Chapter on Supplication
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 49
`Ikrimah, the freed slave of Ibn `Abbas, narrated that: Ibn `Abbas said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when `Ali bin Abi Talib came to him, and he said: ‘May my father and mother be ransomed for you! This Qur’an has suddenly left my heart, and I do not find myself capable of it.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Abul-Hasan! Should I not teach you words that Allah shall benefit you with, and benefit whomever you teach, and they will make whatever you have learned in your chest firm?’ He said: ‘Of course, O Messenger of Allah (ﷺ), so teach me.’ He (ﷺ) said: ‘When it is the night of (before) Friday, then if you are able to stand in the last third of the night, then verily it is a witnessed hour, and supplication is answered in it. And my brother Ya`qub (as) did say to his sons: I shall seek forgiveness for you from my Lord. He said: “Until the night of Friday comes.” So if you are not able, then stand in the middle of it, and if you are not able then stand in the first of it. And pray four Rak`ah. Recite Fatihatul-Kitab (the Opening of the Book) and Surat Ya-Sin in the first Rak`ah, and Fatihatul-Kitab and Ha-Mim Ad-Dukhan in the second Rak`ah, and Fatihatul-Kitab and Alif Lam Mim Tanzil As-Sajdah in the third Rak`ah, and Fatihatul-Kitab and Tabarak Al-Mufassal in the fourth Rak`ah. So when you have finished with the Tasha-hud, then praise Allah and mention Allah’s greatness in an excellent manner, and send Salat upon me - and be excellent in it - and upon the rest of the Prophets. And seek forgiveness for the believing men and the believing women, and for your brothers who have preceded you in faith. Then say in the end of that: “O Allah, have mercy on me by abandonment of sins forever, so long as You keep me remaining. And have mercy on me from taking upon myself what does not concern me, and provide me good sight for what will make You pleased with me. O Allah, Originator of the heavens and the earth, Possessor of glory, and generosity, and honor that is not exceeded. I ask you, O Allah, O Rahman, by Your glory and the light of Your Face, to make my heart constant in remembering Your Book as You taught me, and grant me that I recite it in the manner that will make You pleased with me. O Allah, Originator of the heavens and the earth, Possessor of glory, and generosity, and honor that is not exceeded. I ask you, O Allah, O Rahman, by Your glory and the light of Your Face, to enlighten my sight with Your Book, and make my tongue free with it, and to relieve my heart with it, and to expand my chest with it, and to wash my body with it. For indeed, none aids me upon the truth other than You, and none gives it except You, and there is no might or power except by Allah, the High, the Magnificent. (Allāhummarḥamnī bitarkil-ma`āṣī abadan mā abqaitanī, warḥamnī an atakallafa mā lā ya`nīnī, warzuqnī ḥusnan-naẓari fī mā yurḍīka `annī. Allāhumma badī`as-samāwāti wal-arḍi dhal-jalāli wal-ikrāmi wal-`izzatil-latī lā turāmu, as’aluka yā Allāhu yā Raḥmānu bi-jalālika wa nūri wajhika, an tulzima qalbī ḥifẓa kitābika kamā `allamtanī, warzuqnī an atluwahū `alan-naḥwil-ladhī yurḍīka `annī. Allāhumma badī`as-samāwāti wal arḍi dhal-jalāli wal-ikrāmi wal `izzati-llatī lā turāmu, as’aluka yā Allāhu, yā Raḥmānu bi-jalālika wa nūri wajhika, an tunawwira bi-kitābika baṣarī, wa an tuṭliqa bihī lisānī, wa an tufarrija bihī `an qalbī, wa an tashraḥa bihī ṣadrī, wa an taghsila bihī badanī, fa innahu lā yu`īnunī `alal-ḥaqqi ghairuka wa lā yu’tīhi illā anta wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāhil-`Aliyyil-`Aẓīm).” O Abul-Hasan! So do this three