Aishah رضی اللہ عنہا said:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم prayed in a single (piece of) cloth whose one part was upon me.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا، ابو حصین کی سند سے، ابو صالح کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔
Narrated Salamah Ibn al-Akwa رضی اللہ عنہ :
I said: Messenger of Allah, I am a man who goes out hunting; may I pray in a single shirt? He replied: Yes, but fasten it even if it should be with a thorn.
ہم سے القعنبی نے بیان کیا، انہیں عبد العزیز نے، یعنی ابن محمد نے، ہم سے موسیٰ بن ابراہیم کی سند سے بیان کیا, سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکاری ہوں، کیا میں ایک کرتے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اسے ٹانک لیا کرو، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی ۔
Abdur-Rahman bin Abu Bakr reported on the authority of his father:
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما led us in prayer in a single shirt, having no sheet upon him. When he finished the prayer he said: I witnesses the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم praying in a shirt.
ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی بکر نے اسرائیل سے اور ابوحومل العمیری سے بیان کیا۔ ابوداؤد نے کہا: اس نے یہی کہا ہے۔ صحیح نسخہ ہے: ابو ہرمل، محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر سے، اپنے والد کی سند سے, جنہوں نے کہا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ایک کرتے میں ہماری امامت کی، ان کے جسم پر کوئی چادر نہ تھی، تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کرتے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔
Ubadah bin al-Samit said:
We came to Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما . He said: I (Jabir) accompanied the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in a battle. He got up to pray. I had a sheet of cloth upon me, and I began to cross both the ends, but they did not reach (my shoulders). It had fringes which I turned over and crossed the two ends, and bowed down retaining it with my neck lest it should fall down. Then I came and stood on the left side of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He then took and brought me around him and set me on his right side. Then Ibn Sakhr رضی اللہ عنہ came and stood on his left side. he then took us with his both hands and made us stand behind him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم began to look at me furtive glances, but I could not understand. When I understood, he hinted at me tie the wrapper. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished the prayer, he said (to me): O Jabir. I said; Yes, Messenger of Allah. He said; if it (the sheet) is wide, cross both its ends (over the shoulders); if it is tight, tie it over your loins.
ہم سے ہشام بن عمار، یحییٰ بن الفضل السجستانی اور سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی نے بیان کیا، ہم سے حاتم نے بیان کیا، ہم سے ابن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن مجاہد ابو حضرہ نے عبادہ بن عبادہ کی سند سے بیان کیا, عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ
ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا ( رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے، پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا۔ پھر ابن صخر رضی اللہ عنہ آئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنکھیوں سے دیکھنے لگے، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا ( کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں ) ، پھر بات میری سمجھ میں آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جابر! ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! فرمائیے، حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying, or reported Umar رضی اللہ عنہ as saying (the narrator is doubtful): if one of you has two (piece of) cloth, he should pray in them; if he has a single (piece of) cloth, he should use it as a wrapper, and should not hang it upon the shoulder like the Jews.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے، وہ نافع کی سند سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو چاہیئے کہ ان دونوں میں نماز پڑھے، اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو چاہیئے کہ اسے تہہ بند بنا لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکائے ۔
Narrated Buraydah Ibn al-Hasib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited us to pray in a sheet of cloth without crossing both its ends, and he also prohibited us to pray in a wrapper without putting on a sheet.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس الذہلی نے بیان کیا، ہم سے سعید بن محمد نے بیان کیا، ہم سے ابو تمیلہ یحییٰ بن وضح نے بیان کیا، ہم سے ابو المنیب عبید اللہ العتکی نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لحاف میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جا سکے، اور دوسری بات جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He who lets his garment trail during prayer out of pride, Allah, the Almighty, has nothing to do with pardoning him and protecting him from Hell. Abu Dawood said: A group of people reported this from 'Asim in Mawquf from Ibn Mas'ud, among them Hammad bin Salamah, Hammad bin Zaid, Abu Al-Ahwas and Abu Mu'awiyah.
ہم سے زید بن اخزم نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، ان سے ابو عوانہ نے، عاصم کی سند سے، ابو عثمان رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص نماز میں غرور و تکبر کی وجہ سے اپنا تہہ بند ( ٹخنوں سے نیچے ) لٹکائے گا تو اللہ تعالیٰ نہ اس کے لیے جنت حلال کرے گا، نہ اس پر دوزخ حرام کرے گا ؛ یا نہ اس کے گناہ بخشے گا اور نہ اسے برے کاموں سے بچائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے عاصم کے واسطے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، انہیں میں سے حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابوالاحوص اور ابومعاویہ ہیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
While a man was praying letting his lower garment trail, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to him: Go and perform ablution. He, therefore, went and performed ablution and then returned. He (the prophet) again said: Go and perform ablution. He again went, performed ablution and returned. A man said to him (the prophet): Messenger of Allah, why did you order him to perform ablution? He said: he was praying with lower garment trailing, and does not accept the prayer of a man who lets his lower garment trail.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، وہ ابو جعفر کی سند سے، وہ عطاء بن یسار سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا کر دوبارہ وضو کرو ، چنانچہ وہ گیا اور اس نے ( دوبارہ ) وضو کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: جا کر پھر سے وضو کرو ، چنانچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا بات ہے! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔
It was reported from Malik from Muhammad bin Zaid bin Qunfudh, from his mother:
His mother asked Umm Salamah رضی اللہ عنہا : In how many clothes should a woman pray? She replied; she would pray wearing a veil and a long shirt which covers the surface of her feet.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، محمد بن زید بن قنفذ کی سند سے، اپنی والدہ سے روایت کی کہ
انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟ تو انہوں نے کہا: وہ اوڑھنی اور ایک ایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے جو اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو چھپا لے۔
Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
She asked the prophet صلی اللہ علیہ وسلم; Can a woman pray in a shirt and veil without wearing a lower garment? He replied: if the shirt is ample and covers the surface of her feet. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Malik bin Anas, Bakr bin Mudar, Hafs bin Ghiyaht, Ismail bin Jafar, Ibn Abu Dhi'b, and Ibn Ishaq from Muhammad bin Zaid on the authority of his mother who narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا . None of these narrators mention the name of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. They reported it directly from Umm Salamah رضی اللہ عنہا .
