Ibn Umar reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: if we reserve this door for women (it would be better). Nafi said: Ibn Umar رضی اللہ عنہما did not enter through it ( the door) till he died. Abu Dawud said: This tradition has been narrated though a different chain of transmitters by Umar رضی اللہ عنہ . And this is more correct.
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، نافع کی سند سے , عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں ( تو زیادہ اچھا ہو ) ۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں کبھی داخل نہیں ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، اس میں «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم»کے بجائے «قال عمر» ( عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ) ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: When the iqamah is pronounced for prayer, do not come to it running, but come walking (slowly). You should observe tranquility. The part of the prayer you get (along with the imam) offer it, and the part you miss complete it (afterwards). Abu Dawud said: The version narrated by al-Zubaidi, Ibn Abi Dhi’b, Ibrahim bin Saad, Mamar, Shuaib bin Abi Hamzah on the authority of al-Zuhri has the words: “the part you miss then complete it”. Ibn ‘Uyainah alone narrated from al-Zuhri the words “then offer it afterwards”. And Muhammad bin Amr narrated from Abu Salamah on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ , and Jafar bin Rabiah narrated from al-A’raj on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ the words “then complete it”. And Ibn Masud رضی اللہ عنہ narrated from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and Abu Qatadah and Anas رضی اللہ عنہ reported from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم the words” then complete it”.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عنبسہ نے بیان کیا، مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب کی سند سے، انہیں سعید بن المسیب نے اور مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، تو اب جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اسی طرح: «وما فاتكم فأتموا» کے الفاظ روایت کئے ہیں، اور ابن عیینہ نے تنہا زہری سے لفظ: «فاقضوا» روایت کی ہے۔ محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ: «فأتموا» سے روایت کی ہے، اور اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور ان سب نے: «فأتموا» کہا ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Come to prayer with calmness and tranquility. Then pray the part you get (long with the imam) and complete afterwards the part you miss. Abu Dawud said: Ibn Sirin narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ the words: he should complete it afterwards. Similarly, Abu Rafi narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ and Abu Dharr narrated from him the words then complete it, and complete it afterwards. There is a variation of words in the narration from him.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، وہ سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے کہا: میں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز کے لیے اس حال میں آؤ کہ تمہیں اطمینان و سکون ہو، پھر جتنی رکعتیں جماعت سے ملیں انہیں پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائیں وہ قضاء کر لو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ «وليقض» سے روایت کی ہے۔ اور ابورافع نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح کہا ہے۔ لیکن ابوذر نے ان سے: «فأتموا واقضوا» روایت کیا ہے، اور اس سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
Narrated Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw a person praying alone. He said: Is there any man who may do good with this (man) and pray along with him.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان اسود سے، وہ ابو المتوکل کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔
Narrated Yazid Ibn al-Aswad رضی اللہ عنہ :
He prayed along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when he was a young boy. When he (the Prophet) had prayed there were two persons (sitting) in the corner of the mosque; they did not pray (along with the Prophet). He called for them. They were brought trembling (before him). He asked: What prevented you from praying along with us? They replied: We have already prayed in our houses. He said: Do not do so. If any of you prays in his house and finds that the imam has not prayed, he should pray along with him; and that will be a supererogatory prayer for him.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں یعلیٰ بن عطاء نے خبر دی، وہ جابر بن یزید بن الاسودخزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ایک جوان لڑکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے کونے میں دو آدمی ہیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، تو آپ نے دونوں کو بلوایا، انہیں لایا گیا، خوف کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا: تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ ، تو ان دونوں نے کہا: ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو اس حال میں پائے کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ ( بھی ) نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی ۔
Jabir bin Yazid reported on the authority of his father:
I said the morning prayer along with the prophet صلی اللہ علیہ وسلم at Mina. He narrated the rest of the tradition to the same effect.
ہم سے ابن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے یعلیٰ بن عطاء نے، جابر بن یزید سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی، پھر آگے راوی نے سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔
Narrated Yazid Ibn Amir رضی اللہ عنہ :
I came while the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was saying the prayer. I sat down and did not pray along with them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم turned towards us and saw that Yazid was sitting there. He said: Did you not embrace Islam, Yazid? He replied: Why not, Messenger of Allah; I have embraced Islam. He said: What prevented you from saying prayer along with the people? He replied: I have already prayed in my house, and I thought that you had prayed (in congregation). He said: When you come to pray (in the mosque) and find the people praying, then you should pray along with them, though you have already prayed. This will be a supererogatory prayer for you and that will be counted as obligatory.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، ان سے سعید بن السائب نے، وہ نوح بن صعصع کی سند سے, یزید بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں ( مسجد ) آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے، تو میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر ہماری طرف مڑے تو مجھے ( یزید بن عامر کو ) بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ ، میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! میں اسلام لا چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ ، میں نے کہا: میں نے اپنے گھر پر نماز پڑھ لی ہے، میرا خیال تھا کہ آپ لوگ نماز پڑھ چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسی جگہ آؤ جہاں نماز ہو رہی ہو، اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ شریک ہو کر جماعت سے نماز پڑھ لو، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو تو وہ تمہارے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض ۔
A man from Banu Asad bin Khuzaimah asked Abu Ayyub al-Ansari رضی اللہ عنہ :
if one of us prays in his house, then comes to the mosque and finds that the iqamah is being called, and if I pray along with them ( in congregation), I feel something inside about it. Abu Ayyub replied: We asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about it. He said: That is a share from the spoils received by the warriors (i.e. he will receive double the reward of the prayer).
