Sufyan bin Uyainah said:
I saw Sharik who led us in the Asr prayer during a funeral ceremony. He placed his cap in front of him, that is, for saying the obligatory prayer the time of which had come.
ہم سے عبداللہ بن محمد الزہری نے بیان کیا, سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ
میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی ( بطور سترہ ) اپنے سامنے رکھ لی۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to pray facing his camel.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ، وہب بن بقیہ، ابن ابی خلف اور عبداللہ بن سعید نے بیان کیا, عثمان نے کہا, ہم سے ابو خالد نے بیان کیا,ہم سے عبیداللہ نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کو قبلہ کی طرف کر کے اس کی آڑ میں نماز پڑھتے تھے۔
Narrated Al-Miqdad Ibn al-Aswad رضی اللہ عنہ :
I never saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم praying in front of a stick, a pillar, or a tree, without having it opposite his right or left eyebrow, and not facing it directly.
ہم سے محمود بن خالد الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، ہم سے ابو عبیدہ الولید بن کامل نے بیان کیا، ان سے المحلب بن حجر البحرانی نے ضباعہ بنت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا، تو آپ اسے اپنے داہنے ابرو یا بائیں ابرو کے مقابل کئے ہوتے، اسے اپنی دونوں آنکھوں کے بیچوں بیچ میں نہیں رکھتے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not pray behind a sleeping or a talking person.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن محمد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن یعقوب بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے بیان کرنے والے نے محمد بن کعب القرظی کے واسطہ سے، انہوں نے کہا: میں نے عبد العزیز رضی اللہ عنہ سے کہا، میں نے ان سے کہا:عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے ۔
Narrated Sahl Ibn Abu Hathmah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you prays facing a sutrah he should keep close to it, and not let the devil interrupt his prayer. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Waqid bin Muhammad from Safwan from Muhammad bin Sahl on the authority of his father, or on the authority of Muhammad bin Sahl from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Some have narrated it from Nafi bin Jubair on the authority of Sahl bin Saad رضی اللہ عنہ . There is a variation in the chain of its narrators.
ہم سے محمد بن الصباح بن سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا اور ہم سے عثمان بن ابی شیبہ، حمید بن یحییٰ اور ابن سرح نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے صفوان بن سلیم سے اور نافع بن جبیر کی سند سے بیان کیا, سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے واقد بن محمد نے صفوان سے، صفوان نے محمد بن سہل سے، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے، یا ( بغیر اپنے والد کے واسطہ کے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
Sahl رضی اللہ عنہ said:
The distance between the place where the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stood and the qiblah (i.e. the sutrah or the wall of the mosque) was as much as to allow a goat to pass. Abu Dawood said: This is the version of An-Nufaili.
ہم سے قنبی اور النفیلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا: مجھے میرے والد نے خبر دی، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ ( کی دیوار ) کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ نفیلی کے ہیں۔
Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you prays, he should not let anyone pass in front of him; he should turn him away as far as possible; but if he refuses (to go), he should fight him, for he is only a devil.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، زید بن اسلم کی سند سے، عبدالرحمٰن بن عبداللہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے قتال کرے ( یعنی سختی سے روکے ) کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you prays, he should pray facing the sutrah (screen or covering) and he should keep himself close to it. He then narrated the tradition to the same effect.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد نے بیان کیا، انہوں نے ابن عجلان سے، زید بن اسلم کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو کسی سترے کی طرف منہ کر کے پڑھے، اور اس سے قریب رہے ۔ پھر ابن عجلان نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Abu Ubaid said:
I saw Ata bin Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it.
