Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: None of you must buy in opposition to one another ; and do not go out to meet the merchandise, (but one must wait) till it is brought down to the market.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور تاجر سے پہلے ہی مل کر سودا نہ کرے جب تک کہ وہ اپنا سامان بازار میں نہ اتار لے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
Do not go our to meet what is being brought (to market for sale). If anyone does so and buys some of it, the owner of merchandise has a choice (of canceling the deal) when it comes to the market. Abu Ali said: I heard Abu Dawud say: Sufyan said: none of you must buy in opposition to one another ; that is he says: I have a better one for ten (dirhams).
ہم سے ربیع بن نافع ابو توبہ نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، ان سے ابن عمرو رقعی نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے اور ابن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کر لینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر ( ارزاں ) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے ( کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے ) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ( خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے ) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade to bid against one another.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے، زہری کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجش نہ کرو۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade a townsman to sell for a man from the desert. I asked: What do you mean by the selling of a townsman for a man from the desert ? He replied: He should not be a broker for him.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن ثور نے، معمر کی سند سے، ابن طاؤس نے اپنے والد سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز بیچے، میں ( طاؤس ) نے کہا: شہری دیہاتی کی چیز نہ بیچے اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ابن عباس نے فرمایا: ( اس کا مطلب یہ ہے کہ ) وہ اس کی دلالی نہ کرے ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A townsman must not sell for a man from the desert, even if he is his brother or father. Abu Dawud said: Anas bin Malik said: It was said: A townsman must not sell for a man from the desert. This phrase carries a broad meaning. It means that the (the townsman) must not sell anything for him or buy anything for him.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ان سے محمد بن زبیر، ابو ہمام نے بیان کیا۔ زہیر نے کہا: اور وہ یونس کی سند پر اور حسن کی سند پر ثقہ تھے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے ( مفہوم یہ ہے کہ ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے ( یہ ممانعت دونوں کو عام ہے ) ۔
Narrated Salim al-Makki:
A bedouin told him that he brought a milch she-camel in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He alighted with Talhah bin Ubaydullah رضی اللہ عنہ (and wanted to sell his milch animal to him). He said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade a townsman to sell for a man from the desert. But go to the market and see who buys from you. consult me thereafter, and then I shall ask you (to sell) or forbid you.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، محمد بن اسحاق کی سند سے, سالم مکی سے روایت ہے کہ
ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے ( اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا ) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A townsman must not sell for a man from the desert ; and leave people alone, Allah will give them provision from one another.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو ( انہیں خود سے لین دین کرنے دو ) اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ روزی دیتا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not go out to meet riders to conduct business with them ; none of you must buy in opposition to one another; and do not tie up the udders of camels and sheep, for he who buys them after that has been done has two courses open to him after milking them: he may keep them if he is pleased with them, or he may return them along with a sa' of dates is he is displeased with them.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد سے، العراج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر نہ ملو ، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اور اونٹ و بکری کا تصریہ نہ کرو جس نے کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدی تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے، چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو پسند کر کے اسے واپس کر دے، اور ساتھ میں ایک صاع کھجور دیدے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone buys sheep whose udders have been tied up, he has option for three days: he may return it if he desires with a sa' of any grain, not (necessarily) wheat.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، وہ ایوب، ہشام اور حبیب نے، محمد بن سیرین کی سند سے , ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تصریہ کی ہوئی بکری خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے چاہے تو اسے لوٹا دے، اور ساتھ میں ایک صاع غلہ ( جو غلہ بھی میسر ہو ) دیدے، گیہوں دینا ضروری نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone buys sheep or goat whose udders have been tied up and he milked it, he may keep it if he is pleased with it, or he may return it if he is displeased with it. There is one sa' of dates (which he must give to the seller) for milking it.
ہم سے عبداللہ بن مخلد تمیمی نے بیان کیا، ان سے مکی نے بیان کیا، ہم سے ابن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، مجھ سے زیاد نے بیان کیا کہ انہیں عبدالرحمٰن بن زید کے موکل ثابت نے خبر دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تھن میں دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدی اسے دوہا، تو اگر اسے پسند ہو تو روک لے اور اگر ناپسند ہو تو دوہنے کے عوض ایک صاع کھجور دے کر اسے واپس پھیر دے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone buys a sheep whose udders have been tied up, he has option for three days (for decision). If he returns it, he should return with it wheat equal to its milk or double of it.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا، ہم سے صدقہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے جمعہ بن عمیر تیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی ( مادہ ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے ( چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں ) اور اگر واپس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے ۔
Narrated Mamar bin Abi Mamar رضی اللہ عنہ , one of Banu Adiyy bin Kab:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: No one withholds goods till their price rises but a sinner. I said to Saeed (b. al-Musayyab): You withhold goods till their price rises. He said: Mamar used to withhold goods till their price rose. Abu Dawud said: I asked Ahmad (b. Hanbal): What is hoarding (hukrah) ? He replied: That on which people live. Abu Dawud said: Al-Auzai said: A muhtakir (one who hoards) is one who withholds supply of goods in the market.
