Narrated 'Urwah: It was narrated from 'Urwah, that 'Aishah said: The Messenger of Allah married me in Shawwal and my marriage was consummated in Shawwal. --'Aishah liked for her women's marriages to be consummated in Shawwal -- and which of his wives was more beloved to him than me?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( عید کے مہینے ) شوال میں شادی کی، اور میری رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی۔ ( عروہ کہتے ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ مسلمان بیویوں کے پاس ( عید کے مہینے ) شوال میں جایا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے مجھ سے زیادہ آپ سے نزدیک اور فائدہ اٹھانے والی کوئی دوسری بیوی کون تھیں ۱؎۔
Narrated 'Amir bin Shurahbil Ash-Sha'bi: 'Amir bin Shurahbil Ash-Sha'bi narrated that he heard Fatimah bint Qais--who was one of the first Muhajir women-- say: 'Abdur-Rahman bin 'Awf proposed marriage to me, along with others of the Companions of Muhammad. And the Messenger of Allah proposed that I marry his freed slave, Usamah bin Zaid. I was told that the Messenger of Allah had said: 'Whoever loves me, let him love Usamah.' When the Messenger of Allah spoke to me I said: 'My affairs are in your hands; marry me to whomever you wish.' He said: 'Go to Umm Sharik.' Umm Sharik was a rich Ansari woman who used to spend a great deal in the cause of Allah, and she always had a lot of guests. I said: 'I will do that.' He said: 'Do not do that, for Umm Sharik has a lot of guests, and I would not like your Khimar to fall off, or your shins to become uncovered, and the people to see something of you that you do not want them to see. Rather go to your cousin (son of your paternal uncle) 'Abdullah bin 'Amr bin Umm Maktum, who is a man of Banu Fihr.' So I went to him.
عامر بن شراحیل شعبی کا بیان ہے کہ
انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے ( جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں ) سنا ہے انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ آ کر شادی کا پیام دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے اپنے غلام اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کے لیے پیغام دیا، اور میں نے سن رکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو کوئی مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے اسامہ سے بھی محبت رکھنی چاہیئے“۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( اس سلسلے میں ) گفتگو کی تو میں نے کہا: میں اپنا معاملہ آپ کو سونپتی ہوں، آپ جس سے چاہیں میری شادی کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ”ام شریک کے پاس چلی جاؤ“۔ ( کہتی ہیں: ) وہ انصار کی ایک مالدار اور فی سبیل اللہ بہت خرچ کرنے والی عورت تھیں ان کے پاس مہمان بکثرت آتے تھے۔ میں نے کہا: میں ایسا ہی کروں گی پھر آپ نے کہا: نہیں، ایسا مت کرو، کیونکہ ام شریک بہت مہمان نواز عورت ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ تم وہاں رہو، پھر کبھی تمہاری اوڑھنی تمہارے ( سر ) سے ڈھلک جائے یا تمہاری پنڈلیوں سے کپڑا ہٹ جائے تو تجھے لوگ کسی ایسی حالت میں عریاں دیکھ لیں جو تمہارے لیے ناگواری کا باعث ہو بلکہ ( تمہارے لیے مناسب یہ ہے کہ ) تم اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ، وہ فہر ( قبیلے ) کی نسل سے ہیں، چنانچہ میں ان کے یہاں چلی گئی۔ یہ حدیث مختصر ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said: None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی دوسرے کے پیغام پر پیغام نہ دے“ ۱؎۔
Narrated Abu Hurairah: It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Do not artificially inflate prices, a resident should not sell for a Bedouin, a man should not offer more for something that has already been bought by his brother, no one should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, and no woman should try to bring about the divorce of her sister, in order to deprive her of the blessings that she has.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دھوکہ دینے کیلئے ) چیزوں کی قیمت نہ بڑھاؤ ۱؎، کوئی شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے ۲؎، اور کوئی اپنے بھائی کے بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، کوئی عورت اپنی بہن ( سوکن ) کے طلاق کی طلب گار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے پلٹ کر خود لے لے“ ۳؎۔
Narrated Abu Hurairah: It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, unless he marries (and he gives up the idea), or gives him permission.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھائی کہیں نکاح کا پیغام دے چکا ہے، تو کوئی دوسرا مسلمان بھائی اس جگہ جب تک کہ نکاح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ ہو جائے ( نیا ) پیغام نہ دے“ ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: None of you should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر کوئی دوسرا پیغام نکاح نہ دے“۔