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا کہ میں نے ابن وھب کو پڑھا، انہوں نے کہا: مجھے عمرو نے بکیر سے خبر دی, عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ
انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے ۔
Narrated Sulayman, the freed slave of Maymunah رضی اللہ عنہا said:
I came to Ibn Umar رضی اللہ عنہما at Bilat (a place in Madina) while the people were praying. I said: Do you not pray along with them? He said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Do not say a prayer twice in a day.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے حسین نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے اور سلیمان بن یسار سے, ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار کہتے ہیں
: میں بلاط میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے کہا: آپ ان کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو ۔
Narrated Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He who leads the people in prayer, and he does so at the right time, will receive, as well as those who are led (in prayer) will get (the reward). He who delays (prayer) from the appointed time will be responsible (for this delay) and not those who are led in prayer.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن حرملہ نے ابو علی ہمدانی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہو گا ان ( مقتدیوں ) پر نہیں ۔
Narrated Sulamah daughter of al-Hurr رضی اللہ عنہا :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: One of the signs of the Last Hour will be that people in a mosque will refuse to act as imam and will not find an imam to lead them in prayer.
خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے ۔
Abu Masud al-Badri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The one of you who is most versed in the Books of Allah should act as imam for the people; and the one who is the earliest of them in reciting (the Quran); if they are equally versed in reciting it, then the earliest of them to emigrate (to Madina); if they emigrated at the same time, then the oldest of them. No man must lead another in prayer in his house (i. e. in the house of a latter) or where the latter has authority, or sit in his place of honor without his permission. Shubah said: I asked Ismail: what is the meaning of his place of honor? He replied: his throne.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن رجا نے خبر دی، میں نے اوس بن ضمعج رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا, ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی تکرمہ ( مسند وغیرہ ) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے ۔ شعبہ کا بیان ہے: میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا: آدمی کا تکرمہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا فراش یعنی مسند وغیرہ۔
The version of this tradition narrated through a different chain by Shubah has the words:
“A man should not lead the another man in prayer. Abu Dawud said: Yahya al-Qattan narrated from Shubah in a similar way, i.e. the earliest of them in recitation.
ہم سے ابن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے
اس میں ہے: «ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه» کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے «أقدمهم قرائة» ( لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو ) کی روایت کی ہے۔
This tradition has been transmitted through a different chain by Abu Masud رضی اللہ عنہ This version has words:
The Messenger o Allah ﷺ said: “If they are equally versed in recitation, then the one who has most knowledge of the Sunnah; if they are equal with regard to (the knowledge of) the Sunnah, then the earliest of them to emigrate (to Madina)”. He did not narrate the words; “ The earliest of them in recitation”. Abu Dawud said: Hajjaj bin Artata reported from Ismail: Do not sit in the place of honour of anyone except with his permission.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش سے، اسمٰعیل بن راجہ سے، انہوں نے اوس بن دمعاج الحدرمی کی سند سے، انہوں نے کہا: ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، ا گر اس میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو ۔ اس روایت میں«فأقدمهم قرائة» کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: تم کسی کے تکرمہ ( مسند وغیرہ ) پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو ۔
Amr bin Salamah رضی اللہ عنہ said:
We lived at a place where the people would pass by us when they came to the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. When they returned they would again pass by us. And they used to inform us that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said so –and-so. I was a boy with a good memory. From the ( process) I memorized a large portion of the Quran. Then my father went to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم along with a group of his clan. He (the Prophet) taught them prayer. And he said: The one of you who knows most of the Quran should act as your imam. I knew the Quran better than most of them because I had memorized it. They, therefore, put me in front of them, and I would lead them in prayer. I wore a small yellow mantle which, when I prostrated myself, went up on me, and a woman of the clan said: Cover the back side of your leader from us. So they bought an ‘Ammani shirt for me, and I have never been so pleased about anything after embracing Islam as I was about that (shirt). I used to lead them in prayer and I was only seven or eight year old.