ہم سے احمد بن ابی سریج الرازی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو احمد الزبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے مسرہ بن معبد لخمی نے بیان کیا، میں ان سے کوفہ میں ملا، انہوں نے کہا: انہوں نے مجھ سے بیان کیا, سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ
میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
Abu Salih said:
I narrate what I witnesses from Abu Saeed رضی اللہ عنہ and heard from him. Abu Saeed رضی اللہ عنہ entered upon Marwan and said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: When one of you prays facing any object which conceals him from people, and someone wishes to pass in front of him, he should strike him at his chest; if he refuses (to go), he should fight him; he is only a devil. Abu Dawud said: Sufyan Ath-Thawri said: A person arrogantly walks in front of me while I am praying, so I stop him, and a weak person passes, so I dont stop him.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابن المغیرہ نے بیان کیا، ہم سے حمید نے بیان کیا، یعنی ابن ہلال نے کہا, ابوصالح کہتے ہیں
میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا، وہ تم سے بیان کرتا ہوں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مروان کے پاس گئے، تو عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو ( جسے وہ لوگوں کے لیے سترہ بنائے ) سامنے کر کے نماز پڑھے، پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ سینہ پر دھکا دے کر اسے ہٹا دے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے ( یعنی سختی سے دفع کرے ) کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور کوئی آدمی میرے سامنے سے اتراتے ہوئے گزرتا ہے تو میں اسے روک دیتا ہوں، اور کوئی ضعیف العمر کمزور گزرتا ہے تو اسے نہیں روکتا۔
It was reported from Busr bin Sa'eed: Narrated Abu Juhaim رضی اللہ عنہ :
Zaid bin Khalid Al-Juhni sent him to Abu Juhaim to ask him what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about passing in front of the one who is pray the one who crosses in front of someone who is praying only knew what (sin) would be upon him, then were he to wait forty, it would be better for him than to pass in front of him." Abu An-Nadr (one of the narrators) said: "I do not know whether he said forty days, or months, or years." The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If one who passes in front of a man who is praying knew the responsibility he incurs, he would prefer to stand still for forty. . . rather than pass in front of him. Abu al-Nadr said: I do not know whether he said forty days, or months, or years. Abu Dawud: Sufyan al-Thawri said: If a man passes proudly in front of me while I am praying, I shall stop him, and if a weak man passes, I shall not stop him.
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو اس کو مصلی کے سامنے گزرنے سے چالیس ( دن یا مہینے یا سال تک ) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا ۔ ابونضر کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ اگر کوئی شخص میرے سامنے سے نماز پڑھتے ہوئے تکبر سے گزرے تو میں اسے روکوں گا اور اگر کوئی کمزور گزرے تو میں اسے نہیں روکوں گا۔
Hafs reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying, and the other version of this tradition transmitted through a different chain has: Abu Dharr رضی اللہ عنہ said (and not the Prophet): If there is not anything like the back of a saddle in front of a man who is praying, then a donkey, a black dog, and a woman cut off his prayer. I asked him: Why has the black dog been specified, distinguishing it from a red, a yellow and a white dog? He replied: My nephew, I also asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم the same question as you asked me. He said: The black dog is a devil.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ اور ہم سے عبدالسلام بن مطہر اور ابن کثیر المعنا نے بیان کیا کہ انہیں سلیمان بن مغیرہ نے حمید بن ہلال کی سند سے، عبداللہ بن صامت کی سند سے، ابوذر کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے)
) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ۱؎۔ میں نے عرض کیا: سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔
It was narrated from Shubah, that Qatadah narrated he heard Jabir Ibn Zayd narrating from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A menstruating woman and a dog cut off the prayer. Abu Dawud said: Saeed, Hisham and Hammam narrated this tradition from Qatadah on the authority of Jabir bin Zaid as a statement of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما .
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، شعبہ کی سند سے، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے جابر بن زید رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز حائضہ عورت اور کتا ( مصلی کے سامنے گزرنے ) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔
Ikrimah reported on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما, saying:
I think the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you prays without a sutrah, a dog, an ass, a pig, a Jew, a Magian, and a woman cut off his prayer, but it will suffice if they pass in front of him at a distance of over a stone's throw. Abu Dawud said: There is something about this tradition in my heart. I used to discuss it with Ibrahim and others. I did not find anyone who narrated it from Hisham and knew it. I did not know anyone who reported it from Hisham and knew it. I did not know anyone who related it from Hisham. I think the confusion is on the part of Ibn Abi Saminah that is, Muhammad bin Ismail al-Basri, the freed slave of Banu Hisham. In this tradition the mention of words a Magian is rejected; the mention of the words at a stone's throw and a pig is rejected. Abu Dawud said: I did not hear this tradition except from Muhammad bin Ismail and I think he was mistaken because he used to narrate to us from his memory.
