Narrated Umm Waraqah daughter of Nawfal رضی اللہ عنہا :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم proceeded for the Battle of Badr, I said to him: Messenger of Allah allow me to accompany you in the battle. I shall act as a nurse for patients. It is possible that Allah might bestow martyrdom upon me. He said: Stay at your home. Allah, the Almighty, will bestow martyrdom upon you. The narrator said: Hence she was called martyr. She read the Quran. She sought permission from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to have a muadhdhin in her house. He, therefore, permitted her (to do so). She announced that her slave and slave-girl would be free after her death. One night they went to her and strangled her with a sheet of cloth until she died, and they ran away. Next day Umar رضی اللہ عنہ announced among the people, Anyone who has knowledge about them, or has seen them, should bring them (to him). Umar رضی اللہ عنہ (after their arrest) ordered (to crucify them) and they were crucified. This was the first crucifixion at Madina.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع بن الجراح نے بیان کیا، ہم سے ولید بن عبداللہ بن جمیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میری دادی اور عبدالرحمٰن بن خلاد انصاری نے بیان کیا، ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئیے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پڑھ رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی، چنانچہ وہ دونوں ( یعنی غلام اور لونڈی ) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، ( چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے ) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔
This tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by Umm Waraqah daughter of Abdullah bin al-Harith رضی اللہ عنہا . The first version is complete. This version goes:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to visit her at her house. He appointed a Muadhdhin to call adhan for her; and he commanded her to lead the inmates of her house in prayer. Abdur-Rahman said: I saw her Muadhdhin who was an old man.
ہم سے حسن بن حماد الحضرمی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ولید بن جمیع نے، وہ عبدالرحمٰن بن خلاد کی سند سے, اس سند سے بھی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے، اس میں یہ ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کر دیا تھا، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three types of people whose prayer is not accepted by Allah: One who goes in front of people when they do not like him; a man who comes dibaran, which means that he comes to it too late; and a man who takes into slavery an emancipated male or female slave.
ہم سے القعْنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر بن غانم نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن زیاد نے، وہ عمران بن عبد المعافری کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: تین آدمیوں کی نماز اللہ قبول نہیں فرماتا: ایک تو وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے، پیچھے آنا یہ ہے کہ جماعت فوت ہو جانے یا وقت گزر جانے کے بعد آئے، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کئے ہوئے شخص کو دوبارہ غلام بنا لے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The obligatory prayer is essential behind every Muslim, pious or impious, even if he has committed a sins.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے علاء بن حارث نے مکول کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم appointed Ibn Umm Maktum رضی اللہ عنہ as substitute to lead the people in prayer, and he was blind.
ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن العنبری ابو عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، ہم سے عمران القطان نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔
Abu Atiyyah, a freed slave of us, said:
Malik bin al-Huwairith رضی اللہ عنہ came to this place of prayer of ours, and the iqamah for prayer was called. We said to him: Come forward and lead the prayer. He said to us: Put one of your own men forward to lead you in prayer. I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If anyone visits people, he should not lead them in prayer, but some person of them should lead the prayer.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابان نے بیان کیا, بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابوعطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری اس مسجد میں آتے تھے، ( ایک بار ) نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھئیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے ہم سے کہا: تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے ۔
Hammam said:
Hudhaifah رضی اللہ عنہ led the people in prayer in al-Mada’in standing on the shop (or a bench). Abu Masud رضی اللہ عنہ took him by his shirt, and brought him down. When he ( Abu Masud) finished his prayer, he said: Do you not know that they (the people) were prohibited to do so. He said: Yes, I remembered when you pulled me down.
