The Book of Prayer - Travellers
كتاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا
Chapter 6
Ibn Buhaina رضی اللہ عنہ reported:
The dawn prayer had commenced when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw a person observing prayer, whereas the Mu'adhdhin had pronounced the Iqama. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: Do you say four (rak'ahs) of Fard in the dawn prayer?
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ابو عوانہ نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے ، اورانہوں نے حضرت ( عبداللہ ) ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
صبح کی نماز کی اقامت ( شروع ) ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ موذن اقامت کہہ رہا ہے تو آپ نے فرمایا : " کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے؟ "
Abdullah bin Sarjis reported:
A person entered the mosque, while the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was leading the dawn prayer. He observed two rak'ahs in a corner of the mosque, and then joined the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in prayer. When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had pronounced salutations (he had concluded the prayer), he said: O, so and so, which one out of these two prayers did you count (as your Fard prayer), the one that you observed alone or the prayer that you observed with us?
ہم سے ابو کامل الجحْدری نے بیان کیا، ہم سے مریم نے بیان کیا، ابو معاویہ نے، ان سب نے عاصم اور زہیر بن حرب کے بارے میں بیان کیا اور ان کے حافظ مروان بن معاویہ حضرت عبداللہ بن سرجس ( المزنی حلیف بنی مخزوم رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا ، جب ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا : " اے فلاں! تو نے دو نمازوں میں سے کون سی نماز کو شمار کیا ہے؟اپنی اس نماز کو جو تم نے اکیلے پڑھی ہے یا اس کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟ "
Abu Usaid رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When any one of you enters the mosque, he should say: O Allah! open for me the doors of Thy mercy ; and when he steps out he should say: 'O Allah! I beg of Thee Thy Grace. (Imam Muslim said: I heard Yahya saying: I transcribed this hadith from the compilation of Sulaiman bin Bilal.)
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں سلمان بن بلال نے ربعیہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے عبدالملک بن سعید سے ، اور انھوں نے حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ یا حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتو کہے "" اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ "" اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ اور جب مسجد سے نکلے تو کہے "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ "" اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتاہوں ۔ "" امام مسلم ؒ نے کہا : میں نے یحییٰ بن یحییٰ س سنا ، وہ کہتے تھے ، میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی ہے ، انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے ۔ کہ یحییٰ حمانی شک کے بغیر ) "" وأبي أسيداور ابو اسید "" سے کہتے تھے ۔
A hadith like this has been narrated from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) by Abu Usaid رضی اللہ عنہ .
ہم سے حمید بن عمر البکراوی نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، عمارہ بن غزیہ نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے روایت کی ، انھوں نے عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری سے ۔ انھوں نے حضرت ابو حمید ۔ ۔ ۔ یا حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے اور ا نھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
Abu Qatada رضی اللہ عنہ (a Companion of the Prophet) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When any one of you enters the mosque, he should observe two rak'ahs (of Nafl prayer) before sitting.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مالک نے بیان کیا اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ کو پڑھا, عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمرو بن سلیم زرقی سے اور انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے ۔ "
Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
A Companion of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said: I entered the mosque, when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had been sitting among people, and I also sat down among them. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: What prevented you from offering two rak'ahs (of Nafl prayer) before sitting down? I said: Messenger of Allah, I saw you sitting and people sitting (around you and I, therefore, sat in your company). He (the Holy Prophet) then said: When anyone among you enters the mosque, he should not sit till he has observed two rak'ahs.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، انہوں نے زیدہ رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ مجھ سے عمرو بن یحییٰ انصاری نے بیان کیا، مجھ سے بیان کیا,محمد بن یحییٰ بن حبان نے عمرو بن سلیم بن خلدہ انصاری سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی ، کہا
میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہا : تو میں بھی بیٹھ گیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعات نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ " میں نے عرض کی : اےا للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے آپ کو بیٹھتے دیکھا ہے اور لوگ بھی بیٹھے تھے ( اس لئے میں بھی بیٹھ گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھےبغير نہ بیٹھے ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) owed me a debt; he paid me back and made an addition (of this). I entered the mosque and he (the Holy Prophet) said to me: Observe two rak'ahs of prayer.
