نے ) کہا : اور یہ رمضان میں ہوا ۔
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came out during the night and observed prayer in the mosque and some of the people prayed along with him. When it was morning the people talked about this and so a large number of people gathered there. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went out for the second night, and they (the people) prayed along with him. When it was morning the people began to talk about it. So the mosque thronged with people on the third night. He (the Holy Prophet) came out and they prayed along with him. When it was the fourth night, the mosque was filled to its utmost capacity but the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not come out. Some persons among then cried: Prayer. But the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not come to them till he came out for the morning prayer. When he had completed the morning prayer, he turned his face to the people and recited Tashahhud (I bear testi- mony that there is no god but Allah and I bear testimony that Muhammad is His Messenger) and then said: Your affair was not hidden from me in the night, but I was afraid that (my observing prayer continuously) might make the night prayer obligatory for you and you might be unable to perform it.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا, یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وسط میں ( گھر سے ) نکلے اور مسجد میں نماز پڑھی ، کچھ لوگوں نے ( بھی ) آپ کی نماز کے ساتھ نماز ادا کی ، صبح کو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، چنانچہ ( دوسری رات ) لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہوگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم د وسری رات بھی باہر تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کی نماز کے ساتھ ( اقتداء میں ) نماز پڑھی ، صبح اس کا تذکرہ کرتے رہے ، تیسری رات مسجد میں آنے والے اور زیادہ ہوگئے آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھی ، جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد نمازیوں کے لئے تنگ ہوگئی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے حتیٰ کہ آپ صبح کی نماز کے لئے تشریف لائے ۔ جب صبح کی نماز پوری کرلی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، پھر شہادتیں پڑھ کر ( یہ خطبے کا حصہ ہیں ) فرمایا : " اما بعد! واقعہ یہ ہے کہ آج رات تمہارا حال مجھ سے مخفی نہ تھا لیکن مجھے خدشہ ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض نہ کردی جائے پر تم اس ( کی ادائیگی ) سے عاجز رہو ۔ "
Zirr (bin Hubaish) reported:
I heard from Ubayy bin Ka'b رضی اللہ تعالیٰ عنہ a statement made by 'Abdullah bin Mas'ud in which he said: He who gets up for prayer (every night) during the year will hit upon Lailat-ul-Qadr. Ubayy said: By Allah I there is no god but He, that (Lailat-ul-Qadr) is in Ramadhan (He swore without reservation: ) By Allah, I know the night; it is the night on which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded us to pray. It is that which precedes the morning of twenty-seventy and its indication is that the sun rises bright on that day without rays.
ہم سے محمد بن مہران الرازی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا, اوزاعی نے کہا : مجھ سے عبدہ ( بن ابی لبابہ ) نے زر ( بن جیش ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
میں نے ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے جب کہ ان سے کہاگیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں : جس نے سال بھر قیام کیا اس نے شب قدر کو پالیا تو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!وہ رات ر مضان میں ہے ۔ ۔ ۔ وہ بغیر کسی استثناء کے حلف اٹھاتے تھے ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ رات کون سی ہے ، یہ وہی رات ہے جس میں قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ، یہ ستائیسویں صبح کی رات ہے اور ا س کی علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح کو سورج سفید طلوع ہوتا ہے ، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی ۔
Ubayy bin Ka'b رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
By Allah, I know about Lailat-ul Qadr and I know it fully well that it is the twenty-seventh night (during Ramadan) on which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded us to observe prayer. (Shu'ba was in doubt about these words: the night on which the Messenger of Allah [ﷺ] commanded us to observe the prayer. This has been transmitted to me by a friend of mine.)
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا,محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبدہ بن ابی لبابہ کو زرین حبیش سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( زرنے ) کہا : حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا
اللہ کی قسم!میں اس کے بارے میں جانتا ہوں اور میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ، یہ ستائیسویں رات ہے ۔ شعبہ نے "" یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا "" فقرے کے بارے میں شک کیا ، انھوں نے کہا : مجھے یہ روایت میرے ساتھی نے ان ( عبدہ بن ابی لبابہ کے حوالے ) سے سنائی تھی ۔
Shu'ba reported this hadith with the same chain of transmitters, but he made no mention that Shu'ba was in doubt and what follows subsequently.
