This tradition has also been transmitted by Sufyan through a different chain of narrators. This version has:
He raised his hands once in the beginning. Some narrated: (raised his hands) once only.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، انہیں خالد بن عمرو نے اور ہم سے ابو حذیفہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، اس کے ساتھ، انہوں نے کہا
آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلی دفعہ اٹھایا ، اور بعض لوگوں کی روایت میں ہے کہ ایک بار اٹھایا ۔
Narrated Al-Bara Ibn Azib رضی اللہ عنہما :
I saw that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raised his hands when he began prayer, but he did not raise them until he finished (prayer). Abu Dawud said: This tradition is not sound.
ہم سے حسین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں وکیع نے ابن ابی لیلیٰ سے، اپنے بھائی عیسیٰ کی سند سے، الحکم سے، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم began his prayer, he raised his hands extensively.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، وہ ابن ابی ذہب کی سند سے، وہ سعید بن سمعان کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ لمبے کر کے اٹھاتے۔
zurah bin Abdur-Rahman said:
I heard Ibn al-Zubair رضی اللہ عنہ say: Setting the feet right and placing one hand on the other is a sunnah.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، وہ علاء بن صالح کی سند سے, زرعہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں
میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: دونوں قدموں کو برابر رکھنا، اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
He prayed with his left hand on the right. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم saw him and placed his right hand on his left one.
ہم سے محمد بن بکار بن ریان نے ہشیم بن بشیر کی سند سے، حجاج بن ابی زینب کی سند سے، ابو عثمان النہدی کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہو ں نے جب نماز پڑھی تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اس کیفیت میں ) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔
Narrated Abu Juhayfah said:
Ali رضی اللہ عنہ said that it is a sunnah to place one hand on the other in prayer below the navel.
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زیاد بن زید کی سند سے, ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔
Jarir ad-Dabbi reported:
I saw Ali (رضی اللہ عنہ) catching hold of his left hand) by his right hand on the wrist above the navel. Abu Dawud said: Saeed bin Jubair narrated the words: above the navel . Abu Mijlaz reported the words: below the navel . This has also been narrated by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . But that is not strong.
ہم سے محمد بن قدامہ یعنی ابن اعین نے ابو بدر کی سند سے اور ابو طالوت عبد السلام کی سند سے بیان کیا, جریر ضبیی کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا ( گٹا ) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے «فوق السرة» ( ناف کے اوپر ) مروی ہے اور ابومجلز نے «تحت السرة» ( ناف کے نیچے ) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
(The established way of folding hands is) to hold the hands by the hands in prayer below the navel. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: The narrator Abdur-Rahman bin Ishaq al-Kufi is weak (i.e. not reliable).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن اسحاق الکوفی نے سیار ابو الحکم کی سند سے, ابووائل کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا ( سنت ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔
Narrated Tawus:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to place his right hand on his left hand, then he folded them strictly on his chest in prayer.
ہم سے ابو توبہ نے بیان کیا، ہم سے الہیثم نے بیان کیا، یعنی ابن حمید نے، انہوں نے ثور کی سند سے، وہ سلیمان بن موسیٰ کی سند سے, طاؤس کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔
Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood up for prayer, he uttered the takbir (Allah is most great), then said: I have turned my face, breaking with all others, towards Him Who created the heavens and the earth, and I am not a polytheist. My prayer and my devotion, my life and my death belong to Allah, the Lord of the Universe, Who has no partner. That is what I have been commanded, and I am first of Muslims (those who surrender themselves). O Allah, Thou art the King. There is no God but Thee. Thou art my Lord and I am Thy servant. I have wronged myself, but I acknowledge my sin, so forgive me all my sins; Thou Who alone canst forgive sins; and guide me to the best qualities. Thou Who alone canst guide to the best of them; and turn me from evil ones. Thou who alone canst turn from evil qualities. I come to serve and please Thee. All good is in Thy Hands, and evil does not pertain to Thee. I seek refuge in Thee and turn to Thee, Who art blessed and exalted. I ask Thy forgiveness and turn to thee in repentance. When he bowed, he said: O Allah, to Thee I bow, in Thee I trust, and to Thee I submit myself. My hearing, my sight, my brain, my bone and my sinews humble themselves before Thee. When he raised his head, he said: Allah listens to him who praises Him. O our lord, and all praises be to Thee in the whole of the heavens and the earth, and what is between them, and in whatever Thou creates afterwards. When he prostrated himself, he said: O Allah, to Thee I prostrate myself, to Thee I trust, and to Thee I submit myself. My face prostrated itself before Him Who created it, fashioned it, and fashioned it in the best shape, and brought forth its hearing and seeing. Blessed is Allah, the best of creators. When he saluted at the end of the prayer, he said: O Allah, forgive me my former and my latter sins, my open and secret sins, my sins in exceeding the limits, and what Thou knowest better than I. Thou art He Who puts forward and puts back. There is deity but Thee.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے اپنے چچا الماجشون بن ابی سلمہ نے، عبدالرحمٰن العراج کی سند سے، عبید اللہ بن ابو رافع رضی اللہ عنہ کی سند سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملك لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جا سکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے ) ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد» اللہ نے اس شخص کی سن لی ( قبول کر لیا ) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره وتبارك الله أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ۔
Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood up for (offering) obligatory prayer, he uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands opposite to his shoulders, and he did so when he finished the recitation (of the Quran) and when he was about to bow; and he did like that when he raised (his head) after bowing. He did not raise his hands in prayer when he was sitting. When he stood at the end of two rak’ahs, he raised his hands in a similar way and uttered the takbir and supplicated in a more or less the same manner as narrated by Abd al-Aziz in his version. This version does not mention the words “All good is in Thy Hands and evil does not pertain to Thee. ” And this adds: He said when he finished the prayer: “O Allah, forgive me my former and latter sins, my open and secret sins; Thou art my deity; there is no God but Thee.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن داؤد الہاشمی نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے خبر دی، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے عبداللہ بن الفضل بن ربیعہ بن الحارث نے بیان کیا, الرحمٰن العراج، عبید اللہ بن ابی رافع کی روایت سے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو«الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور جب اپنی قرأت پوری کر چکتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہیں کرتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور«الله اكبر» کہتے، اور عبدالعزیز کی سابقہ حدیث میں گزری ہوئی دعا کی طرح کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ دعا کرتے، البتہ اس روایت میں:«والخير كله في يديك والشر ليس إليك» کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: نماز سے فارغ ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑ ھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وأخرت وما أسررت وأعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہوں کی مغفرت فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔
Shuaib bin Abi Hamzah said:
Ibn al-Munkadir, Ibn Abi Farwah and a number of jurists of Madina said to me: When you recite the supplication “I am first of the Muslims, ” say instead; “I am one of the Muslims”.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے شریح بن یزید نے بیان کیا، شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ
مجھ سے محمد بن منکدر، ابن ابی فروہ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا: جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو «وأنا أول المسلمين» کے جگہ «وأنا من المسلمين» کہا کرو۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
A man came panting to join the row of worshippers, and said: Allah is most great; praise be to Allah, much praise, good and blessed. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer, he asked: Which of you is the one who spoke the words? He said nothing wrong. Then the man said: I (said), Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم; I came and had difficulty in breathing, so I said them. He said: I saw twelve angels racing against one another to be the one to take them to Allah. The narrator Humaid added: When any of you comes for praying, he should walk as usual (i.e. he should not hasten and run quickly); then he should pray as much as he finds it (along with the imam), and should offer the part of the prayer himself (when the prayer is finished) which the Imam had offered before him.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، قتادہ، ثابت اور حمید کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نماز کے لیے آیا، اس کی سانس پھول رہی تھی، تو اس نے یہ دعا پڑھی: «الله أكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں، اور ہم خوب خوب اس کی پاکیزہ و بابرکت تعریفیں بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی ، تب اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ( کہا ہے ) ، جب میں جماعت میں حاضر ہوا تو میرے سانس پھول گئے تھے، اس حالت میں میں نے یہ کلمات کہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے سبھی جلدی کر رہے تھے کہ ان کلمات کو کون پہلے اٹھا لے جائے ۔ حمید نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: جب تم میں سے کوئی آئے تو ( اطمینان و سکون سے ) اس طرح چل کر آئے جیسے وہ عام چال چلتا ہے پھر جتنی رکعتیں ملیں انہیں پڑھ لے اور جو چھوٹ جائیں انہیں پورا کر لے ۔
Narrated Jubayr Ibn Mutim رضی اللہ عنہ :
Jabir saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم observing prayer. (The narrator Amr said: I do not know which prayer he was offering. ) He (the Prophet) said: Allah is altogether great; Allah is altogether great; Allah is altogether great; and praise be to Allah in abundance; and praise be to Allah is abundance; and praise be to Allah in abundance. Glory be to Allah in the morning and after (saying it three times). I seek refuge in Allah from the accursed devil, from his puffing up (nafkh), his spitting (nafth) and his evil suggestion (hamz). He (Amr) said: His nafth it poetry, his nafkh is pride, and his hamz is madness.
