It was narrated that 'Abdullah رضی الله عنہ said:
Concerning a man who married a woman, then died before consummating the marriage with her, and without naming a dowry: She should have the dowry, and she has to observe the 'Iddah, and she may inherit. Ma'qil bin Sinan said: I heard the Prophet ﷺ pass the same judgment concerning Birwa' bint Washiq.
اسحاق بن منصور نے ہمیں خبر دی، کہا: عبدالرحمن نے ہمیں بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے فراس سے، انہوں نے الشعبی سے، اور انہوں نے مسروق سے روایت کیا, عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک ایسا شخص جس نے ایک عورت سے شادی کی پھر مر گیا نہ اس سے خلوت کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا۔ تو اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا: اس عورت کا مہر ( مہر مثل ) ہو گا۔ اسے عدت گزارنی ہو گی اور اسے میراث ملے گی۔ ( یہ سن کر ) معقل بن سنان نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بروع بنت واشق کے معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ کرتے سنا ہے۔
(Another chain) with a similar narration.
اسحاق بن منصور نے ہمیں خبر دی، کہا: عبدالرحمن نے ہمیں بیان کیا، سفیان سے، منصور سے، ابراہیم سے,علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے
اسی طرح روایت کی ہے۔
It was narrated from 'Abdullah رضی اللہ عنہ that:
Some people came to him and said: A man among us married a woman, but he did not name a dowry for her, and he did not have intercourse with her before he died. 'Abdullah رضی اللہ عنہ said: 'Since I left the Messenger of Allah ﷺ I have never been asked a more difficult question than this. Go to someone else.' They kept coming to him for a month, then at the end of that they said: 'Who shall we ask if we do not ask you? You are one of the most prominent Companions of Muhammad in this land and we cannot find anyone else.' He said: 'I will say what I think, and if it is correct then it is from Allah alone, with no partner, and if it is wrong then it is from me and from the Shaitan, and Allah and His Messenger have nothing to do with it. I think she should be given a dowry like that of her peers and no less, with no injustice, and she may inherit from him, and she has to observe the 'Iddah, four months and ten days.' He said: And that was heard by some people from Ashja', who stood up and said: 'We bear witness that you have passed the same judgment as the Messenger of Allah ﷺ did concerning a woman from among us who was called Birwa' bint Washiq رضی اللہ عنہا.' He said: Abdullah رضی اللہ عنہ was never seen looking so happy as he did on that day, except with having accepted Islam.
علی بن حجر نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں علی بن مشیر نے داؤد بن ابی ہند سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے علقمہ سے حدیث بیان کی, عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ان کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی، نہ اس کا مہر مقرر کیا، نہ اس سے خلوت کی اور مر گیا ( اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ) ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑا ہے ( یعنی آپ کے انتقال کے بعد ) اس سے زیادہ ٹیڑھا اور مشکل سوال مجھ سے نہیں کیا گیا ہے۔ تو تم لوگ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ ( اور اس سے فتویٰ پوچھ لو ) ، لیکن وہ لوگ اس مسئلہ کے سلسلے میں مہینہ بھر ان کا پیچھا کرتے رہے بالآخر انہوں نے ان سے کہا: اگر آپ سے نہ پوچھیں تو پھر کس سے پوچھیں! آپ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے اور جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، آپ کے سوا ہم کسی اور کو نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا: ( جب ایسی بات ہے ) تو میں اپنی عقل و رائے سے اس بارے میں بتاتا ہوں، اگر میری بات درست ہو تو سمجھو یہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہو تو سمجھو کہ وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں، میں اس کے لیے مہر مثل کا فتویٰ دیتا ہوں نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث ملے گی اور وہ چار مہینہ دس دن کی عدت گزارے گی۔ یہ مسئلہ اشجع قبیلہ کے چند لوگوں نے سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ویسا ہی فیصلہ کیا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری قوم کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا تھا۔ ( یہ سن کر ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( اپنا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو جانے کے باعث ) اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے وقت کی خوشی کے سوا اس سے زیادہ خوش کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔
It was narrated from Sahl bin Sa'd رضی الله عنہ that:
A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, I give myself in marriage to you. She stood for a long time, then a man stood up and said: Marry her to me if you do not want to marry her. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you have anything? He said: I cannot find anything. He said: Look (for something), even if it is only an iron ring. So he looked but he could not find anything. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Have you (memorized) anything of the Qur'an? He said: Yes, Surah such and such and Surah such and such, naming them. The Messenger of Allah ﷺ said: I marry her to you for what you know of the Qur'an.
