Narrated Abu Rafi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A neighbor has the best claim to the house or land of the neighbor.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن شرید سے سنا، ابورافع رضی اللہ عنہ نے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پڑوسی اپنے سے لگے ہوئے مکان یا زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
Narrated Samurah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A neighbour has the best claim to the house or land of the neighbour.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ کی سند سے اور حسن کی سند سے, سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The neighbour is most entitled to the right of pre-emption, and he should wait for its exercise even if he is absent, when the two properties have one road.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ہم سے عبد الملک نے، عطاء کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اگر وہ موجود نہ ہو گا تو شفعہ میں اس کا انتظار کیا جائے گا، جب دونوں ہمسایوں کے آنے جانے کا راستہ ایک ہو ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone becomes insolvent and the man (i.e. creditor) finds his very property with him, he is more entitled to it than anyone else.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے مالک سے, ہم سے نفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر المعنی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، انہوں نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے، وہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مفلس ہو جائے، پھر کوئی آدمی اپنا مال اس کے پاس ہو بہو پائے تو وہ ( دوسرے قرض خواہوں کے مقابل میں ) اسے واپس لے لینے کا زیادہ مستحق ہے ۔
Narrated Abu Bakr bin Abdur Rahman bin al-Harith ibn Hisham:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If a man sells (his) property and the man who buys it becomes insolvent, and the seller does not receive the price of the property he had sold, but finds his very property with him (i.e. the buyer), he is more entitled to it (than others). If the buyer dies, then the owner of the property is equal to the creditors.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنا سامان بیچا اور خریدار مفلس ہو گیا، اور بیچنے والے نے اپنے مال کی کوئی قیمت نہ پائی ہو، اور اس کا سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو تو وہ اپنا سامان واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر خریدار مر گیا ہو تو سامان والا دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Bakr bin Adb al-Rahman bin al-Harith bin Hisham from Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators to the same effect as narrated by Malik. This version adds:
If he paid something from the price (of the property), then he will be equal to the creditors in it.
یونس، ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ۔ ۔ پھر آگے انہوں نے مالک کی حدیث جیسی روایت ذکر کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ
اگر مشتری اس مال کی کسی قدر قیمت دے چکا ہے، تو وہ مال والا دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا۔
A similar tradition (to the No. 3513) has been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version has:
If he paid something from its price, then he will be equal to the creditors in the remaining price. If a man dies and he has the very property of a man (i.e. seller), he is equal to the creditors whether he (the buyer) pays him (the price) or not. Abu Dawud said: Malik's version of this tradition is sounder.
ہم سے محمد بن عوف الطائی نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن عبدالجبار نے، یعنی الخبائری نے، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابن عیاش نے، الزبیدی کی سند سے بیان کیا, ابو داؤد جو کہ محمد بن الولید ابو الحذئل الحمصی ہیں، نے الزہری کی سند سے کہا,ابوبکر بن عبدالرحمٰن کی روایت سے,اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے,اس میں ہے
اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہو گا، اور جو شخص مر گیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کی روایت ( بہ نسبت زبیدی کی روایت کے ) زیادہ صحیح ہے۔
Umar bin Khaldah said:
We came to Abu Hurairah رضی اللہ عنہ who had become insolvent. He said: I shall decide between you on the basis of the decision of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: If anyone becomes insolvent or dies and the man (the seller) finds his very property with him, he is more entitled to it (than others).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا - وہ الطیالسی ہیں - ہم سے ابن ابی ذہب نے ابو المتمیر کی سند سے بیان کیا, عمر بن خلدہ کہتے ہیں
ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو مفلس ہو گیا، یا مر گیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے ۔
Narrated Amir ash-Shabi:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone finds an animal whose owners were helpless to provide fodder to it and so they turned it out (of their house), and he took it and looked after it, it will belong to him. Abu Dawud said: This is the tradition of Hammad. It is more plain and perfect.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا, اور ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن الحمیری نے شعبی کی سند سے اور انہوں نے کہا: ابان کی سند سے, عامر شعبی کا بیان ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کر دیا ہو، وہ اسے ( کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے ) تندرست کر لے تو وہ جانور اسی کا ہو جائے گا ۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے ( ایک نہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔
Narrated ash-Shabi:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone leaves an animal at a place of perishing and another man brings it to life, it belongs to him who brings it to life.
ہم سے محمد بن عبید نے حماد کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن زید نے خالد الحذا کی سند سے، عبید اللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن کی سند سے, شعبی سے روایت ہے، وہ اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا: جو شخص کوئی جانور مر کھپ جانے کے لیے چھوڑ دے اور اسے کوئی دوسرا شخص ( کھلا پلا کر ) تندرست کر لے، تو وہ اسی کا ہو گا جس نے اسے ( کھلا پلا کر ) صحت مند بنایا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The milk of milch camels may be drunk for payment when in pledge, and the animal may be ridden for payment when it is pledge; payment being made by the one who rides and the one who drinks. Abu Dawud said: In our opinion this is correct.