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد نے عمرو بن یحییٰ سے، محمد بن عمرو بن عطاء سے سعید بن مسیب کی سند سے, بنو عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ ( یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہو گا ) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔
Qatadah said:
Hoarding does not apply to dried dates. Ibn al-Muthanna said that he (Yahya bin Fayyad) reported on the authority of al-Hasan. We (Ibn al-Muthanna) said to him (Yahya): Do not say: on the authority of al-Hasan. Abu Dawud said: This tradition according to us is false. Abu Dawud said: Saeed bin al-Musayyab used to hoard kernel, fodder, and seeds. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Yunus say: I asked Sufyan about hoarding fodder. He replied: They (the people in the past) disapproved of hoarding. I asked Abu Bakr bin Ayyash (about it). He replied: Hoard it.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فیاض نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, اور ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن الفیاد نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا, قتادہ کہتے ہیں
کھجور میں احتکار ( ذخیرہ اندودزی ) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے ( کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان ( ابن سعید ثوری ) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو ( کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
Narrated Alqamah bin Abdullah: On the authority of his father, who said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to break the coins of the Muslims current among them except for some defect.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے محمد بن فدا کو اپنے والد سے، علقمہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے رائج سکے کو توڑنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ کسی کو ضرورت ہو۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A man came and said: Messenger of Allah, fix prices. He said: (No), but I shall pray. Again the man came and said: Messenger of Allah, fix prices. He said: It is but Allah Who makes the prices low and high. I hope that when I meet Allah, none of you has any claim on me for doing wrong regarding blood or property.
ہم سے محمد بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا کہ ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے العلاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نرخ مقرر فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( میں نرخ مقرر تو نہیں کروں گا ) البتہ دعا کروں گا ( کہ غلہ سستا ہو جائے ) ، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بھی کہا: اللہ کے رسول! نرخ متعین فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ گراتا اور اٹھاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ کسی کی طرف سے مجھ پر زیادتی کا الزام نہ ہو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The people said: Messenger of Allah, prices have shot up, so fix prices for us. Thereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah is the one Who fixes prices, Who withholds, gives lavishly and provides, and I hope that when I meet Allah, none of you will have any claim on me for an injustice regarding blood or property.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عفان نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ہم کو ثابت نے خبر دی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ ( کوئی مناسب ) نرخ مقرر فرما دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، ( میں نہیں ) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو ( اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم passed a man who was selling grain. He asked him: How are you selling? He informed him. Revelation them came down to him saying: Put your hand into it. So he put his hand into it, and felt that it was damp. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: He who deceives has nothing to do with us.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے علاء کی سند سے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: کیسے بیچتے ہو؟ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ ( کے ڈھیر ) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر ( گیلا ) تھا تو آپ نے فرمایا: جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ( یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے ) ۔
Yahya said:
Sufyan disapproved of the interpretation of the phrase has nothing to do with us as not like us .
ہم سے حسن بن صباح نے علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، یحییٰ کہتے ہیں
سفیان «ليس منا» کی تفسیر «ليس مثلنا» ( ہماری طرح نہیں ہے ) سے کرنا ناپسند کرتے تھے ۔
Narrated Abdullah bin Umar:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Each one of the two parties in a business has an option (to annul it) against the other party so long as they have not separated, except in a conditional bargain.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری میں سے ہر ایک کو بیع قبول کرنے یا رد کرنے کا اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں مگر جب بیع خیار ہو ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect through a different chain of narrators.
This version adds: Or one of them tells the other: Exercise the right.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے
اس میں یوں ہے: یا ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے «اختر» یعنی لینا ہے تو لے لو، یا دینا ہے تو دے دو ( پھر وہ کہے: لے لیا، یا کہے دے دیا، تو جدا ہونے سے پہلے ہی اختیار جاتا رہے گا ) ۔