ہارون بن عبداللہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں معن نے بیان کیا، کہا: ہمیں مالک نے ابوحازم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا،سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہنے لگی: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ذات کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے ( یہ کہہ کر ) وہ کافی دیر کھڑی رہی تو ایک شخص اٹھا اور آپ سے عرض کیا ( اللہ کے رسول! ) اگر آپ کو اسے رکھنے کی ضرورت نہ ہو تو آپ میری شادی اس سے کرا دیجئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس ( بطور مہر دینے کے لیے ) کچھ ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”جاؤ ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو ( پاؤ تو اسے لے آؤ ) ، اس نے ( جا کر ) ڈھونڈا، اسے کچھ بھی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تمہارے پاس قرآن کا بھی کچھ علم ہے؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، اس نے ان سورتوں کا نام لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جاؤ ) میں نے تمہارا نکاح اس عورت کے ساتھ اس قرآن کے عوض کر دیا جو تمہیں یاد ہے“ ( تم اسے قرآن پڑھا دو اور یاد کرا دو ) ۔
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir رضی الله عنہما that:
The Prophet ﷺ said, concerning a man who had intercourse with his wife's slave woman: If she let him do that, I will flog him with one hundred stripes , and if she did not let him, I will stone him (to death).
ہمیں محمد بن بشار نے خبر دی، کہا: ہمیں محمد نے بیان کیا، کہا: ہمیں شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابوبشر سے، انہوں نے خالد بن عرفطہ سے، انہوں نے حبیب بن سالم سے روایت کیا, نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے ( آدمی کو ) سو کوڑے ماروں گا ، اور اگر اس ( کی بیوی ) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۔
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir رضی اللہ عنہما that:
A man called 'Abdur-Rahman bin Hunain or Yunbaz Qurqur had intercourse with his wife's slave woman, and it was brought to An-Nu'man bin Bashir رضی اللہ عنہ. He said: I will pass the same judgment concerning her as the Messenger of Allah did. If she let you do that, I will flog you, but if she did not let you do that, I will stone you (to death). She had let him do that so he flogged him with one hundred stripes. (One of the narrators) Qatadah said: I wrote to Habib bin Salim and he wrote back to me with this information.
ہمیں محمد بن معمر نے خبر دی، کہا: ہمیں حبّان نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابان نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے خالد بن عرفطہ سے، انہوں نے حبیب بن سالم سے، اور انہوں نے نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما سے روایت کیا
ان کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے ( برے لقب ) «قرقور» ۱؎ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت ( زنا ) کر بیٹھا، یہ معاملہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کر دیا تھا تب تو ( تعزیراً ) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا۔ ( پوچھنے پر پتہ لگا کہ ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو ( خط ) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی۔
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah ﷺ said, concerning a man who had intercourse with his wife's slave woman: If she let him do that, I will flog him with one hundred stripes, and if she did not let him do that, I will stone him (to death).
ابو داؤد نے ہمیں خبر دی، کہا: ’عارم نے ہمیں بیان کیا، کہا: حماد بن سلمہ نے ہمیں سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے قتادہ سے روایت کیا, حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا فرمایا: ”اگر اس کی بیوی نے اسے اس کی اجازت دے دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اس نے اس کے لیے اسے حلال نہ کیا ہو گا تو میں اسے ( یعنی شوہر کو ) سنگسار کر دوں گا“۔
It was narrated that Salamah bin Al-Muhabbaq رضی الله عنہ said:
The Prophet ﷺ passed judgment concerning a man who had intercourse with his wife's slave woman: 'If he forced her, then she is free, and he has to give her mistress a similar slave as a replacement; if she obeyed him in that, then she belongs to him, and he has to give her mistress a similar slave as a replacement.'
ہمیں محمد بن رافع نے خبر دی، کہا: ہمیں عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں معمر نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، اور انہوں نے قبیصہ بن حریث سے روایت کیا, سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا ( اس طرح ) فرمایا: اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی اور اگر ( مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس ( مرد ) کی ہو جائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی۔
It was narrated from Salamah bin Al-Muhabbaq رضی الله عنہ that:
A man had intercourse with a slave woman belonging to his wife, and was brought to the Messenger of Allah ﷺ. He said: If he forced her, then she is free at his expense and he has to give her mistress a similar slave as a replacement. If she obeyed him in that, then she belongs to her mistress, and he has to give her mistress a similar slave as well.
