Amr al-Amiri said:
I (once) attended the meeting of the companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. They began to discuss his prayer. Abu Humaid رضی اللہ عنہ then narrated a part of the same tradition and said: When he bowed he clutched his knees with his palms, and he opened his fingers; then he bent his back without raising his upwards, and did not turn his face (on any side). When he sat at the end of two rak’ahs he sat on the sole of his left foot and raised the right, and after the fourth he placed his left hip on the ground and spread out both his feet one side.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابن لحیعہ نے بیان کیا، وہ یزید کی سند سے، یعنی ابن ابی حبیب نے، محمد بن عمرو بن حلالہ کی سند سے، وہ محمد بن عمرو بن العامری کی سند سے
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مجلس میں تھا، ان لوگوں نے آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا ...، پھر راوی نے اسی حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا، اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر جماتے اور اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی رکھتے، پھر نہ اپنی پیٹھ کو خم کرتے، نہ سر کو اونچا کرتے، نہ منہ کو دائیں یا بائیں جانب موڑتے (بلکہ سیدھا قبلہ کی جانب رکھتے)، پھر جب دو رکعت کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور داہنا پاؤں کھڑا رکھتے، پھر جب آپ چوتھی رکعت میں ہوتے، تو اپنی بائیں سرین زمین پر لگاتے اور دونوں پاؤں ایک جانب (یعنی داہنی جانب) نکالتے ۔
The above mentioned tradition has also been reported by Muhammad bin Amr bin Ata through a different chain of narrators. This version adds:
“When he prostrated himself he neither placed his arms on the ground nor closed them; putting forward his fingers towards the qiblah. ”
ہم سے عیسیٰ بن ابراہیم المصری نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے لیث بن سعد کی سند سے، ان سے یزید بن محمد القرشی نے اور یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن حلحلہ کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے
جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے، نہ ہی انہیں بچھاتے اور نہ ہی انہیں سمیٹے رکھتے، اور اپنی انگلیوں کے کناروں سے قبلہ کا استقبال کرتے ۔
Abbas or Ayyash bin Sahl as-Saeedi said:
He was present in a meeting which was attended by his father who was one of the companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, Abu Hurairah, Abu Humaid al-Saeedi and Abu Usaid. He narrated the same tradition with a slight addition or deletion. He said: He then raised his head after bowing and uttered: ”Allah listens to him who praises Him, to Thee, our Lord, be the praise, ” and raised his hands. He then uttered: “Allah is most great”; then he prostrated himself and rested on his palms, knees, and the end of his toes while prostrating: then he uttered the Takbir (Allah is most great), and sat down on his hips and raised his other foot; then he uttered the takbir and prostrated himself; then he uttered takbir and stood up, but did not sit on his hips. He (the narrator) then narrated the rest of the tradition. He further said: Then he sat down at the end of two rak’ahs; when he was about to stand after two rak’ahs, he uttered the takbir; then he offered the last two rak’ahs of the prayer. The narrator did not mention about his sitting on the hips spreading out his feet.
ہم سے علی بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابو بدر نے بیان کیا، ہم سے زہیر ابو خیثمہ نے بیان کیا، ہم سے حسن بن حریر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن عبداللہ بن مالک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بنو مالک بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, عباس بن سہل ساعدی یا عیاش بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ
وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد بھی تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، مجلس میں ابوہریرہ، ابو حمید ساعدی، اور ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ روایت کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد» کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدے میں گئے اور سجدے کی حالت میں اپنی دونوں ہتھیلیوں، گھٹنوں اور اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصہ پر جمے رہے، پھر «الله اكبر» کہہ کر بیٹھے تو تورک کیا ( یعنی سرین پر بیٹھے ) اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله اكبر» کہا اور ( سجدہ سے اٹھ کر ) کھڑے ہو گئے، اور سرین پر نہیں بیٹھے ۔ پھر راوی عباس رضی اللہ عنہ نے ( آخر تک ) حدیث بیان کی اور کہا: پھر آپ دونوں رکعتوں کے بعد بیٹھے، یہاں تک کہ جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھنے کا قصد کیا تو «الله اكبر» کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے، پھر بعد والی دونوں رکعتیں ادا کیں۔ اور راوی ( عیسیٰ بن عبداللہ ) نے تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Abbas bin Sahl Said:
