It was narrated that Ibn Umar رضی اللہ عنہم said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he said the opening Takbir of the prayer, raise his hands until they were level with his shoulders. When he said the Takbir before bowing he did likewise, and when he said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him),' he did likewise, then he said: 'Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, to You be praise).' But he did not do that when he prostrated or when he raised his head from prostration.
ہم سے عمرو بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعیب نے زہری کی سند سے بیان کیا، کہا: مجھ سے سلیم نے بیان کیا۔ اور مجھ سے احمد بن محمد بن المغیرہ نے بیان کیا، کہا: عثمان نے جو ابن سعید ہیں، نے شعیب کی سند سے، محمد کی سند سے جو کہ الزہری ہیں, مجھ سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں تکبیر تحریمہ شروع کرتے تو جس وقت اللہ اکبر کہتے اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل کر لیتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے، پھر جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ۱؎، اور «ربنا ولك الحمد» کہتے اور سجدہ میں جاتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہیں کرتے۔
It was narrated that Ibn Umar رضی اللہ عنہم said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he stood to pray, raise his hands until they were in level with his shoulders, then he said the takbir. He did that when he said the Takbir before bowing, and he did that when he raised his head from bowing and said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him).' Bu he did not do that during the prostration.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے یونس کی سند سے اور زہری کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے سلیم نے خبر دی, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ وہ آپ کے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔
It was narrated from Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہم that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would raise his hands in level with his shoulders, and when he bowed and when he raised his head from bowing, he would raise them likewise and say Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him, our Lord, to You be praise). And he did not do that when he prostrated.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ان دونوں کو اسی طرح اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده»، «ربنا ولك الحمد» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔
It was narrated from Abdul-Jabbar bin Wa'il رضی اللہ عنہ that his father said:
I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and when he started to pray he said the Takbir and raised his hands until they were in level with his ears. Then he recited the Opening of the Book, and when he had finished he said 'Amin' and raised his voice with it.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الاحواس نے ابواسحاق کی سند سے، عبدالجبار بن وائل رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی اے اللہ اسے قبول فرما ۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith رضی اللہ عنہ- who was one of the companions of the Prophet (ﷺ)- that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed he would raise his hands-when he said the Takbir- until they were parallel to his ears, and when he wanted to bow and when he raised his head from bowing.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، قتادہ کی سند سے بیان کیا، کہا: میں نے نصر بن عاصم سے سنا, مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے ( تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے ) ۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith رضی اللہ عنہ said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he started to pray, raise his hands, and when he bowed, and when he raised his head from bowing, until they were parallel with the top of his ears.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن الیاس نے ابن ابی عروبہ سے، قتادہ کی سند سے اور نصر بن عاصم کی سند سے بیان کیا, مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور جس وقت آپ نے رکوع کیا اور جس وقت رکوع سے اپنا سر اٹھایا ( تو بھی انہیں آپ نے اٹھایا ) یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کی کانوں کی لو کے بالمقابل ہو گئے۔
It was narrated from Abdul-Jabbar bin Wa'il رضی اللہ عنہ, from his father, that:
He saw the Prophet (ﷺ), when he started to pray, raise his hands until his thumbs were almost level with his earlobes.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا: ہم سے فطر بن خلیفہ نے عبد الجبار بن وائل رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے بیان کیا
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے بالمقابل ہو جاتے۔
Sa'eed bin Sam'an said:
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ came to the Masjid of Banu Zuraiq and said: There are three things that the Messenger of Allah (ﷺ) used to do and the people have abandoned; he used to raise his hands extended when praying, and he would fall silent briefly, and say takbir when he prostrated and when he sat up.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذہب نے بیان کیا، کہا:سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے، اور کہنے لگے: تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ۱؎، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۲؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) entered the Masjid, then a man entered and prayed, then he came and greeted the Messenger of Allah (ﷺ) with Salam. The Messenger of Allah (ﷺ) returned his greeting and said: Go back and pray, for you have not prayed. So he went back and prayed as he has prayed before, then he came to the Prophet (ﷺ) and greeted him with Salam, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Wa alaika as-salam (and upon you be peace). Go back and pray for you have not prayed. He did that three times, then the man said: By the One Who sent you with the truth, I cannot do any better than that; teach me. He said: When you stand to pray, say the Takbir, then recite whatever is easy for you of Quran. Then bow until you have tranquility in your bowing, then stand up until you are standing straight. Then prostrate until you have tranquility in your prostration, then sit up until you have tranquility in your sitting. Then do that throughout your entire prayer.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، کہا: مجھ سے سعید بن ابی سعید نے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، اور ایک اور شخص داخل ہوا، اس نے آ کر نماز پڑھی، پھر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( پھر ) فرمایا: وعلیک السلام، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے ( نماز پڑھنا ) سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ۱؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۲؎۔
It was narrated from Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہم that:
A man stood behind the Prophet of Allah (ﷺ) and said: Allahu Akbaru kabira wal-hamdu Lillahi kathira, wa subhan-Allahi bukratan was asila (Allah is Most Great and much praise be to Allah and glorified be Allah at the beginning and end of the day). The Prophet of Allah (ﷺ) said: Who spoke these words? A man said: I did, O Prophet of Allah (SWT). He said: Twelve angels rushed (to take them up).
