It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, who was my paternal uncle through breast-feeding, used to ask permission to enter upon me, and I refused to let him in until the Messenger of Allah came, and I told him about that. He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.' 'Aishah رضی اللہ عنہا said: That was after the (Verse of) Hijab had been revealed.
ہارون بن عبداللہ نے ہمیں خبر دی، معن نے ہمیں بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں ابنِ شہاب سے، اور انہوں نے عروہ سے روایت کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ابوالقعیس کے بھائی افلح جو میرے رضاعی چچا ہوتے تھے میرے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ واقعہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said:
My paternal uncle Aflah asked permission to enter upon me after the (Verse of) Hijab had been revealed, but I did not let him in. The Prophet ﷺ came to me and I asked him (about that) and he said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.' I said: 'O Messenger of Allah, the woman breast-fed me, not the man.' He said: 'Let him in, may your hands be rubbed with dust, for he is your uncle.'
ہم کو عبدالجبار بن علاء نے خبر دی، انہوں نے سفیان سے، وہ زہری سے اور ہشام بن عروہ نے عروہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے ( وہ میرے محرم کیسے ہو گئے ) ، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں ( اندر ) آنے کی اجازت دو، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ( تمہیں نہیں معلوم؟ ) وہ تمہارے چچا ہیں“۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said:
Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, came and asked permission to enter, and I said: 'I will not let him in until I seek the permission of the Prophet of Allah.' When the Prophet of Allah ﷺ came, I said to him: 'Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, came and asked permission to enter, but I refused to let him in.' He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.' I said: 'The wife of Abu Al-Qu'ais breast-fed me; the man did not breast-feed me.' He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.'
ہمیں الربیع بن سلیمان بن داؤد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوالاسود اور اسحاق بن بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے، انہوں نے عراک بن مالک سے، انہوں نے عروہ سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ابوالقعیس کے بھائی افلح ( میرے پاس گھر میں آنے کی ) اجازت مانگنے آئے، میں نے کہا: میں جب تک خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، آپ نے فرمایا: ” ( نہیں ) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے ) تم انہیں آنے دو، وہ تمہارے چچا ہیں“۔
Zainab bint Abi Salamah said:
I heard 'Aisha رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet say: 'Sahlah bint Suhail رضی اللہ عنہا came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, I see (displeasure) in the face of Abu Hudhaifah رضی اللہ عنہ when Salim enters upon me.' The Messenger of Allah said: 'Breast-feed him.' She said: 'He has a beard.' He said: 'Breast-feed him, and that will take away (the displeasure) in the face of Abu Hudhaifah رضی اللہ عنہ.' She said: 'By Allah, I never saw that on the face of Abu Hudhaifah رضی اللہ عنہ after that.'
ہمیں یونس بن عبد الاعلیٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابنِ وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے مخرمہ بن بکیر نے اپنے والد سے خبر دی، جنہوں نے کہا: میں نے حمید بن نافع کو کہتے ہوئے سنا: میں نے زینب بنتِ ابی سلمہ کو کہتے ہوئے سنا
میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم جب میرے پاس آتے ہیں تو میں ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ( ناگواری ) دیکھتی ہوں ( اور ان کا آنا ناگزیر ہے ) ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں دودھ پلا دو“، میں نے کہا: وہ تو ڈاڑھی والے ہیں، ( بچہ تھوڑے ہیں ) ، آپ نے فرمایا: ” ( پھر بھی ) دودھ پلا دو، دودھ پلا دو گی تو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر جو تم ( ناگواری ) دیکھتی ہو وہ ختم ہو جائے گی“، سہلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! دودھ پلا دینے کے بعد پھر میں نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کبھی کوئی ناگواری نہیں محسوس کی۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
Sahlah bint Suhail رضی اللہ عنہا came to the Messenger of Allah and said: 'I see (displeasure) in the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me.' The Messenger of Allah said: 'Breast-feed him.' She said: 'How can I breast-feed him when he is a grown man?' He said: 'Don't I know that he is a grown man?' Then she came after that and said: 'By the One Who sent you with the truth as a Prophet, I have never seen anything I dislike on the face of Abu Hudhaifah after that.'
ہمیں عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن نے خبر دی، کہا: ہمیں سفیان نے بیان کیا، کہا: ہم نے اسے عبدالرحمن —یعنی ابن القاسم— سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا: میں سالم کے اپنے پاس آنے جانے سے ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ کے چہرے میں کچھ ( تبدیلی و ناگواری ) دیکھتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اپنا دودھ پلا دو“، انہوں نے کہا: میں انہیں کیسے دودھ پلا دوں وہ تو بڑے ( عمر والے ) آدمی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں“، اس کے بعد وہ ( دودھ پلا کر پھر ایک دن ) آئیں اور کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس کے بعد ابوحذیفہ کے چہرے پر کوئی ناگواری کی چیز نہیں دیکھی۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said:
The Messenger of Allah ﷺ commanded the wife of Abu Hudhaifah to breast-feed Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah, so that the protective jealousy of Abu Hudhaifah would be dispelled. She breast-fed him when he was a man. (One of the narrators) Rabi'ah said: That was a concession granted to Salim.
