Narrated Sa'd bin Hisham: It was narrated from Sa'd bin Hisham that he came to the Mother of the Believers, 'Aishah. He said: I want to ask you about celibacy, what do you think about it? She said: Do not do that; have you not heard that Allah, the Mighty and Sublime, says: 'And indeed We sent Messengers before you, and made for them wives and offspring'? So do not be celibate.
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ
وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: میں مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہنے کے سلسلے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا: ایسا ہرگز نہ کرنا، کیا تم نے نہیں سنا ہے؟ اللہ عزوجل فرماتا ہے: «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ”ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا“ ( الرعد: ۳۸ ) تو ( اے سعد! ) تم «تبتل» ( اور رہبانیت ) اختیار نہ کرو۔
Narrated Anas: It was narrated from Anas that there was a group of the Companions of the Prophet, one of whom said: I will not marry women. Another said: I will not eat meat. Another said: I will not sleep on a bed. Another said: I will fast and not break my fast. News of that reached the Messenger of Allah and he praised Allah then said: What is the matter with people who say such and such? But I pray and I sleep, I fast and I break my fast, and I marry women. Whoever turns away from my Sunnah is not of me.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا: میں نکاح ( شادی بیاہ ) نہیں کروں گا، بعض نے کہا: میں گوشت نہ کھاؤں گا، بعض نے کہا: میں بستر پر نہ سوؤں گا، بعض نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا، کھاؤں پیوں گا نہیں، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ( لوگوں کے سامنے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ( مجھے دیکھو ) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں۔ ( سن لو ) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے ( میرے طریقے پر نہ چلے ) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
Narrated Abu Hurairah: It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: There are three who are promised the help of Allah: The Mukatab who wants to buy his freedom, the one who gets married seeking to keep himself chaste, and the Mujahid who fights in the cause of Allah. *Mukatab: the slave who has made a contract of manumission.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ( طرح کے لوگ ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم و ضروری کر لیا ہے: ( ایک ) وہ مکاتب ۱؎ جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہو۔ ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کر کے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو“۔
Narrated Jabir: It was narrated that Jabir said: I got married then I came to the Prophet and he said: 'Have you got married, O Jabir?' I said: 'Yes.' He said: 'To a virgin or to a previously married woman?' I said: 'To a previously married woman.' He said: 'Why not a virgin, so you could play with her and she could play with you?'
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نکاح کیا، اور ( اور بیوی کے ساتھ پہلی رات گزارنے کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”جابر! کیا تم نے نکاح کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! آپ نے کہا: ”کنواری سے ( شادی کی ہے ) یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے“، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“۔
Narrated Jabir: It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah met me and said: 'O Jabir, have you got married to a woman since I last saw you?' I said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'To a virgin or to a previously-married woman?' I said: 'To a previously-married woman.' He said: 'Why not a virgin, so she could play with you?'
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی؟“۔
Narrated 'Abdullah bin Buraidah: It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said: Abu Bakr and 'Umar, may Allah be pleased with them, proposed marriage to Fatimah but the Messenger of Allah said: 'She is young.' Then 'Ali proposed marriage to her and he married her to him.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ) فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے لیے پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چھوٹی ہے“، پھر علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو آپ نے ان کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۱؎۔
Narrated 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah: It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah that during the reign of Marwan, 'Abdullah bin 'Amr bin 'Uthman, who was a young man, issued a final divorce to the daughter of Sa'eed bin Zaid, whose mother was Bint Qais. Her maternal aunt, Fatimah bint Qais, sent word to her telling her to move from the house of 'Abdullah bin 'Amr. Marwan heard of that and he sent word to the daughter of Sa'eed, telling her to go back to her home, and asking her why she had moved from her home before her 'Iddah was over? She sent word to him telling him that her maternal aunt had told her to do that. Fatimah bint Qais said that she had been married to Abu 'Amr bin Hafs, and when the Messenger of Allah appointed 'Ali bin Abi Talib as governor of Yemen, he went out with him and sent word to her that she was divorced with the third Talaq. He told Al-Harith bin Hisham and 'Ayyash bin Abi Rai'ah to spend on her. She sent word to Al-Harith and 'Ayyash asking them what her husband had told them to spend on her, and they said: 'By Allah, she has no right to any maintenance from us, unless she is pregnant, and she cannot come into our home without our permission.' She said that she came to the Messenger of Allah and told him about that, and he stated that they were correct. Fatimah said: 'Where should I move to, O Messenger of Allah?' He said: 'Move to the home of Ibn Umm Maktum, the blind man whom Allah, the Mighty and Sublime, named in His Book.' Fatimah said: 'So I observed my 'Iddah there. He was a man who has lost his sight, so I used to take off my garments in his house, until the Messenger of Allah married me to Usamah bin Zaid.' Marwan criticized her for that and said: 'I have never heard this Hadith from anyone before you. I will continue to follow the ruling that the people have been following.'
