Narrated Abdullah bin Amr bin al-As رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Both parties in a business transaction have a right to annul it so long as they have not separated unless it is a bargain with the option to annul is attached to it; and it is not permissible for one of them to separate from the other for fear that one may demand that the bargain be rescinded.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے ابن عجلان سے، عمرو بن شعیب سے اپنے والد سے, عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والے دونوں جب تک جدا نہ ہوں معاملہ ختم کر دینے کا اختیار رکھتے ہیں، مگر جب بیع خیار ہو، ( تو جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے ) بائع و مشتری دونوں میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ چیز کو پھیر دینے کے ڈر سے اپنے ساتھی کے پاس سے اٹھ کر چلا جائے ۔
Narrated Abu lWadi:
We fought one of our battle, and encamped at a certain place. One of our companions sold a horse for a slave. After that they remained there for the rest of day and night. When the next morning came, they prepared themselves for departure. The buyer of the horse began to saddle it, but the seller was ashamed (of the transaction). He went to the man (buyer) and asked him to annul the transaction. The man refused to hand it over (the horse) to him. He said: Abu Barzah رضی اللہ عنہ , the companion of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, is to decide between me and you. They went to Abu Barzah رضی اللہ عنہ in the corner of the army. They related this story to him. He said: Do you agree that I make a decision between you on the basis of the decision of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Both parties in a business transaction have an option (right) to annul it so long as they have not separated. Hisham to Hassan said that Jamil said in his version: I do not think that you separated.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، جمیل بن مرہ کی سند سے, ابوالوضی کہتے ہیں
ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ ( بیچنے والا ) اٹھا اور ( اپنے ) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی ( زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کر لیا ) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبرزہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں ( وہ جو فیصلہ کر دیں ہم مان لیں گے ) وہ دونوں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت ابوبرزہ لشکر کے ایک جانب ( پڑاؤ ) میں تھے، ان دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: دونوں خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کر دینے کا اختیار ہے، جب تک کہ وہ دونوں ( ایک مجلس سے ) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہو جائیں ۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو ۔
Narrated Yahya bin Ayyub:
When Abu Zurah made a business transaction with a man, he gave him the right of option. He then would tell him: Give me the right of option (to annul the bargain). He said: I heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Two people must separate only by mutual consent.
ہم سے محمد بن حاتم جرجراعی نے بیان کیا, مروان الفزاری نے کہا: اس نے ہمیں خبر دی، یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں
ابوزرعہ جب کسی آدمی سے خرید و فروخت کرتے تو اسے اختیار دیتے اور پھر اس سے کہتے: تم بھی مجھے اختیار دے دو اور کہتے: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی جب ایک ساتھ ہوں تو وہ ایک دوسرے سے علیحدہ نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے راضی ہو کر ۔
Narrated Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Both parties in a business transaction have a right of option (to annul it) so long as they are not separated ; and if they tell the truth and make everything clear, they will be blessed in their transaction, but it they conceal anything and lie, the blessing on their transaction will be blotted out. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Saeed bin Abi 'Arubah and Hammad. As regards with Hammam, he said in his version: Until they separate or exercise the right of option (to annul the transaction), saying the words of option three times.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، ابو الخلیل نے عبداللہ بن حارث کی سند سے, حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کر دیں تو دونوں کے اس خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کر دی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوں، یا دونوں تین مرتبہ اختیار کی شرط نہ کر لیں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone rescinds a sale with a Muslim, Allah will cancel his slip, on the Day of Resurrection.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ہم سے حفص نے بیان کیا، انہوں نےاعمش کی سند سے اور ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے فروخت کا معاملہ فسخ کر لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف کر دے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone makes two transactions combined in one bargain, he should have the lesser of the two or it will involve usury.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن زکریا سے، انہوں نے محمد بن عمرو کی سند سے، انہوں نے ابو سلمہ کی سند سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک معاملہ میں دو طرح کی بیع کی تو جو کم والی ہو گی وہی لاگو ہو گی ( اور دوسری ٹھکرا دی جائے گی ) کیونکہ وہ سود ہو جائے گی ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