Abdullah bin 'Amr used to say: The Messenger of Allah forbade offering more for something that has already been bought by his brother, or for a man to propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, unless the previous suitor gave up the idea or gave him permission.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض بعض کی بیع پر بیع کرے ۱؎ اور نہ ہی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے شادی کے پیغام پر اپنا پیغام دے۔ جب تک ( پہلا ) پیغام دینے والا چھوڑ نہ دے ۲؎ یا وہ دوسرے کو پیغام دینے کی اجازت نہ دیدے۔
It was narrated from Muhammad bin 'Abdur-Rahman bin Thawban that they asked Fatimah bint Qais about her story and she said: My husband divorced me three times, and he used to provide me with food that was not good. She said: By Allah, if I were entitled to maintenance and accommodation I would demand them and I would not accept this. The deputy said: You are not entitled to accommodation or maintenance. She said: I came to the Prophet and told him about that, and he said: 'You are not entitled to accommodation nor maintenance; observe your 'Iddah in the house of so-and-so.' She said: 'His Companions used to go to her.' Then he said: 'Observe your 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum, who is blind, and when your 'Iddah is over, let me know.' She said: When my 'Iddah was over, I let him know. The Messenger of Allah said: 'Who has proposed marriage to you?' I said: 'Mu'awiyah and another man from the Quraish.' He said: 'As for Mu'awiyah, he is a boy among the Quraish and does not have anything, and as for the other he is a bad man with no goodness in him. Rather you should marry Usamah bin Zaid.' She said: I did not like the idea. But he said that to her three times so she married him.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے
ان کے معاملہ کے متعلق پوچھا ( کہ کیسے کیا ہوا؟ ) تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں اور کھانے کے لیے مجھے جو خوراک دینے لگے اس میں کچھ خرابی تھی ( اچھا نہ تھا ) تو میں نے کہا: اگر نفقہ اور سکنی میرا حق ہے تو اسے لے کر رہوں گی لیکن میں یہ ( ردی سدی گھٹیا کھانے کی چیز ) نہ لوں گی، ( میرے شوہر کے ) وکیل نے کہا: نفقہ و سکنی کا تمہارا حق نہیں بنتا۔ ( یہ سن کر ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اس ( بات چیت ) کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ( وہ سچ کہتا ہے ) تیرے لیے نفقہ و سکنی ( کا حق ) نہیں ہے ۱؎، تم فلاں عورت کے پاس جا کر اپنی عدت پوری کر لو“ ۲؎ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ان کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آتے جاتے رہتے تھے۔ ( پھر کچھ سوچ کر کہ وہاں رہنے سے بےپردگی اور شرمندگی نہ ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں رہ کر اپنی عدت پوری کر لو کیونکہ وہ نابینا ہیں ۳؎، پھر جب ( عدت پوری ہو جائے اور ) تو دوسروں کے لیے حلال ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو“، چنانچہ جب میں حلال ہو گئی ( اور کسی بھی شخص سے شادی کرنے کے قابل ہو گئی ) تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس نے شادی کا پیغام دیا ہے؟“ میں نے کہا: معاویہ نے، اور ایک دوسرے قریشی شخص نے ۴؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا معاویہ تو وہ قریشی لڑکوں میں سے ایک لڑکا ہے، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، رہا دوسرا شخص تو وہ صاحب شر اور لاخیرا ہے ( اس سے کسی بھلائی کی توقع نہیں ہے ) ۵؎، ایسا کرو تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“ فاطمہ کہتی ہیں: ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تو لیکن وہ مجھے جچے نہیں ) میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن جب آپ نے مجھے اسامہ بن زید سے تین بار شادی کر لینے کے لیے کہا تو میں نے ( آپ کی بات رکھ لی اور ) ان سے شادی کر لی۔
It was narrated from Fatimah bint Qais that Abu 'Amr bin Hafs issued a final divorce to her while he was absent. His deputy sent some barley to her but she did not like it. He said: By Allah, you have no rights over us. She went to the Messenger of Allah and told him about that, and he said: You have no right to maintenance. He told her to observe her 'Iddah in the house of Umm Sharik, then he said: She is a woman whose house is frequented by my Companions. Observe your 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and you can take off your garment. And when your 'Iddah is over, let me know. She said: When my 'Iddah was over I told him that Mu'awiyah bin Abi Sufyan and Abu Jahm had proposed marriage to me. The Messenger of Allah said: 'As for Abu Jahm, his stick never leaves his shoulder, and as for Mu'awiyah he is a poor man who has no wealth. Rather you should marry Usamah bin Zaid.' I did not like the idea, then he said: 'Marry Usamah bin Zaid.' So I married him and Allah created a lot of good in him, and others felt jealous of my good fortune.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ ( شہر سے باہر سفر پر تھے ) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا ( یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے ) ۔ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے“ اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ( ان کے گھر نہیں بلکہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، تم وہاں اپنے کپڑے بھی اتار سکو گی، پھر جب تم ( عدت پوری کر کے ) حلال ہو جاؤ تو مجھے خبر دو، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو آپ کو اطلاع دی کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم دونوں نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوجہم تو اپنے کندھے سے اپنی لاٹھی اتار کر نہیں رکھتے ۱؎“ اور معاویہ تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن آپ نے دوبارہ پھر کہا کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اور اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں ہمیں بڑی برکت دی اور میں ان کے ذریعہ قابل رشک بن گئی۔
It was narrated that Abu Hurairah said: A man of the Ansar came to the Messenger of Allah and said: 'I have married a woman.' He said: 'Did you look at her? For there is something in the eyes of the Ansar.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ ( دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا ) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے ( بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو ) ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ «عن یزید بن کیسان عن ابی حازم عن ابی ہریرہ» کے بجائے «عن یزید بن کیسان أن جابر بن عبداللہ حدث» کے ساتھ ملی۔ لیکن صحیح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that a man wanted to marry a woman and the Prophet said: Look at her, for there is something in the eyes of the Ansar.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے ایک ( انصاری ) عورت سے شادی کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( پہلے ) اسے دیکھ لو کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ( نقص ) ہوتا ہے“ ( شادی بعد تم نے دیکھا اور وہ تیرے لیے قابل قبول نہ ہوئی تو ازدواجی زندگی تباہ ہو جائے گی ) ۔
It was narrated that 'Umar said: Hafsah bint 'Umar became single when (her husband) Khunais -meaning bin Hudhafah- (died). He was one of the Companions of the Prophet who had been present at Badr, and he died in Al-Madinah. I met 'Uthman bin 'Affan and offered Hafsah in marriage to him. I said: 'If you wish, I will marry you to Hafsah.' He said: 'I will think about it.' A few days passed, then I met him and he said: 'I do not want to get married at the moment.' 'Umar said: Then I met Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him, and said: 'If you wish, I will marry Hafsah to you.' He did not give me any answer, and I felt more upset with him than I had with 'Uthman, may Allah be pleased with him. Several days passed, then the Messenger of Allah proposed marriage to her, and I married her to him. Abu Bakr met me and said: 'Perhaps you felt upset with me when you offered Hafsah in marriage to me and I did not give you an answer?' I said: 'Yes.' He said: 'Nothing prevented me from giving you an answer when you made the offer to me except the fact that I had heard the Messenger of Allah speak of her, and I did not want to disclose the secret of the Messenger of Allah; if he had left her, then I would have married her.'
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، وہ خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں موجود تھے، اور انتقال مدینہ میں فرمایا تھا ) ۔ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان کے سامنے حفصہ کا تذکرہ کیا، اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دوں، انہوں نے کہا: میں اس پر غور کروں گا۔ چند راتیں گزرنے کے بعد میں ان سے ملا تو انہوں نے کہا: میں ان دنوں شادی کرنا نہیں چاہتا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ کو آپ کے نکاح میں دے دوں تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے ان کے اس رویے سے عثمان رضی اللہ عنہ کے جواب سے بھی زیادہ غصہ آیا، پھر چند ہی دن گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے میرے پاس اپنا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ ( اس نکاح کے بعد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا: جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا، تو اس وقت آپ کو مجھ پر بڑا غصہ آیا ہو گا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب آپ نے مجھ پر حفصہ کا معاملہ پیش کیا تو میں نے آپ کو محض اس وجہ سے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا تذکرہ سن چکا تھا اور میں آپ کا راز افشاء کرنا نہیں چاہتا تھا، ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں ضرور ان سے شادی کر لیتا۔
Thabit Al-Bunani said: I was with Anas bin Malik and a daughter of his was with him. He said: 'A woman came to the Messenger of Allah and offered herself in marriage to him. She said: O Messenger of Allah, do you want to marry me?'