ہمیں محمد بن عبد اللہ بن بزیع نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، اور انہوں نے حسن سے روایت کیا, سلمہ بن محبق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا، یہ قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اس لونڈی کے ساتھ زنا بالجبر ( زبردستی زنا ) کیا ہے تو یہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو گی اور اسے اس جیسی دوسری لونڈی اس کی مالکہ کو دینی ہو گی اور اگر لونڈی نے اس کام میں مرد کا ساتھ دیا ہے ( اور اس کی خوشی و رضا مندی سے یہ کام ہوا ہے ) تو یہ لونڈی اپنی مالکہ ( یعنی بیوی ) ہی کی رہے گی اور اس ( شوہر ) کے مال سے اس جیسی دوسری لونڈی ( خرید کر ) اس کی مالکہ کو ملے گی“ ( گویا یہ پرائی عورت سے جماع کرنے کا جرمانہ ہے ) ۔
It was narrated from Al-Hasan and 'Abdullah, the sons of Muhammad, from their father, that:
'Ali رضی اللہ عنہ heard that a man did not see anything wrong with Mut'ah (temporary marriage). He said: You are confused, the Messenger of Allah forbade it, and the meat of domestic donkeys on the day of Khaibar.
ہمیں عمرو بن علی نے خبر دی، کہا: ہمیں یحییٰ نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کیا، انہوں نے کہا: مجھے زہری نے حسن اور عبداللہ — جو محمد کے دو بیٹے تھے — سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ
علی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کو اطلاع ملی کہ ایک شخص ہے جو متعہ میں کچھ حرج اور قباحت نہیں سمجھتا۔ علی رضی اللہ عنہ نے ( اس سے ) کہا تم گمراہ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے۔
It was narrated from 'Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin 'Ali, from their father, from 'Ali bin Abi Talib رضی الله عنہ, that:
The Messenger of Allah ﷺ on the Day of Khaibar forbade temporary marriage to women, and (he also forbade) the meat of tame donkeys.
ہمیں محمد بن سلمہ اور الحارث بن مسکین نے خبر دی—انہوں نے اسے ان (استاد) کے سامنے پڑھا اور میں سن رہا تھا، اور الفاظ انہی کے ہیں—کہا: ہمیں ابن القاسم نے خبر دی، انہوں نے مالک سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبداللہ اور حسن (محمد بن علی کے دونوں بیٹوں) سے، انہوں نے اپنے والد سے, علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے روک دیا ہے۔
Malik bin Anas narrated that Ibn Shihab told him that 'Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin 'Ali, told him, that their father Muhammad bin 'Ali told them, that 'Ali bin Abi Talib رضی الله عنہ , said:
The Messenger of Allah ﷺ on the Day of Khaibar forbade temporary marriage to women. (One of the narrators) Ibn Al-Muthanna said: The Day of Hunain. He said: This is what 'Abdul-Wahhab narrated to us from his book.
ہمیں عمرو بن علی، محمد بن بشار اور محمد بن المثنیٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالوہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہوئے سنا: مجھے مالک بن انس نے خبر دی کہ انہیں ابنِ شہاب نے خبر دی کہ عبداللہ اور حسن—جو محمد بن علی کے دو بیٹے تھے—نے انہیں خبر دی کہ ان کے والد محمد بن علی نے انہیں خبر دی, علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے سے روک دیا ہے، ابن المثنی کہتے ہیں: حنین کے دن منع کیا ہے اور کہتے ہیں: عبدالوہاب نے اپنی کتاب سے ایسا ہی مجھ سے بیان کیا ہے۔
It was narrated from Ar-Rabi' bin Sabrah Al-Juhani رضی الله عنہ that his father said:
The Messenger of Allah ﷺ gave permission for Mut'ah, so I and another man went to a woman from Bani 'Amir and offered ourselves to her (for Mut'ah). She said: 'What will you give me?' I said: 'My Rida' (upper garment).' My companion also said: 'My Rida'.' My companion's Rida' was finer than mine, but I was younger than him. When she looked at my companion's Rida' she liked it, but when she looked at me, she liked me. Then she said: 'You and your Rida' are sufficient for me.' I stayed with her for three (days), then the Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever has any of these women whom he married temporarily should let them go.'
قتبہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں لیث نے بیان کیا، انہوں نے ربیع بن سبرہ الجہنی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا، جنہوں نے کہا:سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص ( دونوں ) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، ( لیکن ) میں اس سے زیادہ جوان ( تگڑا ) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی ( اس کی طرف لپکتی ) اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے بہت پسند آتا تھا۔ پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ تو میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے چھوڑ دے“۔
It was narrated that Muhammad bin Hatib رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah ﷺ said: 'What differentiates between the lawful and the unlawful is the Duff, and the voice (singing) for the wedding.'