۔ ( عبیداللہ کے والد ) معاذ نے کہا : ہم سے شعبہ نے اسی سند کے ساتھ سابقہ روایت کی مانند حدیث بیان کی لیکن اس میں انما شك شعبة ( شعبہ نے اس کے بارے میں شک کیا ) اور اس کے بعد کی عبارت بیان نہیں کی ۔
Ibn `Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I spent a night with my maternal aunt (sister of my mother) Maimuna. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got up during the night and relieved himself, then washed his face and hands and went to sleep. He then got up again, and came to the water skin and loosened its straps, then performed good ablution between the two extremes. He then stood up and observed prayer. I also stood up and stretched my body fearing that he might be under the impression that I was there to find out (what he did at night). So I also performed ablution and stood up to pray, but I stood on his left. He took hold of my hand and made me go around to his right side. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) completed thirteen rak`ahs of his night prayer. He then lay down and slept and snored (and it was his habit to snore while asleep). Then Bilal رضی اللہ تعالیٰ عنہ came and he informed him about the prayer. He (the Holy Prophet) then stood up for prayer and did not perform ablution, and his supplication included these words: O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right hand, light on my left hand, light above me, light below me, light in front of me, light behind me, and enhance light for me. Kuraib (the narrator) said: There are seven (words more) which are in my heart (but I cannot recall them) and I met some of the descendants of Al-`Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ and they narrated these words to me and mentioned in them: (Light) in my sinew, in my flesh, in my blood, in my hair, in my skin, and made a mention of two more things.
ہم سے عبداللہ بن ہاشم بن حیان العبدی نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا,سلمہ بن کہیل نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی ضرورت ( کی جگہ ) آئے ، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سو گئے پھر اٹھے اور مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا ، پھر دو ( طرح کے ) وضو ( بہت ہلکا وضو اور بہت زیادہ وضو ) کے درمیان کا وضو کیا اور ( پانی ) زیادہ ( استعمال ) نہیں کیا اور ( وضو ) اچھی طرح کیا ، پھر اٹھے اور نماز شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے انگڑائی لی ، اس ڈر سے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ ( کے حالات جاننے ) کی خاطر جاگ رہا تھا ، پھر میں نے وضو کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ تو میں آپ کی دائیں جانب کھڑا ہوگیا ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب ( کھڑا ) کرلیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت رات کی نماز مکمل ہوئی ، پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے حتیٰ کہ آپ کی سانس لینے کی آواز آنے لگی ، آپ جب سوتے تھے تو آواز آتی تھی ۔ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی ، آپ نے نماز پڑھی ( سنت فجر ادا کیں ) اور وضو نہ کیا اور آپ کی دعا میں تھا : "" اےللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں اور میرے کانوں میں نور بھردے اورمیری دائیں طرف نور کردے اور میری بائیں طرف نور کردے اور میرے نیچے نور کردے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے لئے نور کو عظیم کردے ۔ "" ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ) کریب نے بتایا کہ ( ان کے علاوہ مزید ) سات ( چیزوں کے بارے میں دعا مانگی جن ) کا تعلق جسم کے صندوق ( پسلیوں اور اردگرد کے حصے ) سے ہے ، میر ی ملاقات حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے ہوئی تو انھوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ، انھوں نے بتایا کہ میرے پٹھوں ، میرے گوشت ، میرےخون ، میرے بالوں اور میری کھال ( کو نور کردے ) ، دو اور بھی چیزیں بتائیں ۔
Kuraib, the freed slave of Ibn `Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ , reported:
Ibn `Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ narrated to him that he spent a night in the house of Maimuna رضی اللہ تعالیٰ عنہا , the mother of the believers, who was his mother's sister. I lay down across the cushion, whereas the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and his wife lay down on it length-wise. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) slept till midnight, or a little before midnight, or a little after midnight, and then got up and began to cast off the effects of sleep from his face by rubbing with his hand, and then recited the ten concluding verses of Surah Al-`Imran. He then stood up near a hanging water-skin and performed ablution well, and then stood up and prayed, Ibn `Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہا said: I also stood up and did the same, as the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had done, and then went to him and stood by his side. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) placed his right hand upon my head and took hold of my right ear and twisted it, and then observed a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, and then observed Witr and then lay down till the Mu'adhdhin came to him. He (the Holy Prophet) then stood up and observed two short rak`ahs, and then went out (to the mosque) and observed the dawn prayer.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے پڑھا, امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے اور انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ کریب سے روایت کی کہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ایک رات ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری جو ان کی خالہ تھیں ، تو میں سرہانے ( بستر ) کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس ( بستر ) کے طول ( لمبائی ) میں لیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ رات آدھی ہوئی ۔ یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدا ر ہوگئے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے لگے ، ( چہرے پر ہاتھ پھیرا ) پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں ، پھر آپ اٹھ کرایک لٹکے ہوے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : "" میں اٹھا اور میں نے بھی وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاتھا ۔ پھر جا کر آپ کے پہلو میں کھڑ ہوگیااس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دائیاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر ( آہستہ سے ) مروڑنے لگے ۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں پڑھیں ۔ پھر وتر پڑھا ، پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس آیا تو آ پ کھڑے ہوئے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں ، پھر تشریف لئے گئے اور صبح کی نماز ادا کی ۔