Uthman bin 'Affan رضی الله عنہ , narrated that:
The Prophet ﷺ said: The Muhrim should not get married, arrange a marriage for someone else, nor propose marriage.
ہم سے ابوالاشعث نے بیان کیا، کہا: ہم سے یزید —یعنی ابن زریع— نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید نے، مطر اور یعلیٰ بن حکیم سے، انہوں نے نبیہ بن وہب سے، اور انہوں نے ابان بن عثمان سے روایت کیا, عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ کسی کا کرائے، اور نہ ہی کہیں نکاح کا پیغام دے“۔
It was narrated that 'Abdullah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah ﷺ taught us the Tashahhud for Salah and the Tashahhud upon Al-Hajah. He said: 'The Tashahhud upon the occasion of marriage is: Alhamdu lillahi nasta'inahu wa nastaghfiruhu, wa na'udhu billahi min shururi anfusina, man yahdih Illahu fala mudilla lahu wa man yudlil Illahu fala hadiya lahu, wa ashhadu an la ilaha illallah, wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge with Allah from the evil of our own souls. Whomsoever Allah guides will never be led astray, and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship but Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger).' Then he recited three Verses.
قتبہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں عبثر نے حدیث بیان کی، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابواسحاق سے، اور انہوں نے ابوالاحوص سے روایت کی, عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حاجت و ضرورت میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور «تشہد فی الحاجۃ» یہ ہے کہ ہم ( پہلے ) پڑھیں: «أن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ( اور پھر ) تین آیات پڑھے ( اور ایجاب و قبول کرائے ) ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی الله عنہما that:
A man spoke to the Prophet ﷺ about something and the Prophet said: Innal-hamda lillahi nahmaduhu wa nasta'inahu, man yahdih Illahu fala mudilla lahu wa man yudlil Illahu fala hadiya lahu, wa ashhadu an la ilaha illallahu (wahdahu lasharika lahu) wa ashhadu anna Muhammadan 'abdahu wa rasuluhu. Amma ba'd (Praise be to Allah, we seek His help. Whomsoever Allah guides will never be led astray, and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship but Allah (alone with no partners) and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger. To proceed).
ہمیں عمرو بن منصور نے خبر دی، کہا: ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زیدہ نے بیان کیا، انہوں نے داؤد سے، انہوں نے عمرو بن سعید سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق کچھ بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ خطبہ ) ارشاد فرمایا: «إن الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد» “ ( اور بات آگے بڑھائی)۔
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim رضی الله عنہ said:
Two men recited a Tashahhud before the Prophet ﷺ and one of them said: 'Whoever obeys Allah and His Messenger has been guided aright and whoever disobeys them has gone astray.' The Messenger of Allah ﷺ said: 'What a bad speaker you are!'
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( خطبہ ) تشہد پڑھا، ان میں سے ایک نے کہا: «من يطع اللہ ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فقد غوى» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بہت برے خطیب ہو“ ۔
Sahl bin Sa'd رضی الله عنہ said:
I was among the people with the Prophet ﷺ when a woman stood up and said: 'O Messenger of Allah ﷺ, she has offered herself in marriage to you, so see what you think of her.' He remained silent and the Prophet ﷺ did not give any answer. Then she stood up (again) and said: 'O Messenger of Allah, she has offered herself in marriage to you, so see what you think of her.' A man stood up and said: 'Marry her to me, O Messenger of Allah!' He said: 'Do you have anything?' He said: 'No.' He said: 'Go and look, even if it is just an iron ring.' So he went and looked then he came and said: 'I could not find anything, not even an iron ring.' He said: 'Have you memorized anything of the Qur'an?' He said: 'Yes, Surah such-and-such and Surah such-and-such.' He said: 'I will marry you to her on the basis of what you have memorized of the Qur'an.'
