Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not give property to go to the survivor and do not give life-tenancy. If anyone is given something to the survivor or given life-tenancy, it goes to his heirs.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابن جریج نے عطاء کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے اس کا اور اس کے وارثوں کا ہو جائے گا ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم decided a case of a woman from the Ansar to whom an orchard of date-palms was given by her son. She then died. Her son said: I gave it to her for her life, and she has brothers. Thereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: It belongs to her during her life and after death. He then said: I gave a sadaqah (charity to her. He replied: It is more unexpected from you.)
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ حبیب کی سند سے، یعنی ابن ابی ثابت نے، حمید العراج کی سند سے، طارق المکی کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے ( جو اپنا حق مانگ رہے تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو یہ ( واپسی ) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے ( کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے ) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Life-tenancy is lawful for the one to whom it is given and donation of property to go to the survivor is lawful to whom it is given.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے داؤد نے بیان کیا، ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے، اور رقبیٰ ( بھی ) اسی کے اہل کا حق ہے ۔
Narrated Zayd bin Thabit رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone gives something in life-tenancy, it belongs to the one to whom it is given, in his life and after his death; and do not give property to go to the survivor, for if anyone gives something to to to the survivor, it belongs to him.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا کہ میں نے معقل سے عمرو بن دینار سے، طاؤس کی سند سے، حجر کی سند سے, زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ۔ اور فرمایا: رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی ( یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی ) ۔
Mujahid said:
Umra means that a man says to another man: It belongs to you so long as you live. When he says that, it belongs to him and to his heirs. Ruqba means that a man says to another: From me and from you.
ہم سے عبداللہ بن جراح نے عبید اللہ بن موسیٰ کی سند سے، عثمان بن اسود سے، مجاہد کی سند سے، انہوں نے کہا
عمری یہ ہے جب کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہو گئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی، اور رقبی یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہو گی ۔
Narrated Samurah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The hand which takes is responsible till it pays. Then al-Hasan forgot and said: (If you give something on loan to a man), he is your depositor; there is no compensation (for it) on him.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی عروبہ نے، قتادہ کی سند سے، وہ حسن رضی اللہ عنہ سے, سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے ( اگر وہ چیز خود سے ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان ( معاوضہ و بدلہ ) نہ ہو گا۔
Narrated Safwan bin Umayyah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم borrowed coats of mail from him on the day of (the battle of) Hunayn. He asked: Are you taking them by force. Muhammad? He replied: No, it is a loan with a guarantee of their return. Abu Dawud said: This tradition narrated by Yazid (bin Harun) at Baghdad. There is some change in the tradition narrated by him at Wasit, which is something different.
ہم سے حسن بن محمد اور سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شارق نے، عبد العزیز بن رفیع کی سند سے، امیہ بن عمیر کی سند سے, صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے۔
I was reported Abdul Aziz ibn Rufay from some of the family of Abdullah bin Safwan reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Have you weapons, 'O Safwan? He asked: On loan or by force? He replied: No, but on loan. So he lent him coats of mail numbering between thirty and forty! The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fought the battle of Hunayn. When the polytheists were defeated, the coats of mail of Safwan رضی اللہ عنہ were collected. Some of them were lost. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to Safwan رضی اللہ عنہ : We have lost some coats of mail from your coats of mail. Should we pay compensation to you? He replied: No. Messenger of Allah, for I have in my heart today what I did not have that day. Abu Dawud said: He lent him before embracing Islam. Then he embraced Islam.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے، انہوں نے عبد العزیز بن رفیع کی سند سے، انہوں نےعبداللہ بن صفوان کے خاندان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! کیا تیرے پاس کچھ ہتھیار ہیں؟ انہوں نے کہا: عاریۃً چاہتے ہیں یا زبردستی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبردستی نہیں عاریۃً چنانچہ اس نے آپ کو بطور عاریۃً تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی، پھر جب مشرکین ہار گئے اور صفوان رضی اللہ عنہ کی زرہیں اکٹھا کی گئیں تو ان میں سے کچھ زرہیں کھو گئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوان! تمہاری زرہوں میں سے ہم نے کچھ زرہیں کھو دی ہیں، تو کیا ہم تمہیں ان کا تاوان دے دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! آج میرے دل میں جو بات ہے ( جو میں دیکھ رہا اور سوچ رہا ہوں ) وہ بات اس وقت نہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہیں عاریۃً دی تھیں پھر اسلام لے آئے ( تو اسلام لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون تاوان لیتا؟ ) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ata from some people of the descendants of Safwan saying:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم borrowed. He then transmitted the rest of the tradition to the same effect.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحوا ص نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے عطاء کی سند سے اور صفوان کے خاندان کے کچھ لوگوں نے بیان کیا، انہوں نے کہا:اس سند سے بھی آل صفوان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زرہیں عاریۃً لیں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Abu Umamah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم Said: Allah, Most Exalted, has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no will be made to an heir, and a woman should not spend anything from her house except with the permission of her husband. He was asked: Even foodgrain, Messenger of Allah? He replied: That is the best of our property. He then said: A loan must be paid back, a she-camel lent for a time for milking must be returned, a debt must be discharged, one who stands surety is held responsible.