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ
میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ۱؎۔
It was narrated from Anas that a woman offered herself in marriage to the Prophet. The daughter of Anas laughed and said: How little was her modesty. Anas said: She was better than you; she offered herself in marriage to the Prophet.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک عورت نے اپنے آپ کو ( نکاح کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، تو ( یہ سن کر ) انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہنس پڑیں، اور کہا: کتنی کم حیاء عورت ہے! انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ( بیٹی! ) یہ عورت تجھ سے اچھی ہے ( ذرا اس کی طلب تو دیکھ ) اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا ہے، ( اور آپ کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ) ۔
It was narrated that Anas said: When the 'Iddah of Zainab was over, the Messenger of Allah said to Zaid: 'Propose marriage to her on my behalf.' Zaid went and said: 'O Zainab, rejoice, for the Messenger of Allah has sent me to you to propose marriage on his behalf.' She said: 'I will not do anything until I consult my Lord.' She went to her prayer place and Qur'an was revealed, then the Messenger of Allah came and entered upon her without any formalities.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں میرے لیے رشتہ کا پیغام دو۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا اور میں نے کہا: زینب خوش ہو جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ نہیں کرنے کی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں ( یہ کہہ کر ) وہ اپنے مصلی پر ( صلاۃ استخارہ پڑھنے ) کھڑی ہو گئیں، ( ادھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ان سے آسمان پر ہی کر دیا ) ، اور قرآن نازل ہو گیا: «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ( اس آیت کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کسی حکم و اجازت ( یعنی رسمی ایجاب و قبول کے بغیر تشریف لائے، اور ) ان سے خلوت میں ملے۔
Anas bin Malik said: Zainab bint Jahsh used to boast to the other wives of the Prophet and say: Allah married me to him from above the Heavens. And the Verse of Hijab was revealed concerning her.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر اس بات کا فخر کرتی تھیں کہ اللہ عزوجل نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) میرا نکاح آسمان ہی پر فرما دیا۔ اور انہیں کے سلسلے سے پردے کی آیت نازل ہوئی۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: The Messenger of Allah used to teach his Companions to perform Istikharah in all matters, just as he used to teach them Surahs from the Qur'an. He said: 'If any one of you is deliberating about a decision he has to make, then let him pray two Rak'ahs of non-obligatory prayer, then say: Allahumma inni astakhiruka bi 'ilmika wa astaqdiruka bi qudratika wa as'aluka min fadlika, fa innaka taqdiru wa la aqdir, wa ta'lamu wa la a'lam, wa anta 'allam al-ghuyub. Allahumma in kunta ta'lamu anna hadhal-amra khayrun li fi dini wa ma'ashi wa aqibati amri faqdurhu li wa yassirhu li thumma barik li fihi. Allahumma, wa in kunta ta'lamu annahu sharrun li fi dini wa ma'ashi wa 'aqibati amri fasrifhu 'anni wasrifni 'anhu waqdur li al-khayr haythu kana, thumma radini bihi. (O Allah, I seek Your guidance (in making a choice) by virtue of Your knowledge, and I seek ability by virtue of Your power, and I ask You of Your great bounty. You have power, I have none. And You know, I know not. You are the Knower of hidden things. O Allah, if in Your knowledge, this matter (then it should be mentioned by name) is good for me in my religion, my livelihood and my affairs (or: both in this world and in the Hereafter), then ordain it for me, make it easy for me, and bless it for me. And if in Your knowledge it is bad for me and for my religion, my livelihood and my affairs (or: for me both in this world and the next), then turn it away from me and turn me away from it, and ordain for me the good wherever it may be and make me pleased with it.)