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ
مروان کے دور حکومت میں ایک نوجوان شخص عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی ( جن کی ماں بنت قیس ہیں ) کو طلاق بتہ دے دی ۱؎، تو اس کی خالہ فاطمہ بنت قیس نے اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم عبداللہ بن عمرو کے گھر سے منتقل ہو جاؤ، یہ بات مروان نے سنی ( کہ سعید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو کے گھر سے چلی گئی ہے ) ۔ تو اسے یہ حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم اپنے اس گھر کو واپس چلی جاؤ ( جہاں سے نکل کر آئی ہو ) اور اس سے وجہ بھی پوچھی کہ تم اپنے گھر میں عدت کے ایام پورا کئے بغیر وہاں سے نکل کیسے آئی؟ تو اس نے انہیں ( یعنی مروان کو ) کہلا بھیجا کہ میں اپنی خالہ کے کہنے سے نکل آئی تھی۔ تو ( اس کی خالہ ) فاطمہ بنت قیس نے ( اپنا پیش آمدہ واقعہ ) بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص کے نکاح میں تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا، تو وہ بھی ان کے ساتھ گئے اور ( وہاں سے ) انہوں نے ان کو ( تین طلاقوں میں سے ) باقی بچی ہوئی طلاق دے کر کہلا بھیجا کہ حارث بن ہشام اور عیاش بن ربیعہ سے اپنا نفقہ لے لیں۔ کہتی ہیں: تو انہوں نے حارث اور عیاش سے پچھوا بھیجا کہ ان کے لیے ان کے شوہر نے ان دونوں کو کیا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے کہا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے پاس کوئی نفقہ ( خرچ ) نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے گھر میں ہماری اجازت کے بغیر ان کا رہنا درست ہے۔ ہاں اگر وہ حاملہ ہوں ( تو انہیں وضع حمل تک نفقہ و سکنی ملے گا ) وہ ( یعنی فاطمہ بنت قیس ) کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان سب باتوں کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں سچ کہتے ہیں“، فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! پھر میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ جو ایک نابینا شخص ہیں اور جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ( قرآن پاک ) میں کیا ہے“۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے ان کے یہاں جا کر عدت پوری کی۔ وہ ایسے آدمی تھے جن کی آنکھیں چلی گئی تھیں، میں ان کے یہاں اپنے کپڑے اتار دیتی تھی، پھر ( وہ وقت آیا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کرا دی ۲؎، ان کی اس بات کو مروان نے قبول نہیں کیا اور کہا: میں نے تم سے پہلے ایسی بات کسی سے نہیں سنی ہے۔ میں تو وہی فیصلہ نافذ رکھوں گا جس پر لوگوں کو عمل کرتا ہوا پایا ہے۔ ( یہ حدیث ) مختصر ہے۔
Narrated 'Aishah: It was narrated from 'Aishah that Abu Hudhaifah bin 'Utbah bin Rabi'ah bin 'Abd Shams --who was one of those who had been present at Badr with the Messenger of Allah-- adopted Salim and married him to his brother's daughter, Hind bint Al-Walid bin 'Utbah bin Rabi'ah bin 'Abd Shams, and he was a freed slave of an Ansari woman --as the Messenger of Allah had adopted Zaid. During the Jahiliyyah, if a man adopted someone, the people would call him his son, and he would inherit from his legacy, until Allah, the Mighty and Sublime, revealed about that: 'Call them by (the names of) their fathers, that is more just with Allah. But if you know not their fathers' (names, call them) your brothers in Faith and Mawalikum (your freed slaves). Then if a person's father's name was not known, he would be their freed slave and brother in faith.