I heard the Messenger of Allah, صلی اللہ علیہ وسلم say: When you enter into the inah transaction, hold the tails of oxen, are pleased with agriculture, and give up conducting jihad (struggle in the way of Allah). Allah will make disgrace prevail over you, and will not withdraw it until you return to your original religion. Abu Dawood said: The tradition of Jafar and these are his words.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، انہیں ابن وہب نے خبر دی، انہیں حیوہ بن شریح نے خبر دی, ہم سے جعفر بن مسافر الطینی نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یحییٰ البرولسی نے بیان کیا، ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا،اسحاق ابو عبدالرحمٰن کی سند سے، سلیمان نے کہا، ابو عبدالرحمٰن خراسانی کی سند سے، کہ عطاء الخراسانی نے ان سے بیان کیا، کہ نافع نے کہا،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے گایوں بیلوں کے دم تھام لو گے، کھیتی باڑی میں مست و مگن رہنے لگو گے، اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جس سے تم اس وقت تک نجات و چھٹکارا نہ پا سکو گے جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت جعفر کی ہے اور یہ انہیں کے الفاظ ہیں۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Madina, they were paying one, two and three years in advance for fruits, so he said: Those who pay in advance for anything, must do for a specified measure and weight with a specified time fixed.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن کثیر نے ابو المنہال رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اس وقت لوگ پھلوں میں سال سال، دو دو سال، تین تین سال کی بیع سلف کرتے تھے ( یعنی مشتری بائع کو قیمت نقد دے دیتا اور بائع سال و دو سال تین سال کی جو بھی مدت متعین ہوتی مقررہ وقت تک پھل دیتا رہتا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھجور کی پیشگی قیمت دینے کا معاملہ کرے اسے چاہیئے کہ معاملہ کرتے وقت پیمانہ وزن اور مدت سب کچھ معلوم و متعین کر لے ۔
Muhammad or Abdullah bin Mujalid said:
Abdullah bin Shaddad and Abu Burdah رضی اللہ عنہما disputed over salaf (payment in advance). They sent me to Ibn Abi Awfa رضی اللہ عنہ and I asked him (about it) and he replied: We used to pay in advance (salaf) during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما in wheat, barley, dates and raisins. Ibn Kathir added: to those people who did not possess these things. The agreed version then goes: I then asked Ibn Abza who gave a similar reply.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ ہم سے ح اور ابن کثیر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، محمد یا عبداللہ بن مجالد کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما میں بیع سلف کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو لوگوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں گیہوں، جو، کھجور اور انگور خریدنے میں سلف کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں سے ( کرتے تھے ) جن کے پاس یہ میوے نہ ہوتے تھے۔ابن کثیر نے مزید کہا: ان لوگوں کے لیے جن کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں۔ متفق علیہ نسخہ ہے: پھر میں نے ابن ابزہ سے پوچھا جس نے ایسا ہی جواب دیا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Abi al-Mujahid through a different chain of narrators. This version has: to those people who did not possess these things. Abu Dawud said: What is correct is Ibn Abi al-Mujahid. Shubah made a mistake in it.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ اور ابن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا،عبداللہ بن ابی مجالد (اور عبدالرحمٰن نے ابن ابی مجالد کہا ہے) سے یہی حدیث مروی ہے
اس میں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلم کرتے تھے، جن کے پاس ( بروقت ) یہ مال نہ ہوتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مجالد صحیح ہے، اور شعبہ سے اس میں غلطی ہوئی ہے۔
Narrated Abdullah bin Abu Awfa al-Aslami:
We made a journey to Syria on an expedition along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The Nabateans of Syria came to us and we paid in advance to them (in a salam contract) in wheat and olive oil at a specified rate and for a specified time. He asked (by the people): you might have contracted with him who had these things in his possession? He replied: We did not ask them.