Fridays, or five, or seven, you will be answered - by the will of Allah - by the One Who sent me with the Truth, it has not failed a believer once.’” `Abdullah bin `Abbas said: “So, by Allah, `Ali did not wait but five or seven until [`Ali] came to the Messenger of Allah (ﷺ) in a gathering similar to that and said: ‘O Messenger of Allah (ﷺ), indeed I was [a man] in the time that passed, who used to not take except four Ayat or about that much, so when I would recite them to myself they would suddenly depart from me, and today I learn forty Ayat or about that much, and when I recite them to myself, then it is as if the Book of Allah is before my eyes. I used to hear a Hadith and when I would repeat it, it would suddenly depart from me, and today I hear Ahadith, and when I report them, I do not err in a single letter.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said at that point: ‘A believer, by the Lord of the Ka`bah, O Abul-Hasan.’”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے پہر کا وقت ایسا وقت ہوتا ہے جس میں فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں، اور دعا اس وقت مقبول ہوتی ہے، میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں سے کہا تھا: «سوف أستغفر لكم ربي» یعنی میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، آنے والی جمعہ کی رات میں، اگر نہ اٹھ سکو تو درمیان پہر میں اٹھ جاؤ، اور اگر درمیانی حصے ( پہر ) میں نہ اٹھ سکو تو پہلے پہر ہی میں اٹھ جاؤ اور چار رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ یٰسین پڑھو، دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور حم دخان اور تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور تبارک ( مفصل ) پڑھو، پھر جب تشہد سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو اور اچھے ڈھنگ سے اللہ کی ثناء بیان کرو، اور مجھ پر صلاۃ ( درود ) بھیجو، اور اچھے ڈھنگ سے بھیجو اور سارے نبیوں صلاۃ پر ( درود ) بھیجو اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرو، اور ان مومن بھائیوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو، جو تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں، پھر یہ سب کر چکنے کے بعد یہ دعا پڑھو: «اللهم ارحمني بترك المعاصي أبدا ما أبقيتني وارحمني أن أتكلف ما لا يعنيني وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تلزم قلبي حفظ كتابك كما علمتني وارزقني أن أتلوه على النحو الذي يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تنور بكتابك بصري وأن تطلق به لساني وأن تفرج به عن قلبي وأن تشرح به صدري وأن تغسل به بدني فإنه لا يعينني على الحق غيرك ولا يؤتيه إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» ”اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ جب تک تو مجھے زندہ رکھ میں ہمیشہ گناہ چھوڑے رکھوں، اے اللہ! تو مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ میں لا یعنی چیزوں میں نہ پڑوں، جو چیزیں تیری رضا و خوشنودی کی ہیں انہیں پہچاننے کے لیے مجھے حسن نظر ( اچھی نظر ) دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، ذوالجلال ( رعب و داب والے ) اکرام ( عزت و بزرگی والے ) ایسی عزت و مرتبت والے کہ جس عزت کو حاصل کرنے و پانے کا کوئی قصد و ارادہ ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے بڑی رحمت والے میں تیرے جلال اور تیرے تابناک و منور چہرے کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب ( قرآن پاک ) کے حفظ کے ساتھ جوڑ دے، جیسے تو نے مجھے قرآن سکھایا ہے ویسے ہی میں اسے یاد و محفوظ رکھ سکوں، اور تو مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں اس کتاب کو اسی طریقے اور اسی ڈھنگ سے پڑھوں جو تجھے مجھ سے راضی و خوش کر دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ( جاہ ) و جلال اور بزرگی والے اور ایسی عزت والے جس عزت کا کوئی ارادہ ( تمنا اور خواہش ) ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے رحمن تیرے جلال اور تیرے چہرے کے نور کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے ذریعہ میری نگاہ کو منور کر دے ( مجھے کتاب الٰہی کی معرفت حاصل ہو جائے، اور میری زبان بھی اسی کے مطابق چلے، اور اسی کے ذریعہ میرے دل کا غم دور کر دے، اور اس کے ذریعہ میرا سینہ کھول دے ( میں ہر اچھی و بھلی بات کو سمجھنے لگوں ) اور اس کے ذریعہ میرے بدن کو دھو دے ( میں پاک و صاف رہنے لگوں ) کیونکہ میرے حق پر چلنے کے لیے تیرے سوا کوئی اور میری مدد نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کوئی تیرے سوا مجھے حق دے سکتا ہے اور اللہ جو برتر اور عظیم ہے اس کے سوا برائیوں سے پلٹنے اور نیکیوں کو انجام دینے کی توفیق کسی اور سے نہیں مل سکتی“۔ اے ابوالحسن! ایسا ہی کرو، تین جمعہ، پانچ جمعہ یا سات جمعہ تک، اللہ کے حکم سے دعا قبول کر لی جائے گی، اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو پڑھ کر کوئی مومن کبھی محروم نہ رہے گا، عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! علی رضی الله عنہ پانچ یا سات جمعہ ٹھہرے ہوں گے کہ وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسی ہی مجلس میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے پہلے چار آیتیں یا ان جیسی دو ایک آیتیں کم و بیش یاد کر پاتا تھا، اور جب انہیں دل میں آپ ہی آپ دہراتا تھا تو وہ بھول جاتی تھیں، اور اب یہ حال ہے کہ میں چالیس آیتیں سیکھتا ہوں یا چالیس سے دو چار کم و بیش، پھر جب میں انہیں اپنے آپ دہراتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے تو ان کتاب اللہ میری آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی رکھی ہے ( اور میں روانی سے پڑھتا چلا جاتا ہوں ) اور ایسے ہی میں اس سے پہلے حدیث سنا کرتا تھا، پھر جب میں اسے دہراتا تو وہ دماغ سے نکل جاتی تھی، لیکن آج میرا حال یہ ہے کہ میں حدیثیں سنتا ہوں پھر جب میں انہیں بیان کرتا ہوں تو ان میں سے ایک حرف بھی کم نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا: ”قسم ہے رب کعبہ کی! اے ابوالحسن تم مومن ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ولید بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں۔
`Abdullah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Ask Allah of His Bounty. For verily, Allah the Mighty and Sublime, loves to be asked, and the best of worship is awaiting relief.”
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے، اور افضل عبادت یہ ہے ( کہ اس دعا کے اثر سے ) کشادگی ( اور خوش حالی ) کا انتظار کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حماد بن واقد نے ایسی ہی روایت کی ہے، اور ان کی روایت میں اختلاف کیا گیا ہے، ۲- حماد بن واقد یہ صفار ہیں، حافظ نہیں ہیں، اور یہ ہمارے نزدیک ایک بصریٰ شیخ ہیں، ۳- ابونعیم نے یہ حدیث اسرائیل سے، اسرائیل نے حکیم بن جبیر سے اور حکیم بن جبیر نے ایک شخص کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، اور ابونعیم کی حدیث صحت سے قریب تر ہے۔
Zaid bin Arqam [may Allah be pleased with him] said that the Prophet (ﷺ) used to say: “O Allah, indeed I seek refuge in You from laziness, helpless old age, and stinginess (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-kasali wal-`ajzi wal-bukhl).” And with this chain, from the Prophet (ﷺ), that he used to seek refuge from senility and the punishment of the grave.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والعجز والبخل» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی و کاہلی سے، عاجزی و درماندگی سے اور کنجوسی و بخیلی سے“، اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی آئی ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے بڑھاپے اور عذاب قبر سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jubair bin Nufair narrated that `Ubadah bin As-Samit narrated to them that, the Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is not a Muslim upon the earth who calls upon Allah with any supplication, except that Allah grants it to him, or he turns away from him the like of it in evil; as long as he does not supplicate for something sinful, or the severing of the ties of kinship.” So a man from the people said: “What if we should increase (in it)” He (ﷺ) said: “(With) Allah is more.”