ہم سے احمد بن جواس الحنفی ابو عاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ اشجعی نے بیان کیا, سفیان بن محارب بن وثار سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا ، آپ نے اسے ادا کیا اور مجھے زائد رقم دی اور جب میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " دو رکعت نماز ادا کرلو ۔ "
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) bought a camel from me. When he came back to Medina, he ordered me to come to the mosque and observed two rak'ahs of prayer.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا,شعبہ نے محارب سے روایت کی ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں ، اور دو رکعتیں پڑھوں ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
I went with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on an expedition and my camel delayed me and I was exhausted. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) thus came earlier than I, whereas I came on the next day and went to the mosque and found him (the Holy Prophet) at the gate of the mosque. He said: It is now that you have come. I said. Yes. He said: Leave your camel and enter (the mosque) and observe two rak'ahs. He (the narrator) said: So I entered and observed (two rak'ahs) of prayer and then went back.
اور ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب یعنی ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا,وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، میرے اونٹ نے مجھے دیر کرادی اور تھک گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آگئے اور میں اگلے دن پہنچا ، میں مسجد میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " تم اب اس وقت تک پہنچے ہو؟ " میں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہوکر دو رکعتیں پڑھو ۔ " میں مسجد میں داخل ہوا ، نماز پڑھی ، پر واپس ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آیا ۔
Ka'b bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not come back from the journey but by day in the forenoon, and when he arrived, he went first to the mosque, and having prayed two rak'ahs in it he sat down in it.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے الضحاک نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، اور کہا کہ ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے ان سے اپنے والد عبداللہ بن کعب اور اپنے چچا عبید اللہ بن کعب کی روایت سے اس کے بارے میں بتایا, حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں چاشت کے وقت کے سوا ( کسی اور وقت ) سفر سے واپس تشریف نہ لاتے ، پھر جب تشریف لاتے تو مسجد جاتے ، اس میں دو رکعتیں ادا کرتے ، پھر ( کچھ دیر ) وہیں تشریف رکھتے ( تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہوجائے ) ۔
Abdullah bin Shaqiq reported:
I asked 'A'isha رضی اللہ عنہا whether the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe the forenoon prayer. She said: No, but when he came back from the journey.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، انہوں نے سعید الجریری کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق کی سند سے، انہوں نے کہاسعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نےکہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟انھوں نے کہا : نہیں ، الا یہ کہ باہر ( سفر ) سے واپس آئے ہوں ۔
Abdullah bin Shaqiq reported:
I aksed 'A'isha رضی اللہ عنہا whether the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe the forenoon prayer. She said: No, except when he came back from a journey.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا,کمس بن حسن قیسی نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں الا یہ کہ سفر سے واپس آئے ہوں ۔
Urwa reported 'A'isha رضی اللہ عنہا to be saying:
I have never seen the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observing the supererogatory prayer of the forenoon, but I observed it. And if the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) abandoned any act which he in fact loved to do, it was out of fear that if the people practised it constantly, it might become obligatory for them.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے، ابن شہاب سے، عروہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہاحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
میں نے کبھی ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( گھر میں قیام کے دوران میں ) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا ، جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں ۔ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے ۔ لیکن اس ڈر سے کہ لوگ ( بھی آپ کو دیکھ کر ) وہ کام کریں گےاور ( ان کی د لچسپی کی بناء پر ) وہ کام ان پر فرض کردیا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے ۔
Mu'adha asked 'A'isha ( رضی اللہ عنہا ):
How many rak'ahs Allah's Messenger ( ﷺ) prayed at the forenoon prayer. She replied: Four rak'ahs, but sometimes more as he pleased.
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا,عبدالوارث نے کہا : ہمیں یزید رشک نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، مجھے معاذہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز کتنی ( رکعتیں ) پڑھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے ( پڑھ لیتے ) ۔
A similar report (as no. 1663) was narrated from Yazid with this chain:
And Yazid said: As Allah pleased.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سےشعبہ نے یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
اور یزید نے ( ماشاء کے بجائے ) ماشاء اللہ ( جتنی اللہ چاہتا ) کہا ۔
Mua'ada 'Adawiyya reported 'A'isha رضی اللہ عنہا as saying:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe four rak'ahs in the forenoon prayer and he sometimes observed more as Allah pleased.
مجھ سے یحییٰ بن حبیب الحارث نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا, سعید نے کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ معاذہ عدویہ نے ان ( حدیث سننے والوں ) کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعتیں پڑھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا زیادہ ( بھی ) پڑھ لیتے ۔
A hadith like this has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters.