ہم سے محمد بن المصفی نے بیان کیا، ہم سے ابو المغیرہ نے بیان کیا، ہم سے عبد الملک بن ابی غنیہ نے بیان کیا، مجھ سے ابو اسحاق نے بیان کیا،عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام میں جہاد کیا تو شام کے کاشتکاروں میں سے بہت سے کاشتکار ہمارے پاس آتے، تو ہم ان سے بھاؤ اور مدت معلوم و متعین کر کے گیہوں اور تیل کا سلف کرتے ( یعنی پہلے رقم دے دیتے پھر متعینہ بھاؤ سے مقررہ مدت پر مال لے لیتے تھے ) ان سے کہا گیا: آپ ایسے لوگوں سے سلم کرتے رہے ہوں گے جن کے پاس یہ مال موجود رہتا ہو گا، انہوں نے کہا: ہم یہ سب ان سے نہیں پوچھتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
A man paid in advance for a palm-tree. It did not bear fruit that year. They brought their case for decision to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: for which do you make his property lawful? He then said: Do not pay in advance for a palm-tree till they (the fruits) were clearly in good condition.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone pays in advance he must not transfer it to someone else before he receives it.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابو بدر نے بیان کیا، وہ زیاد بن خیثمہ کی سند سے، انہوں نے سعد کی سند سے، یعنی الطائی نے عطیہ بن سعد کی سند سے,ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی پہلے قیمت دے کر کوئی چیز خریدے تو وہ چیز کسی اور چیز سے نہ بدلے ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ :
In the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم a man suffered loss affecting fruits he had bought and owed a large debt, so the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Give him sadaqah (alms). So the people gave him sadaqah (alms), but as that was not enough to pay the debt in full, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Take what you find. But that is all you may have.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے عیاض بن عبداللہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آ گئی چنانچہ اس پر بہت سارا قرض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خیرات دو تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے قرض خواہوں سے ) فرمایا: جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ( یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے ) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If you were to sell dried dates to your brother and they were smitten by blight, it will not be allowable for you to take your brother's property unjustly.
ہم سے سلیمان بن داؤد المہری اور احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی۔ ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج المعنا سے بیان کیا کہ انہیں ابو الزبیر مکی نے خبر دی,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ ( باغ کا ) پھل بیچو پھر اس پھل پر کوئی آفت آ جائے ( اور وہ تباہ و برباد ہو جائے ) تو تمہارے لیے مشتری سے کچھ لینا جائز نہیں تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس وجہ سے لو گے؟ ۔
Ata said:
Blight means anything which obviously damages (the crop), by rain, hail, locust, blast of wind, or fire.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عثمان بن الحکم نے بیان کیا، وہ ابن جریج کی سند سے, عطاء کہتے ہیں
«جائحہ» ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کر سکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہو گئی ہو، پالا پڑ گیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کر گئی ہوں، آندھی آ گئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔
Yahya bin Saeed said:
Blight is not effective when less than one-third of goods are damaged. Yayha said: That has been the established practice of Muslims.
ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عثمان بن الحکم نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید کہتے ہیں
راس المال کے ایک تہائی سے کم مال پر آفت آئے تو اسے آفت نہیں کہیں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: مسلمانوں میں یہی طریقہ مروج ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Excess water should not be withheld so as to prevent (cattle) by it from grass.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، وہ ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاضل پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعہ سے گھاس سے روک دیا جائے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There are three people who Allah will not address on the Day of Judgement: a man who prevents traveller from the excess water which he has with him; and a man who swears for the goods (for sale) after the afternoon prayer, that is, (he swears) falsely; and a man who takes the oath of allegiance to a ruler (imam); if he gives him (something), he fullfils (the oath of allegiance) to him, if he does not give him (anything), he does not fulfill it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی امام ( و سربراہ ) سے ( وفاداری کی ) بیعت کرے پھر اگر امام اسے ( دنیاوی مال و جاہ ) سے نوازے تو اس کا وفادار رہے، اور اگر اسے کچھ نہ دے تو وہ بھی عہد کی پاسداری نہ کرے ۔
The tradition mentioned above has also been related by al-'Amash to the same effect through a different chain of narrators. This version adds:
He used: 'Not purify them ; grievously will be their penalty. ' He said about (selling) the goods: I swear by Allah, I was given (the price) so and so for it. The other man considered it to be correct and bought it.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا, اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
اس میں ہے: ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا اور سامان کے سلسلہ میں یوں کہے: قسم اللہ کی اس مال کے تو اتنے اتنے روپے مل رہے تھے، یہ سن کر خریدار اس کی بات کو سچ سمجھ لے اور اسے ( منہ مانگا پیسہ دے کر ) لے لے۔