ہمیں احمد بن یحییٰ ابو الوزیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن وہب کو کہتے سنا: مجھے سلیمان نے خبر دی، وہ یحییٰ اور ربیعہ نے، انہوں نے قاسم سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت ( ناگواری ) ختم ہو جائے۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ ( بچے نہیں ) پورے مرد تھے۔ ربیعہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں: یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
Sahlah رضی اللہ عنہا came to the Messenger of Allah ﷺ and said: 'O Messenger of Allah, Salim enters upon us and he understands what men understand, and knows what men know.' He said: 'Breast-feed him, and you will become unlawful to him thereby.' (Ibn Abi Mulaikah, one of the narrators said:) For a year I did not narrate this, then I met Al-Qasim and he said: 'Narrate it and do not worry about it.'
ہمیں حمید بن مسعدہ نے خبر دی، انہوں نے سفیان — یعنی ابن حبیب — سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، اور انہوں نے القاسم بن محمد سے روایت کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
سہلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! سالم ہمارے پاس آتا جاتا ہے ( اب وہ بڑا ہو گیا ہے ) جو باتیں لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے اور جو باتیں لوگ جانتے ہیں وہ بھی جان گیا ہے ( اور اس کا آنا جانا بھی ضروری ہے ) آپ نے فرمایا: ”تو اسے اپنا دودھ پلا دے تو اپنے اس عمل سے اس کے لیے حرام ہو جائے گی“۔ ابن ابی ملیکہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو سال بھر کسی سے بیان نہیں کیا، پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی ( اور اس کا ذکر آیا ) تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو بیان کرو اور اس کے بیان کرنے میں ( شرماؤ ) اور ڈرو نہیں۔
It was narrated from 'Aishah that:
Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah, was with Abu Hudhaifah and his family in their house. The daughter of Suhail came to the Prophet ﷺ and said: Salim has reached the age of manhood, and understands what men understand. He enters upon us, and I think that Abu Hudhaifah is not happy about that. The Prophet ﷺ said: Breast-feed him, and you will become unlawful to him. So she breast-fed him, and the displeasure of Abu Hudhaifah disappeared. She came back to him and said: I breast-fed him and the displeasure of Abu Hudhaifah has disappeared.
ہمیں عمرو بن علی نے خبر دی، عبدالوہاب سے، انہوں نے کہا: ہمیں ایوب نے خبر دی، ابن ابی ملیکہ سے، قاسم سے,ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ابوحذیفہ کے غلام سالم ابوحذیفہ اور ان کی بیوی ( بچوں ) کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے۔ تو سہیل کی بیٹی ( سہلہ ابوحذیفہ کی بیوی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا کہ سالم لوگوں کی طرح جوان ہو گیا ہے اور اسے لوگوں کی طرح ہر چیز کی سمجھ آ گئی ہے اور وہ ہمارے پاس آتا جاتا ہے اور میں اس کی وجہ سے ابوحذیفہ کے دل میں کچھ ( کھٹک ) محسوس کرتی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دودھ پلا دو، تو تم اس پر حرام ہو جاؤ گی“ تو انہوں نے اسے دودھ پلا دیا، چنانچہ ابوحذیفہ کے دل میں جو ( خدشہ ) تھا وہ دور ہو گیا، پھر وہ لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دوبارہ ) آئیں اور ( آپ سے ) کہا: میں نے ( آپ کے مشورہ کے مطابق ) اسے دودھ پلا دیا، اور میرے دودھ پلا دینے سے ابوحذیفہ کے دل میں جو چیز تھی یعنی کبیدگی اور ناگواری وہ ختم ہو گئی۔
It was narrated that 'Urwah said:
The rest of the wives of the Prophet ﷺ refused for anyone to enter upon them on the basis of that type of breast-feeding, meaning breast-feeding of an adult. They said to 'Aishah رضی اللہ عنہا : 'By Allah, we think that what the Messenger of Allah ﷺ told Sahlah bint Suhail to do was a concession which was granted by the Messenger of Allah ﷺ only with regard to breast-feeding Salim. By Allah, no one will enter upon us, nor see us on the basis of this type of breast-feeding.'