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو گناہ اور قطع رحمی کی دعا کو چھوڑ کر کوئی بھی دعا کرتا ہو اور اللہ اسے وہ چیز نہ دیتا ہو، یا اس کے بدلے اس کے برابر کی اس کی کوئی برائی ( کوئی مصیبت ) دور نہ کر دیتا ہو“، اس پر ایک شخص نے کہا: تب تو ہم خوب ( بہت ) دعائیں مانگا کریں گے، آپ نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Al-Bara’ bin `Azib narrated that the Prophet (ﷺ) said: “When you go to your bed, perform the Wudu’ as you would perform for Salat. Then lie on your right side, then say: ‘O Allah, I submit my face to You, and I entrust my affair to You, and I lay myself down relying upon You, hoping in You and fearing You. There is no refuge nor escape from You except to You. I believe in Your Book which You have revealed, and in Your Prophet whom You have sent (Allāhumma aslamtu wajhī ilaika wa fawwaḍtu amrī ilaika, wa alja’tu ẓahrī ilaika, raghbatan wa rahbatan ilaika, lā malja’a wa lā manjā minka illā ilaika, āmantu bikitābikalladhī anzalta wa bi-nabiyykalladhī arsalt).’ And if you die that night, you shall die upon the Fitrah” - Al-Bara’ said: I repeated it to retain it in memory, “So I said: ‘I believe in Your Messenger whom You have sent.’” He said: “So he (ﷺ) struck with his hand upon my chest, then said: ‘And in Your Prophet whom You have sent.’”
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ، پھر داہنے کروٹ لیٹو، پھر ( یہ ) دعا پڑھو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے“، پس اگر تو اپنی اس رات میں مر گیا تو فطرت ( اسلام ) پر مرے گا، براء رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے دعا کے ان الفاظ کو دہرایا تاکہ یاد ہو جائیں تو دہراتے وقت میں نے کہا: «آمنت برسولك الذي أرسلت» کہہ لیا تو آپ نے فرمایا: ” ( رسول نہ کہو بلکہ ) «آمنت بنبيك الذي أرسلت» کہو، میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث براء بن عازب سے کئی سندوں سے آئی ہے مگر اس رات کے سوا کسی بھی روایت میں ہم یہ نہیں پاتے کہ وضو کا ذکر کیا گیا ہو۔
Mu`adh bin `Abdullah bin Khubaib, narrated from his father, who said: “We went out on a rainy and extremely dark night, looking for the Messenger of Allah (ﷺ), so that he could lead us in Salat.” He said: “So I met him and he (ﷺ) said: ‘Speak’ but I did not say anything. Then he (ﷺ) said: ‘Speak.’ But I did not say anything. He (ﷺ) said: ‘Speak.’ So I said: ‘What should I say?’ He (ﷺ) said: ‘Say: “Say: He is Allah, the One” and Al-Mu`awwidhatain, when you reach evening, and when you reach morning, three times, they will suffice you against everything.’”
عبداللہ بن خبیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم ایک بارش والی سخت تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں، چنانچہ میں آپ کو پا گیا، آپ نے فرمایا: ”کہو ( پڑھو ) “، تو میں نے کچھ نہ کہا: ”کہو“ آپ نے پھر فرمایا، مگر میں نے کچھ نہ کہا، ( کیونکہ معلوم نہیں تھا کیا کہوں؟ ) آپ نے پھر فرمایا: ”کہو“، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور «المعوذتين» ( «قل أعوذ برب الفلق»، «قل أعوذ برب الناس» ) صبح و شام تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ ( سورتیں ) تمہیں ہر شر سے بچائیں گی اور محفوظ رکھیں گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوسعید براد: یہ اسید بن ابی اسید مدنی ہیں۔
`Abdullah bin Busr narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) stayed with my father.” So he said: “We brought some food near him, so he ate from it, then he was brought dates, so he would eat it and cast the pit with his two fingers” - he joined between his forefinger and middle finger - Shu`bah said: “And that is what I think concerning it, if Allah wills.” - “and he cast the pit between two fingers, then he was brought drink, so he drank it and then passed it to the one on his right.” He said: “So my father said - as he took hold of the rein of his beast: ‘Supplicate for us.’ So he said: ‘O Allah, bless for them what You have provided them, and forgive them, and have mercy on them (Allāhumma bārik lahum fī mā razaqtahum waghfir lahum warḥamhum).’”
