Narrated Buhaisah: On the authority of her father:
My father asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم for permission (to kiss his body). (When he was given permission), lifting his shirt he approached his body, and began to kiss and stick to him. He then asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Water. He asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He said: That you do a good work is better for you.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے کہمس نے بیان کیا، ان سے بنو فزارہ کے ایک شخص سیار بن منظور نے اپنے والد سے، وہ ایک عورت کے واسطہ سے کہتی تھی, بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ
میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، ( اجازت ملی ) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پھر پوچھا: اللہ کے نبی! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمک پھر پوچھا: اللہ کے نبی! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی بھی تو نیکی کرے ( یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے ) تیرے لیے بہتر ہے ۔
Abu Khidash narrated, and this is the version of Ali:
A muhajir man who one of the Companions of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: I participated in battle three times along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. I heard him say: Muslims have common share in three (things). grass, water and fire.
ہم سے علی بن الجعد للو لی نے بیان کیا، کہا ہم کو حارث بن عثمان نے خبر دی، انہیں حبان بن زید الشرعبی نے قرن کے ایک شخص کی سند سے ، ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے حارث بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے ابوخداش نے بیان کیا اور یہ علی کا قول ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنتا تھا: مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں ( یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ) : ( ا ) پانی ( نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو ) ، ( ۲ ) گھاس ( جو لاوارث زمین میں ہو ) اور ( ۳ ) آگ ( جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو ) ۔
Narrated Iyas Ibn Abd رضی اللہ عنہ:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the sale of excess water.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن العطار نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے ابو المنہال کی سند سے, ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل ( پینے کے ) پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade payment for dog and cat.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا, ہم سے ربیع بن نافع ابو توبہ اور علی بن بحر نے بیان کیا: ہم سے عیسیٰ نے بیان کیا، اور ابراہیم نے کہا: انہوں نے ہمیں الاعمش کی سند سے، ابو سفیان کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade payment for cat.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے عمر بن زید الصنعانی نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے سنا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abu Masud رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade the price paid for a dog, the hire paid to prostitute, and the gift given to a soothsayer.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے, ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the price paid for a dog; if someone comes to ask for the price of a dog, fill his hand-palm with dust.
ہم سے ربیع بن نافع ابو توبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے، یعنی ابن عمرو نے، ہم سے عبدالکریم نے قیس بن حبتر سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے، اور اگر کوئی کتے کی قیمت مانگنے آئے، تو اس کی مٹھی میں مٹی بھر دو۔
Narrated Abu Juhaifah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the price paid for a dog.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، مجھ سے عون نے بیان کیا, ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The price paid for a dog, the price given to a soothsayer, and the hire paid to a prostitute are not lawful.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے معروف بن سوید الجذامی نے بیان کیا کہ ان سے علی بن رباح لخمی نے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Allah forbade wine and the price paid for it, and forbade dead meat and the price paid for it, and forbade swine and the price paid for it.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے عبد الوہاب بن بخت نے، ابو الزناد کی سند سے، انہوں نے العرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
He heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say in the year of the Conquest when he was in Makkah: Allah has forbidden the sale of wine, animals which have dead natural death, swine and idols. He was asked: Messenger of Allah, what do you think of the fat of animals which had died a natural death, for it was used for caulking ships, greasing skins, and making oil for lamps? He replies: No, it is forbidden. Thereafter, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: May Allah curse the Jews! When Allah declared the fat of such animals lawful, they melted it, then sold it, and enjoyed the price they received.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، وہ عطاء بن ابی رباح کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ( آپ مکہ میں تھے ) : اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ ( اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں ) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ( ان سب کے باوجود بھی ) وہ حرام ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے ۔
Yazid bin Abi Habib said: Jabir رضی اللہ عنہ wrote to me a similar tradition. But he did not say in this version:
"It is forbidden."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے عبد الحمید بن عبداللہ کی سند سے, اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے
مگر اس میں انہوں نے «هو حرام» نہیں کہا ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sitting neat the Black stone (or at a corner of the Kabah). He said: He (the Prophet) raised his eyes towards the heaven, and laughed, and he said: May Allah curse the Jews! He said this three times. Allah declared unlawful for them the fats (of the animals which died a natural death); they sold them and they enjoyed the price they received for them. When Allah declared eating of thing forbidden for the people, He declares it price also forbidden for them. The version of Khalid bin Abdullah al-Tahhan does not have the words I saw . It has: May Allah destroy the Jews!
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ بشر بن المفضل اور ان سے خالد بن عبداللہ نے المعنی نے خالد الہذا کی سند سے برکہ کی سند سے بیان کیا, مسدد نے خالد بن عبداللہ کی حدیث میں برکہ ابو الولید کی سند سے کہا تو انہوں نے اتفاق کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن ( حجر اسود ) کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی ( تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی ) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کر دیا ہے ۔ خالد بن عبداللہ ( خالد بن عبداللہ طحان ) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: «لعن الله اليهود» کے بجائے: «قال قاتل الله اليهود» ہے۔
Narrated Al-Mughirah Ibn Shubah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who sold wine should shear the flesh of swine.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے ابن ادریس اور وکیع نے بیان کیا، انہوں نے تمہ بن عمرو جعفری سے، عمر بن بیان الطغلبی سے، عروہ بن مغیرہ بن شعبہ کی سند سے,مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب بیچے اسے سور کا گوشت بھی کاٹنا ( اور بیچنا ) چاہیئے ( اس لیے کہ دونوں ہی چیزیں حرمت میں برابر ہیں ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
When the last verses of Surat al-Baqarah were revealed, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came out and recited them to us and said: Trading in wine has been forbidden.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان سے، ابو الضحی سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں: «يسألونك عن الخمر والميسر...» اتریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے یہ آیتیں ہم پر پڑھیں اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Amash to the same effect through a different chain of narrators. This version adds:
The last verses about usury.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، اعمش سے بھی اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
اس میں «الآيات الأواخر من سورة البقرہ» کے بجائے «الآيات الأواخر في الربا» ہے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone buys grain, he must not sell it till receives it in full.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھانے کا غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے پورے طور سے اپنے قبضہ میں نہ لے لے ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
During the time of Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم we used to buy grain, and he sent a man to us who ordered us to move it from the spot where we had bought it to some other place, before we sold it without weighing or measuring it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے، تو آپ ہمارے پاس ( کسی شخص کو ) بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لیا جائے جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے بیچیں یعنی اندازے سے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
They (the people) used to buy grain in the upper part of the market in the same spot without measuring or weighing it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade them to sell it there before removing it.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہیں عبید اللہ کی سند سے، مجھے نافع نے خبر دی،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
لوگ اٹکل سے بغیر ناپے تولے ( ڈھیر کے ڈھیر ) بازار کے بلند علاقے میں غلہ خریدتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اسے اس جگہ سے منتقل نہ کر لیں ( تاکہ مشتری کا پہلے اس پر قبضہ ثابت ہو جائے پھر بیچے ) ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to sell grain which one buys by measurement until one receives it in full.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ہم سے عمرو نے بیان کیا، ان سے المنذر بن عبید مدینی نے بیان کیا کہ ان سے القاسم بن محمد نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کو جسے کسی نے ناپ تول کر خریدا ہو، جب تک اسے اپنے قبضہ و تحویل میں پوری طرح نہ لے لے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