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا، اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے کر دی۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے لیا تھا، اور زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ متبنی کرنے والے کو اس لڑکے کا باپ کہا کرتے تھے اور وہ لڑکا اس کی میراث پاتا تھا اور یہ دستور اس وقت تک چلتا رہا جب تک اللہ پاک نے یہ آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ”لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے، پھر اگر تمہیں ان کے حقیقی باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“ ( الاحزاب: ۵ ) نازل نہ کی، پس جس کا باپ معلوم نہ ہو وہ دینی بھائی اور دوست ہے، ( یہ حدیث ) مختصر ہے۔
Narrated 'Aishah: It was narrated from 'Aishah the wife of the Prophet, and Umm Salamah the wife of the Prophet that Abu Hudhaifah bin 'Utbah bin Rabi'ah bin Abd Shams --who was one of those who had been present at Badr with the Messenger of Allah-- adopted Salim --who was the freed slave of an Ansari woman-- as the Messenger of Allah had adopted Zaid bin Harithah. Abu Hudhaifah bin 'Utbah married Salim to his brother's daughter Hind bint Al-Walid bin 'Utbah bin Rabi'ah. Hind bint Al-Walid bin 'Utbah was one of the first Muhajir women, and at that time she was one of the best single women of the Quraish. When Allah, the Mighty and Sublime, revealed the following concerning Zaid bin Harithah: Call them by (the names of) their fathers, that is more just with Allah. But if you know not their fathers' (names, call them) your brothers in Faith and Mawalikum (your freed slaves).' Each of them went back to being called after his father, and if a person's father was unknown, he was named after his former masters.
امہات المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان لوگوں میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا لے پالک بنا لیا تھا۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا تھا۔ ابوحذیفہ بن عتبہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا تھا اور یہ ہند بنت ولید بن عتبہ شروع شروع کی مہاجرہ عورتوں میں سے تھیں، وہ قریش کی بیوہ عورتوں میں اس وقت سب سے افضل و برتر عورت تھیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے زید بن حارثہ ( غلام ) کے تعلق سے آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ» ”لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے“ نازل فرمائی تو ہر ایک لے پالک اپنے اصل باپ کے نام سے پکارا جانے لگا، اور جن کے باپ نہ جانے جاتے انہیں ان کے آقاؤں کی طرف منسوب کر کے پکارتے۔
Narrated Ibn Buraidah: It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: The Messenger of Allah said: 'The nobility of the people of this world, that which they (always) go to, is wealth.'
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا داروں کا حسب ۱؎ جس کی طرف وہ دوڑتے ( اور لپکتے ) ہیں مال ہے“۔
Narrated Jabir: It was narrated from Jabir that he married a woman at the time of the Messenger of Allah, and the Prophet met him and said: Have you got married, O Jabir? He said: 'Yes.' He said: 'A virgin or a previously-married woman?' I said: 'A previously-married woman.' He said: 'Why not a virgin who would play with you?' I said: 'O Messenger of Allah, I have sisters, and I did not want her to come between them and I.' He said: 'That's better then. A woman may be married for her religious commitment, her wealth or her beauty. You should choose the one who is religiously committed, may your hands be rubbed with dust (may you prosper).'