ہم سے بنو ہاشم البصری کے مؤکل محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، یحییٰ سے، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ
میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہو جاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہو جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا ( سوائے معاذ کے ) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ ( یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے
Yazid bin Namran said:
I saw a crippled man at Tabuk. He (the man) said: I passed riding a donkey in front of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم who was praying. He said (cursing him): O Allah, cut off his walking. Thenceforth I could not walk.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، سعید بن عبدالعزیز کی سند سے, یزید بن نمران کہتے ہیں کہ
میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔
This tradition as also been reported by Saeed through the same chain of narrators and to the same effect. He added:
He cut off our prayer, may Allah cut off his walking. Abu Dawud said: This version narrated by Mushir on the authority of Saeed has: He cut off our prayer.
ہم سے کثیر بن عبید نے بیان کیا، جس کا معنی المذھیجی ہے، ہم سے ابو حیوہ نے بیان کیا, سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ
اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کی چال کاٹ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے، جس میں صرف اتنا ہے: اس نے ہماری نماز کاٹ دی ۔
Saeed bin Ghazwan reported on the authority of his father:
He made his stay at Tabuk (during his journey) for performing Hajj. All of a sudden he saw a crippled man and asked him about his condition. He said: I relate to you a tradition, but do not narrate it to anyone so long as I am alive: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم encamped at Tabuk near a date-palm and he said: This is our qiblah (direction for praying). He then offered prayer facing it. I came running, when I was a boy, until I passed the place between him and the tree. He said (cursing): He cut off our prayer, may Allah cut off his walking. I could not, therefore, stand upon them (feet) till today.
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا اور ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا: مجھے معاویہ نے سعید بن غزوان سے اپنے والد کی سند سے خبر دی کہ
وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا: یہ ہمارا قبلہ ہے ، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی، میں ایک لڑکا تھا، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کا قدم کاٹ دے ، چنانچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہو سکا۔
Amr bin Shuaib reported from his father on the authority of his grand-father:
We came down from the mountain pass of Adhaakhir in the company of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The time of prayer came and he prayed facing a direction of prayer, and we were (standing) behind him. Then a kid came and passed in front of him. He kept on stopping it until he brought his stomach near the wall (to detain it), and at last it passed behind him, or as Musaddad said.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن الغزز نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اذاخر کی گھاٹی میں اترے تو نماز کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دفع کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ دیوار میں چپک گیا، وہ سامنے سے نہ جا سکے، آخر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے ہو کر چلا گیا، مسدد نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was (once) praying. A kid went passing in front of him and he kept on stopping it.
ہم سے سلیمان بن حرب اور حفص بن عمر نے بیان کیا: ہم سے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے اور یحییٰ بن الجزار کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دور کرنے لگے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
I was sleeping in front of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم with my legs between him and the qiblah. Shubah said: I think she said: I was menstruating. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Zuhri, Ata, Abu Bakr bin Hafs, Hisham bin Urwah, 'Irak bin Malik, Abu al-Aswad and Tamim bin Salamah; all transmitted from Urwah on the authority of Aishah رضی اللہ عنہا . Ibrahim narrated from al-Aswad on the authority of Aishah. Abu al-Duha narrated from Masruq on the authority of Aishah. Al-Qasim bin Muhammad and Abu Salamah narrated it from 'Aishah. All these narrators did not mention the words And I was menstruating.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں ہوتی تھی، شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری، عطاء، ابوبکر بن حفص، ہشام بن عروہ، عراک بن مالک، ابواسود اور تمیم بن سلمہ سبھوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور ابراہیم نے اسود سے، اسود نے عائشہ سے، اور ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے عائشہ سے، اور قاسم بن محمد اور ابوسلمہ نے عائشہ سے روایت کیا ہے، البتہ ان لوگوں نے «وأنا حائض» اور میں حائضہ ہوتی تھی کا ذکر نہیں کیا ہے۔