Abu Humaid, Abu Usaid, Sahl. B Saad and Muhammad bin Maslamah (once) got together and discussed how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to offer his prayer. Abu Humaid said: I am more informed than any of you regarding the prayer offered by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Then he mentioned a part of it, and said: He then bowed and placed his hands upon his knees as if he caught hold of them; and bent them, keeping (his arms) away from his sides. He them prostrated himself and placed his nose and forehead (on the ground); and kept his arms away from his side, and placed his palms (on the ground opposite his shoulders; he then raised his head that every bone returned to its proper place; (he then prostrated twice) until he finished this prostrations). Then he sat down and spread out his left foot, putting forward the front of his right foot towards the qiblah placing the palm of his right hand on his right knee, and the palm of his left hand on his left knee, and he pointed with his finger. Abu Dawud said: 'Utbah bin Abi Hakim reported this hadith from'Abdullah bin 'Eisa, from Al-Abbas bin Sahl and he did not mention the sitting on the buttocks (At-Tawarruk). And Al-Hassan bin Al-Hurr mention the sitting similar to the hadith of Fulaih and 'Utbah.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا، مجھ سے فلیح نے بیان کیا, عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ
ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، پھر انہوں نے اس کے بعض حصے کا ذکر کیا اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے پر رکھا گویا آپ ان کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح کیا اور انہیں اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر جمائی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں بغلوں سے جدا رکھا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل رکھیں، پھر اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی ( آپ نے ایسے ہی کیا ) یہاں تک کہ دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو گئے پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھا لیا اور داہنے پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کیں اور دائیں گھٹنے پر داہنی اور بائیں گھٹنے پر بائیں ہتھیلی رکھی اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عتبہ بن ابوحکیم نے عبداللہ بن عیسٰی سے انہوں نے عباس بن سہل سے روایت کیا ہے، اور اس میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے فلیح کی حدیث کی طرح ( بغیر تورک کے ) ذکر کیا ہے، اور حسن بن حر نے فلیح بن سلیمان اور عتبہ کی حدیث میں مذکور بیٹھک کی طرح ذکر کیا۔
Abu Humaid رضی اللہ عنہ reported to the same effect. He said:
When he (the Prophet) prostrated he kept his thighs wide and did not let his belly touch the thighs. Abu Dawud says that Ibn Mubarak narrated this hadith from Abbas bin Sahl, which he did not remember well. It is thought that he has mentioned ‘Isa bin Abdullah, Abbas bin Sahl and Abu Humaid al-Saeedi رضی اللہ عنہ .
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے بقیہ نے بیان کیا، مجھ سے عتبہ نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن عیسیٰ نے بیان کیا، وہ عباس بن سہل السعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں, اس طریق سے بھی ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں کے کسی حصہ پر اٹھائے بغیر اپنی دونوں رانوں کے درمیان کشادگی رکھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مبارک نے روایت کیا ہے، ابن مبارک سے فلیح نے بیان کیا ہے، فلیح کہتے ہیں: میں نے عباس بن سہل کو بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں رکھ سکا۔ ابن مبارک کہتے ہیں: فلیح نے مجھ سے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ فلیح نے عیسیٰ بن عبداللہ کا ذکر کیا کہ انہوں نے اسے عباس بن سہل سے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے یہی حدیث روایت کی۔
Abu Humaid رضی اللہ عنہ reported to the same effect. He said:
When he (the Prophet) prostrated he kept his thighs wide and did not let his belly touch the thighs. Abu Dawud says that Ibn Mubarak narrated this hadith from Abbas bin Sahl, which he did not remember well. It is thought that he has mentioned ‘Isa bin Abdullah, Abbas bin Sahl and Abu Humaid al-Saeedi رضی اللہ عنہ .
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے بقیہ نے بیان کیا، مجھ سے عتبہ نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن عیسیٰ نے بیان کیا، وہ عباس بن سہل السعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں, اس طریق سے بھی ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں کے کسی حصہ پر اٹھائے بغیر اپنی دونوں رانوں کے درمیان کشادگی رکھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مبارک نے روایت کیا ہے، ابن مبارک سے فلیح نے بیان کیا ہے، فلیح کہتے ہیں: میں نے عباس بن سہل کو بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں رکھ سکا۔ ابن مبارک کہتے ہیں: فلیح نے مجھ سے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ فلیح نے عیسیٰ بن عبداللہ کا ذکر کیا کہ انہوں نے اسے عباس بن سہل سے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے یہی حدیث روایت کی۔
Wail bin Hujr رضی اللہ عنہ reported in this tradition from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم :
When he prostrated, his knees touched the ground before his palms touched it; when he prostrated himself, he placed his forehead on the ground between his palms, and kept his armpits away from his sides. Hajjaj reported from Hammam and Shaqiq narrated a similar tradition to us from Asim bin Kulaib on the authority of his father from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. And another version narrated by one of them has-and I think in all probability that this version has been narrated by Muhammad bin Juhadah-when he got up (after prostration), he got up with his knees and gave his weight on his thighs.