ہم سے عمرو بن مرزوق نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، وہ عمرو بن مرہ سے، انہوں نے عاصم العنزی کی سند سے, جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ( عمرو کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار فرمایا: «الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، اور فرمایا: «أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه» میں شیطان کے کبر و غرور، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: اس کا «نفث» شعر ہے، اس کا«نفخ» کبر ہے اور اس کا «همز» جنون یا موت ہے۔
The above mentioned tradition has also been reported by Jubair bin Mutim رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. This version adds:
I head the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم uttering (all these supplications) in a supererogatory prayer; he narrated the tradition in a similar manner.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے، وہ عمرو بن مرہ سے، ایک آدمی کی سند سے، نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز میں کہتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
Narrated Asim Ibn Humayd said:
I asked Aishah رضی اللہ عنہا : By what words the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would begin his supererogatory prayer at night? She replied: You ask me about a thing of which no one asked me before you. When he stood up, be uttered the takbir (Allah is most great) ten times, and uttered Praise be to Allah ten times, and uttered Glory be to Allah ten times, and uttered There is no god but Allah ten times, and sought forgiveness ten times, and said: O Allah, forgive me, and guide me, and give me sustenance, and keep me well, and he sought refuge in Allah from the hardship of standing before Allah on the Day of Judgment. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Khalid bin Madan from Rabiah al-Jarashi on the authority of Aishah.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، انہیں معاویہ بن صالح نے خبر دی، مجھے اظہر بن سعید حرازی نے خبر دی، عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل ( تہجد ) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر» ، دس بار «الحمد الله» ، دس بار«سبحان الله» ، دس بار «لا إله إلا الله» ، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن ( سوال کے لیے ) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے ربیعہ نے ام المؤمنین عائشہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Abu Salamah bin Abdur-Rahman bin Awf said:
I asked Aishah رضی اللہ عنہا : By what words the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to begin his prayer when he stood up at night (to offer tahajjud prayer). She said: When he stood up at night, he began his prayer by saying: O Allah, Lord of Jibra’il, Lord of Mik’ail, and Lord of Israfil, Creator of the Heavens and the Earth, the Knower of what is seen and of what is unseen; Thou decides between Thy servants in which they used to differ. Guide me to the truth where there is a difference of opinion by Thy permission. Thou guidest anyone Thou wishes to the right path.
ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا, یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قیام اللیل ( تہجد ) کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل کرتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کرتے تھے: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك أنت تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل و میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے! غیب اور ظاہر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف کیا گیا ہے، ان میں اپنی مرضی سے حق کی طرف میری رہنمائی کر، بیشک تو جسے چاہتا ہے اسے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔
The above mentioned tradition has been reported by ‘Ikramah with a different chain of narrators. This version adds:
When he stood up, he said the takbir (Allah is most great) and said. . . .
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے ابو نوح قراد نے بیان کیا, اس طریق سے بھی عکرمہ سے اسی سند سے اسی معنی کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے
جب آپ رات میں ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور یہ دعا پڑھتے۔
Malik said:
There is no harm in uttering supplication in prayer, in its beginning, in its middle, and in the end, in obligatory prayer or other.
ہم سے القعنبی نے مالک رحمہ اللہ سے روایت کی، انہوں نے کہا
نماز کے شروع، بیچ اور اخیر میں دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، فرض نماز ہو یا نفل۔
Rifaah bin Rafi رضی اللہ عنہ said:
One day we were praying behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raised his head after bowing, he said: Allah listened to him who praised Him. A man behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: O Allah, Our Lord, and to Thee be praise, much praise, good and blessed. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer, he asked: Which of you if the one who spoke (the words) just now. The man said: I (uttered) these words, Prophet of Allah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: I saw more than thirty angels racing against one another to be the one to write them first.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، نعیم بن عبداللہ المجمر کی سند سے، علی بن یحییٰ الزرقی نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر «سمع الله لمن حمده» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی نے «اللهم ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ابھی ابھی یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں؟ ، اس آدمی نے کہا: میں نے، اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون پہلے ان کلمات کو لکھے ۔