ہمیں مجاہد بن موسیٰ نے خبر دی، کہا: ہمیں ہشیم نے ابو بلج سے روایت کیا, محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے اور اس کا اعلان کیا جائے “۔
It was narrated that Abu Balj said:
I heard Muhammad bin Hatib رضی الله عنہ say: 'What differentiates between the lawful and the unlawful is the voice (singing).'
ہمیں محمد بن عبد الاعلیٰ نے خبر دی، کہا: ہمیں خالد نے شعبہ سے، انہوں نے ابو بلج سے روایت کیا، جنہوں نے کہا
میں نے محمد بن حاطب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال و حرام ( نکاح ) میں تمیز پیدا کرنے والی چیز آواز ہے“ ۔
It was narrated that Al-Hasan رضی الله عنہ said:
Aqil bin Abi Talib married a woman from Banu Jusham, and it was said to him: 'May you live in harmony and have many sons.' He said: 'Say what the Messenger of Allah said: Barak Allahu fikum, wa baraka lakum. (May Allah bless you and bestow blessings upon you.)'
ہم سے عمرو بن علی اور محمد بن عبد الاعلیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے اشعث سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا: حسن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
عقیل بن ابی طالب نے بنو جثم کی ایک عورت سے شادی کی تو انہیں «بالرفاء والبنين» میل ملاپ سے رہنے اور صاحب اولاد ہونے کی دعا دی گئی۔ تو انہوں نے کہا: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس موقع پر ) کہا ہے اسی طرح تم بھی کہو، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) «بارك اللہ فيكم وبارك لكم» ”اللہ تعالیٰ تمہاری ہر چیز میں برکت دے اور تمہیں برکت والا کرے“۔
It was narrated that Anas رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah ﷺ saw traces of yellow perfume on 'Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ and said: 'What is this?' He said: 'I married a woman for a Nawah (five Dirhams) of gold.' He said: 'May Allah bless you. Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.'
قتبہ نے ہمیں خبر دی، کہا: حماد بن زید نے ہمیں ثابت سے روایت کیا, انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) کے کپڑے پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن برابر سونا دے کر میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: «بارك اللہ لك» ”اللہ تمہیں اس نکاح میں برکت دے“ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
'Abdur-Rahman bin 'Awf رضی اللہ عنہ came with a trace of saffron on him, and the Messenger of Allah said: What's this for? He said: I have married a woman. He said: What dowry did you give? He said: The weight of a Nawah (five Dirhams) of gold. He said: Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.
ہمیں ابوبکر بن نافع نے خبر دی، کہا: ہمیں بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا: ہمیں حماد نے بیان کیا، کہا: ہمیں ثابت نے بیان کیا,انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر زعفران کے رنگ کا اثر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے ( یہ اسی کا اثر و نشان ہے ) ۔ آپ نے پوچھا؟ مہر کتنا دیا؟ کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا، آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
It was narrated that Anas رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah ﷺ saw a trace of yellow perfume on me -as if he meant 'Abdur-Rahman bin 'Awf- and said: 'What's this for?' He said: 'I have married a woman from among the Ansar.' He said: 'Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep.'
مجھے احمد بن یحییٰ بن الوزیر بن سلیمان نے خبر دی، کہا: ہم سے سعید بن کثیر بن عفیر نے بیان کیا، کہا: ہم کو سلیمان بن بلال نے خبر دی، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے حمید الطویل سے, انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا اثر دیکھا ( مجھ سے مراد عبدالرحمٰن بن عوف ہیں ) پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ( یہ اسی کا نشان ہے ) ، آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی الله عنہما that:
'Ali رضی اللہ عنہ said: I got married to Fatimah رضی اللہ عنہا , and I said: 'O Messenger of Allah, let me consummate the marriage.' He said: 'Give her something.' I said: 'I do not have anything.' He said: 'Where is your Hutami armor?' I said: 'It is with me.' He said: 'Give it to her.'
ہمیں عمرو بن منصور نے خبر دی، کہا: ہمیں ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا: ہمیں حماد نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے، اور انہوں نے عکرمہ سے روایت کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے کچھ ( تحفہ ) دو“، میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، آپ نے فرمایا: ” تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟“ میں نے کہا: یہ تو میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا: ”وہی اسے دے دو“۔