Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Complete the front row, then the one that comes next, and if there is any incompleteness, let it be in the last row.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، ان سے ابن عطا نے بیان کیا، انہوں نے سعید کی سند سے، وہ قتادہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The best of you are those whose shoulders are soft in prayer. Abu Dawood said: Jafar bin Yahya (one of the narrators) is from the inhabitants of Makkah.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن یحییٰ بن ثوبان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے میرے چچا عمرہ بن ثوبان نے عطاء کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔
Narrated Abdul Hamid Ibn Mahmud:
I offered the Friday prayer along with Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ . We were pushed to the pillars (due to the crowd of people). We, therefore, stopped forward and backward. Anas then said: We used to avoid it (setting a row between the pillars) during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، یحییٰ بن ہانی کی سند سے, عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی ( جگہ کی تنگی اور ہجوم کے سبب سے ) ہم ستونوں کے بیچ میں کھڑے ہونے پر مجبور کر دیئے گئے، تو ہم آگے پیچھے ہونے لگے، اس پر انس نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس سے بچتے تھے ۱؎۔
Abu Masud رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: let those of your who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them, then those who are next to them.
ہم سے ابن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سفیان نے الاعمش کی سند سے، عمارہ بن عمیر نے ابو معمر کی سند سے بیان کیا, ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور باشعور لوگ میرے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔
This tradition has also been transmitted by Abdullah (bin Masud)رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. This version adds:
“Do not be irregular, so have your hearts irregular, and beware of tumult such as found in market”.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے خالد نے بیان کیا، ابو معشر کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں
اس میں اتنا اضافہ ہے: تم لوگ صف میں آگے پیچھے نہ رہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف ہو جائے گا، اور تم ( مسجدوں میں ) بازاروں جیسے شور و غل سے بچو ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah and His angels bless those who are on the right flanks of the rows.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسامہ بن زید نے بیان کیا، وہ عثمان بن عروہ سے، وہ عروہ رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں طرف کے لوگوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
Narrated Abu Malik al-Ashari رضی اللہ عنہ :
Should I not tell you how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led the prayer? He said: He had the iqamah announced, drew the men up in line and drew up the youths behind them, then led them in prayer. Then he described the prayer. Then he said: "This is how the prayer (should be prayed)." said: Thus is the prayer of. . . . . . AbdulA'la said: I think he must have said: My people.
ہم سے عیسیٰ بن شذان نے بیان کیا، ہم سے عیاش رقم نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ہم سے بدیل نے بیان کیا، ہم سے شہر بن حوشب نے بیان کیا، عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا
کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے مردوں کی صف لگوائی، ان کے پیچھے بچوں کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر ابومالک رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کی کیفیت بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( میری امت کی ) نماز اسی طرح ہے ۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ نے میری امت کی نماز فرمایا۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: the best of the men’s row is the first and the worst of them is the last, but the best of the women’s rows is the last and the worst of them is the first.
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے خالد اور اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر پہلی صف، اور سب سے بری آخری صف ہے، اور عورتوں کی سب سے بہتر آخری صف، سب سے بری پہلی صف ہے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying the people will continue to keep themselves away from the front row until Allah will keep them away (from the front) in the Hell-fire.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ان سے عکرمہ بن عمار نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو جہنم میں پیچھے ڈال دے گا ۱؎ ۔
Abu Saeed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw a tendency among his companions to go to the back. He said to them; come forward and follow my lead, and let those who come after you follow your lead people will continue to keep to the back till Allah would put them at the back.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل اور محمد بن عبداللہ الخزاعی نے بیان کیا: ہم سے ابو الاشہب نے ابو نضرۃ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہلی صف سے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: آگے آؤ اور میری پیروی کرو، اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں وہ تمہاری پیروی کریں، کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے رہا کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے ڈال دے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Have the imam in the middle and close up the gaps.
ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن بشیر بن خلاد نے اپنی والدہ سے روایت کی کہ وہ محمد بن کعب القریزی کے پاس آئیں اور انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام کو ( صف کے ) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو ۔
Narrated Wabisah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw a man praying alone behind the row. He ordered him to repeat. Sulayman Ibn Harb said: The prayer.
ہم سے سلیمان بن حرب اور حفص بن عمر نے بیان کیا: ہم سے شعبہ نے عمرو بن مرہ کی سند سے، ہلال بن یصف کی سند سے، عمرو بن راشد کی سند سے, وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اسے ( نماز ) لوٹانے کا حکم دیا۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں ہے نماز کو لوٹانے کا حکم دیا ۔
Abu Bakrah رضی اللہ عنہ said:
He came to the mosque when the prophet صلی اللہ علیہ وسلم was bowing. So I bowed outside the row (before joining it). The prophet صلی اللہ علیہ وسلم said; May Allah increase your eagerness! But do not do it again.
