The Book of Prayer - Travellers
كتاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا
Chapter 6
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to say Nafl prayer on (the back of) his camel in whatever direction it took him.
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں سواری پر ) اپنی نفل نماز پڑھتے تھے آپ کی اونٹنی جس طرف بھی آپ کو لئے ہوئے رخ کرلیتی ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to pray on (the back of) his camel in whatever direction it took him.
اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,ابو خالد احمر نے عبیداللہ سے انھوں نے نافع سے اور انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے ۔ وہ چاہے آپ کو لئے ہوئے جس طرف بھی رخ کرلیتی ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to say prayer on his camel while coming from Mecca to Medina, in whatever direction his face had turned; and its was (in this context) that this verse was revealed: So whether you turn thither is Allah's face (ii. 115).
مجھ سے عبید اللہ بن عمر القواری نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی ، کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ کی طرف آرہے ہوتے ، اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے ، جس طرف بھی آپ کا رخ ہوجاتا ۔ کہا : اسی کے بارے میں یہ آیت اتری : " سو جس طرف تم رخ کرو ، وہیں اللہ کا چہرہ ہے ۔ "
This hadith has been narrated by another chain of transmitters and in the one narrated by Ibn Mubarak and Ibn Abu Za'ida (these words are narrated):
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ then recited: Whether you turn thither is Allah's face, and it was revealed in this context.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابن مبارک ، ابن ابی زائدہ اور ابن نمیر نے اپنے والد کے حوالے سے ، سب نے عبدالملک سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی اور ان میں سے ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ کی روایت میں ہے کہ
پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نےآیت تلاوت کی ( فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللہِہہہ ) " تم جس طرف بھی رخ کرو وہیں اللہ کا چہرہ ہے " اور کہا : یہ اسی کے بارے میں اتری ہے ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
I saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) praying (Nafl prayer) on a donkey's back while his face was turned towards Khaibar.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پڑھا,عمرو بن یحییٰ مازنی نے سعید بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نمازپڑھتے دیکھا جبکہ آپ نے خیبر کا رخ کیا ہوا تھا ۔
Sa'id bin Yasar reported:
I was travelling along with Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ on the way to Mecca. Sa'id said: When I apprehended dawn, I dismounted (the ride) and observed Witr prayer and then again joined him. Ibn 'Umar said to me: Where were you? I said: I apprehended the appearance of dawn, so I dismounted and observed Witr prayer. Upon this 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: Is there not a model pattern for you in the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم )? I said: Yes, by Allah, and (then) he said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe Witr prayer on the camel's back.
اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا, ابو بکر بن عمر بن عبدالرحمان ، بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعید بن یسار سے روایت کی کہ انھوں نے کہا
میں مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر کررہا تھا ۔ پھر جب مجھے صبح ہوجانے کا اندیشہ ہوا تو میں سواری سے اترا اور وتر پڑھے ، پھر میں ان سے جا ملا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے پوچھا : تم کہاں ( رہ گئے ) تھے؟میں نے ان سے کہا : مجھے فجر ہوجانے کا اندیشہ ہوا ، اس لئے میں نے اتر کروترپڑھے ۔ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں نمونہ نہیں ہے؟میں نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کی قسم ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھتے تھے ۔
Abdullah bin Dinar reported on the authority of Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe prayer on his ride (no matter) in which direction it had its face turned. 'Abdullah b. Dinar said that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ used to do like that.
اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے پڑھا, امام مالکؒ نے عبداللہ بن دینار سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے وہ آپ کو لئے ہوئے جدھر کا بھی رخ کرلیتی ۔ عبداللہ بن دینار نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی یہی کرتے تھے ۔
Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe Witr prayer on his ride.
اور مجھ سے عیسیٰ بن حماد المصری نے بیان کیا, ابن ہاد نے عبداللہ بن دینا ر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر ادا کرتے تھے ۔
Salim bin 'Abdullah reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe Nafi (supererogatory) prayer on his ride no matter in what direction it turned its face, and he observed Witr too on it, but did not observe obligatory prayer on it.
اور مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، اور مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, سالم بن عبداللہ نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل پڑھتے جدھر بھی آپ کا رخ ہوجاتا اور اسی پر وتر بھی پڑھتے ، البتہ آپ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے ۔
Abdullah bin 'Amir bin Rabi'a رضی اللہ عنہ has reported on the authority of his father:
He had seen the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observing Nafl player at night on a journey on the back of his ride in whichever direction it turned its face.