ہم سے ہناد نے ابن المبارک کی سند سے، زکریا کی سند سے، الشعبی کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہوا ہو تو اسے کھلانے پلانے کے بقدر دوہا جائے گا، اور سواری والا جانور رہن رکھا ہوا ہو تو کھلانے پلانے کے بقدر اس پر سواری کی جائے گی، اور جو سواری کرے اور دوہے اس پر اسے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے۔
Narrated Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There are people from the servants of Allah who are neither prophets nor martyrs; the prophets and martyrs will envy them on the Day of Resurrection for their rank from Allah, the Most High. They (the people) asked: Tell us, Messenger of Allah, who are they? He replied: They are people who love one another for the spirit of Allah (i.e. the Quran), without having any mutual kinship and giving property to one. I swear by Allah, their faces will glow and they will be (sitting) in (pulpits of) light. They will have no fear (on the Day) when the people will have fear, and they will not grieve when the people will grieve. He then recited the following Quranic verse: Behold! Verily for the friends of Allah there is no fear, nor shall they grieve.
ہم سے زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے عمیرہ بن قعقاع سے اور ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کی سند سے بیان کیا,عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیاء و شہداء تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انہیں ملے گا اس پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہو گا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہو گا لیکن وہ اللہ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے ( مجسم ) نور ہوں گے، وہ خود پرنور ہوں گے انہیں کوئی ڈر نہ ہو گا جب کہ لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں کوئی رنج و غم نہ ہو گا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون» یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ( سورۃ یونس: ۶۲ ) ۔
Narrated Umarah bin Umayr from his Paternal Aunt:
She Aishah رضی اللہ عنہا : I have an orphan in my guardianship. May I enjoy from his property? She said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The pleasantest things a man enjoys come from what he earns, and his child comes from what he earns.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے, عمارہ بن عمیر کی پھوپھی سے روایت ہے کہ
انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: میری گود میں ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے مال میں سے کچھ کھا سکتی ہوں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: آدمی کی پاکیزہ خوراک اس کی اپنی کمائی کی ہے، اور اس کا بیٹا بھی اس کی کمائی ہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم Said: The children of a man come from what he earns, rather they are his pleasantest earning; so enjoy from their property. Abu Dawud said: Hammad bin Abi Sulaiman added in his version: When you need. But this (addition) is munkar (not authoritative).
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ اور عثمان بن ابی شیبہ المعنا نے بیان کیا: ہم سے محمد بن جعفر نے شعبہ کی سند سے، الحکم کی سند سے، عمارہ بن عمیر کی سند سے، وہ اپنی والدہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے بلکہ بہترین کمائی ہے، تو ان کے مال میں سے کھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ جب تم اس کے حاجت مند ہو ( تو بقدر ضرورت لے لو ) لیکن یہ زیادتی منکر ہے۔
It was narrated from 'Amir bin Shuaib, from his father, from his grandfather:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: 'O Messenger of Allah, I have property and children, and my father finishes my property. He replied; You and your property belong to your father; your children come from the pleasantest of what you earn; so enjoy from the earning of your children.
ہم سے محمد بن المنہال نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے حبیب المعلم نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے اپنے والد سے,وہ اپنے دادا سے کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے ( یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے ) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ ۔
Narrated Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone finds his very property with a man, he is more entitled to it (than anyone else), and the buyer should pursue the one who sold it.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن السائب نے، قتادہ کی سند سے، وہ حسن رضی اللہ عنہ سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اس کے ہاتھ بیچا ہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
Hind رضی اللہ عنہا , the mother of Muawiyah رضی اللہ عنہ, came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Abu Sufyan is a stingy person. He does not give me as much (money) as suffices me and my children. Is there any harm to me if I take something from his property ? He said: Take as much as suffices you and your children according to the custom.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہند رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ( اپنے شوہر کے متعلق ) کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہیں مجھے خرچ کے لیے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بیٹوں کے لیے کافی ہو، تو کیا ان کے مال میں سے میرے کچھ لے لینے میں کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عام دستور کے مطابق بس اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بیٹوں کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
Hind رضی اللہ عنہا came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah, Abu Sufyan is a stingy person. Is there any harm to me if I spend on his dependants from his property without his permission ? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم replied: There is no harm to you if you spend according to the custom.
ہم سے خشیش بن اصرم نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے , ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں، اگر ان کے مال میں سے ان سے اجازت لیے بغیر ان کی اولاد کے کھانے پینے پر کچھ خرچ کر دوں تو کیا میرے لیے کوئی حرج ( نقصان و گناہ ) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معروف ( عام دستور ) کے مطابق خرچ کرنے میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ۔
Narrated Yusuf bin Malik al-Makki:
I used to write (the account of) the expenditure incurred on orphans who were under the guardianship of so-and-so. They cheated him by one thousand dirhams and he paid these (this amount) to them. I then got double the property which they deserved. I said (to the man: Take one thousand (dirhams) which they have taken from you (by cheating). He said: No, my father has told me that he heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Pay the deposit to him who deposited it with you, and do not betray him who betrays you.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، کہا کہ ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید نے بیان کیا، یعنی الطویل, یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں
میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے ( بڑے ہونے پر ) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے ( میں نے حساب کیا تو ) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا ( جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا ) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ دے کر آپ سے اینٹھ لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں ( میں واپس نہ لوں گا ) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Pay the deposit to him who deposited it with you, and do not betray him who betrayed you.
ہم سے محمد بن العلاء اور احمد بن ابراہیم نے بیان کیا: ہم سے طلق بن غنام نے شریک کی سند سے بیان کیا, ابن العلا اور قیس نے کہا: ہم سے ابوحصین نے ابو صالح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسے امانت ( جب وہ مانگے ) لوٹا دو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت ( دھوکے بازی ) کی ہو تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