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے باپ کے پاس آئے، ہم نے آپ کے کھانے کے لیے کچھ پیش کیا تو آپ نے اس میں سے کھایا، پھر آپ کے لیے کچھ کھجوریں لائی گئیں، تو آپ کھجوریں کھانے اور گھٹلی اپنی دونوں انگلیوں سبابہ اور وسطی ( شہادت اور بیچ کی انگلی سے ( دونوں کو ملا کر ) پھینکتے جاتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: جو میں کہہ رہا ہوں وہ میرا گمان و خیال ہے، اللہ نے چاہا تو صحیح ہو گا، آپ دونوں انگلیوں کے بیچ میں گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے تھے، پھر آپ کے سامنے پینے کی کوئی چیز لائی گئی تو آپ نے پی اور اپنے دائیں جانب ہاتھ والے کو تھما دیا ( جب آپ چلنے لگے تو ) آپ کی سواری کی لگام تھامے تھامے میرے باپ نے آپ سے عرض کیا، آپ ہمارے لیے دعا فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» ”اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور انہیں بخش دے اور ان پر رحمت نازل فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی یہ حدیث عبداللہ بن بسر سے آئی ہے۔
Bilal bin Yasar bin Zaid [the freed slave of the Prophet(ﷺ)] narrated: “My father narrated to me, from my grandfather, that he heard the Prophet (ﷺ) say: ‘Whoever says: “I seek forgiveness from Allah, the Magnificent, whom there is none worthy of worship but Him, the Living, Al-Qayyum, and I repent to him,” (Astaghfirullāhal-`Aẓīm alladhī lā ilāha illā huwal-Ḥayyul-Qayyūmu wa atūbu ilaih) then Allah will forgive him, even if he fled from battle.’”
زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» ”میں مغفرت مانگتا ہوں اس بزرگ و برتر اللہ سے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، جو زندہ ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اگرچہ وہ لشکر ( و فوج ) سے بھاگ ہی کیوں نہ آیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
`Uthman bin Hunaif narrated that a blind man came to the Prophet (ﷺ) and said: “Supplicate to Allah to heal me.” He (ﷺ) said: “If you wish I will supplicate for you, and if you wish, you can be patient, for that is better for you.” He said: “Then supplicate to Him.” He said: “So he ordered him to perform Wudu’ and to make his Wudu’ complete, and to supplicate with this supplication: ‘O Allah, I ask You and turn towards You by Your Prophet Muhammad (ﷺ), the Prophet of Mercy. Indeed, I have turned to my Lord, by means of You, concerning this need of mine, so that it can be resolved, so O Allah so accept his intercession for me (Allāhumma innī as’aluka wa atawajjahu ilaika binabiyyka Muḥammadin nabi-ir-raḥmati, innī tawajjahtu bika ila rabbī fī ḥājatī hādhihī lituqḍā lī, Allāhumma fashaffi`hu fīyya).’”
عثمان بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ( و سود مند ) ہے“۔ اس نے کہا: دعا ہی کر دیجئیے، تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ”وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى لي اللهم فشفعه» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیرے نبی محمد جو نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، میں نے آپ کے واسطہ سے اپنی اس ضرورت میں اپنے رب کی طرف توجہ کی ہے تاکہ تو اے اللہ! میری یہ ضرورت پوری کر دے تو اے اللہ تو میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۱؎“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ابو جعفر کی روایت سے، ۲- اور ابوجعفر خطمی ہیں ۳- اور عثمان بن حنیف یہ سہل بن حنیف کے بھائی ہیں۔
Abu Umamah [may Allah be pleased with him] said: `Amr bin `Abasah reported to me that he heard the Prophet (ﷺ) say: “The closest that the Lord is to a worshipper is during the last part of the night, so if you are able to be of those who remember Allah in that hour, then do so.”
