Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone buys grain, he should not sell it until he measures it. Abu Bakr added in his version: I asked Ibn Abbas رضی اللہ عنہما : Why ? He replied: Do you not see that they sell (grain) for gold, but the grain is still with the seller.
ہم سے ابو شیبہ کے بیٹوں ابوبکر اور عثمان نے بیان کیا , ہم سے وکیع نے سفیان کی سند سے، ابن طاؤس سے، اپنے والد سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے ۔ ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ اشرفیوں سے گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone buys a grain, he should not sell it until he takes possession of it. Sulaiman bin Harb said: Until he receives it in full. Musaddad added: Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said: And I think that everything is like grain.
ہم سے مسدد اور سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا اور ہم سے مسدد نے بیان کیا , ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا - اور یہ مسدد کا قول ہے - عمرو بن دینار سے، طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی گیہوں خریدے تو جب تک اسے اپنے قبضہ میں نہ کر لے، نہ بیچے ۔ سلیمان بن حرب نے اپنی روایت میں ( «حتى يقبضه» کے بجائے ) «حتى يستوفيه» روایت کیا ہے۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ گیہوں کی طرح ہر چیز کا حکم ہے ( جو چیز بھی کوئی خریدے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے دوسرے کے ہاتھ نہ بیچے )۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
I saw that during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم the people were beaten when they bought grain on the same spot and sold it there without moving it to their houses.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے، زہری کی سند سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں، میں نے لوگوں کو مار کھاتے ہوئے دیکھا ہے جب وہ گیہوں کے ڈھیر بغیر تولے اندازے سے خریدتے اور اپنے مکانوں پر لے جانے سے پہلے بیچ ڈالتے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
I bought olive oil in the market. When I became its owner, a man met me and offered good profit for it. I intended to settle the bargain with him, but a man caught hold of my hand from behind. When I turned I found that he was Zayd bin Thabit رضی اللہ عنہ. He said: Do not sell it on the spot where you have bought it until you take it to your house, for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to sell the goods where they are bought until the tradesmen take them to their houses.
ہم سے محمد بن عوف الطائی نے بیان کیا، ہم سے احمد بن خالد الوہبی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، وہ ابو الزناد سے، انہوں نے عبید بن حنین کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
میں نے بازار میں تیل خریدا، تو جب اس بیع کو میں نے مکمل کر لیا، تو مجھے ایک شخص ملا، وہ مجھے اس کا اچھا نفع دینے لگا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس سے سودا پکا کر لوں اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: جب تک کہ تم اسے جہاں سے خریدے ہو وہاں سے اٹھا کر اپنے ٹھکانے پر نہ لے آؤ نہ بیچنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کو اسی جگہ بیچنے سے روکا ہے، جس جگہ خریدا گیا ہے یہاں تک کہ تجار سامان تجارت کو اپنے ٹھکانوں پر لے آئیں۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
A man told the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم that he was being deceived in business transactions. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: When you make a bargain, say: There is no attempt to deceive. So when the man made a bargain, he said: There is no attempt to deceive.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور عبداللہ بن دینار کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ خرید و فروخت میں اسے دھوکا دے دیا جاتا ہے ( تو وہ کیا کرے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جب تم خرید و فروخت کرو، تو کہہ دیا کرو «لا خلابة» ( دھوکا دھڑی کا اعتبار نہ ہو گا ) تو وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو «لا خلابة» کہہ دیتا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہما :
During the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم a man used to buy (goods), and he was weak in his intellect. His people came to the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Prophet of Allah, stop so-and-so (to make a bargain) for he buys (goods), but he is weak in his intellect. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم called on him and forbade him to make a bargain. He said: Prophet of Allah, I cannot keep away myself from business transactions. Thereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If you cannot give up making a bargain, then say: Take, and give, and there is no attempt to deceive.
