Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to accept a gift and make return for it.
ہم سے علی بن بحر اور عبد الرحیم بن مطرف الروسی نے بیان کیا: عیسیٰ نے جو یونس بن ابی اسحاق السبیعی کے بیٹے ہیں، ہم سے ہشام بن عروہ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: I swear by Allah, I shall not accept gift from anyone after this day except from an immigrant Qarashi, an Ansari a Dawsi or a Thaqafi.
ہم سے محمد بن عمرو رازی نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ یعنی ابن الفضل نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبوری نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: One who seeks to take back a gift like the one who returns to it vomit. Hammam said: And Qatadah said: We regard vomiting as unlawful.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لینے والا قے کر کے اسے پیٹ میں واپس لوٹا لینے والے کے مانند ہے ۔ ہمام کہتے ہیں: اور قتادہ نے ( یہ بھی ) کہا: ہم قے کو حرام ہی سمجھتے ہیں ( تو گویا ہدیہ دے کر واپس لے لینا بھی حرام ہی ہوا ) ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: It is not lawful for a man to make a donation or give a gift and then take it back, except a father regarding what he gives his child. One who gives a gift and then takes it back is like a dog which eats and vomits when it is full, then returns to its vomit.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید نے بیان کیا، یعنی ابن زریع نے، ہم سے حسین المعلم نے، عمرو بن شعیب کی سند سے، طاؤس کی سند سے,عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر ( یا ہبہ کر کے ) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے ۔
Narrated Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The similitude of the one who takes back what he gifted is like that of a dog which vomits and then it eats vomit. When a donor seeks to take back (his gift), it should be made known and he informed why he sought to take it back. Then whatever he donated should be returned to him.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اسامہ بن زید نے بیان کیا کہ ان سے عمرو بن شعیب نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے، ( اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو ) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے ۔
Narrated Abu Umamah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone intercedes for his brother and he presents a gift to him for it and he accepts it, he approaches a great door of the doors of usury.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے عمر بن مالک سے، عبید اللہ بن ابی جعفر سے، خالد بن ابی عمران کی سند سے، انہوں نے القاسم کی سند سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے کسی بھائی کی کوئی سفارش کی اور کی اس نے اس سفارش کے بدلے میں سفارش کرنے والے کو کوئی چیز ہدیہ میں دی اور اس نے اسے قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا ۱؎ ۔
Narrated Al-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہما :
My father gave me a gift. The narrator Ismail bin Salim said: (He gave me) his slave as a gift. My mother Umrah daughter of Rawahah رضی اللہ عنہا said: Go to the Messenger of Allah and call him as witness. He then came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and mentioned it to him. He said him: I have given my son al-Numan a gift, and Umrah has asked me to call you as witness to it. He asked him: Have you children other than him? He said: I replied: Yes. He again asked: Have you given the rest of them the same as you have given al-Numan ? He said: No. Some of these narrators said in their version (that the Prophet said: ) This in injustice. The others said in their version (that the Prophet said: ) This is under force. So call some other person than me as witness to it. Mughirah said in his version: (The Prophet asked): Are you not pleased with the fact that all of them may be equal in virtue and grace ? He replied: Yes. He said: Then call some other person than me as witness to it. Mujahid mentioned in his version: They have right to you that you should do justice to them, as you have right to them that they should do good to you. Abu Dawud said: In the version of al-Zuhri some (narrators) said: (Have you given) to all your sons ? and some (narrators) said: Your children. Ibn Abi Khalid narrated from al-Shabi in his version: Have your sons other than him ? Abu al-Duha narrated on the authority of al-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہ : Have you children other than him ?
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے سیار نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے داؤد نے بیان کیا، شعبی کی سند سے، ہم سے مجلد نے بیان کیا اور ہم سے اسماعیل بن سلیم نے شعبی کی سند سے بیان کیا, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرے والد نے مجھے کوئی چیز ( بطور عطیہ ) دی، ( اسماعیل بن سالم کی روایت میں ہے کہ انہیں اپنا ایک غلام بطور عطیہ دیا ) اس پر میری والدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے ( اور میرے بیٹے کو جو دیا ہے اس پر ) آپ کو گواہ بنا لیجئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( آپ کو گواہ بنانے کے لیے ) حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور ( میری بیوی ) عمرہ نے کہا ہے کہ میں آپ کو اس بات کا گواہ بنا لوں ( اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ہوں ) آپ نے ان سے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے اور کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سب کو اسی جیسی چیز دی ہے جو نعمان کو دی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ظلم ہے اور بعض کی روایت میں ہے: یہ جانب داری ہے، جاؤ تم میرے سوا کسی اور کو اس کا گواہ بنا لو ( میں ایسے کاموں کی شہادت نہیں دیتا ) ۔ مغیرہ کی روایت میں ہے: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ تمہارے سارے لڑکے تمہارے ساتھ بھلائی اور لطف و عنایت کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں ( مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو ( مجھے یہ امتیاز اور ناانصافی پسند نہیں ) ۔ اور مجالد نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے: ان ( بیٹوں ) کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان سب کے درمیان عدل و انصاف کرو جیسا کہ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی روایت میں بعض نے: «أكل بنيك» کے الفاظ روایت کئے ہیں اور بعض نے «بنيك» کے بجائے «ولدك» کہا ہے، اور ابن ابی خالد نے شعبی کے واسطہ سے «ألك بنون سواه» اور ابوالضحٰی نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے «ألك ولد غيره» روایت کی ہے۔
Narrated Al-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہما :
His father had given him a slave. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: What is this slave ? He replied: This is my slave which my father has given me. He asked: Has he given all your brothers the same as he has given you? He replied: No. He then said: Return it, then.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیسا غلام ہے؟ انہوں نے کہا: میرا غلام ہے، اسے مجھے میرے والد نے دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: جیسے تمہیں دیا ہے کیا تمہارے سب بھائیوں کو دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے لوٹا دو ۔