ہم سب سے اسحاق بن ابراہیم اور ابن بشار نے معاذ بن ہشام نے روایت کی ، کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے اسی سند کےساتھ یہی حدیث بیان کی ۔
Abdul-Rahman bin Abu Laila reported:
No one has ever narrated to me that he saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observing the forenoon prayer, except Umm Hani رضی اللہ عنہا . She, however, narrated that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered her house on the day of the Conquest of Mecca and prayed eight rak'ahs (adding): I never saw a shorter prayer than it except that he performed the bowing and prostration completely. But (one of the narrators) Ibn Bashshar in his narration made no mention of the word: Never .
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا
مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ۔ انھوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نمازپڑھتے نہیں دیکھا ، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کررہے تھے ۔ ابن بشار نے اپنی روایات میں قط ( کبھی ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
Abdullah bin Harith bin Naufal reported:
I had been asking about, as I was desirous to find one among people who should inform me, whether the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed the forenoon prayer, but I found none to narrate that to me except Umm Hani, daughter of Abu Talib رضی اللہ عنہا (the real sister of Hadrat 'Ali), who told me that on the day of the Conquest the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came (to our house) after the dawn had (sufficiently) arisen. A cloth was brought and privacy was provided for him (the Holy Prophet). He took a bath and then stood up and observed eight rak'ahs. I do not know whether his Qiyam (standing posture) was longer, or bending or prostration or all of them were of equal duration. She (Umm Hani) further said: I never saw him saying this Nafl prayer prior to it or subsequently. (Al-Muradi narrated on the authority of Yunus that he made no mention of the words: He informed me. )
حرملہ بن یحیٰٰ اور محمد بن سلمہ مرادی دونوں نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عبداللہ بن حارث کے بیٹے نے حدیث سنائی کہ ان کے والد عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کہا
میں نے ( سب سے ) پوچھا اور میری یہ شدید خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایک شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے ۔ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی نہ ملا جو مجھے یہ بتاتا ۔ انھوں نے مجھے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن بلند ہونے کے بعد تشریف لائے ، ایک کپڑا لا کر آپ کو پردہ مہیا کیاگیا ، آپ نے غسل فرمایا ، پھر آپ کھڑ اہوئے اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔ میں نہیں جانتی کہ ان میں آپ کا قیام ( نسبتاً ) زیادہ لمبا تھا یا آپ کا رکوع یا آپ کا سجود یہ سب ( ارکان ) قریب قریب تھے اور انھوں نے ( ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے بتایا ، میں نے ا س سے پہلے اور اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے یہ نماز پڑھی ہو ۔ ( محمد بن مسلمہ ) مرادی نے اپنی روایت میں "" یونس سے روایت ہے "" کہا ۔ "" مجھے یونس نے خبر دی "" نہیں کہا ۔
Abu Murra, the freed slave of Umm Hani رضی اللہ عنہا , daughter of Abu Talib, reported Umm Hani رضی اللہ عنہا to be saying:
I went to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the day of the Conquest of Mecca and found him taking a bath, and Fatimah رضی اللہ عنہا , his daughter, had provided him privacy with the help of a cloth. I gave him salutation and he said: Who is she? I said: It is Umm Hani, daughter of Abu Talib. He (the Holy Prophet) said: Greeting for Umm Hani. When he had completed the bath, he stood up and observed eight rak'ahs wrapped up in one cloth. When he turned back (after the prayer), I said to him: Messenger of Allah, the son of my mother 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ is going to kill a person, Fulan bin Hubaira whom I have given protection. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: We too have given protection whom you have given protection, O Umm Hani. Umm Hani said: It was the forenoon (prayer).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پڑھا,ابو نضر سے روایت ہے کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کو کپڑے سےچھپائے ہوئے تھیں ( آگے پردہ کیا ہوا تھا ) میں نے سلام عرض کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟میں نے کہا : ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ۔ آپ نے فرمایا : " ام ہانی کو خوش آمدید! " جب آپ نہانے سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور صرف ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا ماں جایا بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چاہتا ہے کہ ایک ایسے آدمی کو قتل کردے جسے میں نے پناہ دے چکی ہوں ۔ یعنی ہبیرہ کا بیٹا ، فلاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امی ہانی! جس کو تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی ۔ "