مجھ سے محمد بن وھب نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن سلمہ نے ابو عبدالرحیم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: زید نے جو ابن ابی انیسہ ہیں، انہوں نے عمرو بن مرہ سے اور عون بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا ۲؎۔
It was narrated that Ibn Umar رضی اللہ عنہم said:
While we were praying with the Messenger of Allah (ﷺ), a man among the people said: 'Allahu Akbaru kabira, wal-hamdu Lillahi kathira, wa subhan-Allahi bukratan was asila (Allah is Most Great and much praise be to Allah and glorified be Allah at the beginning and end of the day).' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who is the one who said such and such?' A man among the people said: 'I did, O Messenger of Allah.' He said: ' I like it,' and he said words to the effect that the gates of the Heavens had been opened for it. Ibn Umar رضی اللہ عنہم said: I never stopped saying it since I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say that.
ہم سے محمد بن شجاع المروزی نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے حجاج کی سند سے، ابو الزبیر کی سند سے، عون بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران لوگوں میں سے ایک شخص نے: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں کہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: مجھے اس کلمہ پر حیرت ہوئی ، اور آپ نے ایک ایسی بات ذکر کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے میں نے اسے کبھی نہیں چھوڑا۔
It was narrated that Musa bin Umair Al-Anbari and Qais bin Sulaim Al-Anbari said: Alqamah bin Wa'il رضی اللہ عنہ told us that his father said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he was standing in prayer, holding his left hand with his right.'
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ نے موسیٰ بن عمیر الانباری اور قیس بن سلیم الانباری کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا بایاں ہاتھ پکڑتے۔
It was narrated that Al Hajjaj bin Abi Zainab said:
I heard Abu Uthman رضی اللہ عنہ narrate that Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ said: 'The Prophet (ﷺ) saw me when I had placed my left hand on my right in prayer. He took hold of my right hand and placed it on my left.'
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشیم نے حجاج بن ابی زینب کی سند سے بیان کیا، کہا
میں نے ابو عثمان رضی اللہ عنہ کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔
Wa'il bin Hujr رضی اللہ عنہ said:
I said: 'I am going to watch how the Messenger of Allah (ﷺ) prays.' So I watched him and he stood and said the takbir, and raised his hands until they were in the level with his ears, then he placed his right hand over his left hand, wrist and lower forearm. When he wanted to bow he raised his hands likewise. Then he prostrated and placed his hands in level with his ears. Then he sat up and placed his left leg under him; he put his left hand on his left thigh and knee, and he put the edge of his right elbow on his right thigh, then he held two of his fingers together and made a circle, and raised his forefinger, and I saw him moving it and supplicating with it.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے زیدہ کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا، کہا: مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ انہیں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا
میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں ؛ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل لے گئے، پھر آپ نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی ( کی پشت ) ، کلائی اور بازو پر رکھا ۱؎، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، پھر جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل رکھا، پھر آپ نے قعدہ کیا، اور اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کا سرا اپنی داہنی ران کے اوپر اٹھائے رکھا، پھر آپ نے اپنی انگلیوں میں سے دو کو بند ۲؎ کر لیا، اور ( بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ ( دائرہ ) بنا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کرتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) forbade praying with one's hands on one's waist.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم کو جریر نے ہشام کی سند سے خبر دی اور ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، اور ہشام کی سند سے، ابن سیرین کی سند سے ان کا قول ہے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کوکھ ( کمر ) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ۔
It was narrated that Ziyad bin Subaih said:
I prayed beside Ibn Umar رضی اللہ عنہم and put my hand on my waist, and he did this to me-knocked it with his hand. When I had finished praying I said to a man: 'Who is this?' He said: Abdullah bin Umar.' I said: 'O Abu Abdur-Rahman, why are you angry with me?' He said: 'This is the posture of crucifixion, and the Mesenger of Allah (ﷺ) forbade us to do this.'
ہم سے حمید بن مسعدہ نے سفیان بن حبیب کی سند سے سعید بن زیاد کی سند سے بیان کیا, زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ ( کمر ) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے ( پوچھا ) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے۔
It was narrated from Abu Ubaidah that:
Abdullah رضی اللہ عنہ saw a man who was praying with his feet together. He said: He is going against the Sunnah; if he shifted his weight from one to the other that would be better.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے سفیان بن سعید ثوری کی سند سے، میسرہ کی سند سے، منہال بن عمرو کی سند سے, ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملا کر نماز پڑھ رہا ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سنت کی مخالفت کی ہے، اگر یہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو بہتر ہوتا ۔
It was narrated from Abdullah رضی اللہ عنہ that:
He saw a man praying with his feet together. He said: He is not following the Sunnah. If he were to shift his weight from one to the other I would like that better.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میسرہ بن حبیب نے بیان کیا، کہا: میں نے المنہال بن عمرو کو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت سے چوک گیا، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pause briefly when he had started to pray.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عمرہ بن قعقاع سے اور ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray he would pause briefly. I said: 'May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah, what do you say when you pause briefly between the takbir and reciation?' He said: 'I say: Allahuma ba'id bayni wa bayna khatayaya kama ba'adta bayna al-mashriqi wal-maghrib; Allahumma naqqini min khatayaya kama yunaqqa ath-thawb al-abyad min ad-danas; Allahumma ighsilni min khatayaya bil ma'i wa ath-thalji wal-barad. (O Allah, put a great distance between me and my sins, as great as the distance You have made between the East and the West; O Allah, cleanse me of my sins as a white garment is cleansed from filth; O Allah, wash away my sins with water and snow and hail).'
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں جریر نے عمرہ بن قعقاع سے اور ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کی سند سے خبر دی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے، تو میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں: «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالماء والثلج والبرد» اے اللہ! تو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر رکھی ہے، اے اللہ! تو مجھے میرے گناہوں سے پاک صاف کر دے جس طرح میل کچیل سے سفید کپڑا صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے ۔