ہم سے احمد بن سنان اور احمد بن الفرات ابو مسعود الرازی المعنی نے بیان کیا, انہوں نے کہا: ہم سے یعلی نے بیان کیا, ہم سے الاعمش نے ابراہیم کی سند سے بیان کیا, ہمام کہتے ہیں کہ
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن ( کوفہ کے پاس ایک شہر ہے ) میں ایک چبوترہ ( اونچی جگہ ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی ( اور لوگ نیچے تھے ) ، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں ( نیچے ) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔
Adi bin Thabit al-Ansari said:
A man related to me that (once) he was in the company of Ammar bin yasir رضی اللہ عنہما in al-Mada’in (a city near Ku’fah). The IQAMAH was called for prayer: Ammar came forward and stood on a shop (or a beach) and prayed while the people stood on a lower place than he. Hudaifah رضی اللہ عنہ came forward and took him by the hands and Ammar followed him till Hudaifah brought him down. When Ammar finished his prayer. Hudaifah said to him: Did you not hear the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: When a man leads the people in prayer, he must not stand in a position higher than theirs, or words to that effect? Ammar رضی اللہ عنہ replied: that is why I followed you when you took me by the hand.
ہم سے احمد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا کہ مجھ سے ابو خالد نے بیان کیا, عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ
مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدائن میں تھا کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو عمار آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے، یہ دیکھ کر حذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عمار بن یاسر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے لانے لگے، عمار بن یاسر بھی پیچھے ہٹتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرے تو ان سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو؟ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لیے جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ would pray along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمin the night prayer, then go and lead his people and lead them in the same prayer.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے محمد بن عجلان نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن مقسم نے بیان کیا، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم میں آتے اور وہی نماز انہیں پڑھاتے ۱؎۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ would pray along the prophet صلی اللہ علیہ وسلم, then go and lead his people in prayer.
ہم سے مصدّد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، عمرو بن دینار سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹ کر جاتے اور اپنی قوم کی امامت کرتے۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم rode a horse and was thrown off it and his right was grazed. He then prayed one of the prayers sitting and we prayed one of the prayers sitting, and when he finished he said: the Imam is appointed only to be followed ; so when he prays standing, pray standing, and when he bows, bow; when he raises himself, raise yourselves; when he says “Allah listen to him who praises Him”, “Our Lord! to Thee be the praise”: and when he prays sitting all of you pray sitting.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے پھر اس سے گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو میں خراش آ گئی جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، تو ہم لوگوں نے بھی وہ نماز آپ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکو ع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم rode a horse in Madina. It threw him off at the root of a date-palm. His foot was injured. We visited him to inquire about his illness. We found him praying sitting in the apartment of Aishah رضی اللہ عنہا . We, therefore, stood, (praying) behind him. He kept silent. We again visited him to inquire about his illness. He offered the obligatory prayer sitting. We, therefore, stood (praying) behind him; he made a sign to us and we sat down. When he finished the prayer, he said: When the imam prays sitting, pray sitting; and when the imam prays standing, pray standing, and do not act as the people of Persia used to act with their chiefs (i.e. the people stood and they were sitting).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر اور وکیع نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور ابو سفیان کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ایک کھجور کے درخت کی جڑ پر گرا دیا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی، ہم لوگ آپ کی عیادت کے لیے آئے، اس وقت ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے ملے، ہم لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں خاموش رہے ( ہمیں بیٹھنے کے لیے نہیں کہا ) ۔ پھر ہم دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آئے تو آپ نے فرض نماز بیٹھ کر ادا کی، ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو، اور جب امام کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور اس طرح نہ کرو جس طرح فارس کے لوگ اپنے سرکردہ لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The imam is appointed only to be followed; when he says Allah is most great, say Allah is most great and do not say Allah is most great until he says Allah is most great. When he bows; bow; and do not bow until he bows. And when he says Allah listens to him who praise Him, say O Allah, our Lord, to Thee be the praise. The version recorded by Muslim goes: And to Thee be the praise: And when he prostrate; and do not prostrate until he prostrates. When he prays standing, pray standing, and when he prays sitting, all of you pray sitting. Abu Dawud said: The words O Allah, our Lord, to You be the praise reported by Sulaiman were explained to me by some of our companions.