ہمیں محمد بن منصور نے سفیان کے واسطے سے خبر دی، جنہوں نے کہا: میں نے ابوحازم کو کہتے ہوئے سنا: سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! اس ( بندی ) نے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دیا، آپ جیسا چاہیں کریں۔ آپ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ عورت پھر کھڑی ہوئی اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے اپنے آپ کو آپ کی سپردگی میں دے دیا ہے۔ تو اس کے بارے میں آپ کی جو رائے ہو ویسا کریں۔ ( اتنے میں ) ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری اس ( عورت ) سے شادی کرا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا نہیں“، آپ نے فرمایا: ”جا کچھ ڈھونڈ کر لا اگر لوہے کی انگوٹھی ہی ملے تو وہی لے آؤ“، وہ گیا، اس نے تلاش کیا پھر آ کر کہا: مجھے تو کچھ نہیں ملا، لوہے کی انگوٹھی بھی نہ ملی۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس قرآن کے عوض جو تمہیں یاد ہے تمہارا نکاح اس عورت سے کر دیا“ ( تم اسے بھی انہیں یاد کرا دو ) ۔
It was narrated from 'Utbah bin 'Amir رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah ﷺ said: The conditions that are most deserving of fulfillment, are those by means of which the private parts become allowed to you.
ہمیں عیسیٰ بن حماد نے خبر دی، کہا: ہمیں لیث نے خبر دی، یزید بن ابی حبیب سے، ابوالخیر سے، عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نکاح کی ) شرطوں میں سب سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو ( یعنی مہر کی ادائیگی ) ۔
It was narrated from 'Utbah bin 'Amir رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah ﷺ said: The conditions that are most deserving of fulfillment are those by means of which the private parts become permitted to you.
ہم کو عبداللہ بن محمد بن تمیم نے خبر دی، کہا: میں نے حجاج کو کہتے سنا: ابن جریج نے کہا: مجھے سعید بن ابی ایوب نے خبر دی، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، ان سے ابو الخیر نے بیان کیا, عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نکاح کی ) شرطوں میں سے پہلے پوری کی جانے والی شرط وہ ہے جس کے ذریعہ تم عورتوں کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کرتے ہو“ ( یعنی مہر کی ادائیگی ) ۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said:
The wife of Rifa'ah came to the Messenger of Allah and said: 'Rifa'ah divorced me and made it irrevocable. Then I married 'Abdur-Rahman bin Az-Zubair, and what he has is like the fringe of a garment.' The Messenger of Allah ﷺ smiled and said: 'Do you want to go back to Rifa'ah? No, not unitl he ('Abdur-Rahman) tastes your sweetness and you taste his sweetness.'
اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں سفیان نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، اور انہوں نے عروہ سے روایت کی, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ رفاعہ نے مجھے طلاق بتہ ( یعنی بالکل قطع تعلق کر دینے والی آخری طلاق ) دے دی ہے، اور میں نے ان کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی جن کے پاس بس کپڑے کی جھالر جیسا ہے، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”شاید تم رفاعہ کے پاس دوبارہ واپس جانا چاہتی ہو ( تو سن لو ) یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمہارا شہد اور تم اس کا شہد نہ چکھ لو“۔
Urwah narrated that Zainab bint Abi Salamah -whose mother was Umm Salamah, the wife of the Prophet- told him that Umm Habibah bint Abi Sufyan رضی الله عنہما told her that:
She said: O Messenger of Allah, marry my sister, the daughter of Abu Sufyan. She said: The Messenger of Allah ﷺ said: 'Would you like that?' I said: 'Yes; I do not have you all to myself and I would like to share this goodness with my sister.' The Prophet said: 'Your sister is not permissible for me (to marry).' I said: 'By Allah, O Messenger of Allah, we have been saying that you want to marry Durrah bint Abi Salamah.' He said: 'The daughter of Umm Salamah?' I said: 'Yes.' He said: 'By Allah, even if she were not my stepdaughter who is in my care, she would not be permissible for me (to marry), because she is the daughter of my brother through breast-feeding. Thuwaibah breastfed Abu Salamah and I. So do not offer your daughters or sisters to me in marriage.'