ہم سے عبد الوہاب بن نجدہ الحوطی نے بیان کیا، ان سے ابن عیاش نے بیان کیا، ان سے شرحبیل بن مسلم نے کہا, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہم مردوں کا بہترین مال ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی ( اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی ) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور ( دودھ ختم ہو جانے کے بعد ) واپس کر دیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے ( یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا ) ۔
Narrated Yala bin Umayyah رضی اللہ عنہ that his father said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: When my messengers come to you, give them thirty coats of mail, and thirty camels. I asked: Messenger of Allah, is it a loan with a guarantee of its return, or a loan to be paid back? He replied: It is a loan to be paid back. Abu Dawood said: Hibban is Hilal Al-Rai's maternal uncle.
ہم سے ابراہیم بن المستمر العصفری نے بیان کیا، ہم سے حبان بن ہلال نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے، عطاء بن ابی رباح سے، صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہارے پاس میرے فرستادہ پہنچیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا میں نے کہا: کیا اس عاریت کے طور پر دوں جس کا ضمان لازم آتا ہے یا اس عاریت کے طور پر جو مالک کو واپس دلائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالک کو واپس دلائی جانے والی عاریت کے طور پر ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان ہلال الرائی کے ماموں ہیں۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was with one of his wives. One of the Mothers of faithful sent a bowl containing food through a servant of hers. She struck with her hand and broke the bowl. Ibn al-Muthanna's version has: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم took the pieces of the bowl, and joined one with the other, and began to collect the food in it, saying: Your mother is jealous. Ibn al-Muthanna added: Eat. They ate till a bowl of the one in whose house he was brought. Abu Dawud said: We then returned to the version of the tradition of Musaddad: He said: Eat. He detained the servant and the bowl till they were free. Then he returned the sound bowl to the messenger and detained the broken one (bowl) in his house.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا, ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے خالد نے حمید کی سند سے بیان کیا،انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس تھے، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا، تو اس بیوی نے ( جس کے گھر میں آپ تھے ) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا ( وہ دو ٹکڑے ہو گیا ) ، ابن مثنیٰ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے ( کہ آپ نے فرمایا: کھاؤ تو لوگ کھانے لگے، یہاں تک کہ جس گھر میں آپ موجود تھے اس گھر سے کھانے کا پیالہ آیا ( اب ہم پھر مسدد کی حدیث کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور خادم کو ( جو کھانا لے کر آیا تھا ) اور پیالے کو روکے رکھا، یہاں تک کہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح و سالم پیالہ قاصد کو پکڑا دیا ( کہ یہ لے کر جاؤ اور دے دو ) اور ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے اس گھر میں روک لیا ( جس میں آپ قیام فرما تھے ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
I saw no one cooking food like Safiyyah رضی اللہ عنہا . She cooked food for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and sent it. I became angry and broke the vessel. I then asked: Messenger of Allah, what is the atonement for what I have done? He replied: A vessel like (this) vessel and food like (this) food.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے فلیت العامری نے بیان کیا, جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا ( اچھا ) کھانا پکاتے کسی کو نہیں دیکھا، ایک دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکا کر آپ کے پاس بھیجا ( اس وقت آپ میرے یہاں تھے ) میں غصہ سے کانپنے لگی ( کہ آپ میرے یہاں ہوں اور کھانا کہیں اور سے پک کر آئے ) تو میں نے ( وہ ) برتن توڑ دیا ( جس میں کھانا آیا تھا ) ، پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے جو حرکت سرزد ہو گئی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کے بدلے ویسا ہی برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی دوسرا کھانا ہے ۔
Narrated Muhayyisah رضی اللہ عنہ :
The she-camel of Bara bin Azib رضی اللہ عنہما entered the garden of a man and did damage to it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave decision that the owners of properties are responsible for guarding them by day, and the owners of animals are responsible for guarding them by night.
ہم سے احمد بن محمد بن ثابت المروزی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، حرم بن محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے ۔
Narrated Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہما :
Al-Bara had a she-camel which was accustomed to graze the standing crop belonging to the people. She entered a garden and did damage to it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was informed about it. So he gave decision that the owners of gardens are responsible for guarding them by day, and the owners of the animals are responsible for guarding them by night. Any damage done by animals during the night is a responsibility lying on their owners.
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، ہم سے الفریابی نے بیان کیا، انہوں نے الاوزاعی کی سند سے، زہری کی سند سے، حرام بن محیصہ الانصاری کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
میرے پاس ایک ہرہٹ اونٹنی تھی، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کر دیا، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے ۔ ( اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا ) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا۔