ہم سے سلیمان بن حرب اور مسلم بن ابراہیم المعنی نے وہیب کی سند سے، مصعب بن محمد کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب امام «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، تم اس وقت تک «الله أكبر» نہ کہو جب تک کہ امام «الله أكبر» نہ کہہ لے، اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک کہ وہ رکوع میں نہ چلا جائے، جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو ( مسلم کی روایت میں «ولك الحمد» واو کے ساتھ ہے ) ، پھر جب امام سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور تم اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب تک کہ وہ سجدہ میں نہ چلا جائے، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اللهم ربنا لك الحمد» کو مجھے میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان کے واسطہ سے سمجھایا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The imam is appointed only to be followed. This version adds: When he recites (the Quran), keep silent. Abu Dawud said: The addition of the words When he recites, keep silent in this version are not guarded. The misunderstanding, according to us, is on the part of Abu Khalid (a narrator).
ہم سے محمد بن آدم المیصیصی نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد نے بیان کیا، ان سے ابن عجلان نے بیان کیا، زید بن اسلم نے ابوصالح کی سند سے, اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إنما جعل الإمام ليؤتم به» امام صرف اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔اس میں راوی نے «وإذا قرأ فأنصتوا» جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «وإذا قرأ فأنصتوا» کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابوخالد کو یہ وہم ہوا ہے۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prayed in his house sitting and the people prayed behind him standing. He made a sign to them (asking them) to sit down. When he finished the prayer, he said: The IMAM is appointed only to be followed; so when he prays standing. Pray standing ; and when he raises himself, raise yourself: and when he prays sitting. Pray sitting.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے روایت کی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اسی لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
When the prophet صلی اللہ علیہ وسلم became seriously ill, we prayed behind him while he was sitting and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was calling “Allah is most great “ to cause the people to hear the TAKBIR. Then he (the narrators) narrated the rest of the tradition.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور یزید بن خالد بن موہب المعنی نے بیان کیا کہ لیث نے ان سے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا , جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
It was reported from Husain Among the offspring of Sad bin Mu'adh from 'Usaid biin Hudair رضی اللہ عنہ :
He would lead them in the prayer. (when he fell ill) the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to him inquiring about his illness. They said: Messenger of Allah, our Imam is ill. He said: When he prays sitting, pray sitting. Abu Dawud said: The chain of this tradition is not continuous (muttasil).
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زید نے بیان کیا، یعنی ابن الحباب نے، محمد بن صالح کی سند سے، مجھ سے سعد بن معاذ کی اولاد میں سے حسین نے بیان کیا, اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ اپنی قوم کی امامت کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے امام بیمار ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل نہیں ہے۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon Umm Haram رضی اللہ عنہا . The people (in her house) brought some cooking oil dates to him. He said; Put it (dates) back in its container and return it (cooking oil) to its bag, because I am keeping fast. He then stood and led us in prayer two Rak’ahs of supererogatory prayer. Then Umm Sulaim and Umm Haram stood behind us (i.e., the men). Thabit (the narrator) said: I understand that Anas رضی اللہ عنہ said; he (the prophet) made me stand on his right side.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، کہا ہم کو ثابت نے خبر دی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ( کھجور کو ) اس کی تھیلی میں اور اسے ( گھی کو ) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم ( انس کی والدہ ) اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ثابت کہتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنی طرف فرش پر کھڑا کیا۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led him and one of their women in prayer. He (the prophet) put him on his right side and the woman behind him (Anas رضی اللہ عنہ ).
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مختار نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن انس سے روایت کرتے ہیں کہ, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اور ان کے گھر کی ایک عورت کی امامت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کو ) اپنے داہنی طرف کھڑا کیا، اور عورت کو پیچھے۔
Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما said:
When I was spending a night in the house of my maternal aunt Maimunah رضی اللہ عنہا , the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم got up at night, opened the mouth of the water skin and performed ablution. He then closed the mouth of the water-skin and stood for prayer. Then I got up and performed ablution as he did ; then I came and stood on his left side. He took my hand, turned me round behind his back and set me on his right side; and I prayed along with him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے عبد الملک بن ابی سلیمان سے اور عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا، پھر میں آ کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