ہمیں یونس بن عبد الاعلیٰ نے خبر دی، کہا: ہمیں ابنِ وہب نے خبر دی، کہا: مجھے یونس اور مالک نے خبر دی، انہوں نے ابنِ شہاب سے، انہوں نے عروہ سے روایت کیا، جنہوں نے کہا
سبھی ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی ان کے پاس اس رضاعت کا سہارا لے کر ( گھر کے اندر ) آئے، مراد اس سے بڑے کی رضاعت ہے اور سب نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل کو ( سالم کو دودھ پلانے کا ) جو حکم دیا ہے وہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سالم کی رضاعت کے سلسلہ میں خاص تھا۔ قسم اللہ کی! اس رضاعت کے ذریعہ کوئی شخص ہمارے پاس آ نہیں سکتا اور نہ ہمیں دیکھ سکتا ہے۔
Zainab bint Abu Salamah narrated that her mother Umm Salamah رضی اللہ عنہا, the wife of the Prophet ﷺ, used to say:
The rest of the wives of the Prophet ﷺ refused for anyone to enter upon them on the basis of that type of breast-feeding, meaning breast-feeding of an adult. They said to 'Aishah رضی اللہ عنہا : 'By Allah, we think that this is a concession which the Messenger of Allah ﷺ granted only to Salim. No one will enter upon us, nor see us on the basis of this type of breast-feeding.'
ہمیں عبدالملک بن شعیب بن اللیث نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے خبر دی، جنہوں نے کہا: مجھ سے عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی؛ اور مجھے ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے خبر دی کہ ان کی والدہ زینب بنت ابی سلمہ نے انہیں خبر دی تھی,ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ
سبھی ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت ( یعنی بڑے کی رضاعت ) کو دلیل بنا کر ان کے پاس ( یعنی کسی بھی عورت کے پاس ) جایا جائے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم اس رخصت کو عام رخصت نہیں سمجھتے، یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص سالم کے لیے دی تھی، اس رضاعت کو دلیل بنا کر ہم عورتوں کے پاس کوئی آ جا نہیں سکتا اور نہ ہی ہم عورتوں کو دیکھ سکتا ہے۔
It was narrated from 'Aishah that:
Judamah bint Wahb told her that the Messenger of Allah ﷺ said: I was thinking of forbidding Ghilah until I remembered that it is done by the Persians and Romans -(one of the narrators) Ishaq said: (They) do that -and it does not harm their children.
ہمیں عبید اللہ اور اسحاق بن منصور نے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن سے، انہوں نے مالک سے، انہوں نے ابو الاسود سے، انہوں نے عروہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
جدامہ بنت وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ ہوا کہ «غیلہ» سے روک دوں پھر مجھے خیال ہوا کہ روم و فارس کے لوگ بھی «غیلہ» کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا“۔ اسحاق ( راوی ) کی روایت میں «یصنعہ» کی جگہ «یصنعونہ» ہے۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Bishr bin Mas'ud, who attributed the Hadith to Abu Sa'eed Al-Khudri رضی الله عنہ , that:
Mention of that (coitus interruptus) was made to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Why do you do that? We said: A man may have a wife, and he has intercourse with her, but he does not want her to get pregnant, or he may have a concubine, and he has intercourse with her, but he does not want her to get pregnant. He said: It does not make any difference if you do that, for it is the matter of Al-Qadr.
ہمیں اسماعیل بن مسعود اور حمید بن مسعدہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابن عون نے محمد بن سیرین سے، اور انہوں نے عبدالرحمن بن بشر بن مسعود سے—جن کا سلسلہِ روایت ابو سعید خدری رضی الله عنہ تک پہنچتا ہے—بیان کیا کہ انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا یعنی عزل کا ذکر ہوا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ ( ذرا تفصیل بتاؤ ) ہم نے کہا: آدمی کے پاس بیوی ہوتی ہے، اور وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور حمل کو ناپسند کرتا ہے، ( ایسے ہی ) آدمی کے پاس لونڈی ہوتی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے، اور نہیں چاہتا کہ اس کو اس سے حمل رہ جائے ، آپ نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہ کرو تو تمہیں نقصان نہیں ہے، یہ تو صرف تقدیر کا معاملہ ہے“ ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Az-Zuraqi رضی الله عنہ that:
A man asked the Messenger of Allah ﷺ about coitus interruptus and said: My wife is breast-feeding and I do not want her to get pregnant. The Prophet ﷺ said: What has been decreed in the womb will come to be.
ہمیں محمد بن بشار نے خبر دی، انہوں نے محمد سے روایت کی، جنہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابو الفیض سے روایت کی، جنہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن مرہ الزرقی کو سنا:ابوسعید زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: میری بیوی دودھ پلاتی ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم میں جس کا آنا مقدر ہو چکا ہے وہ ہو کر رہے گا “۔
It was narrated from Hajjaj bin Hajjaj رضی الله عنہ that his father said:
I said: 'O Messenger of Allah, how can I pay back the dues of the one who breast-fed me?' He said: 'By giving a male or female slave.'
ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا: ہمیں یحییٰ نے ہشام سے روایت کیا، انہوں نے کہا: اور مجھے میرے والد نے حجاج بن حجاج رضی الله عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رضاعت کے حق کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مجھے کیا چیز عہدہ بر آ کر سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”شریف غلام یا شریف لونڈی “۔
It was narrated that 'Uqbah bin Al-Harith رضی الله عنہ said:
I married a woman, then a black woman came to us and said: I breast-fed you both. I went to the Prophet ﷺ and said: I married so and so and a black woman came to me and said: I breast-fed you both. He turned away from me so I came to him from the other side and said: She is lying. He said: How can you be intimate with your wife when she says that she breast-fed you both? Leave her (divorce her).
ہمیں علی بن حجر نے خبر دی، کہا: ہمیں اسماعیل نے خبر دی، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، جنہوں نے کہا: مجھ سے عبید بن ابی مریم نے عقبہ بن حارث رضی الله عنہ سے روایت بیان کی کہتے ہیں کہ
میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو ہمارے پاس ایک حبشی عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ میں نے فلان بنت فلاں سے شادی کی ہے پھر میرے پاس ایک حبشی عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، ( یہ سن کر ) آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیا ۱؎ تو میں پھر آپ کے چہرے کی طرف سے سامنے آیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اسے کیسے جھوٹی کہہ سکتے ہو، جب کہ وہ بیان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو اس کو چھوڑ کر اپنے سے الگ کر دو“۔
It was narrated that Al-Bara' رضی الله عنہ said:
I met my maternal uncle who was carrying a flag (for an expedition) and I said: 'Where are you going?' He said: 'The Messenger of Allah ﷺ is sending me to a man who has married his father's wife after he died, to strike his neck or kill him.'
ہمیں احمد بن عثمان بن حکیم نے خبر دی، کہا: ہمیں ابو نعیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں حسن بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے سدی سے، اور انہوں نے عدی بن ثابت سے روایت کیا, براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے اُن سے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کر دینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کر لی ہے ۔
It was narrated from Yazid bin Al-Bara' رضی الله عنہ that his father said:
I met my maternal uncle who was carrying a flag (for an expedition) and I said: 'Where are you going?' He said: 'The Messenger of Allah ﷺ is sending me to a man who has married his father's wife, and he has commanded me to strike his neck (kill him) and seize his wealth.'
ہمیں عمرو بن منصور نے خبر دی، کہا: ہمیں عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبیداللہ بن عمرو نے، زید سے، انہوں نے عدی بن ثابت سے، انہوں نے یزید بن براء رضی الله عنہ سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا، جنہوں نے کہا
میں اپنے چچا سے ملا، ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی ہے۔ مجھے آپ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا مال اپنے قبضہ میں کر لوں ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی الله عنہ that:
The Prophet of Allah ﷺ sent an army to Awtas. They met the enemy, fought them, and prevailed over them. They acquired female prisoners who had husbands among the idolaters. The Muslims felt reluctant to be intimate with them. Then Allah, the Mighty and Sublime revealed: Also (forbidden are) women already married, except those (slaves) whom your right hands possess, meaning, this is permissible for you once they have completed their 'Iddah.
ہمیں محمد بن عبد الاعلیٰ نے خبر دی، کہا: ہمیں یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا: ہمیں سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابوالخلیل سے، انہوں نے ابوعلقمہ الہاشمی سے روایت کیا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر اوطاس کی طرف بھیجا ۱؎ وہاں ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو گئی، اور انہوں نے دشمن کا بڑا خون خرابہ کیا، اور ان پر غالب آ گئے، انہیں ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر مشرکین میں رہ گئے تھے، چنانچہ مسلمانوں نے ان قیدی باندیوں سے صحبت کرنا مناسب نہ سمجھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ”اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں“ ( النساء: ۲۴ ) یعنی یہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہو جائے۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah ﷺ forbade Ash-Shighar.
ہمیں عبید اللہ بن سعید نے خبر دی، کہا: ہمیں یحییٰ نے عبید اللہ سے روایت کیا، جنہوں نے کہا: مجھے نافع نے خبر دی, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from 'Imran bin Husain رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah ﷺ said: There is no 'bringing', no 'avoidance' and no Shighar in Islam, and whoever robs, he is not one of us.
ہمیں حمید بن مسعدہ نے خبر دی، کہا: ہم سے بشر نے بیان کیا، کہا: ہم سے حمید نے حسن رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسلام میں نہ «جلب» ہے نہ «جنب» ہے اور نہ ہی «شغار» ہے، اور جس کسی نے کسی طرح کا لوٹ کھسوٹ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