It was narrated that 'Abdullah said, concerning a man who married a woman, then died before consummating the marriage with her, and without naming a dowry: She should have the dowry, and she has to observe the 'Iddah, and she may inherit. Ma'qil bin Sinan said: I heard the Prophet pass the same judgment concerning Birwa' bint Washiq.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک ایسا شخص جس نے ایک عورت سے شادی کی پھر مر گیا نہ اس سے خلوت کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا۔ تو اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا: اس عورت کا مہر ( مہر مثل ) ہو گا۔ اسے عدت گزارنی ہو گی اور اسے میراث ملے گی۔ ( یہ سن کر ) معقل بن سنان نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بروع بنت واشق کے معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ کرتے سنا ہے۔
(Another chain) with a similar narration.
علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے
اسی طرح روایت کی ہے۔
It was narrated from 'Abdullah that some people came to him and said: A man among us married a woman, but he did not name a dowry for her, and he did not have intercourse with her before he died. 'Abdullah said: 'Since I left the Messenger of Allah I have never been asked a more difficult question than this. Go to someone else.' They kept coming to him for a month, then at the end of that they said: 'Who shall we ask if we do not ask you? You are one of the most prominent Companions of Muhammad in this land and we cannot find anyone else.' He said: 'I will say what I think, and if it is correct then it is from Allah alone, with no partner, and if it is wrong then it is from me and from the Shaitan, and Allah and His Messenger have nothing to do with it. I think she should be given a dowry like that of her peers and no less, with no injustice, and she may inherit from him, and she has to observe the 'Iddah, four months and ten days.' He said: And that was heard by some people from Ashja', who stood up and said: 'We bear witness that you have passed the same judgment as the Messenger of Allah did concerning a woman from among us who was called Birwa' bint Washiq.' He said: Abdullah was never seen looking so happy as he did on that day, except with having accepted Islam.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ان کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی، نہ اس کا مہر مقرر کیا، نہ اس سے خلوت کی اور مر گیا ( اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ) ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑا ہے ( یعنی آپ کے انتقال کے بعد ) اس سے زیادہ ٹیڑھا اور مشکل سوال مجھ سے نہیں کیا گیا ہے۔ تو تم لوگ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ ( اور اس سے فتویٰ پوچھ لو ) ، لیکن وہ لوگ اس مسئلہ کے سلسلے میں مہینہ بھر ان کا پیچھا کرتے رہے بالآخر انہوں نے ان سے کہا: اگر آپ سے نہ پوچھیں تو پھر کس سے پوچھیں! آپ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے اور جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، آپ کے سوا ہم کسی اور کو نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا: ( جب ایسی بات ہے ) تو میں اپنی عقل و رائے سے اس بارے میں بتاتا ہوں، اگر میری بات درست ہو تو سمجھو یہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہو تو سمجھو کہ وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں، میں اس کے لیے مہر مثل کا فتویٰ دیتا ہوں نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث ملے گی اور وہ چار مہینہ دس دن کی عدت گزارے گی۔ یہ مسئلہ اشجع قبیلہ کے چند لوگوں نے سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ویسا ہی فیصلہ کیا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری قوم کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا تھا۔ ( یہ سن کر ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( اپنا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو جانے کے باعث ) اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے وقت کی خوشی کے سوا اس سے زیادہ خوش کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔
It was narrated from Sahl bin Sa'd that a woman came to the Messenger of Allah and said: O Messenger of Allah, I give myself in marriage to you. She stood for a long time, then a man stood up and said: Marry her to me if you do not want to marry her. The Messenger of Allah said: Do you have anything? He said: I cannot find anything. He said: Look (for something), even if it is only an iron ring. So he looked but he could not find anything. The Messenger of Allah said to him: Have you (memorized) anything of the Qur'an? He said: Yes, Surah such and such and Surah such and such, naming them. The Messenger of Allah said: I marry her to you for what you know of the Qur'an.