عمرو بن عنبسہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”رب تعالیٰ اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری نصف حصے کے درمیان میں ہوتا ہے، تو اگر تم ان لوگوں میں سے ہو سکو جو رات کے اس حصے میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم بھی اس ذکر میں شامل ہو کر ان لوگوں میں سے ہو جاؤ ( یعنی تہجد پڑھو ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
`Umarah bin Za`karah said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying; ‘Indeed, Allah, the Mighty and Sublime, says: “Indeed My worshipper who is entirely My slave is the one who remembers Me when he is about to meet his enemy.” That is: “At the time of fighting.”
عمارہ بن زعکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میرا بندہ کامل بندہ وہ ہے جو مجھے اس وقت یاد کرتا ہے جب وہ جنگ کے وقت اپنے مدمقابل ( دشمن ) کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اس کی سند قوی نہیں ہے، اس ایک حدیث کے سوا ہم عمارہ بن زعکرہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور روایت نہیں جانتے، ۲- اللہ کے قول «وهو ملاق قرنه» کا معنی و مطلب یہ ہے کہ لڑائی و جنگ کے وقت، یعنی ایسے وقت اور ایسی گھڑی میں بھی وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے۔
Qais bin Sa`d bin `Ubadah narrated, : that his father offered him to the Prophet (ﷺ) to serve him. He said: “So the Prophet (ﷺ) passed by me, and I had just performed Salat, so he poked me with his foot and said: ‘Should I not direct you to a gate from the gates of Paradise?’ I said: ‘Of course.’ He (ﷺ) said: ‘There is no might or power except with Allah (Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh).’”
قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ان کے باپ ( سعد بن عبادہ ) نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کر دیا، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، آپ نے اپنے پیر سے ( مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتا دوں“، میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: ”وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
[Safwan bin Sulaim said: “No angel has risen from the earth until he said: ‘There is no might or power except with Allah (Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh).’”]
صفوان بن سلیم کہتے ہیں کہ
کوئی بھی فرشتہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے بغیر زمین سے نہیں اٹھتا ( نہیں اڑتا ) ۔
Humaidah bint Yasir narrated from her grandmother Yusairah - and she was one of those who emigrated - she said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said to us: ‘Hold fast to At-Tasbih, At-Tahlil, and At-Taqdis, and count them upon the fingertips, for indeed they shall be questioned, and they will be made to speak. And do not become heedless, so that you forget about the Mercy (of Allah).’”
حمیضہ بنت یاسر اپنی دادی یسیرہ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں، یسیرہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تمہارے لیے لازم اور ضروری ہے کہ تسبیح پڑھا کرو تہلیل اور تقدیس کیا کرو ۱؎ اور انگلیوں پر ( تسبیحات وغیرہ کو ) گنا کرو، کیونکہ ان سے ( قیامت میں ) پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کر دی جائے گی، اور تم لوگ غفلت نہ برتنا کہ ( اللہ کی ) رحمت کو بھول بیٹھو“۔ امام ترمذی کہتے: ہم اس حدیث کو صرف ہانی بن عثمان کی روایت سے جانتے ہیں اور محمد بن ربیعہ نے بھی ہانی بن عثمان سے روایت کی ہے۔
Anas narrated that when the Prophet (ﷺ) would go out for an expedition, he would say: “O Allah, You are my `Aḍud and You are my Helper, and by You do I fight (Allāhumma anta `aḍudī, wa anta naṣīrī, wa bika uqātil).”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کرتے ( لڑتے ) تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت عضدي وأنت نصيري وبك أقاتل» ”اے اللہ! تو میرا بازو ہے، تو ہی میرا مددگار ہے اور تیرے ہی سہارے میں لڑتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- اور «عضدی» کے معنی ہیں تو میرا مددگار ہے۔
`Amr bin Shu`aib narrated from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) said: “The best of supplication is the supplication of the Day of `Arafah. And the best of what I and the Prophets before me have said is: None has the right to be worshipped but Allah, Alone, without partner, to Him belongs all that exists, and to Him belongs the Praise, and He is powerful over all things. (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai’in qadīr).’”