محمد بن زید نے اس حدیث کے ساتھ کہا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار ( تہبند ) نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پڑھ سکتی ہے ) جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو مالک بن انس، بکر بن مضر، حفص بن غیاث، اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے، محمد بن زید نے اپنی والدہ سے، اور محمد بن زید کی والدہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر ہی اسے موقوف کر دیا ہے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah does not accept the prayer of a woman who has reached puberty unless she wears a veil. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Said bin Abi 'Arubah from Qatadah on the authority of al-Hasan from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، قتادہ کی سند سے، محمد بن سیرین سے، صفیہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن بصری سے، حسن بصری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
Muhammad (Ibn Sirin) said:
Aishah رضی اللہ عنہا came to Sufiyyah رضی اللہ عنہا Umm Talhah al-Talhat رضی اللہ عنہ and seeing her daughter she said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered (into the house) and there was a girl in my apartment. He gave his lower garment (wrapper) to me and said; tear it into two pieces and give one-half to this (girl) and the other half to the girl with Umm Salamah رضی اللہ عنہا . I think she has reached puberty, or (he said) I think have reached puberty. Abu Dawud said: Hisham has narrated it similarly from Muhammad bin sirin.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے، وہ محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا: اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہو چکی ہے، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade trailing garments during prayer and that a man should cover his mouth. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by 'Isi on the authority of Ata from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ : The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade trailing garments during prayer.
ہم سے محمد بن العلاء اور ابراہیم بن موسیٰ نے ابن مبارک کی سند سے، حسن بن ذکوان سے، سلیمان الاوّل کی سند سے، عطاء کی سند سے، انہوں نے کہا: ابراہیم نے کہا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Juraij said:
I often saw Ata praying while letting his garment trail. Abu Dawud said: This (practice of Ata) weakens the tradition (narrated by Abu Hurairah).
ہم سے محمد بن عیسیٰ بن الطباع نے بیان کیا، ہم سے حجاج نے بیان کیا، ابن جریج کہتے ہیں کہ
میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل ( سدل کرنا ) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would not pray on our sheets of cloth or on our quits. Ubaidullah said: My father doubted.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے اشعث نے بیان کیا، انہوں نے محمد کی سند سے، یعنی ابن سیرین نے عبداللہ بن شقیق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحاف میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد ( معاذ ) کو شک ہوا ہے ( کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ: «شعرنا» کہا، یا: «لحفنا» ) ۔
Saeed Ibn Abu Saeed al-Maqburi reported on the authority of his father:
He saw Abu Rafi the freed slave of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, passing by Hasan Ibn Ali (Allah be pleased with them) when he was standing offering his prayer. He had tied the back knot of his hair. Abu Rafi untied it. Hasan turned to him with anger, Abu Rafi said to him: Concentrate on your prayer and do not be angry: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: This is the seat of the devil, referring to the back knot of the hair.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ابن جریج کی سند سے، مجھ سے عمران بن موسیٰ نے، وہ سعید بن ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔
Kurayb the freed slave of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما reported:
Abdullah Ibn Abbas saw Abdullah Ibn al-Harith رضی اللہ عنہ praying having the back knot of the hair. He stood behind him and began to untie it. He remained standing unmoved (stationary). When he finished his prayer he came to Ibn Abbas and said to him: What were you doing with my head? He said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: A man who prays with the black knot of hair tied is the one praying pinioned.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے عمرو بن حارث کی سند سے بیان کیا، ان سے بکیر نے بیان کیا کہ ان سے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب نے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ
عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا؟ تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں ۔
Narrated Abdullah Ibn as-Saib رضی اللہ عنہ :
I saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم praying on the day of the conquest of Makkah and he had placed his shoe at his left side.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن عباد بن جعفر نے ابن سفیان کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اپنے دونوں جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔
Abdullah bin al-Saib رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led us in the morning prayer at Makkah. He began to recite Surah al-Muminin and while he came to description of Moses and Aaron or the description of Moses and Jesus the narrator Ibn Abbad doubts or other narrators differed amongst themselves on this word the prophet صلی اللہ علیہ وسلم coughed and gave up (recitation) and then bowed Abdullah bin al-Saib رضی اللہ عنہ was present seeing all this incident.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے اور انہیں ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: میں نے محمد بن عباد بن جعفر کو یہ کہتے سنا: ابو سلمہ بن سفیان، عبداللہ بن مسیب العابدی، اور مجھے خبر ملی, عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورۃ مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ ۱؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے قصے پر پہنچے ( راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ ( سابقہ حدیث کے راوی ) اس وقت وہاں موجود تھے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
While the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was leading his Companions in prayer, he took off his sandals and laid them on his left side; so when the people saw this, they removed their sandals. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer, he asked: What made you remove your sandals? The replied: We saw you remove your sandals, so we removed our sandals. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Gabriel came to me and informed me that there was filth in them. When any of you comes to the mosque, he should see; if he finds filth on his sandals, he should wipe it off and pray in them.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو نعامہ السعدی سے، انہوں نے ابو نضرہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟ ، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: «قذرا» کہا، یا: «أذى» کہا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے ۔