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی تو آپ نے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟“ جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ ۱؎ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی؟ جو تجھے ( جوانی کے ) کھیل کھلاتی“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری چند بہنیں میرے ساتھ ہیں، مجھے ( کنواری نکاح کر کے لانے میں ) خوف ہوا کہ وہ کہیں میری اور ان کی محبت میں رکاوٹ ( اور دوری کا باعث ) نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم نے ٹھیک کیا، عورت سے شادی اس کا دین دیکھ کر، اس کا مال دیکھ کر اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر کی جاتی ہے۔ تو تم کو دیندار عورت کو ترجیح دینی چاہیئے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔
Narrated Ma'qil bin Yasar: It was narrated that Ma'qil bin Yasar said: A man came to the Messenger of Allah and said: 'I have found a woman who is from a good family and of good status, but she does not bear children, should I marry her?' He told him not to. Then he came to him a second time and he told him not to (marry her). Then he came to him a third time and he told him not to (marry her), then he said: 'Marry the one who is fertile and loving, for I will boast of your great numbers.'
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ مجھے ایک عورت ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے ۱؎، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ نے اسے ( اس سے شادی کرنے سے ) منع فرما دیا۔ پھر دوبارہ آپ کے پاس پوچھنے آیا تو آپ نے پھر اسے روکا۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھنے آیا، پھر بھی آپ نے منع کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ۲؎ کیونکہ میں تمہارے ذریعہ کثرت تعداد میں ( دیگر اقوام پر ) غالب آنا چاہتا ہوں ۳؎“۔
Narrated 'Amr bin Shu'aib: It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that Marthad bin Abi Marthad Al-Ghanawi --a strong man who used to take the prisoners from Makkah to Al-Madinah-- said: I arranged with a man to bring him (from Makkah to Al-Madinah). There was a prostitute in Makkah who was called 'Anaq, and she was his friend. She came out and saw my shadow on the wall, and said: 'Who is this? Marthad? Welcome, O Marthad, come tonight and stay at our place.' I said: 'O 'Anaq, the Messenger of Allah has forbidden adultery.' She said: 'O people of the tents, this porcupine is the one who is taking your prisoners from Makkah to Al-Madinah!' I headed toward (the mountain of) Al-Khandamah, and eight men came after me. They came and stood over my head, and they urinated, and their urine reached me, but Allah caused them not to see me. Then I went to my companion (the prisoner) and brought him to Al-Arak, where I undid his fetters. Then I came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, shall I marry 'Anaq?' He remained silent and did not answer me, then the following was revealed: 'And the adulteress-fornicator, none marries her except an adulterer-fornicator or an idolater.' He called me and recited them to me and said: 'Do not marry her.'
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ ایک سخت اور زور آور آدمی تھے، قیدیوں کو مکہ سے مدینہ منتقل کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو بلایا کہ اسے سواری پر ساتھ لیتا جاؤں، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، وہ ( گھر سے باہر ) نکلی، دیوار کی پرچھائیوں میں میرے وجود کو ( یعنی مجھے ) دیکھا، بولی کون ہے؟ مرثد! خوش آمدید اپنوں میں آ گئے، مرثد! آج رات چلو ہمارے ڈیرے پر ہمارے پاس رات کو سوؤ، میں نے کہا: عناق! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے، اس نے کہا: خیمہ والو! یہ دلدل ہے ۱؎ یہ وہ ( پرندہ ) ہے جو تمہارے قیدیوں کو مکہ سے مدینہ اٹھا لے جائے گا ( یہ سن کر ) میں خندمہ ( پہاڑ ) کی طرف بڑھا ( مجھے پکڑنے کے لیے ) میری طلب و تلاش میں آٹھ آدمی نکلے اور میرے سر پر آ کھڑے ہوئے، انہوں نے وہاں پیشاب کیا جس کے چھینٹے مجھ پر پڑے ( اتنے قریب ہونے کے باوجود وہ مجھے دیکھ نہ سکے کیونکہ ) میرے حق میں اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا۔ میں ( وہاں سے بچ کر ) اپنے ( قیدی ) ساتھی کے پاس آیا اور اسے سواری پر چڑھا کر چل پڑا۔ پھر جب میں اراک پہنچا تو میں نے اس کی بیڑی کھول دی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ تو آپ خاموش رہے پھر آیت: «الزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» ”زنا کار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور نکاح نہیں کرتی“۔ ( النور: ۳ ) نازل ہوئی، پھر ( اس کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، مذکورہ آیت پڑھی پھر فرمایا: ”اس سے شادی نہ کرو“ ۲؎۔