ہمیں عمران بن بکار نے خبر دی، کہا: ہمیں ابو الیمان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی، کہا: مجھے زہری نے خبر دی، کہا: مجھے عروہ نے خبر دی کہ زینب بنت ابی سلمہ — جن کی والدہ ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) تھیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زوجہ تھیں — نے انہیں خبر دی, ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میری بہن بنت ابی سفیان سے شادی کر لیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے پسند کر لو گی؟“ میں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ بھلائی اور اچھائی میں میری جو ساجھی دار بنے وہ میری بہن ہو۔ آپ نے فرمایا: ”تمہاری بہن ( تمہاری موجودگی میں ) میرے لیے حلال نہیں ہے“، میں نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم ام سلمہ کی بیٹی کی بات کر رہی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی اور میری گود میں نہ پلی ہوتی تو بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ( اور رضاعت سے ہر وہ چیز حرام ہو جاتی ہے جو قرابت داری ( رحم ) سے حرام ہوتی ہے ) مجھے اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ تو تم ( آئندہ ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو ( رشتہ کے لیے ) مجھ پر پیش نہ کرنا“۔
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah رضی الله عنہا that:
Umm Habibah رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet ﷺ said: O Messenger of Allah, marry the daughter of my father - meaning her sister. The Messenger of Allah ﷺ said: Would you like that? She said: Yes; I do not have you all to myself, and I would like to share this goodness with my sister. The Prophet ﷺ said: That is not permissible for me. Umm Habibah رضی اللہ عنہا said: O Messenger of Allah, by Allah, we have been saying that you want to marry Durrah bint Abi Salamah. He said: The daughter of Umm Salamah? I said: Yes. He said: By Allah, even if she were not my stepdaughter who is in my care, she would not be permissible for me (to marry), because she is the daughter of my brother through breast-feeding. Thuwaibah breastfed Abu Salamah and I. So do not offer your daughters or sisters to me in marriage.
وہب بن بیان نے ہمیں خبر دی، کہا: ابن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے مجھے خبر دی، ابن شہاب سے، کہ عروہ بن زبیر نے انہیں خبر دی، زینب بنت ابی سلمہ سے, زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ میرے باپ کی بیٹی یعنی میری بہن سے نکاح کر لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ( واقعی ) اسے پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی تو ہوں نہیں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو عورت میری شریک بنے وہ میری بہن ہو، ( اس بات چیت کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حلال نہیں ہے“، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول، قسم اللہ کی! ہم نے تو سنا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے والے ہیں؟ آپ نے ( استفہامیہ انداز میں ) کہا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں ( ام سلمہ کی بیٹی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی اگر وہ میری آغوش کی پروردہ ( ربیبہ ) نہ بھی ہوتی، تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو تو ثویبہ ( نامی عورت ) نے دودھ پلایا ہے۔ تو ( سنو! آئندہ ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش نہ کرنا“۔
It was narrated from 'Irak bin Malik that Zainab bint Abi Salamah رضی الله عنہما told him, that:
Umm Habibah رضی اللہ عنہا said to the Messenger of Allah: We have been saying that you want to marry Durrah bint Abi Salamah. The Messenger of Allah said: As a co-wife to Umm Salamah? Even if I were not married to Umm Salamah, she would not be permissible to me, for her father is my brother through breast-feeding.
قتبہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، اور انہوں نے عراک بن مالک سے روایت کیا, زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہماری آپس کی بات چیت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے والے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ام سلمہ کے ( میرے نکاح میں ) ہوتے ہوئے؟ ۱؎ اگر میں نے ام سلمہ سے نکاح نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ ( درہ ) میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ ( وہ میری بھتیجی ہے اور ) اس کا باپ میرا رضاعی بھائی ہے۔
It was narrated from Umm Habibah رضی الله عنہا that:
She said: O Messenger of Allah, what do you think of my sister? He said: What for? She said: For marriage. He said: Would you like that? She said: Yes; I do not have you all to myself, and I would like to share this goodness with my sister. He said: She is not permissible for me (to marry). She said: But I heard that you want to marry Durrah, the daughter of Umm Salamah. He said: The daughter of Umm Salamah? She said: Yes. He said: By Allah, even if she were not my stepdaughter she would not be permissible for me (to marry), because she is the daughter of my brother through breast-feeding. Do not offer your daughters and sisters to me in marriage.