عبداللہ عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی دعا ہے اور میں نے اب تک جو کچھ ( بطور ذکر ) کہا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے نبیوں نے کہا ہے ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ( ساری کائنات کی ) بادشاہت ہے، اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- حماد بن ابی حمیدیہ محمد بن ابی حمید ہیں اور ان کی کنیت ابوابراہیم انصاری مدنی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔
`Umar bin Al-Khattab said: “The Messenger of Allah (ﷺ) taught me, saying: ‘Say: “O Allah, make my secret better than my apparent condition, and make my apparent condition righteous. O Allah, I ask You for the righteous of what you give to the people, of wealth, wives, and children, not (to be) misguided, nor misguiding. (Allāhummaj`al sarīratī khairan min `alāniyatī waj`al `alāniyatī ṣāliha. Allāhumma innī as’aluka min ṣālihi mā tu’tin-nāsa minal-māli wal-ahli wal waladi, ghairaḍ-ḍāli wa lal-muḍil).”
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألك من صالح ما تؤتي الناس من المال والأهل والولد غير الضال ولا المضل» ”اے اللہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک کر دے۔ اور لوگوں کو جو مال تو بیوی اور بچے کی شکل میں دیتا ہے ان میں سے اچھا مال دے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
`Asim bin Kulaib Al-Jarmi narrated from his father, from his grandfather, who said: “I entered upon the Prophet (ﷺ) while he was praying and he had placed his left hand on his left thigh, and he had placed his right hand on his right thigh, and clasped his fingers, and extended his index finger, and he was saying: ‘O changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion (Yā muqallibal-qulūbi thabbit qalbī `alā dīnik).’”
عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں ( یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی ) اور «سبابہ» ( شہادت کی انگلی ) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Muhammad bin Sulaim narrated: “Thabit Al-Bunani narrated to me, he said to me: ‘O Muhammad, when you suffer from some ailment, then place your hand at the place of the ailment, then say: “In the Name of Allah, I seek refuge in Allah’s might and power from the evil of this pain I feel (Bismillāh, a`ūdhu bi-`izzatillāhi wa qudratihī min sharri mā ajidu min waja`ī hādhā).” Then lift your hand and repeat that an odd number of times. For indeed, Anas bin Malik narrated to me, that the Messenger of Allah (ﷺ) narrated that to him.’”
ثابت بنانی اپنے شاگرد محمد بن سالم سے کہتے ہیں کہ
جب تمہیں درد ہو تو جہاں درد اور تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھو پھر پڑھو: «بسم الله أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا» ”اللہ کے نام سے اللہ کی عزت و قدرت کے سہارے میں اپنی اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کر رہا ہوں پناہ چاہتا ہوں“۔، پھر ( درد کی جگہ سے ) ہاتھ ہٹا لو پھر ایسے ہی طاق ( تین یا پانچ یا سات ) بار کرو، کیونکہ انس بن مالک نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایسا ہی بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور محمد بن سالم یہ بصریٰ شیخ ہیں۔
Umm Salamah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) taught me, saying: ‘Say: “O Allah, this is the coming of Your night, and the departing of Your day, the voices of those calling to You, and the time of prayers to You, I ask You to forgive me (Allāhumma hādhastiqbālu lailika, wastidbāru nahārika, wa aṣwātu du`ātika wa ḥuḍūru ṣalawātika, as’aluka an taghfira lī).”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی: «اللهم هذا استقبال ليلك واستدبار نهارك وأصوات دعاتك وحضور صلواتك أسألك أن تغفر لي» ”اے اللہ! یہ تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کا وقت ہے اور تجھے یاد کرنے کی آوازوں اور تیری نماز کے لیے پہنچنے کا وقت ہے میں ( ایسے وقت میں ) اپنی مغفرت کے لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حفصہ بنت ابی کثیر کو ہم نہیں جانتے اور نہ ہی ہم ان کے باپ کو جانتے ہیں۔