ہم سے محمد بن عبداللہ الارزی اور ابراہیم بن خالد ابو ثور الکلبی نے بیان کیا , انہوں نے کہا: ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا, محمد عبد الوہاب بن عطاء نے کہا: ہمیں سعید نے قتادہ کی سند سے خبر دی, انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خرید و فروخت کرتا تھا، لیکن اس کی گرہ ( معاملہ کی پختگی میں ) کمی و کمزوری ہوتی تھی تو اس کے گھر والے اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! فلاں ( کے خرید و فروخت ) پر روک لگا دیجئیے، کیونکہ وہ سودا کرتا ہے لیکن اس کی سودا بازی کمزور ہوتی ہے ( جس سے نقصان پہنچتا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے خرید و فروخت کرنے سے منع فرما دیا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھ سے خرید و فروخت کئے بغیر رہا نہیں جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اگر تم خرید و فروخت چھوڑ نہیں سکتے تو خرید و فروخت کرتے وقت کہا کرو: نقدا نقدا ہو، لیکن اس میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی ۔ اور ابوثور کی روایت میں ( «أخبرنا سعيد» کے بجائے ) «عن سعيد» ہے۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father, that his grandfather said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the type of transactions in which earnest money was paid. Malik said: This means, as we think--Allah better knows-that a man buys a slave or hires an animal, and he says: I give you a dinar on condition that if I give up the transaction or hire, what I gave you is yours.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے یہ بات پڑھی کہ انہیں عمرو بن شعیب کی روایت سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا کی روایت سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے۔ امام مالک کہتے ہیں: جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک غلام یا لونڈی خریدے یا جانور کو کرایہ پر لے پھر بیچنے والے یا کرایہ دینے والے سے کہے کہ میں تجھے ( مثلاً ) ایک دینار اس شرط پر دیتا ہوں کہ اگر میں نے یہ سامان یا کرایہ کی سواری نہیں لی تو یہ جو ( دینار ) تجھے دے چکا ہوں تیرا ہو جائے گا ( اور اگر لے لیا تو یہ دینار قیمت یا کرایہ میں کٹ جائے گا ) ۔
Narrated Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ :
I asked (the Prophet): "O Messenger of Allah, a man comes to me and wants me to sell him something which is not in my possession. Should I buy it for him from the market? He replied: Do not sell what you do not possess.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ان سے ابو بشر نے، یوسف بن ماہک کی سند سے, حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آدمی آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کرنا چاہتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہوتی، تو کیا میں اس سے سودا کر لوں، اور بازار سے لا کر اسے وہ چیز دے دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچو ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his father's authority, said that his grandfather Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The proviso of a loan combined with a sale is not allowable, nor two conditions relating to one transaction, nor profit arising from something which is not in one's charge, nor selling what is not in your possession.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن شعیب نے بیان کیا، ان سے میرے والد نے بیان کیا، اپنے والد سے، یہاں تک کہ انہوں نے ذکر کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں اور نہ اس چیز کا نفع لینا درست ہے، جس کا وہ ابھی ضامن نہ ہوا ہو، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہیں ( کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے ) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
I sold it, that is, camel, to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, but I made the stipulation that I should be allowed to ride it to home. At the end he (the Prophet) said: Do you think that I made this transaction with you so that I take your camel ? Take your camel and its price; both are yours.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، یعنی ابن سعید نے زکریا سے، ہم سے عامر نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے اسے ( یعنی اپنا ) اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیچا اور اپنے سامان سمیت سوار ہو کر اپنے اہل تک پہنچنے کی شرط لگا لی، اور اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں قیمت کم کرا رہا ہوں تاکہ کم ہی پیسے میں تمہارے اونٹ ہڑپ کر لے جاؤں، جاؤ تم اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور اونٹ کی قیمت بھی، یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں ۔
Narrated Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The contractual obligation of a slave is three days.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابان نے قتادہ کی سند سے اور حسن کی سند سے ,عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بایع پر ) غلام و لونڈی کے عیب کی جواب دہی کی مدت تین دن ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:
If he finds defect (in the slave) within three days, he may return it without evidence; if he finds a defect after three days, he will be required to produce evidence that he (the slave) had the defect when he bought it. Abu Dawud said: This explanation is from the words of Qatadah.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الصمد نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا, اس سند سے بھی قتادہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ
اگر تین دن کے اندر ہی اس میں کوئی عیب پائے تو وہ اسے بغیر کسی گواہ کے لوٹا دے گا، اور اگر تین دن بعد اس میں کوئی عیب نکلے تو اس سے اس بات پر بینہ ( گواہ ) طلب کیا جائے گا، کہ جب اس نے اسے خریدا تھا تو اس میں یہ بیماری اور یہ عیب موجود تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تفسیر قتادہ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Profit follows responsibility.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی ذہب نے بیان کیا، وہ مخلد بن خفاف نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۔
Narrated Makhlad ibn Khufaf al-Ghifari:
I and some people were partners in a slave. I employed him on some work in the absence of one of the partners. He got earnings for me. He disputed me and the case of his claim to his share in the earnings to a judge, who ordered me to return the earnings (i.e. his share) to him. I then came to Urwah bin az-Zubayr رضی اللہ عنہ, and related the matter to him. Urwah رضی اللہ عنہ then came to him and narrated to him a tradition from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on the authority of Aishah رضی اللہ عنہا : Profit follows responsibility.