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا کہ ان سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے زیاد العالم کی سند سے، ہم سے حسن نے بیان کیا, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
وہ مسجد میں آئے اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) فرمایا: اللہ تمہارے شوق کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔
Al-Hasan رضی اللہ عنہ reported:
He came when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was bowing. So he bowed without the row (before joining it). He then went to the row. When the prophet صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer, he said: which of your bowed without the row, and then went to the row? Abu Bakrah said; it was the prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: May Allah increase your eagerness! but do not do it again.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم کو زیاد الاعلم نے حسن کی سند سے بیان کیا, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ ( مسجد میں ) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟ ، ابوبکرہ نے کہا: میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «زياد الأعلم» سے مراد زیاد بن فلاں بن قرہ ہیں، جو یونس بن عبید کے خالہ زاد بھائی ہیں۔
Talhah bin Ubaid Allah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When you place in front of you something such as the back of a saddle, then there is no harm if someone passes in front of you (i.e. the other side of it).
ہم سے محمد بن کثیر العبدی نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے سماک کی سند سے، موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے, طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے ( اونٹ کے ) کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لی تو پھر تمہارے سامنے سے کسی کا گزرنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
Ata said:
The back of the saddle is (about) one cubit (in height) or more than that.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ابن جریج کی سند سے,عطاء (عطاء بن ابی رباح) کہتے ہیں
کجاوہ کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ کی یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would go out (for prayer) on the day of Eidd, he ordered to bring a lance, it was then setup in front of him and he would pray in its direction, and the people (stood) behind him. He used to do so during journey; hence the rulers would take it (lance with them).
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن نکلتے تو برچھی ( نیزہ ) لے چلنے کا حکم دیتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی جاتی، تو آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے، اور ایسا آپ سفر میں کرتے تھے، اسی وجہ سے حکمرانوں نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔
Abu Juhaifah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم led them in prayer at al-Batha', with a staff set up in front of him. (He prayed) two rak'ahs of the Zuhr prayer and two rak'ahs of the Asr prayer. The women and the donkeys would pass in front of the staff.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، عون بن ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطحاء میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھائیں اور آپ کے سامنے برچھی ( بطور سترہ ) تھی، اور برچھی کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you prays, he should put something in front of his face, and if he can find nothing, he should set up his staff; but if he has no staff, he should draw a line; then what passes in front of him will not harm him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن امیہ نے بیان کیا، مجھ سے ابو عمرو بن محمد بن ہریث نے بیان کیا کہ میں نے اپنے دادا ہریث کو بیان کرتے ہوئے سنا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے، تو اپنے آگے ( بطور سترہ ) کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑ لے، اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر ( خط ) کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: . . . . . . He then narrated the tradition about drawing the line. Sufyan said: We did not find anything by which we could reinforce this tradition, and this has been narrated only through this chain. He (Ali bin al-Madini, a narrator) said: I said to Sufyan: There is a difference of opinion of the name (Abu Muhammad bin Amr). He pondered for a moment and then said: I do not remember except Abu Muhammad bin Amr Sufyan said: A man had come to Kufah after the death of Ismail bin Umayyah ; he was seeking Abu Muhammad until he found him. He asked him (about this tradition) but he became confused. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal who was questioned many times how the line should be drawn. He replied: In this way. horizontally like crescent. Abu Dawud said: I heard Musaddad say: Ibn Dawud said: The line should be drawn perpendicularly. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal describing many times how the line should be drawn. He said: In this way horizontally in the round semi-circular form like the crescent, that is (the line should be) a curve.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے علی نے، یعنی ابن المدینی نے، ہم سے سفیان کی سند سے، اسمٰعیل بن امیہ سے، ابو محمد بن عمرو بن حریث کے واسطہ سے، وہ اپنے دادا حُریث سے، جو بنو بنو کے ایک شخص تھے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر سفیان نے لکیر کھینچنے کی حدیث بیان کی۔ سفیان کہتے ہیں: ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے اس حدیث کو تقویت مل سکے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے۔ علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے سفیان سے پوچھا: لوگ تو ابو محمد بن عمرو بن حریث کے نام میں اختلاف کرتے ہیں؟ تو سفیان نے تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا: مجھے تو ان کا نام ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص یہاں ( کوفہ ) آیا، اور اس نے ابو محمد کو تلاش کیا یہاں تک کہ وہ اسے ملے، تو اس نے ان سے اس ( حدیث خط ) کے متعلق سوال کیا، تو ان کو اشتباہ ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا، آپ سے متعدد بار لکیر کھینچنے کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا: تو آپ نے کہا: وہ اس طرح ہلال کی طرح چوڑائی میں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور میں نے مسدد کو کہتے سنا کہ ابن داود کا بیان ہے کہ لکیر لمبائی میں ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے لکیر کی کیفیت کے بارے میں متعدد بار سنا، انہوں نے کہا: اس طرح یعنی چوڑائی میں چاند کی طرح محور اور مدور یعنی مڑا ہوا۔