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہنے لگی: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ذات کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے ( یہ کہہ کر ) وہ کافی دیر کھڑی رہی تو ایک شخص اٹھا اور آپ سے عرض کیا ( اللہ کے رسول! ) اگر آپ کو اسے رکھنے کی ضرورت نہ ہو تو آپ میری شادی اس سے کرا دیجئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس ( بطور مہر دینے کے لیے ) کچھ ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”جاؤ ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو ( پاؤ تو اسے لے آؤ ) ، اس نے ( جا کر ) ڈھونڈا، اسے کچھ بھی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تمہارے پاس قرآن کا بھی کچھ علم ہے؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، اس نے ان سورتوں کا نام لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جاؤ ) میں نے تمہارا نکاح اس عورت کے ساتھ اس قرآن کے عوض کر دیا جو تمہیں یاد ہے“ ( تم اسے قرآن پڑھا دو اور یاد کرا دو ) ۔
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that the Prophet said, concerning a man who had intercourse with his wife's slave woman: If she let him do that, I will flog him with one hundred stripes , and if she did not let him, I will stone him (to death).
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے ( آدمی کو ) سو کوڑے ماروں گا ۱؎، اور اگر اس ( کی بیوی ) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎۔
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that a man called 'Abdur-Rahman bin Hunain or Yunbaz Qurqur had intercourse with his wife's slave woman, and it was brought to An-Nu'man bin Bashir. He said: I will pass the same judgment concerning her as the Messenger of Allah did. If she let you do that, I will flog you, but if she did not let you do that, I will stone you (to death). She had let him do that so he flogged him with one hundred stripes. (One of the narrators) Qatadah said: I wrote to Habib bin Salim and he wrote back to me with this information.
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے ( برے لقب ) «قرقور» ۱؎ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت ( زنا ) کر بیٹھا، یہ معاملہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کر دیا تھا تب تو ( تعزیراً ) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا۔ ( پوچھنے پر پتہ لگا کہ ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو ( خط ) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی۔
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that the Messenger of Allah said, concerning a man who had intercourse with his wife's slave woman: If she let him do that, I will flog him with one hundred stripes, and if she did not let him do that, I will stone him (to death).
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا فرمایا: ”اگر اس کی بیوی نے اسے اس کی اجازت دے دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اس نے اس کے لیے اسے حلال نہ کیا ہو گا تو میں اسے ( یعنی شوہر کو ) سنگسار کر دوں گا“۔
It was narrated that Salamah bin Al-Muhabbaq said: The Prophet passed judgment concerning a man who had intercourse with his wife's slave woman: 'If he forced her, then she is free, and he has to give her mistress a similar slave as a replacement; if she obeyed him in that, then she belongs to him, and he has to give her mistress a similar slave as a replacement.'
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا ( اس طرح ) فرمایا: اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی اور اگر ( مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس ( مرد ) کی ہو جائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی۔
It was narrated from Salamah bin Al-Muhabbaq that a man had intercourse with a slave woman belonging to his wife, and was brought to the Messenger of Allah. He said: If he forced her, then she is free at his expense and he has to give her mistress a similar slave as a replacement. If she obeyed him in that, then she belongs to her mistress, and he has to give her mistress a similar slave as well.
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا، یہ قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اس لونڈی کے ساتھ زنا بالجبر ( زبردستی زنا ) کیا ہے تو یہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو گی اور اسے اس جیسی دوسری لونڈی اس کی مالکہ کو دینی ہو گی اور اگر لونڈی نے اس کام میں مرد کا ساتھ دیا ہے ( اور اس کی خوشی و رضا مندی سے یہ کام ہوا ہے ) تو یہ لونڈی اپنی مالکہ ( یعنی بیوی ) ہی کی رہے گی اور اس ( شوہر ) کے مال سے اس جیسی دوسری لونڈی ( خرید کر ) اس کی مالکہ کو ملے گی“ ( گویا یہ پرائی عورت سے جماع کرنے کا جرمانہ ہے ) ۔
It was narrated from Al-Hasan and 'Abdullah, the sons of Muhammad, from their father, that 'Ali heard that a man did not see anything wrong with Mut'ah (temporary marriage). He said: You are confused, the Messenger of Allah forbade it, and the meat of domestic donkeys on the day of Khaibar.
علی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ
ان کو اطلاع ملی کہ ایک شخص ۱؎ ہے جو متعہ میں کچھ حرج اور قباحت نہیں سمجھتا۔ علی رضی اللہ عنہ نے ( اس سے ) کہا تم گمراہ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے۔
It was narrated from 'Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin 'Ali, from their father, from 'Ali bin Abi Talib, that the Messenger of Allah on the Day of Khaibar forbade temporary marriage to women, and (he also forbade) the meat of tame donkeys.