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا, عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم ایسے مقام پر ( آباد ) تھے جہاں سے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے گزرتے تھے، تو جب وہ لوٹتے تو ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے، اور میں ایک اچھے حافظہ والا لڑکا تھا، اس طرح سے میں نے بہت سا قرآن یاد کر لیا تھا، چنانچہ میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا: تم میں لوگوں کی امامت وہ کرے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اور میں ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تھا اس لیے کہ میں قرآن یاد کیا کرتا تھا، لہٰذا لوگوں نے مجھے آگے بڑھا دیا، چنانچہ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میرے جسم پر ایک چھوٹی زرد رنگ کی چادر ہوتی، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، چنانچہ ایک عورت نے کہا: تم لوگ اپنے قاری ( امام ) کی شرمگاہ ہم سے چھپاؤ، تو لوگوں نے میرے لیے عمان کی بنی ہوئی ایک قمیص خرید دی، چنانچہ اسلام کے بعد مجھے جتنی خوشی اس سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی، ان کی امامت کے وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا ۱؎۔
(There is another chain for no. 585) from Asim Al- Ahwal, from Amr bin Salamah with this Hadith. He said:
“I used to lead them in prayer with a sheet of cloth on me that was patched and torn. When I prostrated myself, my buttocks were disclosed.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے عاصم الاحوال نے بیان کیا، اس سند سے بھی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے
میں ایک پیوند لگی ہوئی پھٹی چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری سرین کھل جاتی تھی۔
Amr bin Salamah رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father (Salamah رضی اللہ عنہ):
They visited the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. When they intended to return, they said: Messenger of Allah, who will lead us in prayer? He said: The one of you who knows most of the Quran, or memorizes most of the Quran, (should act as your imam). There was none in the clan who knew more of the Quran than I did. They, therefore, put me in front of them and I was only a boy. And I wore a mantle, Whenever I was present in the gathering of Jarm (name of his clan), I would act as their Imam, and lead them in their funeral prayer until today. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Amr bin Salamah رضی اللہ عنہ through a different chain of transmitter. This version has: “When my clan visited the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. . . . ” He did not say: from his father.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، مسعر بن حبیب الجرمی کی سند سے, عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کے والد سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ لوگ ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور جب لوٹنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قرآن زیادہ یاد ہو ۔ راوی کو شک ہے «جمعا للقرآن» کہا، یا: «أخذا للقرآن» کہا، عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے برابر کسی کو قرآن یاد نہ تھا، تو لوگوں نے مجھ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا، حالانکہ میں اس وقت لڑکا تھا، میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی، اس کے بعد سے میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی موجود رہا میں ہی ان کا امام رہا، اور آج تک میں ہی ان کے جنازوں کی نماز پڑھاتا رہا ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یزید بن ہارون نے مسعر بن حبیب جرمی سے اور مسعر نے عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب میری قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور اس میں انہوں نے«عن أبيه» نہیں کہا ہے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
When the first emigrants came (to Madina), they stayed at al-‘Asbah (a place near Madina) before the advent of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Salim, the client of Abu Hudhaifah, acted as their imam, as he knew the Quran better than all of them, al-Haitham (the narrator) added: and Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ and Abu Salamah bin Abdul-Asad رضی اللہ عنہ were among them.
ہم سے القعْنبی نے بیان کیا، ہم سے انس نے بیان کیا، یعنی ابن عیاض نے۔ اور ہم سے الہیثم بن خالد الجہنی المعنا نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن نمیر نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین ( مدینہ ) آئے اور عصبہ ۱؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے۔
Malik bin al-Huwairith رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم told him or some of his companions: When the time of prayer comes, call the Adhan, then call the iqamah, then the one who is oldest of you should act as your imam. The version narrated by Maslamah goes: He said: On that day we were almost equal in knowledge. The version narrated by Ismail says: Khalid said: I said to Abu Qilabah: where is the Quran (i.e. why did the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم not say: The one who knows the Quran most should act as imam)? He replied: Both of them were equal in the knowledge of the Quran.
ہم سے مصدّاد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا۔ اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے مسلمہ بن محمد نے بیان کیا، معنی وہی ہے، خالد کی سند سے، ابو قلابہ کی سند سے، مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم اذان دو، پھر تکبیر کہو، پھر جو تم دونوں میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔ مسلمہ کی روایت میں ہے: اور ہم دونوں علم میں قریب قریب تھے۔ اسماعیل کی روایت میں ہے: خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: پھر قرآن کہاں رہا؟ انہوں نے کہا: اس میں بھی وہ دونوں قریب قریب تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah ﷺ said: Let the best among you call the adhan for you, and the Quran-readers act as your imams.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے حسین بن عیسیٰ الحنفی نے بیان کیا، ہم سے حکم بن ابان نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں ۔