ہم سے عمرو بن سواد اور حرملہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن وہب نے خبر دی، مجھے یونس نے ابن شہاب کی سند سے خبر دی,حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انھیں ان کے والد نے بتایا کہ
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ سفر میں رات کے وقت سواری پر نفل پڑھتے تھے جدھر کا بھی وہ رخ کرلیتی تھی ۔
Anas bin Sirin reported:
We met Anas bin Malik رضی اللہ عنہ as he came to Syria at a place known as 'Ain-al-Tamar and saw him observing prayer on the back of his donkey with his face turned in that direction. (Hammam one of the narrators) pointed towards the left of Qibla, so I said to him: I find you observing prayer towards the side other than that of Qibla. Upon this he said: Had I not seen the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) doing like this, I would not have done so at all.
اور ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاہمام نے کہا : ہمیں انس بن سیرین نے حدیث بیان کی کہ
جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا ، ہم عین التمر کے مقام پر جا کر ان سے ملے تو میں نے انھیں دیکھا ، وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کا رخ اس طرف تھا ۔ ہمام نے قبلے کی بائیں طرف اشارہ کیا ۔ تو میں ( انس بن سیرین ) نے ان سے کہا : میں نے آپ کو قبلے کی بائیں طرف نماز پڑھتے دیکھا ہے انھوں نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں ( کبھی ) ایسا نہ کرتا ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was in a state of hurry on a journey, he combined the sunset and 'Isha' prayers.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے پڑھا, امام مالک ؒ نے نافع سے اور ا نھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرلیتے ۔
Nafi' reported:
When Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ was in a state of hurry on a journey, he combined the sunset and 'Isha' prayers after the twilight had disappeared, and he would say that when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was in a state of hurry on a journey, he combined the sunset and 'Isha' prayers.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا,عبیداللہ سے روایت ہےکہا : مجھے نافع نے خبردی کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب ( سفر کے لئے ) جلدی چلنا ہوتا تو شفق ( سورج کی سرخی ) غائب ہونے کے بعد ( یعنی عشاء کاوقت شروع ہونے کے بعد ) مغرب اور عشاء کو جمع کرکے پڑھتے تھے اور بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلد چلنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کو جمع کرلیتے تھے ۔
Salim reported from his father to be saying:
I saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) combining the sunset and Isha' prayers when he was in a hurry on a journey.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے بیان کیا، ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا, سفیان نے ( ابن شہاب ) زہری سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کرلیتے تھے ۔
Salim bin 'Abdullah reported that his father had said:
I saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) delaying the sunset prayer till he would combine it with the 'Isha' when he hastened to set out on a journey.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا, یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھےسالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نے سفر میں جلد چلنا ہوتا تو مغرب کی نماز کو موخر کردیتے حتیٰ کہ اسے اور عشاء کی نماز کو جمع کرکرتے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) set out on a journey before the sun declined (from the meridian), he delayed the noon prayer till the afternoon prayer, and then dismounted (his ride) and combined them (noon and afternoon prayers), but if the sun had declined before his setting out on a journey, he observed the noon prayer and then mounted (the ride).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, مفضل بن فضالہ نے عقیل سے ، انھوں نے ابن شہاب سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو اس وقت تک موخر فرماتے کہ عصر کا وقت ہوجاتا ، پھر آپ ( سواری سے ) اترتے ، دونوں نمازوں کوجمع کرتے ، اور اگر آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) intended to combine two prayers on a journey, he delayed the noon prayer till came the early time of the afternoon prayer, and then combined the two.
مجھ سے عمرو ناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار مدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل بن خالد نے بیان کیا، وہ زہری سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا
ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے توظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہوجاتا ، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے ۔
Anas reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had to set out on a journey hurriedly, he delayed the noon prayer to the earlier time for the afternoon prayer, and then he would combine them, and he would delay the sunset prayer to the time when the twilight would disappear and then combine it with the 'Isha' prayer.
مجھ سے ابو الطاہر اور عمرو بن سواد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے بیان کیا,جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد رضی اللہ عنہ سے، ابن شہاب رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کردیتے ، پھر دونوں کو جمع کرلیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کرکے پڑھتے جب شفق غائب ہوجاتی ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed the noon and afternoon prayers together, and the sunset and Isha' prayers together without being in a state of fear or in a state of journey.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: میں نے پڑھاامام مالک ؒ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکھٹا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکھٹا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed the noon and afternoon prayers together in Medina without being in a state of fear or in a state of journey. (Abu Zubair said: I asked Sa'id [one of the narrators] why he did that. He said: I asked Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ as you have asked me, and he replied that he [the Holy Prophet] wanted that no one among his Ummah should be put to [unnecessary] hardship.)
ہمیں احمد بن یونس اور عون بن سلام نے بیان کیا,زہیر نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کرکے پڑھا ۔ ابوزبیر نے کہا : میں نے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ) سعید سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ؤ نے ایسا کیوں کیاتھا؟انھوں نےجواب دیا : میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوا ل کیاتھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انھوں نے کہا : آپ نے چاہا کہ اپنی امت کےکسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں ۔