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے روک دیا ہے۔
Malik bin Anas narrated that Ibn Shihab told him that 'Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin 'Ali, told him, that their father Muhammad bin 'Ali told them, that 'Ali bin Abi Talib, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah on the Day of Khaibar forbade temporary marriage to women. (One of the narrators) Ibn Al-Muthanna said: The Day of Hunain. He said: This is what 'Abdul-Wahhab narrated to us from his book.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے سے روک دیا ہے، ابن المثنی کہتے ہیں: حنین کے دن منع کیا ہے اور کہتے ہیں: عبدالوہاب نے اپنی کتاب سے ایسا ہی مجھ سے بیان کیا ہے۔
It was narrated from Ar-Rabi' bin Sabrah Al-Juhani that his father said: The Messenger of Allah gave permission for Mut'ah, so I and another man went to a woman from Bani 'Amir and offered ourselves to her (for Mut'ah). She said: 'What will you give me?' I said: 'My Rida' (upper garment).' My companion also said: 'My Rida'.' My companion's Rida' was finer than mine, but I was younger than him. When she looked at my companion's Rida' she liked it, but when she looked at me, she liked me. Then she said: 'You and your Rida' are sufficient for me.' I stayed with her for three (days), then the Messenger of Allah said: 'Whoever has any of these women whom he married temporarily should let them go.'
سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص ( دونوں ) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، ( لیکن ) میں اس سے زیادہ جوان ( تگڑا ) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی ( اس کی طرف لپکتی ) اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے بہت پسند آتا تھا۔ پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ تو میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے چھوڑ دے“۔
It was narrated that Muhammad bin Hatib said: The Messenger of Allah said: 'What differentiates between the lawful and the unlawful is the Duff, and the voice (singing) for the wedding.'
محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے اور اس کا اعلان کیا جائے ۱؎“۔
It was narrated that Abu Balj said: I heard Muhammad bin Hatib say: 'What differentiates between the lawful and the unlawful is the voice (singing).'
محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال و حرام ( نکاح ) میں تمیز پیدا کرنے والی چیز آواز ہے“ ۱؎۔
It was narrated that Al-Hasan said: Aqil bin Abi Talib married a woman from Banu Jusham, and it was said to him: 'May you live in harmony and have many sons.' He said: 'Say what the Messenger of Allah said: Barak Allahu fikum, wa baraka lakum. (May Allah bless you and bestow blessings upon you.)'
حسن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
عقیل بن ابی طالب نے بنو جثم کی ایک عورت سے شادی کی تو انہیں «بالرفاء والبنين» میل ملاپ سے رہنے اور صاحب اولاد ہونے کی دعا دی گئی۔ تو انہوں نے کہا: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس موقع پر ) کہا ہے اسی طرح تم بھی کہو، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) «بارك اللہ فيكم وبارك لكم» ”اللہ تعالیٰ تمہاری ہر چیز میں برکت دے اور تمہیں برکت والا کرے“۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah saw traces of yellow perfume on 'Abdur-Rahman and said: 'What is this?' He said: 'I married a woman for a Nawah (five Dirhams) of gold.' He said: 'May Allah bless you. Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.'
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) کے کپڑے پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن برابر سونا دے کر میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: «بارك اللہ لك» ”اللہ تمہیں اس نکاح میں برکت دے“ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔
It was narrated from Anas that 'Abdur-Rahman bin 'Awf came with a trace of saffron on him, and the Messenger of Allah said: What's this for? He said: I have married a woman. He said: What dowry did you give? He said: The weight of a Nawah (five Dirhams) of gold. He said: Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر زعفران کے رنگ کا اثر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے ( یہ اسی کا اثر و نشان ہے ) ۔ آپ نے پوچھا؟ مہر کتنا دیا؟ کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا، آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah saw a trace of yellow perfume on me -as if he meant 'Abdur-Rahman bin 'Awf- and said: 'What's this for?' He said: 'I have married a woman from among the Ansar.' He said: 'Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا اثر دیکھا ( مجھ سے مراد عبدالرحمٰن بن عوف ہیں ) پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ( یہ اسی کا نشان ہے ) ، آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that 'Ali said: I got married to Fatimah, may Allah be pleased with her, and I said: 'O Messenger of Allah, let me consummate the marriage.' He said: 'Give her something.' I said: 'I do not have anything.' He said: 'Where is your Hutami armor?' I said: 'It is with me.' He said: 'Give it to her.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے کچھ ( تحفہ ) دو“، میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، آپ نے فرمایا: ”تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟“ میں نے کہا: یہ تو میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا: ”وہی اسے دے دو“۔