Narrated An-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Act equally between your children; Act equally between your sons.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ان سے حاجی بن المفضل بن المحلب نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کے درمیان انصاف کیا کرو، اپنے بیٹوں کے حقوق کی ادائیگی میں برابری کا خیال رکھا کرو ( کسی کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی نہ ہو ) ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
Bashir's رضی اللہ عنہ wife said (to her husband): Give my son your slave, and call the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as witness for me. So he came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: The daughter of so-and-so has asked me to give her son my slave and said to me: Call the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as witness for her. He asked: Has he brothers? He replied: Yes. He again asked: Has he given them all the same as you have given him? He replied: No. He said: This is not good, and I will be a witness to what it right.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ( بشیر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: اپنا غلام میرے بیٹے کو دے دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر میرے لیے گواہ بنا دیں، تو بشیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: فلاں کی بیٹی ( یعنی میری بیوی ) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو غلام ہبہ کروں ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اور بھی بھائی ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سب کو بھی تم نے ایسے ہی دیا ہے جیسے اسے دیا ہے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ درست نہیں، اور میں تو صرف حق بات ہی کی گواہی دے سکتا ہوں ( اس لیے اس ناحق بات کے لیے گواہ نہ بنوں گا )۔
Narrated Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is not permissible for a woman to present a gift from the property which she has in her possession when her husband owns her chastity.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، وہ داؤد بن ابی ہند اور حبیب المعلم نے، وہ عمرو بن شعیب کی سند سے، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے نکاح میں رہتے ہوئے جو اس کی عصمت کا مالک ہے اپنا مال اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے ۔
Narrated Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: It is not permissible for a woman to present a gift (from her husband's property) except with the permission of her husband.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، یعنی ابن حارث نے، کہا ہم سے حسین نے بیان کیا، عمرو بن شعیب سے کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی ,عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز نہیں ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Life tenancy is permissible.
ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے، وہ نضر بن انس کی سند سے، وہ بشیر بن نہیک کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر بھر کے لے عطیہ دینا جائز ہے ۔
A similar tradition has also been transmitted by Samurah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators.
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے، حسن کی سند سے, سمرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم has saying: What is given in life-tenancy belongs to the one to whom it was given.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: زندگی بھر کے لیے دی ہوئی چیز کا وہی مالک ہے جس کو چیز دے دی گئی ہے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone is given life-tenancy, it belongs to him and to his descendants. His descendants who inherit him will inherit from it.
ہم سے مومل بن الفضل حرانی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن شعیب نے بیان کیا، انہیں اوزاعی نے زہری کی سند سے عروہ کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کی ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کی ہو گی ، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے ۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Jabir from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by al-Laith bin Saad from al-Zuhri, from Abu Salamah from Jabir رضی اللہ عنہ .
ہم سے احمد بن ابی الحواری نے بیان کیا، ہم سے الولید نے، اوزاعی کی سند سے، زہری کی سند سے، ابو سلمہ اور عروہ کی سند سے, اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد نے زہری سے زہری نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone has property given him in life-tenancy for the use of himself and his descendants, it belongs to the one to whom it is given and does not return to the one who gave it, because he gave a gift which may be inherited.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے مالک، یعنی ابن انس نے، ہم سے ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے ابو سلمہ کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دی گئی اور اس کے بعد اس کے آنے والوں کے لیے بھی کہہ دی گئی ہو تو وہ عمریٰ اس کے اور اس کی اولاد کے لیے ہے، جس نے دیا ہے اسے واپس نہ ہو گی، اس لیے کہ دینے والے نے اس انداز سے دیا ہے جس میں وراثت شروع ہو گئی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Shihab (Al-Zuhri) through a different chain of narrators and to the same effect. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Aqil from Ibn Shihab and by Yazid bin Abi Habib from Shihab. Al-Auzai's wordings vary from those of Ibn Shihab. Fulaih bin Sulaiman also narrated the tradition like that of Malik.
ہم سے حجاج بن ابی یعقوب نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے صالح کی سند سے بیان کیا,ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے, ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے عقیل اور یزید ابن حبیب نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے، اور اوزاعی پر اختلاف کیا گیا ہے کہ کبھی انہوں نے ابن شہاب سے «ولعقبه» کے الفاظ کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں اور اسے فلیح بن سلیمان نے بھی مالک کی حدیث کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The life-tenancy which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم allowed was only that one should say: It is for you and your descendants. When he says: It is yours as long as you live, it returns to its owner.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ ابو سلمہ سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
جس عمریٰ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے وہ ہے کہ دینے والا کہے کہ یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی ہے ( تو اس میں وراثت جاری ہو گی اور دینے والے کی ملکیت ختم ہو جائے گی ) لیکن اگر دینے والا کہے کہ یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو ( تو اس سے استفادہ کرو ) تو وہ چیز ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کے دینے والے کو لوٹا دی جائے گی۔