Narrated Ibn 'Abbas: It was narrated from Ibn 'Abbas that a man came to the Messenger of Allah and said: I have a wife who is one of the most beloved of the people to me, but she does not object if anyone touches her. He said: Divorce her. He said: I cannot do without her. He said: Then stay with her as much as you need to.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے جو مجھے سبھی لوگوں سے زیادہ محبوب ہے مگر خرابی یہ ہے کہ وہ کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہ پاؤں گا۔ تو آپ نے کہا: پھر تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ( اور وہ جو دوسروں کو تیرا مال لے لینے دیتی ہے، اسے نظر انداز کر دے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث ( صحیح ) ثابت نہیں ہے، عبدالکریم ( راوی ) زیادہ قوی نہیں ہے اور ہارون بن رئاب ( راوی ) عبدالکریم سے زیادہ قوی راوی ہیں۔ انہوں نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے ہارون ثقہ راوی ہیں اور ان کی حدیث عبدالکریم کی حدیث کے مقابل میں زیادہ صحیح اور درست لگتی ہے۔
Narrated Abu Hurairah: It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: Women are married for four things: their wealth, their nobility, their beauty and their religious commitment. Choose the one who is religiously committed, may your hands be rubbed with dust.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے شادی چار چیزیں دیکھ کر کی جاتی ہے: اس کا مال دیکھ کر، اس کی خاندانی وجاہت ( حسب ) دیکھ کر، اس کی خوبصورتی دیکھ کر اور اس کا دین دیکھ کر، تو تم دیندار عورت کو پانے کی کوشش کرو ۱؎، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۲؎۔
Narrated Abu Hurairah: It was narrated that Abu Hurairah said: It was said to the Messenger of Allah: 'Which woman is best?' He said: 'The one who makes him happy when he looks at her, obeys him when he commands her, and she does not go against his wishes with regard to herself nor her wealth.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ۱؎، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو ( خوش اسلوبی سے ) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۲؎“۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As: It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As that the Messenger of Allah said: This world is all temporary conveniences, and the best temporary convenience of this world is a righteous woman.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا ساری کی ساری پونجی ہے ( برتنے کی چیز ہے ) ۱؎ لیکن ساری دنیا میں سب سے بہترین ( قیمتی ) چیز نیک و صالح عورت ہے“۔
Narrated Anas: It was narrated from Anas that they said: O Messenger of Allah, why don't you marry a woman from the Ansar? He said: They are very jealous.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
لوگوں ( یعنی مہاجرین ) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انصار کی عورتوں سے شادی کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا: ”ان میں غیرت بہت ہے“۔
Narrated Abu Hurairah: It was narrated that Abu Hurairah said: A man proposed to a woman from among the Ansar and the Messenger of Allah said to him: 'Have you seen her?' He said: 'No.' So he told him to look at her.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نے ایک انصاری عورت کو شادی کا پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے دیکھ لو“ ۱؎۔
Narrated Al-Mughirah bin Shu'bah: It was narrated that Al-Mughirah bin Shu'bah said: I proposed marriage to a woman during the time of the Messenger of Allah, and the Prophet said: 'Have you seen her?' I said: 'No.' He said: 'Look at her, for that is more likely to create love between you.'
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”دیکھ لو، کیونکہ دیکھ لینا دونوں میں محبت کے اضافہ کا باعث ہے“ ۱؎۔