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امور ( و معاملات ) میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے، جیسا کہ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے، فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی ( اچھے ) کام کا ارادہ کرے تو فرض ( اور اس کے توابع ) کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر ( دعا کرتے ہوئے ) کہے: «اللہم إني أستخيرك بعلمك وأستعينك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللہم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري - أو قال في عاجل أمري وآجله - فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به» ”اے اللہ! میں تیرے علم کی برکت سے تجھ سے بھلائی اور خیر کا طالب ہوں اور تیری قدرت کا واسطہ دے کر تیری مدد کا چاہتا ہوں اور تیرے عظیم فضل کا طالب ہوں کیونکہ تو قدرت والا ہے، میں قدرت والا نہیں، تو ( اچھا و برا سب ) جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو ہی غیب کی باتوں کو جانتا ہے، اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ، ( پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے ) میرے لیے میرے دین، دنیا اور کے اعتبار سے، یا یہ کہا: اس دار فانی اور اخروی زندگی کے اعتبار سے بہتر ہے تو اس کام کو میرے لیے مقدر کر دے اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر دے اور مجھے اس میں برکت دے۔ اور اگر تو جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے، میرے دین، دنیا اور انجام کار کے لحاظ سے یا اس دار فانی اور اخروی زندگی کے لحاظ سے تو اس کام کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے بچا لے۔ اور بھلائی جہاں بھی ہو اسے میرے لیے مقدر فرما دے اور مجھے اس پر راضی و خوش رکھ“۔ آپ نے فرمایا: ” ( دعا کرتے وقت ) اپنی ضرورت کا نام لے“۔
It was narrated from Umm Salamah, that when her 'Iddah had ended, Abu Bakr sent word to her proposing marriage to her, but she did not marry him. Then the Messenger of Allah sent 'Umar bin Al-Khattab with a proposal of marriage. She said: Tell the Messenger of Allah that I am a jealous woman and that I have sons, and none of my guardians are present. He went to the Messenger of Allah and told him that. He said: Go back to her and tell her: As for your saying that you are a jealous woman, I will pray to Allah for you to take away your jealousy. As for your saying that you have sons, your sons will be taken care of. And as for your saying that none of your guardians are present, none of your guardians, present or absent, would object to that. She said to her son: O 'Umar, get up and perform the marriage to the Messenger of Allah, so he performed the marriage.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی شادی کا پیغام بھیجا۔ جسے انہوں نے قبول نہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنی شادی کا پیغام دے کر ان کے پاس بھیجا، انہوں نے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچا دو کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں ( دوسری بیویوں کے ساتھ رہ نہ پاؤں گی ) بچوں والی ہوں ( ان کا کیا بنے گا ) اور میرا کوئی ولی اور سر پرست بھی موجود نہیں ہے۔ ( جب کہ نکاح کرنے کے لیے ولی بھی ہونا چاہیئے ) عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کو یہ سب باتیں بتائیں، آپ نے ان سے کہا: ( دوبارہ ) ان کے پاس ( لوٹ ) جاؤ اور ان سے کہو: تمہاری یہ بات کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں ( اس کا جواب یہ ہے کہ ) میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے دعا کروں گا، اللہ تمہاری غیرت ( اور سوکنوں کی جلن ) دور کر دے گا، اور اب رہی تمہاری ( دوسری ) بات کہ میں بچوں والی عورت ہوں تو تم ( شادی کے بعد ) اپنے بچوں کی کفایت ( و کفالت ) کرتی رہو گی اور اب رہی تمہاری ( تیسری ) بات کہ میرا کوئی ولی موجود نہیں ہے ( تو میری شادی کون کرائے گا ) تو ایسا ہے کہ تمہارا کوئی ولی موجود ہو یا غیر موجود میرے ساتھ تمہارے رشتہ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا ( جب عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب ان کے سامنے رکھا ) تو انہوں نے اپنے بیٹے عمر بن ابی سلمہ سے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( میرا ) نکاح کر دو، تو انہوں نے ( اپنی ماں کا ) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا، یہ حدیث مختصر ہے۔
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah married her when she was six years old, and consummated the marriage with her when she was nine
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
جب وہ چھ سال کی بچی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب نو برس کی ہوئیں تو آپ نے ان سے خلوت کی۔