ہم سے محمود بن خالد نے سفیان کی سند سے اور محمد بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, (مخلد بن خفاف) غفاری کہتے ہیں
میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا: منافع اس کا ہو گا جو ضامن ہو گا ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
A man bought a slave, and he remained with him as long as Allah wished him to remain. He then found defect in him. He brought his dispute with him to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and he returned him to him. The man said: Messenger of Allah, my slave earned some wages. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Profit follows responsibility. Abu Dawud said: This chain of narrators (of this version) is not reliable.
ہم سے ابراہیم بن مروان نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن خالد زنجی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام بائع کو واپس کرا دیا، تو بائع کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج ( منافع ) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سند ویسی ( قوی ) نہیں ہے ( جیسی سندوں سے کوئی حدیث ثابت ہوتی ہے )
Narrated Muhammad bin al-Ashath, from his father, that his grandfather said:
Al-Ashath bought slaves of booty from Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ for twenty thousand (dirhams. Abdullah asked him for payment of their price. He said: I bought them for ten thousand (dirhams). Abdullah said: Appoint a man who may adjudicate between me and you. Al-Ashath said: (I appoint) you between me and yourself. Abdullah said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If both parties in a business transaction differ (on the price of an article), and they have witness between them, the statement of the owner of the article will be accepted (as correct) or they may annul the transaction.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہیں ابو عمیس کی سند سے، مجھے عبدالرحمٰن بن قیس بن محمد بن اشعث نے خبر دی، اپنے والد سے، اپنے دادا کی سند سے، انہوں نے کہا
اشعث نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے چند غلام بیس ہزار میں خریدے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث سے ان کی قیمت منگا بھیجی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دس ہزار میں خریدے ہیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی شخص کو چن لو جو ہمارے اور تمہارے درمیان معاملے کا فیصلہ کر دے، اشعث نے کہا: آپ ہی میرے اور اپنے معاملے میں فیصلہ فرما دیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) دونوں کے درمیان ( قیمت میں ) اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو صاحب مال و سامان جو بات کہے وہی مانی جائے گی، یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں ۱؎ ۔
Al-Qasim bin Abdur-Rahman reported from his father:
Ibn Masud رضی اللہ عنہما sold slaves to al-Ashath bin Qais. He then narrated the rest of the tradition to the same effect with some variation of words.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا, قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ایک غلام اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیچا، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث الفاظ کی کچھ کمی و بیشی کے ساتھ بیان کی۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There is the right of option regarding everything which is shared, whether a dwelling or a garden. It is not lawful to sell before informing one's partner, but if he sells without informing him, he has the greatest right to it.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ابن جریج نے ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفعہ ہر مشترک چیز میں ہے، خواہ گھر ہو یا باغ کی چہار دیواری، کسی شریک کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے شریک کو آگاہ کئے بغیر بیچ دے، اور اگر بغیر آگاہ کئے بیچ دیا تو شریک اس کے لینے کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم decreed the right to buy the neighboring property applicable to everything which is not divided, but when boundaries are fixed and separate roads made, there is no option.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ الزہری کی سند سے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ ہر اس چیز میں رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حد بندیاں ہو گئی ہوں، اور راستے الگ الگ نکا ل دئیے گئے ہوں تو اس میں شفعہ نہیں ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When land has been divided and boundaries have been set up, there is no right of pre-emption in it.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، زہری سے، ابو سلمہ سے یا سعید بن العیب یا ان دونوں کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمین کا بٹوارہ ہو چکا ہو اور ہر ایک کی حد بندی کر دی گئی ہو تو پھر اس میں شفعہ نہیں رہا ۔