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جحادہ نے عبدالجبار بن وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ کے دونوں گھٹنے آپ کی ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے تو اپنی پیشانی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا، اور اپنی دونوں بغلوں سے علیحدہ رکھا ۔ حجاج کہتے ہیں: ہمام نے کہا: مجھ سے شقیق نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا، عاصم نے اپنے والد کلیب سے، کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کی حدیث میں، اور غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یوں ہے: جب آپ سجدے سے اٹھے تو اپنے دونوں گھٹنوں پر اٹھے اور اپنی ران پر ٹیک لگایا ۔
Narrated Wail Ibn Hujr:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raising his thumbs in prayer up to the lobes of his ears.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے فطر کی سند سے، وہ عبدالجبار بن وائل سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنے دونوں انگوٹھے اپنے دونوں کانوں کی لو تک اٹھاتے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم uttered the takbir (Allah is most great) for prayer (in the beginning), he raised his hands opposite to his shoulders; and when he bowed, he did like that; and when he raised his head to prostrate, he did like that; and when he got up at the end of two rak'ahs, he did like that.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سجدے میں جانے کے لیے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب دو رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو بھی اسی طرح کرتے۔
Narrated Nadr ibn Kathir as-Saadi said:
Abdullah Ibn Tawus prayed at my side in the mosque of al-Khayf. When he made the first prostration, he raised his head after it and raised his hands opposite to his face. This came as something strange for me. I, therefore, said it to Wuhayb ibn Khalid. Then Wuhayb ibn Khalid said to him: You are doing a thing that I did not see anyone do. Ibn Tawus then replied: I saw my father doing it, and my father said: I saw Ibn Abbas رضی اللہ عنہما doing it. I do not know but he said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to do it.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور محمد بن ابان المعنی نے بیان کیا, نضر بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ
عبداللہ بن طاؤس نے مسجد خیف میں میرے بغل میں نماز پڑھی، جب آپ نے پہلا سجدہ کیا، اور اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالمقابل انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو مجھے یہ عجیب سا لگا، چنانچہ میں نے وہیب بن خالد سے اس کا تذکرہ کیا تو وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے کہا: آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ ! تو عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا، اور ان کے متعلق بھی مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔
Nafi said on the authority of Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
When he began prayer, he uttered the takbir ( Allah is most great) and raised his hands; and when he bowed ( he raised his hands); and when he said: “Allah listens to him who praises Him, ” (he raised his hands); and when he stood up at the end of two rak’ahs, he raised his hands. He (Ibn Umar رضی اللہ عنہما ) traced that back to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Abu Dawud said: What is correct is that the tradition reported by Ibn Umar رضی اللہ عنہما does not go back to the Prophet (may peace beupon him). Abu Dawud said: The narrator Baqiyyah reported the first part of this tradition from Ubaid Allah and traced it back to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم; and the narrator al-Thaqafi reported it from Ubaid Allah as a statement of Ibn Umar himself (not from the Porphet). In this version he said: When he stood at the end of two rak’ahs he raised them up to his breasts. And this is the correct version. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted as a statement of Ibn Umar رضی اللہ عنہما (and not of the Prophet) by al-Laith bin Saad, Malik, Ayyub, and Ibn Juraij; and this has been narrated as a statement of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم by Hammad bin Salamah alone on the authority of Ayyub. Ayyub and Malik did not mention his raising of hands when he stood after two prostrations, but al-Laith mentioned it in his version. Ibn Juraij said in this version: I asked Nafi: Did Ibn Umar رضی اللہ عنہما raise (his hands) higher for the first time? He said: No, I said: Point out to me. He then pointed to the breasts or lower than that.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، نافع سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ جب نماز میں داخل ہوتے تو «الله اكبر» کہتے، اور جب رکوع کرتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب دونوں رکعتوں سے اٹھتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے، اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہی ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع نہیں ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اس حدیث کا ابتدائی حصہ عبیداللہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور ثقفی نے بھی اسے عبیداللہ سے روایت کیا ہے مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ٹھہرایا ہے، اس میں یوں ہے: جب آپ دونوں رکعت پوری کر کے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ دونوں چھاتیوں تک اٹھاتے ، اور یہی صحیح ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، مالک، ایوب اور ابن جریج نے موقوفاً روایت کیا ہے، صرف حماد بن سلمہ نے اسے ایوب کے واسطے سے مرفوعاً روایت کیا ہے، ایوب اور مالک نے اپنی روایت میں دونوں سجدوں سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے، البتہ لیث نے اپنی روایت میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن جریج نے اپنی روایت میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نے نافع سے پوچھا: کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلی بار میں ہاتھ زیادہ اونچا اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہر مرتبہ برابر اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: اشارہ کر کے مجھے بتاؤ تو انہوں نے دونوں چھاتیوں تک یا اس سے بھی نیچے تک اشارہ کیا۔
Nafi said:
When Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما began his prayer, he raised his hands opposite to his shoulders; and when he raised his head after bowing, he raised them lower than that. Abu Dawud said: So as far as I know, no one narrated the words “he raised them lower that that.” Abu Dawood said: As for as I know, no one mention that he would raise them to a lower level except Malik.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا, نافع کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے «رفعهما دون ذلك» ( انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood at the end of two rak’ahs, he uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے، تو«الله اكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood for offering the obligatory prayer, he uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands opposite to his shoulders; and he did like that when he finished recitation (of the Quran) and was about to bow; and he did like that when he rose after bowing; and he did not raise his hands in his prayer while he was in his sitting position. When he stood up from his prostrations (at the end of two rak'ahs), he raised his hands likewise and uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands so as to bring them up to his shoulders, as he uttered the takbir in the beginning of the prayer. Abu Dawood said: and it is also reported in the Hadith of Humaid As-sa'idi when he described the prayer of the prophet ﷺ that when he (ﷺ) stood up after two Rak'ahs he would say the takbir, and raise his hands until they reached the level of his shoulders just as he had done at the Takbir at the beginning of the prayer.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن داؤد الہاشمی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن الفضل بن ربیعہ نے عبد اللہ بن ثعلب بن ثعلبہ کی سند سے, الرحمٰن بن العراج، عبید اللہ بن ابی رافع کی روایت سے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر ( تیسری ) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور «الله اكبر» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت «الله اكبر» کہتے وقت کرتے تھے ۔
Malik bin al-Huwairith رضی اللہ عنہ said:
I saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم raise his hands when he uttered the takbir (Allah is most great), when he bowed and when he raised his head after bowing until he brought them to the lobes of his ears.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، قتادہ نے نصر بن عاصم کی سند سے, مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے جب آپ تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
If I were in front of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, I would see his armpits. Ibn Muadh added that Lahiq said: Do you not see, Abu Hurairah رضی اللہ عنہ could not stand in front of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم while he was praying. Musa added: When he uttered the takbir, he raised his hands.
ہم سے ابن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا اور ہم سے موسیٰ بن مروان نے بیان کیا، ہم سے شعیب نے بیان کیا، یعنی ابن اسحاق المعنیٰ نے عمران کی سند سے، لحق کی سند سے, بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوتا تو ( رفع یدین کرتے وقت ) آپ کی بغل دیکھ لیتا۔ عبیداللہ بن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لاحق ( ابومجلز ) کہتے ہیں: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ نماز میں تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہیں ہو سکتے تھے، ابوداؤد کے شیخ موسیٰ بن مروان رقی نے یہ اضافہ کیا یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم taught us how to pray. He then uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands; when he bowed, he joined his hands and placed them between his knees. When this (report) reached Saad رضی اللہ عنہ, he said: My brother said truly. We used to do this; then we were later on commanded to do this, that is, to place the hands on the knees.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے عاصم بن کلیب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن اسود نے، علقمہ کی سند سے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔
Narrated Abdullah Ibn Masud: Alqamah said:
Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ said: Should I pray in the way the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had performed it? He said: He prayed, raising his hands only once. Abu Dawood said: This is a summarized version of a longer narrations, and it is not authentic with this wording.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، عاصم کی سند سے، یعنی ابن کلیب نے، عبدالرحمٰن بن اسود کی سند سے, علقمہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ علقمہ کہتے ہیں: پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، تو رفع یدین صرف ایک بار ( نماز شروع کرتے وقت ) کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک طویل حدیث سے ماخوذ ایک مختصر ٹکڑا ہے، اور یہ حدیث اس لفظ کے ساتھ صحیح نہیں۔
Narrated Al-Bara' Ibn Azib رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah (ﷺ) began prayer, he raised his hands up to his ears, then he did not repeat.
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے شارق نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی زیاد نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے قریب تک اٹھاتے تھے پھر دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔
(This is another chain) that sufyan narrated from Yazid similar similar to the narration of shark (no. 749), but he did not say: then he would not repeat (that). "...then he would not repeat (that). '" Abu Dawood said: Hushaim, Khalid, and Ibn Idris reported this hadith from Yazid, and they did not mention: then he would not repeat (that).
ہم سے عبداللہ بن محمد الزہری نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، یزید کی سند سے شرک کی حدیث کے مشابہ ہے۔ اس نے یہ نہیں کہا، "پھر وہ واپس نہیں آئے گا۔" سفیان نے کہا کہ اس کے بعد اس نے کوفہ میں ہم سے کہا پھر واپس نہیں آئے گا۔ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام، خالد اور ابن ادریس نے یزید کی سند سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے "پھر وہ واپس نہیں آتا" کا ذکر نہیں کیا۔