ہمیں ہناد بن السری نے خبر دی، انہوں نے عبدہ سے، انہوں نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کیا, ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن میں کچھ رغبت ( دلچسپی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( اگر دلچسپی ہو ) تو میں کیا کروں؟“ انہوں نے کہا: آپ اس سے شادی کر لیں، آپ نے کہا: یہ اس لیے کہہ رہی ہو کہ تمہیں یہ زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو میری ساجھی دار بنے وہ میری اپنی سگی بہن ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے“، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ سے شادی کرنے والے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” ( تم ) ام سلمہ کی بیٹی سے ( کہہ رہی ہو ) ؟“ انہوں نے کہا: ہاں ( میں انہی کا نام لے رہی ہوں ) ، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اگر وہ میری ربیبہ میری گود کی پروردہ نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی ( وہ تو دو حیثیتوں سے میرے لیے حرام ہے ایک تو اس کی حیثیت میری بیٹی کی ہے اور دوسرے ) وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ( یعنی میری بھتیجی ہے ) ، تو ( آئندہ ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے اوپر ( شادی کے لیے ) پیش نہ کرنا“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah ﷺ said: '(A man should not be married to) a woman and her paternal aunt nor to a woman and her maternal aunt at the same time.'
ہارون بن عبداللہ نے مجھے خبر دی، کہا: ہمیں معن نے بیان کیا، کہا: ہمیں مالک نے ابوالزناد سے، اور انہوں نے الاعرج سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نکاح میں ) عورت اور اس کی پھوپھی کو نہ جمع کیا جائے گا، اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے گا “۔
Qabisah bin Dhu'aib said that:
He heard Abu Hurairah رضی الله عنہ say: The Messenger of Allah ﷺ forbade (being married to) a woman and her paternal aunt or to a woman and her maternal aunt at the same time.
محمد بن یعقوب بن عبد الوہاب بن یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ ابن الزبیر بن العوام نے ہمیں خبر دی، کہا: ہم سے محمد بن فلیح نے یونس سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا؛ ابنِ شہاب نے کہا: مجھے قبیصہ بن ذویب نے خبر دی کہ
انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ( کسی کی زوجیت میں ) عورت اور اس کی پھوپھی کو، عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah ﷺ forbade being married to a woman and her paternal aunt or maternal aunt at the same time.
مجھے ابراہیم بن یعقوب نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا کہ انہیں جعفر بن ربیعہ نے عراق بن مالک اور عبدالرحمن الاعرج سے روایت کر کے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ عورت کو اس کی پھوپھی، یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah ﷺ forbade being married to four kinds of women at the same time: a woman and her paternal aunt or a woman and her maternal aunt.
قتیبہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، اور انہوں نے عراک بن مالک سے روایت کی, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، عورت اور اس کی پھوپھی کو، عورت اور اس کی خالہ کو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah ﷺ said: A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.
ہمیں عمرو بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا: مجھے ایوب بن موسیٰ نے خبر دی، وہ بکیر بن عبداللہ بن اشج سے، وہ سلیمان بن یسار نے، انہوں نے عبدالمالک بن یسار سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی عورت سے شادی نہ کی جائے جس کی پھوپھی پہلے سے اس کی نکاح میں موجود ہو ۱؎ اور نہ ہی ایسی عورت سے شادی کی جائے جس کی خالہ پہلے سے اس کے نکاح میں ہو“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah ﷺ forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.
مجاہد بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابنِ عیینہ نے عمرو بن دینار سے، اور انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے ( نکاح میں ) اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah ﷺ said: A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.
یحییٰ بن درست نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابو اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا کہ انہیں ابو سلمہ نے بیان کیا , ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں شادی نہ کی جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کی موجودگی میں اس سے شادی کی جائے“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah ﷺ said: A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.
ہمیں عبید اللہ بن سعید نے خبر دی، کہا: ہمیں یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہمیں ہشام نے بیان کیا، کہا: ہمیں محمد نے بیان کیا , ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہ کی جائے“۔